Back to فدک

امام علی ع کا قرآنی استدلال

امام علی ع کا قرآنی استدلال
امام علی ع کا قرآنی استدلال
امام علی ع کا قرآنی استدلال
امام علی ع کا قرآنی استدلال

🔴 امام علی ع کا قرآنی استدلال 🔴

 

مومنین آپ نے خطبہ فدکیہ میں پاک سیدہ ص کی زبانی تو سنا ہوگا حضرات داؤد اور ذکریا کی میراث کا قرآنی استدلال

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہی استدلال خود امام علی ع نے بھی کیا تھا 

 

روایت نقل ہوئی ہے کہ 

 

📜 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا وَجَاءَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَطْلُبُ مِيرَاثَهُ وَجَاءَ مَعَهُمَا عَلِيٌّ , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «لَا نُورَثُ , مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ يَعُولُ فَعَلَيَّ، , فَقَالَ عَلِيٌّ: وَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاودَ، وَقَالَ زَكَرِيَّاءَ: يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ هَكَذَا وَأَنْتَ وَاللَّهِ تَعْلَمُ مِثْلَمَا أَعْلَمُ , فَقَالَ عَلِيٌّ: هَذَا كِتَابُ اللَّهِ يَنْطِقُ فَسَكَتُوا وَانْصَرَفُوا "

 

📃 ابوبکر نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے: "ہماری وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور جس کا خرچ نبی اٹھایا کرتے تھے وہ میرے ذمے ہے۔"

 

👈 علی نے کہا: سلیمان نے داؤد کا وارث بنا، اور زکریّا نے کہا: "وہ میرا وارث ہوگا اور آلِ یعقوب کا وارث ہوگا۔"

 

ابوبکر نے کہا: یہ بات درست ہے، لیکن میں جو کہہ رہا ہوں وہ تم بھی جانتے ہو

 

👈 علی نے کہا: یہ اللہ کی کتاب ہے جو بولتی ہے۔ تب وہ سب خاموش ہوگئے اور واپس چلے گئے۔

 

📚 طبقات ابن سعد ج2 ص315

📚 مسند فاطمہ ع

 

❓ اگر علی علیہ السلام اس حدیث کو جانتے ہوتے تو پھر سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کے خلاف کیوں جانے دیتے اور وہ مال طلب کرتیں جس کی وہ مستحق نہ ہوں؟

 

اللّه کی لنت ہو جھوٹوں پر

 

📎 بدر علی 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4