🔴 جعلی حدیث لانورث کی حقیقت 🔴
⭕ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ انبیاء کے نہ وارث چھوڑنے والی جو حدیث خلیفہ اول نے پیش کی، اس کی کوئی حجیت نہیں،
👉 اور کئی وجہ سے وہ مردود ہے:
1⃣ پہلی وجہ:
یہ حدیث قرآنِ کریم کے صریح حکم کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن نے عام لفظوں میں بیان کیا ہے کہ:
📜 "مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس میں سے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، چاہے وہ مال کم ہو یا زیادہ مقررہ حصہ" (1)
اور اسی طرح کی دوسری آیاتِ میراث (2) بھی بالکل عام ہیں، جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت تمام انسانوں پر یکساں لاگو ہوتی ہیں۔
اور قرآن نے خاص طور پر انبیاء کے وارث چھوڑنے کا ذکر بھی کیا ہے، جیسا کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے دعا میں کہا:
📜 "پروردگار! مجھے اپنے پاس سے ایک ولی عطا کر، جو میرا وارث ہو، اور یعقوب کے خاندان کا بھی وارث ہو، اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ بنا" (3)
اور شک نہیں کہ زبان میں ’’وراثت‘‘ اسی چیز کے لیے استعمال ہوتی ہے جو حقیقی طور پر مورث سے وارث تک منتقل ہوتی ہے، جیسے مال اور اس جیسی چیزیں۔ غیر مادی چیزوں کے لیے وراثت کا لفظ صرف مجازی معنوں میں آتا ہے، اور بغیر قطعی دلیل کے ہم ظاہرِ الفاظ سے نہیں ہٹ سکتے۔
تفصیلی پوسٹ دیکھیں 👈 /topic/2087
اسی طرح ہے اللہ کا ارشاد:
📜 "اور سلیمان، داؤد کا وارث ہوا" (4)
یہ آیت بھی صاف لفظوں میں مال یا اس جیسی حقیقی چیزوں کی وراثت کو ظاہر کرتی ہے۔
تفصیلی پوسٹ دیکھیں 👈 /topic/2088
آگے خطبۂ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میں آئے گا کہ انہوں نے خلیفہ اول پر انہی آیات کے ذریعے حجت قائم کی، ایسی آیات جو ردّ نہیں کی جاسکتیں۔ اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام نے بھی یہی دلیل دی۔ مگر خلیفہ نے ضد اور حق بات نہ سننے کا راستہ اختیار کیا۔
علامہ سیوطی نے ابن سعد کے واسطے سے امام ابو جعفر علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے:
📜 "فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر کے پاس اپنا میراث طلب کرنے آئیں، عباس بن عبدالمطلب بھی اپنا میراث لینے آئے، اور ان دونوں کے ساتھ علی علیہ السلام بھی آئے۔
ابوبکر نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ‘ہم انبیاء وارث نہیں چھوڑتے، جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔’
اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ خانہ کا خرچ تو علی کے ذمے ہے۔
تو علی علیہ السلام نے فرمایا:
'اور سلیمان، داؤد کا وارث ہوا' (5)
اور زکریا نے کہا: 'وہ میرا وارث ہوگا اور آلِ یعقوب کا بھی وارث ہوگا' (6)
ابوبکر نے جواب دیا: "ہاں ایسا ہی ہے، اور تم اللہ کی قسم! وہ جانتے ہو جو میں جانتا ہوں۔"
علی علیہ السلام نے فرمایا: "یہ اللہ کی کتاب بول رہی ہے!"
