Back to فدک

اگر واقعی رسول اللہ ص کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟

اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟
اگر واقعی رسول اللہ ص  کی میراث بیت المال ہے، تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں بطور ملکیت تقسیم کرے؟

🔴 اب کیوں کہ نہ سیدہ ص زندہ ہیں اور نہ ہی خلیفہ اول لہذا یہی بیسٹ ٹائم ہے زمینیں تقسیم کرنے کا 🔴

 

جی اُسی خیبر کی زمینیں جس کے فقط ایک باغ کا بطور میراث اور بطور ہبہ دعوی کیا گیا سیدہ ص کی طرف سے مگر آگے سے جعلی حدیث سنا دی گئی

 

اگر واقعی رسول اللہ ﷺ کی میراث بیت المال ہے،

تو دوم کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ یہ بیت المال ازواجِ نبی میں تقسیم کرے؟

 

حدیث ابن عمر میں آتا ہے:

 

📜 نبی کریم ﷺ نے خیبر کی پیداوار کا آدھا حصہ سالانہ اپنی ازواج کو دینا مقرر کیا تھا:

80 وسق کھجور، 20 وسق جو۔

پھر جب عمر نے خیبر کو تقسیم کیا تو اس نے ازواجِ نبی کو اختیار دیا کہ چاہو تو زمین لے لو یا اتنی ہی مقدار کا اناج۔

بعض نے زمین لی، بعض نے پیداوار۔

اور عائشہ نے زمین منتخب کی۔

 

📚 صحیح بخاری

📚 صحیح مسلم

📚 مسند احمد

📚 اخبار مدینہ النبویہ

 

⁉️اب سوال یہ ہے:

 

❌ اگر آپ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ وراثت نہیں چھوڑتے،

کوئی ان کا وارث نہیں بنتا، اور سب کچھ “بیت المال” ہے…

 

❓ تو پھر دوم نے کس قانون کے تحت خيبر (جس میں فدک بھی شامل تھا) کی زمینیں نبی کی بیویوں کو دیں؟

 

❓ کیا یہ اب “بیت المال” نہیں تھا؟

 

❓ اگر بیت المال تھا تو پھر صرف ازواج کو کیوں؟

 

❓ اگر وراثت نہیں ہوتی تو پھر زمینیں کیوں دی گئیں؟

 

❓ اور جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنا حق مانگا تو اسے “لوگوں کا مال” کہہ کر کیوں روک دیا گیا؟

 

❓ خلیفہ اول نے انکار کرکے صحیح کام کیا یا دوم نے تقسیم کرکے ؟

 

❓ اگر مان بھی لیں کہ نبی کی ازواج کو صرف گھروں میں رہنے کا حق تھا، کوئی وراثت نہیں تھی ، تو پھر: خیبر کی زمین انہیں کو کس حق سے دی گئی؟

 

❓ اور پھر انہوں نے یہ زمینیں فروخت بھی کی ، یہ کس دلیل سے جائز ہوا؟

 

⭕ امویوں کا طریقۂ کار یہی ہے

 

کہ بیویوں نے صرف گھروں پر ہی قبضہ نہیں کیا، بلکہ دوم نے وہ زمینیں بھی جو رسول اللہ ﷺ کی مخصوص ملکیت تھیں، ان کو وراثت میں دے دیں (جی خالصتاً رسولؐ کی ملکیت جس آگے جا کر گفتگو ہوگی)

 

جب زبانوں پر یہی رٹا ہوا جملہ ہے کہ:

 

"نبی ﷺ وراثت نہیں چھوڑتے، سب کچھ بیت المال کا ہوتا ہے" تو پھر: 

 

👈 جب حضرت فاطمہؑ اپنا حق مانگیں تو وہ مالِ عوام بن جاتا ہے،

👈 اور جب نبی کی بیویاں مانگیں تو وہ ان کی وراثت بن جاتا ہے؟

 

👈 یاد رہے سیدہ نے خیبر کا خمس بھی مانگا تھا جو بنص قرآن سیدہ ص کا حق تھا ، وہ بھی نہیں دیا گیا ، جس پر آگے چل کر بات کریں گے

 

❌ کہا گیا کہ یہ زمین بطور نفقہ تھی

 

✅ تو یہ زمین اسی خیبر کے صدقات سے کیسے مل سکتا ہے ؟ ، خیبر کا مال فئے اگر صدقہ تھا تو پھر تو نفقہ بھی حرام ہو جاتا ہے

 

کیوں کہ آپ کے محمد بن صالح العثيمين کے نزدیک تو صدقہ ازواج پر حرام ہے

 

محمد بن صالح العثيمين لکھتا یے کہ

 

📜 “اسی لئے راجح بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں صدقہ لینے کے لیے جائز نہیں،

کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ‘صدقہ آلِ محمد کے لیے حلال نہیں’،

اور بیویاں یقیناً آلِ رسول میں داخل ہیں جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔

 

📚 القرآن الکریم ، تفسیر سورہ الاحزاب ص 238

 

✅ لہذا انہیں زمین بطور نفقہ نہیں بلکہ ملکیت ملا تھی

 

نفقہ میں زمین نہیں دی جاتی ، خرچ دیا جاتا یے ، البتہ یہ کہنا کہ عمر نے اختیار دیا تھا ، 

ہم کہتے کہ اس اختیار میں انہیں زمین بطور ملکیت دی گئی ۔

جو کہ زمینیں بیچنا اور قبر کے لیے اپنے پاس محفوظ رکھنا اور خلفاء کا اجازت لینا وغیرہ سے ثابت ہے

 

۔

 

سوال اتنا ہے کہ جب فدک اس لیے نہیں دیا جا سکتا تھا کہ بیت المال ہے

تو اُسی بیت المال کی زمینیں بعد میں کس حق سے الاٹ کی گئیں 

 

آگے سے یہ کہتے ہیں کہ ان زمینوں کی آمدنی انہیں ملتی تھی اسلئے بعد میں آمدنی دینے کے بجائے زمین ہی دے دی تو کیا بُرا کیا۔ 

 

جناب آمدنی تو سیدہؐ کو بھی ملتی تھی بقول آپ کے۔ جب وہ زمین مانگیں تو غلط وہ مخصوص عورت مانگے تو صحیح ؟

 

سیدہؐ مانگیں تو حدیث لانورث۔

کوئی مانگے تو جائز ؟

 

📎 بدر علی 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12