Back to فدک

انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا (سورۂ نمل اور ص کی آیات کی روشنی میں)

انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا  (سورۂ نمل اور ص  کی آیات کی روشنی میں)

🔴 انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا

 

👈 سورۂ نمل اور ص کی آیات کی روشنی میں 

 

⭕ اس باطل دعوے کا رد کہ انبیاء کوئی ارث نہیں چھوڑتے

 

Post No 3⃣

 

▪️ تاریخی طور پر مسلّم بات ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی میراث کو غصب کیا گیا، جو ان کا یقینی اور مسلم حق تھا۔ لیکن اسے ایک جھوٹ اور ایک باطل دعوے کے ذریعے ان سے چھین لیا گیا۔ وہ باطل دعویٰ جس پر مخالفین اور دشمنانِ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے دلیل قائم کی، یہ تھا کہ انبیاء کوئی ارث نہیں چھوڑتے۔ اس دعوے کا بطلان مختلف طریقوں سے ثابت ہوتا ہے، اور یہاں ان میں سے ایک طریقے کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔

 

سب سے پہلے اس آیتِ قرآن پر غور کریں:

 

📜 "وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ یَا أَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّیْرِ وَأُوتِینَا مِن کُلِّ شَیْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِینُ"

 

"اور سلیمان، داوود کے وارث بنے، اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی ہے، اور ہمیں ہر چیز سے (کچھ نہ کچھ) عطا کیا گیا ہے، بے شک یہ کھلی ہوئی فضیلت ہے۔"

 

📚 سورۂ نمل، آیت 16

 

✅ اس آیت کے مطابق جو بات واضح طور پر سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ انبیاء بھی وارث بنتے ہیں۔ 

 

❌ لیکن اس کے باوجود اکثر مخالف علما اس وراثت کو صرف نبوت اور علم کی وراثت تک محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

👈 حالانکہ آیت میں کہیں بھی وراثت کو نبوت یا علم تک محدود نہیں کیا گیا۔

 

✅ بلکہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی زبان جاننے کا ذکر کرتے ہیں تو اسے "تعلیم" قرار دیتے ہیں، "وراثت" نہیں۔

 

🔵 ایک اور نکتہ یہ کہ اگر ہم ابن تیمیہ اور ان کے پیروکاروں کے طریقے پر چلیں تو وہ قرآن میں مجاز کے منکر ہیں تو اس اصول کے مطابق وراثت کا پہلا معنی مالی وراثت ہی ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں وہ خود اپنے اصول کو بھول جاتے ہیں۔

 

💯 بہرحال اگر ہم مان بھی لیں کہ اس آیت میں وراثت سے مراد علم یا نبوت ہے، تب بھی یہ مانع نہیں بنتا کہ اس سے مالی وراثت بھی مراد ہو سکے، کیونکہ آیت میں کوئی حصر (restriction) موجود نہیں۔

 

⭕ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حسن بصری نے اس آیت میں وراثت کے معنی کے بارے میں کیا فرمایا:

 

📜 "وقال الحسن: ورث المال والملک لا النبوة والعلم، لأن النبوة والعلم فضل الله تعالى، ولا یکون بالمیراث."

 

📃 "اور حسن بصری نے کہا کہ مراد مال اور ملک کی وراثت ہے، نہ کہ نبوت اور علم؛ کیونکہ نبوت اور علم اللہ کا فضل ہیں، اور یہ وراثت کے ذریعے حاصل نہیں ہوتے۔"

 

📚 تفسیر السمرقندی، ج2، ص491

 

اسی طرح:

 

📜 "أَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى: وَوَرِثَ سُلَیْمانُ داوُدَ فَقَدِ اخْتَلَفُوا فِیهِ، فَقَالَ الْحَسَنُ الْمَالُ لِأَنَّ النُّبُوَّةَ عَطِیَّةٌ مُبْتَدَأَةٌ وَلَا تُورَثُ"

 

📃 "اللہ کے اس قول 'اور سلیمان، داوود کے وارث بنے' کے بارے میں علما کا اختلاف ہے، اور حسن بصری نے کہا کہ مراد مال ہے، کیونکہ نبوت اللہ کی ابتدائی عطا ہے اور یہ وراثت نہیں ہوتی۔"

 

📚 تفسیر الرازی، ج24، ص186

 

👈 آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ حسن بصری جو اہل سنت کے ائمہ اور بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اس بات کے قائل ہیں کہ آیت میں مراد مالی وراثت ہے، اور اس کا نبوت یا علم سے کوئی تعلق نہیں۔

 

۔

 

🔴 سوره ص کی آیات کی روشنی میں مزید وضاحت 🔴

 

📜 وَوَهَبْنا لِداوُدَ سُلَيْمانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ (30) إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِناتُ الْجِيادُ (31) فَقالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ (32) رُدُّوها عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ (33

 

📃 “اور ہم نے داوُد کے لیے سلیمان کو (بیٹا) عطا کیا۔ وہ کیا ہی اچھا بندہ تھا، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔

جب شام کے وقت اس کے سامنے عمدہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے تو اس نے کہا: میں نے اپنے رب کی یاد سے بڑھ کر مال (خیر) سے محبت اختیار کر لی ہے، یہاں تک کہ سورج پردے کے پیچھے چھپ گیا۔

 

📚 سورۃ ص، آیات 30، 33

 

۔

 

⭕ حضرت سلیمان کو یہ گھوڑے وراثت میں ملے تھے ⭕

 

1⃣ ابن عطیہ اپنی تفسیر (جلد 4، صفحہ 503) میں لکھتے ہیں:

 

📜 جمهور کا قول یہ ہے کہ سلیمانؑ کے سامنے جو گھوڑے پیش کیے گئے تھے وہ وہی تھے جو ان کے والد داوودؑ ان کے لیے چھوڑ گئے تھے۔

 

2⃣ تفسیرِ قرطبی (جلد 15، صفحہ 193) میں ہے:

 

📜 مقاتل کہتے ہیں: سلیمانؑ نے اپنے باپ داوُدؑ سے ایک ہزار گھوڑے وراثت میں پائے،

اور داوُدؑ نے یہ گھوڑے عمالقہ سے حاصل کیے تھے۔

 

3⃣ عمدة القاري شرح صحيح البخاري (جلد16، صفحہ 13) میں بدر الدین لکھتے ہیں 

 

📜 سلیمانؑ نے اپنے باپ داوُدؑ سے ایک ہزار گھوڑے وراثت میں پائے،

 

4⃣ ابوالقاسم غرناطی (التسهیل، جلد 2، صفحہ 207) میں لکھتے ہیں:

 

📜 جمهور کا قول یہ ہے کہ سلیمانؑ کے سامنے جو گھوڑے پیش ہوئے وہ وہی تھے جو انہوں نے اپنے والد سے وراثت میں لیے تھے۔

 

https://shamela.ws/book/23626/686

 

5⃣ تفسیرِ مظهری (جلد 8، صفحہ 175):

 

📜 سلیمانؑ کے سامنے جو گھوڑے پیش ہوئے وہ وہی تھے جو انہوں نے اپنے والد سے وراثت میں لیے تھے۔

 

۔

 

⭕ خیر سے مُراد مال ہے ⭕

 

6⃣ القاسمی (محاسن التأویل، جلد 8، صفحہ 256) لکھتے ہیں:

 

📜 زمخشری کہتے ہیں کہ “خیر” سے مراد مال ہے،

جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات میں بھی “خیر = مال” آیا ہے،

👈 اور یہاں “مال” سے مراد گھوڑے ہیں جنہوں نے سلیمانؑ کو مشغول کیا۔

 

https://shamela.ws/book/23631/3944

 

7⃣ ابو الفرج الجوزی (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 571) لکھتے ہیں:

 

📜 مفسرین کہتے ہیں کہ گھوڑے اس قدر دیر تک پیش کیے جاتے رہے کہ سورج غروب ہو گیا اور سلیمانؑ سے نمازِ عصر چھوٹ گئی۔

انہوں نے کہا: “میں نے خیر (مال) سے محبت کی…”

 

اس کے دو معنی بیان ہوئے:

 

1. مال: جیسا کہ سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا

2. گھوڑوں سے محبت: جیسا کہ قتادہ اور سدی نے کہا

 

👈 لیکن دونوں باتیں ایک ہی مفہوم پر لوٹتی ہیں، کیونکہ یہاں "خیر" سے مراد مال یعنی گھوڑے ہیں۔

 

https://shamela.ws/book/23619/1754

 

8⃣ سعدی لکھتے ہیں تیسیر الکریم الرحمن، ص 712

 

📜 “میں نے خیر (مال) کی محبت کو پسند کیا۔” یہاں أحببت کے معنی آثرت یعنی ترجیح دینا بھی لیے گئے ہیں۔

یعنی: میں نے خیر کی محبت کو ترجیح دی اور خیر سے مراد عام طور پر مال ہے، اور اس مقام پر مراد گھوڑے ہیں یہاں تک کہ وہ (سورج) پردے کے پیچھے چھپ گیا۔

 

https://shamela.ws/book/42/1611

 

9⃣ ابن عاشور – التحریر والتنویر، ج 23، ص 255:

 

📜 “خیر” سے مراد قیمتی مال ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اگر وہ مال چھوڑے…”

اور گھوڑے بھی قیمتی مال میں شمار ہوتے ہیں۔

 

https://shamela.ws/book/9776/7992

 

🔟 محمد سید طنطاوی – التفسیر الوسیط، ج 12، ص 159:

 

📜 “خیر” کا لفظ اکثر بھرپور مال کے معنی میں آتا ہے، جیسے کہ اللہ نے فرمایا: “وہ خیر (مال) کی محبت میں بہت شدید ہے۔”

👈 اور یہاں “خیر” سے مراد چنگے اور اعلیٰ نسل کے گھوڑے ہیں۔

 

https://shamela.ws/book/23590/5180

 

1⃣1⃣ محمد علی الصابونی – صفوة التفاسیر، ج 3، ص 53:

 

📜 مفسرین نے کہا: سلیمانؑ کے سامنے ہزاروں گھوڑے پیش کیے گئے جو ان کے والد نے چھوڑے تھے۔

وہ گھوڑے ان کے سامنے دوڑائے گئے، تو وہ ان کی خوبصورتی، دوڑ اور ان کی محبت میں ایسے مشغول ہوئے کہ ایک ذکر (عبادت/نماز) کا وقت نکل گیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔

 

https://shamela.ws/book/8967/1123

 

1⃣2⃣ مصطفیٰ زحیلی – التفسیر الوسیط، ج 3، ص 2204:

 

📜 پہلی بات: ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے۔

معنی یہ ہے: اے رسولِ خدا! سلیمانؑ کا وہ وقت یاد کرو جب عصر کے بعد شام کے آخری حصے میں ان کی سلطنت میں ان کے سامنے تیزدوڑنے والے گھوڑے لائے گئے جو تین پیروں پر کھڑے ہوتے اور چوتھے پیر کی نوک زمین پر لگتی تھا اور وہ ہزاروں گھوڑے تھے جو اُن کے والد نے چھوڑے تھے

 

https://shamela.ws/book/2305/2201

 

1⃣3⃣ ابو محمد مکی بن ابی طالب – الہدایة إلى بلوغ النهایة (ج 10 / ص 6240)

 

📜 ۔ ابن عباس نے کہا: سلیمانؑ کو اپنے والد داؤدؑ سے ایک ہزار گھوڑے وراثت میں ملے تھے جن جیسا اس زمین میں کوئی نہ تھا۔

اور وہ انہیں اپنے تمام وراثتی مال سے زیادہ محبوب تھے، اور وہ ان سے بہت متاثر رہتے تھے۔

چنانچہ وہ (گھوڑوں کے سامنے) اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔

 

https://shamela.ws/book/22593/6156

 

صفحہ 6241:

 

📜 “تو اس نے کہا: بے شک میں نے خیر کی محبت کو پسند کیا” یعنی: گھوڑوں کو۔

اور عرب گھوڑوں کو “خیر” کہتے ہیں، اور مال کو بھی “خیر” کہا جاتا ہے۔

 

https://shamela.ws/book/22593/6157#p1

 

1⃣4⃣ الماوردي – النکت والعیون (ج 1 / ص 231–232)

 

ابن زید نے کہا:

 

▪️آیت “لَعَلَّكَ تَتَّقِي أَنْ تَقْتُلَهُ فَتُقْتَلَ بِهِ” (العاديات: 8) میں “خیر” سے مراد مال ہے۔

▪️اور آیت “إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي” (ص: 32) میں بھی “خیر” سے مراد مال/گھوڑے ہیں۔

▪️اور آیت “فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا” (النور: 33) میں خیر سے مراد مال ہے۔

▪️اور شعیبؑ کی آیت “إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ” (ہود: 84) میں بھی مراد غنا اور مال ہے۔

 

پھر انہوں نے علماء کا اختلاف ذکر کیا:

 

📜 علماء کی ایک بڑی تعداد کا قول یہ ہے کہ یہ آیت (وصیت والی) آیتِ میراث کے نازل ہونے سے پہلے واجب تھی تاکہ آدمی محض دکھاوے کے لیے اپنا مال دور کے رشتہ داروں میں نہ بانٹے۔

پھر جب آیتِ میراث نازل ہوئی اور وارثوں کے حصے مقرر ہوگئے تو وصیت کا وجوب منسوخ ہوگیا اور سنت نے وارثوں کے لیے وصیت کو منع کردیا۔

 

اور دوسروں نے کہا:

یہ حکم والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے واجب وصیت کے بارے میں تھا؛

پھر جب آیاتِ میراث نازل ہوئیں اور والدین کا حصہ مقرر ہوگیا، تو والدین اور ہر وارث کے لیے وصیت منسوخ ہوگئی۔

البتہ وہ قریبی رشتہ دار جو وارث نہیں بنتے ان کے لیے وصیت برقرار رہی۔

یہ قول حسن، قتادہ، طاؤس اور جابر بن زید کا ہے۔

 

https://shamela.ws/book/8346/299#p1

https://shamela.ws/book/8346/300#p1

 

1⃣5⃣ الواحدی النیسابوری – الوسیط فی تفسیر القرآن المجید (ج 3 / ص 551)

 

پس یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

“پھر اس نے کہا: بے شک میں نے خیر کی محبت کو پسند کیا” (ص: 32) 

 

👈 یعنی: گھوڑوں کو۔ اور گھوڑے مال ہیں۔ اور قرآن میں “خیر” کا لفظ اکثر مال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

 

https://shamela.ws/book/21821/1681

 

1⃣6⃣ السمعانی – تفسیر القرآن (ج 4 / ص 439)

 

اللہ تعالیٰ کے فرمان “میں نے خیر کی محبت کو پسند کیا” کا مطلب یہ ہے کہ:

میں نے خیر کی محبت کو ترجیح دی۔

 

👈 اور “خیر” سے مراد مفسرین کی اکثریت کے نزدیک گھوڑے ہیں

 

https://shamela.ws/book/8320/5667#p1

 

1⃣7⃣ البغوی الشافعی – معالم التنزیل (ج 4 / ص 68)

 

“پس اس نے کہا: میں نے خیر کی محبت کو پسند کیا”

یعنی: میں نے خیر (مال) کی محبت کو یادِ الٰہی پر ترجیح دی۔

👈 اور “خیر” سے مراد گھوڑے ہیں۔

 

https://shamela.ws/book/41/2675

 

1⃣8⃣ فیصل آل مبارک – توفیق الرحمن فی دروس القرآن (ج 3 / ص 630)

 

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان “میں نے خیر کی محبت کو پسند کیا” کا مطلب یہ ہے:

میں نے خیر کی محبت کو ترجیح دی۔

👈 اور “خیر” سے مراد گھوڑے ہیں۔

اور گھوڑوں کو “خیر” اس لیے کہا گیا کہ ان کی پیشانیوں میں خیر (اجر و غنیمت) بندھی ہوئی ہے۔

👈 مقاتل نے کہا: “حبّ الخیر” یعنی: مال اور یہ وہی گھوڑے تھے جو اس کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔

 

https://shamela.ws/book/9254/1837

 

1⃣9⃣ ابن عبدالبر – الاستذکار (ج 7 / ص 261)

 

👈 علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ “خیر” سے مراد مال ہے، 

 

جیسا کہ آیتِ وصیت میں اللہ نے فرمایا:

“اگر وہ خیر چھوڑ جائے” یعنی مال۔

اور اسی طرح سورہ عادیات کی آیت “اور بے شک وہ مال کی محبت میں بہت شدید ہے” یہاں بھی “خیر” سے مراد مال ہے۔

👈 اسی طرح سلیمانؑ کے بارے میں آیت “میں نے خیر کی محبت کو پسند کیا” یہاں بھی مراد مال/گھوڑے ہیں۔

اور شعیبؑ کی آیت “میں تمہیں خیر میں دیکھ رہا ہوں” (ہود 84) اس میں بھی مراد غنا/مالداری ہے۔

قرآن کے کئی مقامات پر “خیر” کا لفظ مال اور دولت کے معنی میں آیا ہے۔

 

https://shamela.ws/book/1722/3226

 

🔵 تمام ضروری اسکین پیجز لگا دئے گئے ہیں باقی کتب کے online links لگا دئے ہیں مومنین کی آسانی کیلئے 

 

❌ دو عدد مشہور اعتراضات 

 

🔴 حضرت داؤد کی ورثت صرف علمی تھی؟ 

 

✅ جواب 

 

اول تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ نبی ہونا ایسی چیز ہے جو نبی ص کو مهد یعنی بچپنے سے حاصل ہوتی ہے۔ 

 

❓ وہ کس طرح؟ 

 

اب دلائل ملاحظہ ہوں۔ 

 

1⃣ جیسے کہ سورہ مریم کی آیت 29-30 میں ارشاد باری تعالی 

 

📜 تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ بے کیونکر بات کریں (29) بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

 

2⃣ دوسری مثال جناب يحيى ع کی ہے، اور جناب يحيى صلوات الله علیہ کی تعریف خدا یوں کرتا ہے 

 

📜 اے یحییٰ (بماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

 

تو اس سے ایک احتمال تو آرام سے ملتا ہے کہ جناب سليمان ع بحثيث نبی ص جناب داود ع بی کی زندگی میں تھے بلکہ دیگر اہم قرائن بھی اس بات کو نہ صرف کہ تقویت دیتے ہے بلکہ اطمینان غالب بھی عطا کرتے ہے، 

 

تو ملاحظہ کیجئے:

 

سورہ نمل میں ارشاد خداوندی ہے ترجمہ ملاحظہ ہو

 

📜 اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضلیت دی

 

📚 ملاحظہ ہو ایت 27

 

اور سورہ انبیاء کی آیت 79 میں ارشاد خداوند متعال ہے:

 

📜 تو ہم نے فیصلہ کرنے کا طریق سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم یعنی حکمت و نبوت اور علم بخشا تھا۔

 

👈 لهذاء ثابت ہوا کہ جناب سلیمان ع جناب داود ع بی کی زندگی میں علم و نبوت سے مالا مال تھے۔ 

 

بلکہ اگر آپ تاریخ انبیاء ع کو دیکھیں تو جناب سلیمان ع کا فیصلہ جناب داود ع سے بہتر قرار دیا گیا، تو معلوم ہوا کہ حین حیات داودی ع میں نبی سلیمان ع کافی چیزوں سے مالا مال تھے۔ لہذا سوره نمل کی وراثت داودی ع والی آیت کو زبردستی علم و نبوت سے مختص کرنا اور مالی وراثت کی نفی کرنا دانشمندی نہیں 

 

❌ اعتراض 

 

❌ حضرت داؤد ع کے اور بھی بیٹے تھے

 

✅ جواب 

 

جن روایات میں سلیمان ع کے 19 بیٹوں کی بات ہے وہ خبر واحد ہے جس کی کوئی سند معتبر موجود نہیں۔ اور اس چیز کے انتساب پر بعض محققین نے اعتراض کیا ہے۔

 

جہاں تک شیعی مسند روایات اور تراث کا تعلق ہے تو اس میں فقط ایک روایت بی الکافی کی آئی ہے جس میں 19 بیٹوں کی بات نہیں بلکہ بعض بیٹوں کی بات ہے ملاحظہ ہو الکافی جلد 1 ص 278 جس کی سند کچھ یوں ہے:

 

📜 الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَيْثَمِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام )

 

👈 اس روایت کو علامہ مجلسی نے ضعیف على المشهور قرار دیا ملاحظہ ہو 

 

📚 مراة العقول جلد 3 ص 184

 

 اور اس میں عیثم بن اسلم مجہول راوی ہے اور بکر بن صالح اور معلی بن محمد غیر معتبر راوی ہے۔ 

 

چنانچہ بکر بن صالح ضعیف راوی ہے جیسے کہ نجاشی نے اپنی کتاب رجال کے صفحہ 109 راوی 276 میں کہا۔ اس ہی سند میں معلی بن محمد ہے جس کو نجاشی نے مضطرب الحديث و المذهب قرار دیا ملاحظہ ہو رجال نجاشی 1117 418 راوی

 

✅ ایک مزید جواب یہ ہے

 

 کہ ادھر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ 19 بیٹے تھے تو عدم ذكر عدم وجود پر برگز دلالت نہیں کرتا اور اس کے علاوہ ادھر حصر بالکل موجود نہیں بلکہ حصر کا نہ ہونا یہ بتاتا ہے کہ اگر دوسرے بچے تصور بھی کریں جائیں تو ان میں بھی وراثت ہوگی۔

 

اس کے علاوہ سورہ ص کی آیت 30 میں ارشاد باری تعالی

 

📜 وَوَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ

 

📃 یعنی ہم نے داود کو سلیمان عطا کیا

 

✅ اب سوال اگر آپ کی منطق مانی جائے تو اس سے تو خدا پر سوال ہوتا ہے کہ باقی بیٹوں کو بھی دیا تھا تو سلیمان ع بی کا ذکر کیوں تو جو جواب اس صورت میں آپ سے بنے وہی ہمارا جواب سمجھیں۔

 

اگر پھر بھی سمجھ نہیں آیا تو ملاحظہ کیجئے سورہ انعام کی آیت 84 جس میں خالق حقیقی فرماتا ہے:

 

📜 اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور بارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا بی بدلا دیا کرتے ہیں

 

اب میرا سوال آپ کی باطل منطق کے تحت ملاحظہ ہو کہ کیا ادھر اگر جناب اسماعیل ع و دیگر بیٹوں کا صراحتا ذکر نہیں کیا گیا اور یقینا نہیں کیا گیا تو کیا ان کا عدم ذکر ان کے عدم وجود پر دلالت کرے گا؟ 

 

نہیں میرے محترم ایسا نہیں تو اگر ایک کی وراثت کا ذکر ہے تو دوسری کی عدم وراثت کا معنی لینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے اس آیت میں اسحاق کا ذکر تو کیا گیا لیکن اسماعیل کا ذکر نہیں؟

 

اور جناب داود کا خاص ذکر کرنا اس وجہ سے ہے کہ ادھر مال کے علاوہ بقول علماء اہلسنت سليمان ع نے ملکیت و سلطنت بهی وراثت میں پائی ہے

 

جب بی قرطبی اپنی نفسیر میں نحاس کا قول نقل کرتے ہے:

 

📜 فَأَمَّا قَوْلُهُمْ وِرَاثَةُ نُبُوَّةٍ فَمُحَالٌ، لِأَنَّ النُّبُوَّةَ لَا تُورَتُ،

 

📃 یعنی نبوت کا وراثت میں پانا محال ہے کیونکہ نبوت ایسی چیز نہیں جو وراثت میں ملے ادھر نحاس کا قول فقط نبوت کی وراثت کی نفی میں پیش کیا ہے)

 

📚 ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی، جلد 11 ص 81 طبع مصر

 

🖋 خیر طلب

📎 بدر علی

 

Invisibleislam.com

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#تبدیلی_ممنوع 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14