تو سب خاموش ہوگئے اور واپس چلے گئے۔" (7)
تفصیلی پوسٹ دیکھیں 👈/topic/2107
2⃣ دوسری وجہ:
اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور گھڑی ہوئی نہیں، تب بھی یہ خبرِ واحد ہے، اور خبرِ واحد ایسے موقع پر قابلِ قبول نہیں، کیونکہ یہ قرآنِ کریم کے خلاف ہے
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں فرماتے۔
اس کے علاوہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کے شہر کا دروازہ یعنی علی علیہ السلام اور سیدہ نساء العالمین فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بھی اس دعوے کو ردّ کیا۔
اگر یہ حدیث واقعی صحیح ہوتی تو وہ دونوں سب سے پہلے اسے جاننے والے ہوتے۔ یہی بات اس کے جھوٹے اور گھڑے جانے کی دلیل ہے۔
مگر خلیفہ وقت نے جھوٹ گھڑ کر اس حدیث کو دوسروں کی طرف بھی منسوب کرنے کی کوشش کی، حالانکہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ اس حدیث کو صرف خلیفہ اول نے بیان کیا اور اسی نے اسے منفرد طور پر روایت کیا۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں:
📜 "لوگ رسول اللہ کے میراث کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، اور انہیں کسی کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہ ملا۔ تو ابوبکر نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہم انبیاء وارث نہیں چھوڑتے، جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔" (8)
ابن ابی الحدید کہتے ہیں:
📜 "زیادہ تر روایات کے مطابق اس حدیث کو صرف ابوبکر نے اکیلے روایت کیا ہے۔ یہی بات اکثر محدثین نے بیان کی ہے۔ حتیٰ کہ اصولِ فقہ کے فقہاء بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ خبر صرف ایک صحابی کی روایت ہے۔
اور ہمارے استاد ابو علی کہتے ہیں: روایت صرف دو آدمیوں کی گواہی کی طرح قبول کی جاتی ہے، ایک کی نہیں۔" (9)
سید مرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
📜 "یہ حدیث بہرحال ایسی ہے جو علم (یقین) پیدا نہیں کرتی۔ یہ اخبارِ آحاد کے درجے میں ہے، اور قرآن کے ظاہر سے رجوع کرنا ایسی خبر کی بنیاد پر جائز نہیں، کیونکہ معلوم (یقینی دلیل) کو صرف معلوم ہی دلیل کے ذریعے خاص کیا جا سکتا ہے۔
پس جب قرآن کے ظاہر کی دلالت یقینی ہو تو کسی ظنی بات کی وجہ سے اس سے رجوع جائز نہیں۔" (10)
شیخ طوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
📜 "یہ خبر، خبرِ واحد ہے، اور اسے صرف ابوبکر نے روایت کیا ہے۔ اور ہمارے نزدیک خبرِ واحد کسی بھی مقام پر قابلِ قبول نہیں۔ اور اگر ہم اسے قبول بھی کر لیتے، تب بھی قرآن کو خاص کرنے یا اس کے عموم کو ترک کرنے کے لیے ہرگز قبول نہ کرتے۔" (11)
ہم نہیں جانتے کہ کس طرح ایک مخالف کی ایسی تنہا روایت قبول کی جائے جو کتابِ خدا کے خلاف ہو اور نقلِ حدیث کے اصولوں سے بھی ٹکراتی ہو
خبر واحد پر اہل سنت علماء کے اقوال دیکھیں 👈 /topic/2093
اور دوسری طرف فاطمہ سلام اللہ علیہا کی گواہی قبول نہ کی جائے، جو قرآن کے موافق ہے، اور کسی نقل کے خلاف بھی نہیں
جبکہ وہ ’’صدّیقہ‘‘ اور ہر طرح کی رجس سے پاک ہیں؟!
ہاں، اگر فیصلہ دشمن کے ہاتھ میں ہو تو حاکم جو چاہے فیصلہ دے سکتا ہے، اور حق بہرحال اللہ کے ہاں ہے۔
3⃣ تیسری دلیل:
جو بات دوسری دلیل میں بیان ہوئی تھی، اس کی تائید یہاں بھی ملتی ہے، اور نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔
اس لیے کہ:
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام، رسول اللہ کے چچا عباس، اور ازواجِ مطہرات ان سب نے یہ حدیث کبھی نہ سنی تھی۔
اسی لیے وہ سب ابوبکر کی وفات کے بعد اور سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد بھی میراث طلب کرتے رہے۔
روایت ہے کہ:
📜 عباس رضی اللہ عنہ اور علی علیہ السلام، عمر بن خطاب کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میراث طلب کیا۔ (12)
اور یہ بھی روایت ہے کہ:
📜 نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے اپنا میراث لینے کے لیے عثمان بن عفان کو ابوبکر کے پاس بھیجا اور عائشہ نے انہیں واپس کر دیا۔ (13)
تفصیلی پوسٹ دیکھیں کہ مطالبہ صرف سیدہؐ نے نہیں کیا تھا 👈 /topic/2094
امام باقر علیہ السلام سے شیعہ کتب کی روایت ہے:
📜 "عائشہ، عثمان کے پاس آئیں اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میراث دو۔
عثمان نے کہا: کیا تم (پہلے) مالک بن اوس نَصَری کے ساتھ نہیں آئی تھیں،
اور تم دونوں نے گواہی نہیں دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وارث نہیں چھوڑتے؟
اور تم دونوں نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ان کا میراث نہیں دیا اور ان کا حق باطل کیا
تو اب آج تم کیسے میراث مانگ رہی ہو؟!"
عائشہ یہ سن کر چلی گئیں۔
اور عثمان جب نماز کے لیے باہر نکلتے تو عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قمیص اٹھاتیں اور کہتیں:
"عثمان نے اس قمیص کے صاحب (رسول اللہ) کی مخالفت کی ہے اور ان کی سنت چھوڑ دی ہے!" (14)
▪️تو کیا یہ درست ہو سکتا ہے کہ اسی کے باوجود یہ بھی روایت کیا جائے کہ:
📜 عمر نے علی علیہ السلام اور عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم دونوں جانتے ہو اس حدیث کے بارے میں (یعنی کہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے)؟
اور انہوں نے جواب دیا: "ہاں، اس نے یہ بات کہی ہے۔" (15)
👈 اگر یہ دونوں جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا فرمایا
تو پھر:
❓ 1. فاطمہ سلام اللہ علیہا اور عباس، ابوبکر کے پاس میراث لینے کیوں گئے؟ (16)
❓ 2. اور علی علیہ السلام اور عباس، عمر کے پاس میراث لینے پھر کیوں گئے؟
یہ دونوں حقائق واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ وہ حدیث جانتے ہی نہیں تھے کیونکہ حدیث تھی ہی نہیں، بلکہ بعد میں گھڑی گئی۔
❓ تو کیا یہ بات صحیح ہو سکتی ہے کہ کہا جائے:
علی علیہ السلام اور عباس دونوں اس حدیث (کہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے) کو جانتے تھے،
اور پھر باوجود اس کے وہ وہی میراث لینے آئے جس کے وہ مستحق ہی نہ تھے؟
❓ یا یہ کہ علی علیہ السلام اس حدیث کو جانتے تھے،
پھر بھی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اس بات کی اجازت دے دیتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کے خلاف جائیں،
❓ اور وہ مال طلب کریں جس کی وہ مستحق نہ ہوں؟
❓ اور اپنے گھر سے نکل کر ابوبکر سے جھگڑا کریں،
اور اپنے حق کے دفاع میں وہ سب باتیں کہیں جو انہوں نے کہیں؟
جبکہ علی علیہ السلام زہد، عصمت، طہارت، اور خدا کی ذات میں فنا ہو جانے کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے،
اور اللہ کے احکام اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو نافذ کرنے کے شدید ترین خواہش مند تھے۔
اہلِ بیت علیہم السلام دنیا کے چند روزہ فائدوں اور فانی مال کے پیچھے ہرگز نہیں جاتے۔
خصوصاً امیرالمؤمنین کے بارے میں تو یہ بات ظاہر ہے کہ انہوں نے دنیا کو ’’تین طلاقیں‘‘ دے دی تھیں جن میں رجوع ممکن نہیں۔
❓ تو کیا کوئی عقل مند تصور کر سکتا ہے کہ علی علیہ السلام مسلمانوں کا حق چھیننے آئے ہوں
جبکہ وہ حق پر اتنی مضبوطی سے قائم رہنے والے تھے کہ ’’حق‘‘ نے ان کے لیے کوئی دوست باقی نہ چھوڑا!
