Back to فدک

ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔

ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔
ابوبکر کی بیان کردہ خبر واحد  کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہو۔ لیکن۔ ۔۔۔

✔️ جیسا کہ معلوم ہے، جعلی روایت "لانورث" ایک خبر واحد تھی جس کا راوی صرف خلیفہ اول تھا ،

 

▪️ اہل سنت کے علما، جن کے اقوال بھی موجود ہیں نیچے دئے گئے لنک میں، کہ اس خبر واحد کی صحت کے لیے شرط قرار دیتے ہیں کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہونا ضروری ہے، جیسا کہ آل تیمیہ، غزالی وغیرہ نے المسوّدة میں بیان کیا ہے۔

 

لنک دیکھیں 👈 /topic/2091

 

✅ یعنی خبر واحد ابوبکر کی صحت کے لیے شرط ہے کہ صحابہ کا اجماع ہو

 

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت نے واضح طور پر کہا ہے کہ جس اجماع میں امیرالمؤمنین علیؑ شامل نہ ہوں، وہ اجماع بے اثر اور مذموم ہے:

 

📜 لعنة اللّه علی كلّ إجماع يخرج عنه علی بن أبی طالب و من بحضرته من الصحابة

 

📃 اللہ کی لعنت ہر اجماع پر جس میں علی بن ابی طالبؑ شامل نہ ہوں اور صحابہ بھی جو ان کی خدمت میں ہیں، اس اجماع میں نہ ہوں۔ ابن حزم نے کہا: افسوس ہر اس اجماع پر جس میں علیؑ شامل نہ ہوں۔

 

📚 المحلى، ج 9 ص 345؛ ج 5 ص 127

مصنف: علی بن احمد بن سعید بن حزم الظاہری ابو محمد

 

👈 نہ صرف یہ کہ علی ع کا اجماع ثابت نہیں اس خبر واحد پر بلکہ علی ع نے انکو کذاب و خائن کہا 

 

‼️ نتیجہ یہ ہے کہ ابوبکر کی یہ دعویٰ بھی مسترد ہے، کیونکہ کوئی اجماع ہوا ہی نہیں؛

 

👈 اگر کوئی اجماع ہوتا، تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، امیرالمؤمنین علیؑ، امام حسن و حسین علیہم السلام، ام ایمن رضوان اللہ علیہا، سلمان، مقداد، ابوذر، عمار، حذیفہ بن یمان، بنی ہاشم اور دیگر کے اختلاف کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا؟

 

لہٰذا اہل سنت بھی کہتے ہیں کہ جس اجماع میں امیرالمؤمنین شامل نہ ہوں، اس پر لعنت ہے؛

 

سب جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ نے ابوبکر کی اس خبر کو جعلی سمجھا؛

 

اور اسی وجہ سے مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح میں اعتراف کیا کہ عمر نے تصریح کی کہ

 

📜 امیرالمؤمنینؑ شیخین کو ہمیشہ جھوٹا، گہنگار، دغابار اور چور سمجھتے تھے

 

📚 صحیح مسلم 

 

⁉️ سوال یہ ہے کہ مخالفین محبت کرنے والے جواب دیں:

 

خیفہ اول کے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے اور ایسے مالی دعویٰ کرنے کی وجہ سے جس کا تعلق نہیں تھا،

 

جیسا کہ صحیح مسلم میں آیا ہے:

 

📜 "ومن ادعی ما لیس له فلیس منا ولیتبوأ مقعده من النار"

📃 "اور جس نے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کیا جو اس کی نہیں، وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"

 

سب جانتے ہیں کہ فدک کا مالک حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا خلیفہ اول پر غضب ناک ہوئیں؛

 

📚 بخاری

 

خلیفہ اول کی جعلی روایت پر کوئی اجماع نہیں ہوا، اور یہ قرآن کی آیاتِ ارث کے خلاف بھی ہے؛

 

تو خلیفہ اول پر حکم کیا ہو سکتا ہے؟

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10