Back to فدک

سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا

سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا
سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا

🔴 سیدہ ص کا خلیفہ وقت سے فدک کو بطور وراثت لکھوانا

 

▪️ فدک کیوں کہ مال فئی تھا اور خالصتاً رسول ﷺ کا اس میں کسی دوسرے مسلمان کا نہ تو رسول ﷺ کی زندگی میں کوئی حق نہیں تھا نہ بعد میں۔ 

 

👈 جس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے انشاءﷲ کیوں کہ ابھی ہم میراث انبیاء کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں

 

▪️ کیوں کہ فدک رسول ﷺ کا خاصہ تھا اسلئے رسول ﷺ کے بعد فدک کی وارث صرف اولاد رسول ﷺ تھی 

 

⭕ ابن جوزی روایت کرتا ہے کہ 

 

📜 ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے قاسم بن حکیم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے علی بن الحسین کو فرماتے ہوئے سنا:

"فاطمہ بنتِ رسول اللہ ﷺ ابو بکر کے پاس آئیں جب وہ منبر پر تھے، اور کہا:

👈 'اے ابو بکر! کیا اللہ کی کتاب میں یہ ہے کہ تمہاری بیٹی تم سے میراث لے اور میں اپنے باپ کی میراث نہ لوں؟'

پس ابو بکر رو پڑے، پھر کہا: 'میرے ماں باپ تمہارے باپ پر قربان، اور میرے ماں باپ تم پر قربان!' پھر نیچے اترے اور فدک کے متعلق ایک تحریر لکھ دی۔

 

عمر اندر آئے اور پوچھا: 'یہ کیا ہے؟'

 

👈 انہوں نے کہا: 'ایک تحریر جو میں نے فاطمہ کے لیے لکھی ہے، ان کی میراث کے بارے میں جو انہیں ان کے باپ سے ملی ہے۔'

 

عمر نے کہا: 'تو پھر مسلمانوں پر کیا خرچ کرو گے جبکہ عرب تم سے جنگ کر رہے ہیں؟'

 

پھر عمر نے وہ تحریر لی اور اسے چاک کر دیا۔"

 

📚 کتاب مرآة الزمان فی تواریخ الأعیان، سبط ابن الجوزی، جلد 4، صفحہ 76

 

⭕ نور الدین حلبی نے انسان العیون (سیرۃ حلبیہ) جلد 3 میں، اس مقام پر جہاں وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے فدک کے دعوے کا ذکر کرتے ہیں، لکھا ہے:

 

"ابو بکر نے ایک کاغذ اٹھایا اور لکھا کہ فدک فاطمہ کی ملکیت ہے۔

 

عمر اس وقت آ پہنچا اور پوچھا: 'یہ کیا ہے؟'

 

ابو بکر نے کہا: 'ایک سند ہے جو میں نے فاطمہ کو لکھ دی ہے کہ فدک ان کی میراث ہے جو انہیں رسول اللہ سے ملی ہے۔'

 

عمر نے کہا: 'اگر تم فدک فاطمہ کو دے دو گے تو حکومت، جنگوں اور سپاہیوں کے اخراجات کہاں سے پورے کرو گے؟'

 

پھر اس نے فدک کی سند لے کر چاک چاک کر دی۔"

 

📚 سیرۃ حلبیہ، جلد 3، صفحہ 391

 

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ کس مقصد کے لئے رسول ﷺ پر بہتان باندھا گیا کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی

 

❓ کیا حکومت چلانے کیلئے کسی کی میراث پر قبضہ کرنا لازمی ہے؟ 

 

❓ کیا اسکا لکھ دینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ پہلے جھوٹ بولا گیا

 

🔴 سبط ابن جوزی پر ناسبیوں کی طرف سے ممکنہ اعتراض کا جواب 🔴

 

👈 ابن جوزی سنی تھا 

 

▪️ ذھبی لکھتا ہے

 

📜 قلت: كان بارعا في الوعظ ومدرسا للحنفية

 

📃 "وہ وعظ میں ماہر اور حنفی مکتب کے استاد تھے۔"

 

میزان العتدال ، ج4، ص471

 

▪️ اپنی دوسری کتاب میں لکھتا ہے کہ

 

📜 وله تفسير في تسعة وعشرين مجلدًا وشرح الجامع الكبير وجمع مجلدًا في مناقب أبي حنيفة ودرس وأفتى وكان في شبيبته حنبليًا.

 

📃 ان کی تفسیر 29 جلدوں میں ہے، انہوں نے شرح الجامع الكبير لکھا، ابی حنیفہ کے مناقب پر ایک مجموعہ مرتب کیا، درس دیا اور فتاویٰ دیے۔

اپنی جوانی میں وہ حنبلی مکتب سے تعلق رکھتے تھے۔

 

📚 العبر من خبر فی غبر ، ج3، ص 274

 

▪️ ابن خلکان لکھتا ہے

 

📜 وكان سبطه شمس الدين أبو المظفر يوسف بن قزعلي الواعظ المشهور حنفي المذهب 

 

📃 اور ان کا نام سبط تھا، شمس الدین ابو المظفر یوسف بن قزعلی، وہ مشہور واعظ تھے اور حنفی مکتب کے پیروکار تھے۔

 

📚 وفيات الأعيان ، ج3 ، ص142

 

🔴 ممکنہ اعتراض کا جواب 🔴

 

پچھلی پوسٹ میں ایک کمنٹ بار بار کئی لوگوں نے کمنٹ کیا کہ

 

❌ مال فئی رسول ﷺ کے بعد بیت المال کا حصہ ہے صدقہ رسول ﷺ ہے 

 

👈 اور سب مسلمانوں کا حق ہے

 

اگرچہ اسکی پر آگے تفصیل سے بات ہوگی 

 

❓ لیکن یہ بھائی ذرا یہ بتائیں ، کیا جناب سیدہ زھراء ص آپ کی نظر میں مسلمان نہیں تھیں؟ معاذ اللہ 

 

جب سب مسلمانوں کا حق ہے تو سیدہ بھی تو مسلمان ہیں اور خیبر کے مال فئی میں صرف فدک نہیں تھا کئی باغات تھے کہ آپکو خدشہ ہوگا گیا کہ فدک دے دیا تو پیچھے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں بچے گا اور کیا سیدہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں میں خرچ نہیں کریں گی؟

 

▪️ جب وراثت دینے سے انکار کیا گیا تو سیدہ نے اسی خیبر کے مال کو بطور خمس بھی طلب کیا جو پورے کا مال کا 20 فیصد ہوتا ہے اور یہ حق بھی بنص قرآن سیدہ کا تھا 

 

لیکن افسوس کے ساتھ باقی ازواج کو تو خیبر کے خمس سے زمینیں ملتی رہیں مگر سیدہ ص کو نہیں دی گئی۔ 

 

انشاءﷲ اگلی پوسٹ پر اس دعوی پر بھی تحریر آئے گی 

 

بدر علی 

 

Invisibleislam.com

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10