🔴 امیرالمؤمنین علیہ السلام کا جعلی حدیث لانورث سن کر شیخین کی تعریف
▪️ صحیح مسلم اور صحیح بخاری اہلِ سنت کے نزدیک قرآن کے بعد سب سے صحیح کتابیں ہیں، جنہیں وہ “قرآن کے برابر” کہتے ہیں۔ آج آپکو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ایک روایت ہے جو ہے تو ایک جیسی ہے، مگر ان میں ایک خیانت ہے۔ وہ دیکھاتے ہیں
دیکھیے صحیح مسلم کی روایت:
علیؑ کے سامنے جب ابوبکر نے ایک حدیث (لانورث) پیش کی تو علیؑ ان کو جھوٹا خائن گنہگار عہد شکن سمجھتے تھے
▪️جیسا کہ حضرتِ عمر کہتے ہیں:
📜 فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا *"غَادِرًا"* خَائِنًا
📃 (ائے علیؑ) تم نے ابوبکر کو جھوٹا گنہگار "غدار" اور خائن سمجھا
حضرتِ عمر کو بھی غدار سمجھتے تھے
حضرتِ عمر کہتے ہیں جب میں نے یہی حدیث پڑھی تو آپ نے مجھ بھی:
📜 *فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا "غَادِرًا" خَائِنًا
📃 جھوٹا گنہگار "غدار" خائن سمجھا*
📚 حوالہ:[صحیح مسلم انٹرنیسشل نمبرنگ کے مطابق حدیث 4577]
یہی حدیث دوسری مختلف کتب میں بھی آئی ہے کہ
📜 “عمر نے کہا، جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو ابو بکر نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا ولی ہوں۔ پھر تم دونوں اپنے بھائی (یعنی رسول اللہ کے) کے پاس آئے، اور یہ (اشارہ عباس کی طرف) اپنی بیوی کا اپنے باپ سے میراث مانگ رہا تھا، اور یہ (اشارہ علیؑ کی طرف) اپنی بیوی (حضرت فاطمہؑ) کے لیے اپنے سسر سے میراث طلب کر رہا تھا۔
تو ابو بکر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ‘ہم انبیاء میراث نہیں چھوڑتے، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے’۔
👈👈 پس تم دونوں نے اسے جھوٹا، گناہگار، دھوکےباز اور خائن سمجھا 👈👈
جبکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ سچا، نیک، ہدایت یافتہ اور حق کا پیرو تھا۔ پھر ابو بکر وفات پا گیا اور میں رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر دونوں کا ولی ہوں۔
👈👈 پس تم دونوں نے مجھے بھی جھوٹا، گناہگار، دھوکےباز اور خائن سمجھا۔” 👉👉
پھر عمر نے علیؑ اور عباس سے کہا: “کیا ایسا ہی ہے جیسا میں نے کہا؟”
👉 اور علیؑ اور عباس نے کہا: “ہاں، ایسا ہی ہے” اور تائید کی۔
📚 الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان
📚 المصنف عبد الرزاق
📚 السنن کبری بیھقی
🔴 لیکن یہی روایت جب صحیح بخاری میں نقل ہوئی تو بخاری صاحب نے تحریف کر دی:
لکھتے ہیں
📜 “عمر نے کہا… اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی روح قبض کی۔ ابو بکر نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا ولی ہوں۔ اور اس نے ان اموال کو اپنے قبضے میں لیا اور ان کے بارے میں ویسا ہی عمل کیا جیسا رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے۔
اور اس وقت تم دونوں — (عمر نے علیؑ اور عباس کی طرف دیکھا) — یہ گمان رکھتے تھے کہ ابو بکر 👈‘ایسا اور ویسا’ ہے👉۔”
📚 صحیح بخاری، کتاب النفقات، حدیث 5358
✅ آپ نے دیکھا؟ مسلم روایت کو مکمل نقل کیا اور اس میں امیرالمؤمنین علیؑ کی رائے ان الفاظ میں آئی کہ:
ابو بکر اور عمر “جھوٹے، خائن، دھوکےباز اور گناہگار” ہیں۔
✂ مگر بخاری نے یہ حصہ حذف کر دیا اور صرف اتنا لکھا کہ علیؑ ابو بکر کو “ایسا ویسا” سمجھتے تھے۔
جب “سب سے صحیح” کہلانے والی کتابوں کا یہ حال ہوا تو باقی کا حال خود سمجھ میں آ جاتا ہے۔
اس طرح ڈنڈیاں بخاری نے کئی جگہ ماری ہیں یہاں تک کہ مروان کو بچانے کیلئے بھی
❓ سوال یہ ہے اس تحریف کی ضرورت کیوں پیش آئی اگر علی ع انہیں جھوٹے، خائن، دھوکےباز اور گناہگار نہیں سمجھتے تھے تو ؟
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen