Back to فدک

انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا (مطابق آیت 6 سورہ مریم )

انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )
انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا  (مطابق آیت 6 سورہ مریم )

🔴 انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت لینا

 

👈 مطابق آیت 6 سورہ مریم 

 

⭕ باطل دعوے کا رد کہ انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے

 

Post No 2⃣

 

▪️ تاریخی طور پر ایک حقیقت یہ ہے کہ حضرت فاطمہؑ کے میراث (فدک) پر ظلم ہوا اور یہ حق ان کا مسلمہ تھا، لیکن دشمنانِ اہل بیتؑ نے ایک جھوٹ اور باطل دعوے کی بنیاد پر اس پر قبضہ کر لیا۔ وہ باطل دعویٰ یہ تھا کہ انبیاء اپنی چیزیں وراثت میں نہیں چھوڑتے۔ اس دعوے کی بےبنیادی مختلف طریقوں سے ثابت کی جا سکتی ہے، اور یہاں ہم ایک طریقہ بیان کرتے ہیں۔

 

قرآنی آیت

 

قرآن کریم میں ارث کے معاملے کی واضح مثال یہ ہے:

 

📜 وَإِنِّی خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِن وَرَائِی وَکَانَتِ امْرَأَتِی عَاقِرًا فَهَبْ لِی مِن لَّدُنکَ وَلِیًّا (5) یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا (6)

 

📃 حضرت زکریاؑ نے کہا: اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے خوفزدہ ہوں اور میری بیوی نازا ہے، پس میرے لیے اپنے پاس سے ایک ولی (جانشین) عطا فرما جو مجھ سے ارث لے اور خاندان یعقوب سے بھی ارث لے، اور اسے اے میرے رب پسندیدہ بنا دے۔

 

📚 سورہ مریم، آیات 5-6

 

⭕ آیت سے حاصل ہونے والا مطلب

 

✅ واضح ہے کہ انبیاء بھی انسانوں کی طرح ارث رکھتے ہیں اور اپنی چیزیں وراثت میں چھوڑ سکتے ہیں

 

❌ اس آیت سے وہ باطل دعویٰ کہ "انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے" مسترد ہو جاتا ہے

 

🔴 اہل سنت کی تحریف 🔴

 

بعض علماء مخالفین نے یہ کوشش کی کہ آیت کا مفہوم صرف نبوت اور علم تک محدود ہو

 

❌ وہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وراثت صرف معنوی (نبوت یا علم) ہو، مالی نہیں

 

✅ لیکن بعض اہل سنت کے علماء نے صاف کہا کہ آیت میں مراد مالی و مادی ارث ہو سکتا ہے

 

⭕ اہم نکات قبل از حوالہ

 

1⃣. اگر ہم فرض کریں کہ بعض علماء کے مطابق ارث سے مراد صرف نبوت و علم ہے، تو یہ مالی ارث کی موجودگی کے ساتھ متضاد نہیں ہے

 

2⃣. ابن تیمیہ اور ان کے پیروکار (بن باز، بن عثیمین وغیرہ) کے نزدیک آیت کا مطلب صرف معنوی وراثت ہوگا، کیونکہ ان کے نزدیک قرآن میں مالی ارث کے لیے کبھی لفظ استعمال نہیں ہوا

 

🔴 مخالف علماء کے اقوال 🔴

 

▪️اب ہم مخالف (اہل سنت) علماء کے اقوال پڑھتے ہیں جن کے مطابق ان آیات میں "وراثت" سے مالی وراثت مراد ہے:

 

⭕ سفیان ثوری کا قول

 

سفیان نے آیت "وَیَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوب" کے بارے میں کہا:

 

📜 سفیان فی قوله ویرث من آل یعقوب یَرِثُنِی الْمَالَ وَیَرِثُ مِنْ آلِ یعقوب النبوة.

 

📃 "وہ میرے مال کا وارث بنے گا، اور آلِ یعقوب سے نبوت کا وارث ہوگا۔"

 

📚 حوالہ: تفسیر سفیان الثوری، ص181، ط دار الکتب العلمیة

 

▪️ اور محققِ کتاب نے حاشیہ میں لکھا:

 

📜 یہ ابن عباس، ابوصالح، حسن بصری، سدی، زید بن اسلم، مجاہد، شعبی اور ضحاک کا بھی قول ہے، جیسا کہ طبری میں درج ہے۔

 

⭕ تفسیر طبری کے تین اسناد

 

طبری نے ابوصالح سے تین مستقل سندوں سے یہ روایت نقل کی کہ آیت میں وراثت سے مالی وراثت مراد ہے:

 

● پہلی سند

 

📜 حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ، قَالَ: ثنا جَابِرُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ، قَوْلُهُ {یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ} [مریم: 6] یَقُولُ: یَرِثُ مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّةَ.

 

👈 "یَرِثُ مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّةَ"

 

📃 "وہ میرے مال کا وارث ہوگا، اور آل یعقوب سے نبوت کا وارث ہوگا۔

 

● دوسری سند

 

📜 حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، قَالَ: ثنا یَزِیدُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ فِی قَوْلِهِ {یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ} [مریم: 6] قَالَ: یَرِثُ مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّةَ.:

 

👈 "یَرِثُ مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّةَ"

 

● تیسری سند

 

حَدَّثَنِی یَعْقُوبُ، قَالَ: ثنا هُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ، فِی قَوْلِهِ {یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ} [مریم: 6] قَالَ: یَرِثُنِی مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّةَ.

 

👈 "یَرِثُنِی مَالِی، وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّةَ"

 

📚 تفسیر الطبری، ج15، ص458، ط دار ہجر

📚 تفسیر ابن کثیر، ج5، ص213، ط دار طیبة

 

https://shamela.ws/book/23604/2202

 

⭕ تفسیر سمرقندی (بحر العلوم)

 

عکرمہ نے کہا:

 

📜 وقال عکرمة: یرثنی مالی، ویرث من آل یعقوب النبوة، 

 

وهکذا قال الضحاک.

اور ضحاک نے بھی یہی کہا

 

📃 ترجمہ: حضرت زکریاؑ کا مطلب یہ ہے کہ میراث میں میرے مال کو لے اور آل یعقوب سے نبوت کو لے۔

 

📚 حوالہ: تفسیر السمرقندی، ج2، ص318، ط دار الکتب العلمیة

 

⭕ تفسیر ماوردی

 

📜 أحدها: یرثنی مالی ویرث من آل یعقوب النبوة، قاله أبو صالح.

 

📃 ترجمہ: حضرت زکریاؑ کا مقصد یہ ہے کہ میراث میں مال لے اور آل یعقوب سے نبوت وراثت میں لے۔

 

📚 حوالہ: تفسیر الماوردی، ج3، ص355، ط دار الکتب العلمیة

 

⭕ تفسیر بغوی

 

📜 قَالَ الْحَسَنُ: مَعْنَاهُ یَرِثُنِی مَالِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّةَ والْحُبُورَةَ.

 

حسن بصری کا قول:

 

📃 ترجمہ: اس آیت میں مراد یہ ہے کہ میراث میں میرے مال کو لے اور آل یعقوب سے نبوت اور جانشینی لے۔

 

📚 حوالہ: تفسیر البغوی، ج5، ص218، ط دار طیبة

 

⭕ ابن عاشور

 

📜 معنی یہ ہے: وہ ایسا وارث ہو جو میرے دنیاوی ترکہ کا وارث ہو، اور میرا علم بھی لے، اور تُو میری جان کا آخری وارث ہے، کیونکہ سب کو تیری طرف لوٹنا ہے — اور تیرا وارث ہونا سب سے بہتر ہے، کیونکہ وہ ابدی اور کامل ہے۔ 

 

📚 التحریر والتنوير 17/135

 

⭕ زاد المسیر (ابن الجوزی)

 

📜 وفی المراد بهذا المیراث أربعة أقوال : أحدها: یَرِثنی مالی، ویرث من آل یعقوب النبوَّة، رواه عکرمة عن ابن عباس، وبه قال أبو صالح.

 

اس آیت میں چار رائے ہیں، ایک یہ عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کی اور ابو صالح بھی یہی کہتے ہیں

 

👈 "یَرِثُنِی مَالِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النبوة"

 

📚 حوالہ: زاد المسیر فی علم التفسیر، ص877، ط المکتب الاسلامی

 

⭕ ابن عادل دمشقی

 

اختلاف موجود ہے

 

ابن عباس، حسن بصری اور ضحاک کا قول:

 

📜 "وراثة المال فی الموضعین"

 

📃 ترجمہ: دونوں مقامات میں مراد مال کی وراثت ہے

 

📚 حوالہ: اللباب فی علوم الکتاب، ج13، ص13، ط دار طیبة

 

⭕ تفسیر النیسابوری

 

ابن عباس، حسن بصری اور ضحاک کا قول:

 

📜 هی وراثة المال.

 

📃 مراد مال کی وراثت ہے

 

📚 حوالہ: تفسیر النیسابوری، ج4، ص470، ط دار الکتب العلمیة

 

⭕ سیوطی

 

ابن عباس، عکرمہ اور ابو صالح کے قول کے مطابق:

 

📜 وَأخرج الْفرْیَابِیّ عَن ابْن عَبَّاس قَالَ: کَانَ زَکَرِیَّا لَا یُولد لَهُ فَسَأَلَ ربه فَقَالَ: {فَهَب لی من لَدُنْک ولیا یَرِثنِی وَیَرِث من آل یَعْقُوب} قَالَ: یَرِثنِی مَالِی وَیَرِث من آل یَعْقُوب النُّبُوَّة.

 

📃 حضرت زکریاؑ نے کہا: "میراث میں میرے مال کو لے اور آل یعقوب سے نبوت کو لے"

 

▪️ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر نے مجاہد و عکرمہ سے یہی روایت کی

 

📜 وأخرج ابن أبی شیبة وابن المنذر عن مجاهد وعکرمة فی قوله : ( یرثنی ویرث منءال یعقوب ) . قال : یرثنی مالی ویرث من آل یعقوب النبوة.

 

▪️ عبد بن حمید نے ابو صالح سے یہی نقل کیا

 

📜 وأخرج عبد بن حمید عن أبی صالح فی قوله : ( إنی خفت الموالی من وراءی ) . قال : خاف موالی الکلالة وقوله : ( یرثنی ویرث من ءال یعقوب ) . قال : یرثنی مالی ویرث من آل یعقوب النبوة۔ 

 

📚 حوالہ: الدر المنثور، ج10، ص12-13، ط دار هجر

 

⭕ تفسیر البحر المدید

 

📜 "وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النبوة والمُلک والمال"

 

📃 ترجمہ: آل یعقوب سے نبوت، ملک اور مال وراثت میں لے گا

 

📚 حوالہ: البحر المدید فی تفسیر القرآن المجید، ج3، ص320، ط دار الکتب العلمیة

 

⭕ معانی القرآن للنحاس

 

داود بن ابی ہند نے الحسن سے روایت کی:

 

📜 وروى عن داود بن أبی هند عن الحسن یرثنی ای یرث مالی ویرث من آل یعقوب النبوة.

 

📃 "یَرِثُنِی" یعنی میراث میں مال لے اور آل یعقوب سے نبوت وراثت میں لے

 

📚 حوالہ: معانی القرآن للنحاس، ج4، ص311، ط جامعة ام القری

 

⭕ داؤد بن ابی ہند سے روایت

 

داؤد بن ابی ہند نے حسن بصری سے نقل کیا کہ حسن بصری نے فرمایا:

 

📃 مراد یہ ہے کہ حضرت زکریاؑ نے کہا: میراث میں میرے مال کو لے اور آل یعقوب سے نبوت کو لے۔

 

⭕ بدر الدین عینی (عمدة القاری)

 

ابن عباس کے قول کے مطابق:

 

📜 "یَرِثُنِی مَالِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ النُّبُوَّة"

 

📃 ترجمہ: حضرت زکریاؑ کا مطلب ہے کہ میراث میں مال لے اور آل یعقوب سے نبوت لے۔

 

📚 حوالہ: عمدة القاری، ج16، ص20، ط دار الفکر

 

https://shamela.ws/book/5756/4659

 

⭕ فخر رازی

 

فخر رازی کے مطابق:

 

📜 "أَحَدُهَا: أَنَّ الْمُرَادَ بِالْمِیرَاثِ فِی الْمَوْضِعَیْنِ هُوَ وِرَاثَةُ الْمَالِ وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنِ وَالضَّحَّاکِ"

 

📃 ترجمہ: آیت میں مراد دونوں مقامات پر مال کی وراثت ہے، اور یہ قول ابن عباس، حسن بصری اور ضحاک کا ہے۔

 

▪️ مزید لکھا: یہ روایات پانچ امور میں سے کسی ایک سے متعلق ہیں:

 

1. مال

2. منصب جانشینی (الحبورة)

3. علم

4. نبوت

5. سیرت حسنہ

 

لفظ "ارث" سب میں استعمال ہوا، لیکن مال کے بارے میں واضح ہے:

 

📜 "أَوْرَثَکُمْ أَرْضَهُمْ وَدِیارَهُمْ وَأَمْوالَهُمْ" [الاحزاب: 27]

 

حضرت زکریاؑ کا قول:

📜 "رحم اللہ زکریا ما کان له من یرثه" 

📃 ظاہر کرتا ہے کہ مراد مالی ارث ہے۔

 

▪️ مزید لکھتے ہیں 

 

📜 دلیل: علم، سیرت اور نبوت وراثت میں نہیں آتے بلکہ اکتسابی ہیں، اس لیے آیت کو مالی ارث پر لاگو کرنا مناسب ہے۔

 

📚 حوالہ: تفسیر الرازی، ج21، ص5184، ط دار الفکر

 

⭕ قرطبی

 

📜 اور "وہ آلِ یعقوب سے وراثت پائے گا" کے بارے میں علماء کے تین جواب ہیں:

 

کہا گیا ہے کہ یہ نبوت کی وراثت ہے۔

اور کہا گیا ہے کہ یہ حکمت کی وراثت ہے۔

اور کہا گیا ہے کہ یہ مال کی وراثت ہے۔

 

📚 تفسیر قرطبی، ج 13، ص 415

 

پھر لکھتے ہیں کہ 

 

📜 اور جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ یہ نبوت کی وراثت ہے تو یہ محال ہے، کیونکہ نبوت وراثت میں نہیں ملتی۔

 

📜 اور جہاں تک مال کی وراثت کا تعلق ہے تو یہ ناممکن نہیں ہے، اگرچہ کچھ لوگوں نے اسے اس وجہ سے انکار کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "ہم سے وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے" لیکن اس میں کوئی حجت نہیں۔

 

📚 تفسیر قرطبی، ج 13، ص 415

 

⭕ ابن عطیہ کا قول

 

📜 فقال ابن عباس ومجاهد وقتادة وأبو صالح خاف أن یرثوا ماله ..

 

ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابوصالح نے فرمایا:

📃 حضرت زکریا نے ڈر محسوس کیا کہ ان کا مال کسی اور کے ہاتھ نہ لگ جائے۔

 

پھر لکھتے ہیں 

 

📜 والأکثر من المفسرین على أنه أراد وراثة المال .....

 

📃 اکثر مفسرین کا موقف یہ ہے کہ آیت میں مراد مالی وراثت ہے۔

 

📚 حوالہ: تفسیر ابن عطیة، ج4، ص4-5، ط دار الکتب العلمیة

 

✅ خلاصہ:

 

1. نبوت کی وراثت ممکن نہیں، اس لیے وراثت نبوت کے دعوے کو مسترد کیا جاتا ہے۔

 

2. مال کی وراثت جائز ہے، اور آیت اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء مالی وراثت بھی چھوڑ سکتے ہیں۔

 

📎 بدر علی 

 

Invisibleislam.com

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#التماس_دعا

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#تندیلی_ممنوع 

 

#PlzShare #SharePost #invisible_islam #talimaat_e_ahlbait

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32