کیا امام حسن مجتبی (ع) کے جنازے کو رسول خدا (ص) گھر میں دفن ہونے سے روکا اور منع کیا گیا تھا ؟
*کیا امام حسن مجتبی (ع) کے جنازے کو رسول خدا (ص) گھر میں دفن ہونے سے روکا اور منع کیا گیا تھا ؟*
علمائے اہل سنت نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ خچر پر سوار ہو کر آئی اور اس نے رسول خدا (ص) کے پہلو میں امام حسن (ع) کو دفن کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
ابن عبد البر قرطبی نے كتاب بهجة المجالس میں لکھا ہے کہ:
📜 لما مات الحسن أرادوا أن يدفنوه في بيت رسول الله صلي الله عليه وسلم، فأبت ذلك عائشة وركبت بغلة وجمعت الناس، فقال لها ابن عباس: كأنك أردت أن يقال: يوم البغلة كما قيل يوم الجمل؟!.
📝 جب (امام) حسن دنیا سے چلے گئے تو جب انھوں نے چاہا کہ اسکو رسول خدا کے گھر میں دفن کریں تو عائشہ نے اس کام سے انکار کرتے ہوئے، اس کام سے منع کیا اور ایک خچر پر سوار ہو کر لوگوں کو اکٹھا کر لیا، ابن عباس نے اس سے کہا: (تم وہی کام کرنا چاہتی ہو جو تم نے جنگ جمل میں انجام دیا تھا) کیا تم چاہتی ہو کہ لوگ کہیں، خچر کا دن، جیسا کہ کہا گيا تھا کہ، جمل کا دن، ؟
📚 ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، بهجة المجالس وأنس المجالس، الجزء الأول من قسم الأول، ص100، باب من الأجوبة المسكتة وحسن البديهة، تحقيق: محمد مرسي الخوئي، ناشر: دار الكتب العلمية ـ
جناب بلاذری نے اپنی کتاب انساب الأشراف اور جناب إبن أبی الحديد نے کتاب شرح نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ:
📜 وتوفي فلما أرادوا دفنه أبي ذلك مروان وقال: لا، يدفن عثمان في حش كوكب ويدفن الحسن ههنا. فاجتمع بنو هاشم وبنو أمية فأعان هؤلاء قوم وهؤلاء قوم، وجاؤوا بالسلاح فقال أبو هريرة لمروان: يا مروان أتمنع الحسن أن يدفن في هذا الموضع وقد سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول له ولأخيه حسين: هما سيدا شباب أهل الجنة. فقال مروان: دعنا عنك، لقد ضاع حديث رسول الله ان كان لا يحفظه غيرك وغير أبي سعيد الخدري إنما أسلمت أيام خيبر، قال: صدقت، أسلمت أيام خيبر، إنما لزمت رسول الله صلي الله عليه وسلم فلم أكن أفارقه، وكنت أسأله وعنيت بذلك حتي علمت وعرفت من أحب ومن أبغض ومن قرب ومن أبعد، ومن أقر ومن نفي، ومن دعا له ومن لعنه.
فلما رأت عائشة السلاح والرجال، وخافت أن يعظم الشر بينهم وتسفك الدماء قالت: البيت بيتي ولا آذن أن يدفن فيه أحد.
📝 جب امام حسن دنیا سے چلے گئے تو انھوں نے چاہا کہ اسے دفن کریں، مروان نے اس کام کی اجازت نہ دی اور کہا: نہ، عثمان حش کوکب (یہودیوں کا قبرستان) میں دفن ہو اور حسن یہاں پر ؟ بنی ہاشم اور بنی امیہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے اسلحہ ہاتھوں میں لے کر جمع ہو گئے، ابوہریرہ نے مروان سے کہا:
کیا تم حسن کے یہاں پر دفن ہونے سے منع کرتے ہو، حالانکہ تم نے رسول خدا سے سنا ہے کہ اسے اور اسکے بھائی حسین کو کہا تھا کہ: یہ دونوں جوانان جنت کے سید و سردار ہیں؟ مروان نے کہا: چھوڑو ان باتوں کو، رسول خدا کی حدیث ضائع و بھول گئی ہوتی کہ اگر تم اور ابو سعید خدری اسکو حفظ نہ کرتے تو، اے ابوہریرہ تم فتح خیبر کے وقت مسلمان ہوئے ہو، ابوہریرہ نے کہا ہاں تم صحیح کہتے ہو کہ میں فتح خیبر کے موقع پر اسلام لایا تھا، لیکن میں ہمیشہ پیغمبر کے ساتھ تھا اور ان سے دور نہیں ہوا، میں جانتا ہوں کہ رسول خداکس سے محبت کرتے ہیں اور کس سے نفرت کرتے ہیں، کون ان کے نزدیک ہے اور کون ان سے دور ہے، کس کو انھوں نے مدینہ میں رہنے کی اجازت دی اور کس کو انھوں نے مدینہ سے باہر نکالا، کس کے لیے انھوں نے دعا کی ہے اور کس پر انھوں نے لعنت کی ہے، ان تمام باتوں کا مجھے علم ہے،
جب عائشہ نے اسلحہ اور مروان کو دیکھا تو ڈر گئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شر و فتنہ بڑھ جائے اور خون خرابہ ہو جائے، تو اس نے کہا: یہ میرا گھر ہے ، میں کسی کو یہاں پر دفن کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
📚البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر ، أنساب الأشراف، ج1، ص389، طبق برنامه الجامع الكبير.
📚إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، شرح نهج البلاغة، ج16، ص8، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان،
يعقوبی نے کتاب تاريخ میں لکھا ہے کہ:
📜 وقيل أن عائشة ركبت بغلة شهباء وقالت بيتي لا آذن فيه لأحد فأتاها القاسم بن محمد بن أبي بكر فقال لها يا عمة ما غسلنا رؤوسنا من يوم الجمل الأحمر أتريدين أن يقال يوم البغلة الشهباء فرجعت ،
📝 عائشہ خاکستری رنگ کے خچر پر سوار ہو کر آئی اور کہا: یہ میرا گھر ہے، میں کسی کو بھی یہاں دفن کرنے کی اجازت نہیں دیتی،
قاسم ابن محمد ابن أبی بكر آگے آیا اور کہا:
*اے پھوپھی، ابھی تک تو ہم نے اپنے سروں کو جنگ جمل کے بعد دھویا بھی نہیں ہے، کیا تم چاہتی ہو کہ اب لوگ کہیں کہ خاکستری رنگ کے خچر کا دن ؟ یہ سن کر عائشہ واپس چلی گئی۔*
📚 اليعقوبي، أحمد بن أبي يعقوب بن جعفر بن وهب بن واضح (متوفي292هـ)، تاريخ اليعقوبي، ج2، ص225، ناشر: دار صادر - بيروت.
ابو الفداء نے اپنی کتاب تاريخ میں لکھا ہے کہ:
📜 وكان الحسن قد أوصي أن يدفن عند جده رسول الله صلي الله عليه وسلم، فلما توفي أرادوا ذلك، وكان علي المدينة مروان بن الحكم من قبل معاوية، فمنع من ذلك، وكاد يقع بين بني أمية وبين بني هاشم بسبب ذلك فتنة، فقالت عائشة رضي الله عنها: البيت بيتي ولا آذن أن يدفن فيه، فدفن بالبقيع، ولما بلغ معاوية موت الحسن خر ساجداً.
📝 (امام) حسن نے وصیت کی کہ مجھے رسول خدا کے پہلو میں دفن کیا جائے، جب وہ دنیا سے چلے گئے تو انھوں نے چاہا کہ انکی وصیت پر عمل کیا جائے، اس دور میں مروان ، معاویہ کی جانب سے مدینہ کا حاکم تھا، پس اس نے اس کام کے ہونے سے منع کیا، قریب تھا کہ اس بات پر بنی امیہ اور بنی ہاشم میں خون خرابہ ہو جائے، لہذا عائشہ نے کہا: یہ میرا گھر ہے، میں اجازت نہیں دیتی کہ وہ یہاں پر دفن ہو، پس انھوں نے اس (امام حسن) کو بقیع میں دفن کر دیا، جب (امام) حسن کے دنیا سے جانے کی خبر معاویہ کو ملی تو اس نے سجدہ شکر ادا کیا۔
📚 أبو الفداء عماد الدين إسماعيل بن علي (متوفي732هـ)، المختصر في أخبار البشر، ج1، ص127، طبق برنامه الجامع الكبير.
ولیعصر
🔴 دیگر حوالہ جات
🔴 امام حسن علیہ السلام کا جنازہ روکنے اور روضہ رسول ﷺ میں تدفین سے روکنے والے کون تھے۔۔؟؟
✍🏻جب امام حسن علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی حسین بن علی علیہم السلام سے فرمایا: اے میرے بھائی میں آپکو وصیت کرتا ہوں آپ اس کو یاد رکھیں اور اسکی حفاظت کرنا۔
اے میرے بھائی جان لو حمیراء کی طرف سے میرے اوپر مصیبت آئے گی۔
وہ اس وجہ سے کہ تمام لوگ اس کی دشمنی اور عداوت کو
خدا اور اسکے رسولﷺ بارے جانتے ہیں اور اس کی اہلبیتؑ کےبارے میں دشمنی اور عداوت کو بھی جانتے ہیں اس پر صبر کرنا
📌پس جب آپ علیہ السلام کا انتقال ہوگیا تو آپکو دفن کیلئے آمادہ کرنے کے بعد تخت پر رکھا اور بنوہاشم نے آپ علیہ السلام کے جنازہ کو اٹھایا۔ اور وہاں لےآئے جہاں رسول خدا ﷺ لوگوں پر نماز جنازہ پڑھا کرتے تھے وہاں آپ علیہ السلام کا جنازہ پڑھا گیا۔ جب آپ علیہ السلام کی نماز جنازہ ادا کرلی گئی تو آپکے جنازہ کو اٹھا کر مسجد میں داخل ہوئے تو کسی نے "حمیراء" کر خبر کردی کہ بنو ہاشم حسن علیہ السلام کو قبر رسولﷺ کے پہلو میں دفن کرنا چاہتے ہیں۔
♦️پس وہ خچر پر زین رکھ کر اس پر سوار ہوئی اور مبازہ کرتی ہوئی بنو ہاشم کے سامنے آگئی اور آواز دی
♦️اے بنو ہاشم اپنے اس بیٹے کی میت کو میرے گھر سے باہر لے جاوٴ تم ہمارے دشمن ہو میں کسی کو اسمیں دفن ہونے کی اجازت نہیں دونگی۔
تو قاسم بن محمد بن ابی بکر نے ان کے پاس آکر کہا،
اے پھوپھی ہم نے سرخ اونٹ کی جنگ کے دن سے سر نہیں دھوئے، کیا آپ چاہتی ہیں کہ سفید خچر والے دن کو بھی بیان کیا جایا کرے۔
♦️مروان بن حکم بنو امیہ والوں کو لے کر آگیا اور کہا کہ عثمان کو حش کوکب(یہودی قبرستان) میں دفن کیا گیا تو حسن علیہ السلام کو پہلوء نبی ﷺ میں کیوں دفن ہونے دیں اور لڑائی پر آمادہ ہوگئے۔
ابوہریرہ مروان سے مخاطب ہوا ، تم حسن علیہ السلام کو رسولﷺ کے ساتھ دفن ہونے سے منع کرتے ہو جبکہ میں نے رسولﷺ سے سنا ہے
👑حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام جوانان جنت کے سردار ہیں
جب حالات شدت اختیار کر گئے تو امام حسین علیہ السلام نے وصیت کے مطابق جناب حسن علیہ السلام کی جنت البقیع میں تدفین کردی۔
📚معجم الکبیر امام طبرانی
📚اصول کافی یعقوب کلینی رح
📚الاخبار الطوال ابی حنیفہ احمد بن داؤد دینوری
📚المناقب آل ابی طالب ابن شہر آشوب
📚شرح نہج البلاغہ لا ابن ابی الحدید متزلی
🔰ابن شہر آشوب نے جنازے پر تیر چلانے کا ذکر بھی کیا ہے۔۔
#تعلیمات_اہلبیت
Gallery
Tap any image to view full screen