صحیح مسلم میں مالک بن اوس بن الحدثان کی روایت ہے کہ:
📜 عمر نے عباس اور علی علیہ السلام سے کہا، جب وہ میراث لینے آئے:
"تم نے ابوبکر کو جھوٹا، گناہگار، دھوکےباز اور خائن سمجھا تھا"
اور پھر جب عمر نے اپنی ذات کا ذکر کیا تو کہا:
"اور تم نے مجھے بھی جھوٹا، گناہگار، دھوکےباز اور خائن سمجھا" (17)
تفصیلی پوسٹ دیکھیں 👈 /topic/2101
ابن ابی الحدید نے بھی اسے الجوهری سے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (18)
📜 تو پھر یہ دونوں (علیؑ اور عباس) کیوں کر ابوبکر و عمر کے بارے میں یہ گمان رکھتے،
اور ان پر ایسا فیصلہ کیسے کرتے فدک اور رسول کے دیگر ترکے کے معاملے میں
اگر وہ واقعی یہ جانتے ہوتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’ہم انبیاء وارث نہیں چھوڑتے‘‘؟
لہٰذا سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی جانب سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکے کا مطالبہ
صرف اسی صورت میں قابلِ فہم ہے کہ وہ اس حدیث کو جھوٹا اور گھڑا ہوا جانتے تھے۔
4⃣ چوتھی دلیل:
اگر واقعی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا فرمایا ہوتا،
تو لازم تھا کہ وہ اپنی وفات سے پہلے اپنے وارثوں کو یہ حکم واضح طور پر بتا دیتے
کہ ان کی ترکہ تمام مسلمانوں کے لیے صدقہ ہے،
اور ان (اہل بیت) کا اس میں کوئی حق نہیں
تاکہ وہ بعد میں ایسی چیز کا مطالبہ کر کے الزام کا شکار نہ ہوں اور امت میں فتنہ اور اختلاف نہ پیدا ہو۔
⁉️ پھر یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا حکم بیان کریں
جو صریح قرآنی آیات کے خلاف ہو،
اور اسے تمام مسلمانوں سے چھپا دیں
یہاں تک کہ اپنے ان قریبی ترین اہلِ بیت سے بھی چھپا دیں
جن پر یہ حکم براہِ راست لاگو ہونا تھا
اور اسے صرف ابوبکر کو بتائیں
جو وارث ہی نہیں تھا؟
جیسا کہ خود اہل سنت کے امام فخر رازی نے یہ سوالات اٹھائے جس کی تفصیل یہاں دیکھ سکتے ہیں 👈 /topic/2092
❓ کیا یہ خیال بھی کیا جا سکتا ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام جو رسول اللہ کے ’’شہرِ علم کے دروازے‘‘ ہیں، اور امت کے سب سے بڑے فقیہ اور قاضی ہیں، اور کتاب و سنت کے سب سے بڑے عالم ہیں وہ اس حکم سے ناواقف رہ گئے ہوں؟!
❓ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہ جانتے تھے
کہ ان کے وارث ان کی وفات کے بعد ان کا ترکہ شریعت کے مطابق تقسیم کریں گے؟
❓یا یہ کہا جائے کہ وہ یہ جانتے تھے مگر نعوذ باللہ انہوں نے اس حکم کو پہنچانے میں کوتاہی کی؟!
ان سوالات کا واحد جواب یہی ہے کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گھڑی گئی ہے، صحیح نہیں۔
5⃣ پانچویں دلیل:
اگر واقعی ابوبکر کی روایت درست ہوتی،
تو انہیں چاہیے تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام ورثاء کو آپ کے مالِ خاص سے محروم کر دیتے۔
لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
بلکہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کو ان کے حجرے اسی طرح رہنے دیے،
بغیر کسی گواہی یا ثبوت کے کہ وہ حجرے انہیں ہبہ کیے گئے تھے یا ان کی ملکیت تھے۔
انہوں نے گھروں اور ان کے سامان کو ’’مالِ عام‘‘ میں شامل نہیں کیا۔
❓تو کیا ’’عدمِ میراث‘‘ کا حکم صرف سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لیے تھا؟
❓یا کوئی ایسی آیت موجود ہے جس نے عائشہ، حفصہ اور دیگر ازواج کو میراث سے مستثنیٰ کر دیا ہو،
❓اور رسول کی بیٹی کو میراث سے باہر کر دیا ہو؟
قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں
یہ صرف سیاست ہے جو حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے۔
▪️پھر کہا جاتا ہے کہ انہیں حق سکونت تھا جس پر بھی انکے پاس کوئی روایت موجود نہیں سوائے چند ایک علما اقوال کے
جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ ابوبکر نے اپنی وفات کے وقت وصیت کی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں، آپ کے حجرے میں دفن کیا جائے، اور انہوں نے اس کے لیے عائشہ سے اجازت لی۔
👈 تو اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں کو ’’عام صدقہ‘‘ قرار دیا گیا تھا، تو پھر نبی کا حجرہ بھی ’’مالِ عام‘‘ تھا۔ اس صورت میں ابوبکر کو تمام مسلمانوں سے اجازت لینی چاہیے تھی
صرف عائشہ سے نہیں۔
یہی بات اس بات پر دلیل ہے کہ وہ خود اپنی روایت کو بھی سچ نہیں سمجھتے تھے۔
عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کو اپنی وراثت میں رکھنے کے جو طریقے اختیار کیے،
ان میں صرف ابوبکر و عمر کو حجرے میں دفن کرانا ہی نہیں تھا،
بلکہ:
انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے روکا کہ امام حسن علیہ السلام کو اپنے نانا کے پہلو میں دفن نہ کریں۔
وہ خچر پر سوار ہو کر نکلیں اور پکاریں:
📜 ’’میرے گھر میں اُس شخص کو دفن نہ کرو جسے میں پسند نہیں کرتی‘‘۔
تفصیلی پوسٹ یہاں دیکھیں 👈 /topic/1388
بنو ہاشم اور بنو امیہ دونوں جنگ کے لیے صف بستہ ہو گئے،
لیکن امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
’’میں اپنے بھائی کو نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی زیارت کراؤں گا،
پھر اسے بقیع میں دفن کروں گا،
کیونکہ امام حسن علیہ السلام نے وصیت کی ہے کہ ان کے لیے خون کا ایک قطرہ بھی نہ بہایا جائے‘‘۔
ابن عباس نے کہا:
"کیا مصیبت ہے!
ایک دن خچر پر، ایک دن اونٹ پر!
ایک دن تجمّلت، ایک دن تبغّلت،
اور اگر زندہ رہیں تو تَفیَّلت!"
شاعر ابن الحجاج بغدادی نے اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت نے رسول کے تمام گھروں پر قبضہ کر لیا تھا:
لَكِ التِّسْعُ مِنَ الثُّمُنِ
وَبِالْكُلِّ تَمَلَّكْتِ
تَجَمَّلْتِ تَبَغَّلْتِ
وَإِنْ شِئْتِ تَفَيَّلْتِ
(19)
اور صقر بصری نے کہا:
وَيَوْمَ الْحَسَنِ الْهَادِي
عَلَى بَغْلِكِ أَسْرَعْتِ
وَمَا يَسْتِ وَمَا نَعَتِ
وَخَاصَمْتِ وَقَاتَلْتِ
وَفِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ
بِالظُّلْمِ تَحَكَّمْتِ
هَلِ الزَّوْجَةُ أَوْلَى بِالْمَوَارِيثِ مِنَ الْبِنْتِ؟
لَكِ التِّسْعُ مِنَ الثُّمُنِ
فَبِالْكُلِّ تَحَكَّمْتِ
تَجَمَّلْتِ تَبَغَّلْتِ
وَلَوْ عِشْتِ تَفَيَّلْتِ
(20)
6⃣ چھٹا نکتہ:
اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو صدیقۂ طاہرہ فاطمہؑ اپنے مطالبے سے خوشی اور اطمینان کے ساتھ دست بردار ہو جاتیں، لیکن تحقیق یہ ہے کہ زہراءؑ ابوبکر اور عمر پر غضبناک ہوئیں اور اس جھوٹی حدیث کو سننے کے بعد ان دونوں سے بات چیت ترک کردی، اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں کہ وہ ان دونوں پر ناراض تھیں (21)۔
انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں رات کے وقت دفن کیا جائے، اور نہ ابوبکر و عمر کو اطلاع دی جائے، نہ وہ جنازے میں شامل ہوں، اور نہ ان پر نماز پڑھیں۔
چنانچہ علیؑ نے انہیں رات ہی میں دفن کیا، ان کی قبر پوشیدہ رکھی، اور دونوں میں سے کسی کو خبر نہ ہونے دی (22)۔
اس پر تفصیلی گفتگو انشاءﷲ آگے آئے گی
روایت ہے کہ علیؑ نے ان کی قبر کے اردگرد سات قبریں بطورِ نشانی برابر کردیں، اور چالیس قبروں پر پانی چھڑک دیا تاکہ وہ اصل قبر تک نہ پہنچ سکیں (23)۔
خود اہلسنت نے بھی نقل کیا ہے 👈 /topic/2046
یہ سب کچھ سورج کی طرح روشن دلیل ہے ان کی مظلومیت پر کہ انہیں ان کا حق دبا کر، ان کی عطا و ملکیت چھین کر ظلم کیا گیا۔
اور اس طرح کا عمل فاطمہؑ ہرگز اس شخص کے ساتھ نہیں کرتیں جو اپنے قول و فعل میں برحق ہو۔
کیونکہ وہؑ حق کے سوا کسی بات پر غضبناک نہیں ہوتیں، اور اللہ ان کے غضب پر غضبناک ہوتا ہے، اور ان کی رضامندی پر راضی ہوتا ہے۔
پس یہ درست نہیں ہوسکتا کہ زہراءؑ اس حکم پر ناراض ہوں جسے ان کے والد مصطفیٰؐ نے زبانِ حق سے بیان فرمایا ہو۔
لہٰذا ان کی اس شدتِ ناراضی اور وصیت کی بنیاد یہی ہے کہ انہوں نے حدیث بیان کرنے والے کو جھوٹا جانا؛
کیونکہ اگر وہ سچا اور درست ہوتا، تو لازم آتا کہ ان کا غضب حق کے خلاف ہو اور یہ محال ہے۔
7⃣ ساتواں نکتہ:
اگر واقعی حدیث صحیح ہوتی تو عمر بن خطاب اپنے ساتھی ابوبکر کے عمل کی مخالفت نہ کرتا۔
لیکن اس نے رسولؐ کی میراث ازواجِ نبی میں تقسیم کی، اور مدینے کی صدقہ کی زمین علیؑ اور عباس کے حوالے کردی۔
بخاری نے کتاب المزارعہ میں نافع سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا:
📜 عمر نے خیبر تقسیم کیا، اور رسولؐ کی ازواج کو اختیار دیا کہ چاہیں تو انہیں پانی اور زمین کا حصہ دیا جائے یا سالانہ غلّہ۔
چنانچہ بعض نے زمین کو چنا اور بعض نے سالانہ غلّہ۔
اور عائشہ نے زمین کا انتخاب کیا (24)۔
یہ وہی خیبر ہے جس سے فاطمہؑ نے میراث کے طور پر اپنا حصہ طلب کیا تھا، اور ابوبکر نے رد کردیا تھا۔
لیکن عمر نے خلافت کے زمانے میں اسے ازواجِ نبی میں تقسیم کردیا!
تفصیلی پوسٹ یہاں دیکھیں 👈 /topic/2108
❓ پس اگر رسولؐ وارث نہیں چھوڑتے تھے، تو ازواج کو میراث کیوں ملی اور بیٹی کو کیوں نہیں؟
اور عائشہ سے روایت ہے کہ:
📜 “رسولؐ کی مدینے والی صدقہ کو عمر نے علی اور عباس کے حوالے کیا” (25)۔
❓اگر واقعی رسولؐ وارث نہیں چھوڑتے تھے، اور ان کا سارا ترکہ مسلمانوں کی صدقہ تھا، تو عمر نے یہ اموال علیؑ اور عباس کو کیسے دے دیے؟
❓اور پھر یہ سب کچھ زہراءؑ کی زندگی میں کیوں نہ کیا گیا؟
یہ سب وہی سیاست تھی جو جہاں چاہتی تھی وہاں روک دیتی تھی تاکہ نئی بنتی ہوئی حکومت کی بنیادیں مضبوط ہوں؛
اور جب فتح و کشادگی کا دور آیا، تب دینے کا وقت سمجھا گیا۔
8⃣ آٹھواں نکتہ:
بعض ایسی روایات بھی بیان ہوئی ہیں جو حدیثِ منعِ ارث کی مخالفت کرتی ہیں۔ ان میں ایک وہ ہے جو السیرۃ الحلبیۃ میں سبط ابن الجوزی سے نقل ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
📜 ابوبکر نے فاطمہؑ کے لیے فدک کا ایک خط لکھا۔ اتنے میں عمر ان کے پاس آئے اور پوچھا: یہ کیا ہے؟
ابوبکر نے کہا: یہ خط ہے جو میں نے فاطمہؑ کے لیے ان کے والد سے ان کی میراث کے طور پر لکھا ہے۔
عمر نے کہا: تم پھر مسلمانوں پر کس چیز سے خرچ کرو گے؟ جبکہ عرب تمہارے خلاف جیسا کہ دیکھ رہے ہو کھڑے ہوگئے ہیں؟
پھر عمر نے وہ خط لیا اور پھاڑ دیا (26)۔
تفصیلی پوسٹ دیکھیں 👈 /topic/2098
واضح ہے کہ اس روایت کے مطابق ابوبکر نے فاطمہؑ کو فدک اس بنیاد پر لکھ کر دیا کہ وہ اپنے والدؐ کی میراث ہے، اور یہ خود ابو بکر کی بیان کردہ حدیثِ "لا نورث" کے خلاف ہے۔
اسی طرح ابو الطفیل سے روایت ہے:
📜 فاطمہؑ نے ابوبکر کے پاس پیغام بھیجا: "کیا آپ رسول اللہؐ کے وارث ہوئے ہیں یا ان کے اہل وارث ہوئے ہیں؟"
انہوں نے کہا: "نہیں، بلکہ ان کے اہل" (27)۔
تفصیلی پوسٹ دیکھیں 👈 /topic/2090
ابن ابی الحدید کہتے ہیں:
📜 اس حدیث میں عجیب بات ہے، کیونکہ انہوں نے (فاطمہؑ نے) پوچھا: "آپ رسول اللہؐ کے وارث ہوئے یا ان کے اہل؟"
انہوں نے جواب دیا: "بلکہ ان کے اہل"
اور یہ صاف اعلان ہے کہ رسولؐ کا ترکہ موجود تھا اور اہلِ بیت اس کے وارث تھے، جو ابو بکر کے قول "لا نورث" کے خلاف ہے (28)۔
9⃣ نواں نکتہ:
اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو امیرالمؤمنینؑ یوں فریاد نہ کرتے:
📜 "اے اللہ! میں قریش کے خلاف تیری عدالت میں فریاد کرتا ہوں، انہوں نے میرا حق چھین لیا، اور میری میراث غصب کرلی" (29)۔
اور نہ ہی زہراءؑ اپنی مشہور نظم میں یوں کہتیں:
تجهّمتنا رجالٌ واستخفّ بنا
لمّا فُقِدت وكلُّ الإرث مغتصبُ (30)
"لوگ ہم پر بگڑ کر آگئے، ہمیں حقیر سمجھا،
جب رسولؐ دنیا سے چلے گئے، تو ساری میراث غصب کرلی گئی۔"
آخرکار، فدک کی زمین فاطمہؑ کا خالص حق ہے، اس میں نہ کسی کو شک کی گنجائش ہے اور نہ بحث کی۔
خواہ وہ عطیہ ہو یا میراث ان کا حق مسلم ہے۔
اور وہ خبر جسے ابو بکر نے تنہا نقل کیا، اس نے امت پر ہمیشہ سے اور آج تک مسلسل فتنوں، مصیبتوں اور دشمنیوں کے دروازے کھول دیے۔
مسلمانوں کے درمیان تفرقہ، نفرت اور شقاق کی آگ اسی حدیث کے دروازے سے آج تک بھڑکتی رہی ہے۔
____________
📚 1) سورة النساء : 4 | 7 .
📚 2) راجع : سورة النساء : 4 | 11 . وسورة الأنفال : 7 | 75 .
📚 3) سورة مريم : 19 | 5 ـ 6 .
📚 4) سورة النمل : 27 | 16 .
📚 5) سورة النمل : 27 | 16 .
📚 6) سورة مريم : 19 | 6 .
📚 7) مسند فاطمة عليها السلام | السيوطي : 17 .
📚 8) الصواعق المحرقة : 34 ، كنز العمال 7 : 226 و235 و236 و237 ، 11 : 475 و479 ، 12 : 488 ، منتخب كنز العمال 4 : 364 .
📚 9) شرح ابن أبي الحديد 16 : 227 .
📚 10) الشافي | المرتضى 4 : 66 .
📚 11) تلخيص الشافي 3 : 137 ـ 138 .
📚 12) شرح ابن أبي الحديد 16 : 229 .
📚 13) صحيح البخاري 7 : 268 | 7 كتاب الفرائض ـ باب قول النبي صلى الله عليه وآله وسلم : « لا نورث » . وسنن أبي داود 3 : 45 | 2976 ـ كتاب الخراج والامارة والفيء . وسنن البيهقي 6 : 301 . وشرح ابن أبي الحديد 16 : 223 .
📚 14) الأمالي | المفيد : 125 | 3 . وكشف الغمة 1 : 479 .
📚 15) صحيح البخاري 7 : 267 | 5 ، كتاب الفرائض ـ باب قول النبي صلى الله عليه وآله وسلم : « لا نورث » . وسنن البيهقي 6 : 299 . وشرح ابن أبي الحديد 16 : 222 .
📚 16) صحيح البخاري 7 : 266 | 3 كتاب الفرائض ـ باب قول النبي صلى الله عليه وآله وسلم : « لا نورث » . وسنن البيهقي 6 : 300 . ومسند أحمد 1 : 10 . وتاريخ الطبري 3 : 208 . وشرح ابن أبي الحديد 16 : 46 و 16 : 218 . ومسند فاطمة عليها السلام | السيوطي : 17 .
📚 17) صحيح مسلم 3 : 1379 | 49 ، ورواه البخاري في الصحيح 7 : 267 | 5 وأبو داود في السنن 3 : 139 ، والبيهقي في السنن 6 : 299 بدون ذكر الألفاظ .
📚 18) شرح ابن أبي الحديد 16 : 222 و 227 و 229 .
📚 19) الخرائج والجرائح | القطب الراوندي 1 : 243 .
📚 20) المناقب | ابن شهرآشوب 4 : 45 .
📚 21) صحيح البخاري 5 : 288 | 256 ـ كتاب المغازي . وصحيح مسلم 3 : 1380 | 1759 ـ كتاب الجهاد والسير . وسنن أبي داود 3 : 142 | 2968 ـ باب صفايا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم . ومسند أحمد 1 : 6 و 9 . ومشكل الآثار | الطحاوي 1 : 48 . وسنن البيهقي 6 : 300 ـ 301 . والبداية والنهاية
5 : 249 . وتاريخ الطبري 3 : 202 . وجامع الاُصول 4 : 482 . وتاريخ المدينة | ابن شبّة 1 : 110 .
📚 22) راجع : مستدرك الحاكم 3 : 162 . والعمدة | ابن البطريق : 390 ـ 391 . وروضة الواعظين | الفتال : 151 . وعلل الشرائع | الصدوق : 185 و 188 و 189 . وكشف الغمة | الاربلي 1 : 494 . والكافي | الكليني 1 : 458 . ومعاني الأخبار : 356 .
📚 23) المناقب | ابن شهرآشوب 3 : 363 . والشافي | المرتضى 4 : 115 . وتلخيص الشافي | الطوسي 3 : 130 . ودلائل الإمامة | الطبري : 136 .
📚 24) صحيح البخاري 3 : 211 ـ باب المزارعة ـ بالشطر ونحوه .
📚 25) صحيح البخاري 6 : 178 | 2 ـ كتاب الخمس . وصحيح مسلم 3 : 1382 | 54 ـ كتاب الجهاد والسير . وسنن أبي داود 3 : 143 | 2970 ـ باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من الأموال . وسنن البيهقي 6 : 301 . ومسند أحمد 1 : 6 .
📚 26) السيرة الحلبية 3 : 362 .
📚 27) الرياض النضرة | المحب الطبري 1 : 191 . وسنن البيهقي 6 : 303 . ومسند أحمد 1 : 4 . وشرح ابن أبي الحديد 16 : 219 . ومسند فاطمة عليها السلام | السيوطي : 15 عن مسلم وأحمد وأبي داود وابن جرير .
📚 28) شرح ابن أبي الحديد 16 : 219 .
📚 29) شرح ابن أبي الحديد 10 : 286 .
📚 30) سيأتي تخريجها في المبحث الثاني من هذا الفصل
invisibleislam.com