❌ وہ حدیث جو ابوبکر کے نام سے منسوب کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء اپنے مال سے کچھ نہیں چھوڑتے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس دن تک اہل بیت علیہم السلام نے یہ حدیث کیوں نہیں سنی؟
❓اور حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کے وارثین کو بھی اس بات کا علم کیوں نہیں تھا؟
❓کیوں رسول اللہ ﷺ کی زوجات نے عثمان کو ابوبکر کے پاس بھیجا اور اپنا حقِ وراثت مانگا؟
❓کیوں عثمان نے یہ بات انہیں رسول ﷺ کی طرف سے یاد نہیں دلائی؟
❓کیوں عثمان ابوبکر کے پاس گیا اور زوجاتِ رسول ﷺ کی خواہشات بیان کی؟
✅ اس کا مطلب ہے کہ عثمان بھی اہل بیت اور زوجات رسول ﷺ کی طرح اس حدیث سے بے خبر تھے۔
▪️فخر رازی نے اس معاملے میں اپنی تفسیر میں ایک نکتہ بیان کیا:
📜 "اس مسئلے کو جاننے کی ضرورت صرف حضرت فاطمہ، علی اور عباس کو تھی، اور یہ سب بڑے زاہد، عالم اور دین کے اہل تھے۔ ابو بکر کو اس مسئلے کو جاننے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ اسے یہ خیال بھی نہیں آیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے وراثت پائے گا۔ تو پھر رسول اللہ ﷺ پر کس طرح مناسب ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایسے شخص کو بتائیں جسے اس کی ضرورت نہیں، اور جسے سب سے زیادہ ضرورت ہے، اسے نہ بتائیں؟"
📚 التفسير الكبير (مفاتيح الغيب)، فخرالدين الرازی، جلد 9، صفحہ 217، دار الفکر
✅ فخر رازی کا بیان بالکل واضح ہے؛ لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خبر خلیفہ اول کی طرف سے جھوٹ ہے؛
بلکہ خود خلیفہ اول کا اقرار ہے کہ رسول اللہ کے اہل خانہ رسول ﷺ کی وراثت کے حقدار ہیں 👇
⁉️ سوال مخالفین سے:
▪️کیا پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری نہیں تھی کہ شرعی حکم عوام تک پہنچائیں؟
▪️تو پھر حضرت فاطمہ جو اس حکم کی اصل وارثہ ہیں، اس حکم سے کیوں بے خبر تھیں؟
▪️اس وقت تک، کسی نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے کیوں نہیں سنی؟
▪️کسی نے یہ روایت نقل کیوں نہیں کی؟
▪️اور حتیٰ کہ اس وقت تک کسی نے یہ حدیث ابوبکر سے بھی نہیں سنی؟❓
بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen