🔴 واقعۂ فدک کیا ہے؟ ⁉️
▪️مومنین کیلئے
فتحِ خیبر کے بعد فدک اور اس کے اطراف کے سردار اور مالکان رسولِ خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کے ساتھ ایک صلح نامہ طے کیا، جس کے مطابق فدک اور دیگر باغات رسول ﷺ کو مال فئی کے طور پر بطور ملکیت ملے جس میں کسی دوسرے مسلمان کا کوئی حق نہیں تھا
▪️مدینہ واپسی کے بعد جبرئیلؑ نازل ہوئے اور رسولِ خدا ﷺ پر یہ آیتِ شریفہ تلاوت کی:
📜 وَآتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا
📃 “اور اپنے رشتہ داروں کو ان کا حق ادا کرو، اور مسکینوں اور مسافروں کو بھی (ان کا حق دو)، اور اسراف و فضول خرچی سے بچو۔”
اس کے بعد رسولِ خدا ﷺ نے “ذوی القربیٰ” (قریبی رشتہ داروں) اور ان کے حق کے مصداق پر غور فرمایا۔
پھر دوبارہ جبرئیلؑ نازل ہوئے اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
📜 “فدک حضرت فاطمہؑ کے سپرد کر دو۔”
📚 فقہ القرآن، جلد 1، صفحہ 248
پس رسولِ خدا ﷺ نے حضرت فاطمہؑ کو بلایا اور فرمایا:
📜 “اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ فدک تمہیں دے دوں۔”
📚 تفسیر صافی، جلد 3، صفحہ 186
📚 تفسیر نور الثقلین، جلد 5، صفحہ 276
👈 (یہاں شیعہ کتب کے حوالے دے رہا ہوں کیوں کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شیعہ کتب میں باغ فدک کا زکر نہیں)
اور پھر اسی مجلس میں رسولِ خدا ﷺ نے فدک حضرت فاطمہؑ کو بخش دیا۔ اس بات کو اہلِ سنت کے بہت سے علماء نے نقل کیا ہے، جیسے امام ثعلبی نے تفسیر کشف البیان میں، جلال الدین سیوطی نے درالمنثور کی چوتھی جلد میں، نیز شیخ سلیمان بلخی حنفی اور دیگر بہت سے علماء نے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ خدا ﷺ نے فاطمہؑ کو بلایا اور فدک انہیں عطا کر دیا۔
👈 (جس پر ہماری تفصیلی پوسٹ انشاءﷲ آگے آئے گی اور تمام تر اعتراضات و شبہات کا جواب دیا جائے گا بھی آئے گا)
جب تک رسولِ خدا ﷺ حیات تھے، فدک حضرت فاطمہؑ کے قبضے میں رہا۔ وہ اسے اجرت پر دیتی تھیں اور اس کی آمدنی قسطوں میں وصول کی جاتی تھی۔
حضرت فاطمہؑ اپنے اور اپنی اولاد کے لیے ایک رات کی ضرورت کے مطابق حصہ رکھتی تھیں اور باقی رقم اپنی مرضی اور اختیار سے بنی ہاشم کے فقراء اور دیگر محتاجوں میں تقسیم کر دیتی تھیں۔
رسولِ خدا ﷺ کے وصال کے بعد پہلے خلیفہ کے کارندوں نے فدک کو حضرت فاطمہؑ کے مستأجرین کے قبضے سے نکال کر ضبط کر لیا۔
اور ایک گھڑی ہوئی حدیث کا سہارا لیتے تھے کہ:
“ہم گروہِ انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے، اور جو کچھ بھی ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے جو امت کا حق ہے۔”
👈 حالانکہ اگر امت و مسلمانوں کا حق ہے تو سیدہ ص بھی مسلمان ہی تھیں ،
ویسی انہوں نے اس بات پر توجہ نہ دی کہ:
1⃣ اوّلًا: فدک وراثت نہیں تھا بلکہ ایک عطیہ (ہبہ) تھا جو خدا کے حکم سے رسولِ خدا ﷺ کی حیات میں حضرت فاطمہؑ کو دیا جا چکا تھا،
👈کیونکہ وراثت وہ ہوتی ہے جو وفات کے بعد منتقل ہو۔
2⃣ ثانیًا: تمام انبیاء اور رسولوں کی وراثت اور وارث رہے ہیں، اور ان کے ورثاء نے ان کے بعد ان کے ترکہ پر تصرف کیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حدیث سراسر گھڑی ہوئی، من گھڑت اور قرآنِ مجید کی صریح آیات کے خلاف ہے۔
حضرت فاطمہؑ نے اپنے دفاع میں قرآنِ مجید کی آیات سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن میں وراثت کی بے شمار آیات عام لوگوں کے لیے بھی موجود ہیں
▪️جیسے سورۂ انفال آیت 75، سورۂ نساء آیت 12، اور سورۂ بقرہ آیت 176 اور خاص طور پر انبیاء کے بارے میں بھی۔
ان میں سے ایک آیت یہ ہے:
📜 وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ
📃 “اور سلیمان نے داؤد سے وراثت پائی۔”
📚 نمل: 16
یہاں تفصیل سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں مالی میراث مراد ہے اور شبہات کا جواب دیا گیا ہے 👇
اور یہ آیت:
📜 فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ
📃 “پس تو اپنی طرف سے مجھے ایک صالح فرزند عطا فرما جو میرا وارث ہو اور آلِ یعقوب کا بھی وارث ہو۔”
📚 مریم: 5
اسی طرح یہ آیت:
📜 وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ
📃 “اور (یاد کرو) زکریا کو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا: اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔ تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا۔”
📚 انبیاء: 89
یہاں بھی مالی میراث مُراد ہے اور شہبات کا جواب دیا جا چکا ہے 👇
❓ کیا قرآنِ مجید کی آیات قیامت تک اپنی حقیقت پر باقی نہیں رہنی چاہئیں؟
مزید یہ خود اہل سنت مفیان و محدثین لکھتے ہیں کہ حدیث لانورث مالی میراث کی نفی نہیں کرتی تفصیل یہاں ملاحظہ کیجئے 👇
اس کے بعد حضرت فاطمہ زہراؑ نے فرمایا:
📜 اے خلیفہ وقت! وہ کون سا قانون ہے جس نے مجھے میرے باپ کی میراث سے محروم کر دیا ہے، جس پر تم عمل کر رہے ہو؟ کیا تم قرآن کے کلیات و جزئیات کو میرے والد رسول اللہ ﷺ اور میرے چچا زاد بھائی علی ابن ابی طالبؑ سے زیادہ جانتے ہو؟
📚 سیدہ ص کا خطبہ فدک ملاحظہ کیجئے
اسکے بعد جب خلیفہ وقت حضرت فاطمہؑ کو جواب دینے سے عاجز ہو گیا تو پہلے خاموشی اختیار کی، پھر غصے میں آ کر ان کی توہین کرنے لگا۔
ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ کی چوتھی جلد میں ہے کہ
📜 خلیفہ وقت کے منبر پر جانے اور رسول اللہ ﷺ کی دو امانتوں، یعنی فاطمہؑ اور علیؑ، کی جو توہین اس نے کی، اسے نقل کیا ہے۔ ابوبکر کی توہین اس حد تک بڑھ گئی کہ حضرت فاطمہؑ کی فریاد و گریہ بلند ہو گیا اور انہوں نے فرمایا:
آج تم نے میرا دل توڑ دیا اور میرا حق چھین لیا، 👈 لیکن میں قیامت کے دن عدالتِ الٰہی میں تم پر مقدمہ قائم کروں گی، تاکہ اللہ قادر تم سے میرا حق واپس لے۔👉
♦️ (جس سے یہ بھی واضح ہوا کہ علیؑ نے کیوں فدک کو اسی حال پر رہنے دیا کیوں کہ جس کا حق تھا اسی نے معاملہ اللّه کی عدالت پر چھوڑ دیا مزید مختصر جواب آخر میں دیکھیں)
پھر حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:
📜 اے ابو قحافہ کے بیٹے! کیا کتابِ خدا میں یہ لکھا ہے کہ تم اپنے باپ سے وراثت لو اور میں اپنے باپ کی وراثت سے محروم رہوں؟
تم نے خدا پر بہت بڑا بہتان باندھا ہے! کیا تم نے جان بوجھ کر کتابِ خدا پر عمل ترک کر دیا ہے اور قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا ہے؟
اس کے بعد امام علیؑ حضرت فاطمہؑ کے دفاع کے لیے اٹھے اور مہاجرین، انصار اور دیگر مسلمانوں کے سامنے ابوبکر سے مخاطب ہو کر فرمایا:
📜 “تم نے فاطمہؑ کو ان کے باپ کی وراثت سے کیوں محروم کیا، حالانکہ وراثت کے علاوہ بھی وہ اپنے باپ کی زندگی میں فدک کی مالک اور متصرف تھیں؟”
خلیفہ نے کہا:
📜 “فدک تمام مسلمانوں کا ہے، اور اگر فاطمہؑ گواہ پیش کریں کہ یہ ان کی ملکیت ہے تو میں اسے واپس کر دوں گا، ورنہ وہ فدک کی حق دار نہیں۔”
امام علیؑ نے فرمایا:
📜 “تم ہمارے معاملے میں باقی مسلمانوں سے مختلف فیصلہ کیوں کرتے ہو؟
👈 حالانکہ مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہوتا ہے اور مدعیٰ علیہ پر صرف قسم کافی ہوتی ہے۔ اب تم رسول اللہ ﷺ کے حکم کے خلاف فاطمہؑ سے گواہ طلب کر رہے ہو؟!
کیا فاطمہؑ کا قول و عمل، جبکہ وہ اصحابِ کساء میں سے ہیں اور آیۂ تطہیر کے مصداق ہیں، حق نہیں ہے؟”
پھر امام علیؑ نے ابوبکر سے پوچھا:
📜 “اگر دو گواہ یہ شہادت دیں کہ فاطمہؑ سے کوئی بدکاری سرزد ہوئی ہے تو تم ان کے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟”
خلیفہ نے کہا:
📜 “میں دیگر عورتوں کی طرح ان پر بھی حد جاری کروں گا!”
امام علیؑ نے فرمایا:
📜 “ایسا کرنے کی صورت میں تم کا/فروں میں شمار ہو گے، کیونکہ تم نے فاطمہؑ کی طہارت کے بارے میں اللہ کی گواہی کو رد کر دیا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
📜 ‘اللہ نے ارادہ کیا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر رجس و ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں پاک و پاکیزہ رکھے۔’
کیا یہ آیت ہمارے بارے میں نازل نہیں ہوئی؟”
جب خلیفہ نے اس آیت کے نزول کا اقرار کر لیا تو امام علیؑ نے فرمایا:
📜 “تم فاطمہؑ کے اس دعوے کو قبول نہیں کرتے جس کی پاکیزگی کی گواہی خود اللہ نے دی ہے، لیکن ایک ایسے عرب کی گواہی قبول کر لیتے ہو جو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر پیشاب کرتا ہے؟”
یہ کہہ کر امام علیؑ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔
📚 الإحتجاج للطبرسي: ج 1 ص 90 - 93، علل الشرائع للصدوق: ج 1 ص 191، ب 151 ح 1، تفسير القمي: ج 2 ص 155 - 157.
مسلمانوں کے درمیان ایک عجیب ہنگامہ برپا ہو گیا اور سب لوگ حق کو علی اور فاطمہؑ کا حق سمجھنے لگے اور ابوبکر کے عمل کی مذمت کرنے لگے۔
ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:
اس وقت خلیفہ منبر پر چڑھا اور لوگوں سے کہا کہ کسی کی بات نہ سنیں۔ پھر اس نے فاطمہؑ اور علیؑ کی توہین اس طرح شروع کی:
📜 “نعوذ باللہ! وہ ایک لومڑی ہے جس کا گواہ اس کی اپنی دُم ہے۔ وہ فتنہ انگیز، فساد برپا کرنے والا ہے جو بڑے فتنوں کو چھوٹا دکھاتا ہے اور لوگوں کو فساد اور فتنہ پر اکساتا ہے۔ وہ امِّ طحال نامی بدکار عورت جیسی عورتوں سے مدد مانگتا ہے۔”
📚 شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 16، صفحہ 215؛ فدک فی التاریخ، صفحہ 67؛ سقیفہ و فدک، صفحہ104
یہ الفاظ ایک ایسے شخص نے، جو رسول اللہ ﷺ کا ساتھی تھا، رسول اللہ ﷺ کی ان دو محبوب یادگاروں یعنی فاطمہؑ اور علیؑ کے بارے میں کہے۔ آج نہ صرف شیعہ بلکہ اہلِ سنت کے علماء بھی ان الفاظ پر حیران ہیں۔
مثال کے طور پر ابن ابی الحدید اپنی شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں کہ
📜 میں نے اپنے استاد ابو یحییٰ نقیب زید بصری سے پوچھا کہ ان کنایوں کا مخاطب کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ کنایہ نہیں بلکہ صریح کلام ہے۔ میں نے کہا:
استاد! اگر یہ صریح ہوتا تو میں سمجھ جاتا اور سوال نہ کرتا۔ استاد نے کہا: ہاں! حکومت یہی ہوتی ہے، یعنی اس کو بچانے کے لیے ہر برے عمل کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔
اب خلیفہ نے جو نسبتیں دیں، جیسے لومڑی، لومڑی کی دُم، فتنہ گر اور بدکار عورت کا ساتھی یہ سب خود اس بات کی ایک اور واضح دلیل ہیں کہ جس حدیث پر خلیفہ نے استناد کیا وہ باطل ہے، کیونکہ خلیفہ کا طریقۂ کار اور عمل اس کے خلاف ہے۔ اگر وہ حدیث صحیح ہوتی اور خلیفہ واقعی اس پر ایمان رکھتا تو لازم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی چھوڑ ی ہوئی ہر چیز کو ضبط کر لیتا اور آپؐ کے تمام ورثاء کو ان اموال میں تصرف سے روک دیتا۔
لیکن خلیفہ نے حضرت عائشہ اور حفصہ جو رسول اللہ ﷺ کی بیویاں تھیں۔ کے حجرے انہیں ہی دے دیے۔
اس کے علاوہ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں اور علی بن برہان الدین شافعی تاریخ سیرۃ الحلبیہ کی تیسری جلد میں لکھتے ہیں کہ
چند دن بعد خلیفہ کے گھر میں ایک ملاقات کے دوران،
خلیفہ فاطمہؑ کی دلیلوں سے متاثر ہوا، رو پڑا اور ایک تحریر لکھی کہ فدک فاطمہؑ کو واپس کر دیا جائے، لیکن خلیفہ الثانی نے رکاوٹ ڈالی اور اس تحریر کو پھاڑ دیا۔
اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اسی دوسرے خلیفہ کے دورِ خلافت میں فدک کو فاطمہؑ کی اولاد کو واپس کر دیا گیا، اور حتیٰ کہ اس کے بعد آنے والے خلفاء، جن میں اموی اور عباسی بھی شامل ہیں، انہوں نے بھی فدک کو فاطمہؑ کے وارثوں کو لوٹا دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر خلیفہ الثانی کا عمل درست تھا تو خلیفہ اول کے عمل کی توجیہ کیسے کی جائے؟
♦️ یہ کہنا کہ وہ انتظامی امور کے طور پر دیا تھا تب بھی سوال باقی ہے کہ خلیفہ اول نے کیوں نہیں دیا اگر بعد ؟
📚 الغدیر، جلد 7، صفحہ 194 میں اہلِ سنت کے متعدد معتبر مصادر، جن میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم بھی شامل ہیں، سے نقل کیا گیا ہے کہ
📜 خلیفہ الثانی نے فدک علیؑ اور عباس کے حوالے کر دیا تھا۔ یہی خلیفہ الثانی اس وقت رکاوٹ بنا جب خلیفہ اول نے فدک فاطمہؑ کو دینے کا ارادہ کیا تھا اور اس نے خلیفہ اول کی تحریر پھاڑ دی۔
❓سوال یہ ہے کہ اگر خلیفہ اول کا عمل درست تھا تو خلیفہ الثانی نے اسے کیوں واپس کیا؟
اور
❓ اگر وہ غلط تھا تو ہمارا دعویٰ ثابت ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ خلیفہ نے دوہرا معیار کیوں اختیار کیا؟
ایک وقت میں کہا نہیں، اور دوسرے وقت میں کہا ہاں، فدک اہلِ بیتؑ کی ملکیت ہے ان دونوں میں سے کون سا درست ہے؟
البتہ یہ بخاری اور مسلم کی روایت کے مطابق ہے، جبکہ مشہور روایت کے مطابق عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں فدک واپس کیا گیا۔
اہلِ سنت کی روایت کے مطابق مروان نے عثمان کے دور میں دوبارہ اسے غصب کیا، اور یوں فدک کئی مرتبہ واپس ہوا اور دوبارہ چھینا گیا۔
(فدک کس کس دور میں واپس کرکے چھینا جاتا رہا اسکی تفصیل انشاءﷲ الگ سے پوسٹ کروں گا)
فدک کے غصب کے مسئلے کے نتائج اور ضمنی اثرات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۂ ہود میں صراحت کے ساتھ فرماتا ہے:
📜 أَفَمَنْ كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ
📚 ہود: 17
کیا وہ پیغمبر جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل، یعنی قرآن، رکھتا ہو اور اس کے ساتھ اس کی طرف سے ایک سچا گواہ بھی ہو؟
خطیب خوارزمی مناقب میں لکھتے ہیں کہ
📜 ابن عباس سے پوچھا گیا کہ “گواہ” سے مراد کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا:
“وہ علیؑ ہیں جو پیغمبر کے لیے گواہی دیتے ہیں اور وہ پیغمبر ہی میں سے ہیں۔”
📚 بحرانی، غایۃ المرام، صفحہ 369، باب 63، حدیث 2؛ شرح الاخبار، جلد 1، صفحہ 420
هُوَ عَلِيٌّ يَشْهَدُ لِلنَّبِيِّ وَهُوَ مِنْهُ
بخاری نے اپنی صحیح میں، احمد بن حنبل نے مسند میں، خوارزمی نے مناقب میں اور بہت سے دیگر علماء نے نقل کیا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے اپنے بالوں کو ہاتھ میں لے کر فرمایا:
📜 “اے علی! جس نے تمہارے ایک بال کو بھی اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی، اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی، اور جس نے اللہ کو اذیت دی اس پر اللہ کی لعنت ہے۔”
📚 تاویل الآیات، جلد 2، صفحہ 65؛
📚البرہان، جلد 3، صفحہ 337؛
📚 شواہد التنزیل، جلد 2، صفحہ 97
«يا عليّ من آذى شعرةً منك فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله فعليه لعنة الله»
اس حدیث کے راویوں نے بتایا کہ رسولِ خدا ﷺ نے اسی طرح اپنے بال کو ہاتھ میں پکڑ کر یہ حدیث علیؑ کو اذیت پہنچانے کے بارے میں ارشاد فرمائی تھی۔
▪️سید بن ابوبکر بن شہاب الدین نے اپنی کتاب رشفة الصادی میں رسولِ خدا ﷺ سے روایت نقل کی ہے:
📜 “جس نے مجھے میری عترت کے ذریعے اذیت دی، اس پر اللہ کی لانت ہو۔”
📚 ینابیع المودة لذوی القربیٰ، جلد 3، صفحہ 192؛
📚 مسند زید بن علی، صفحہ 464؛
📚 شرح الاخبار، جلد 1، صفحہ 161؛
📚 الجامع الصغیر، جلد 1، صفحہ 158
📚 صحیح ابن حبان
«مَنْ آذَانِي فِي عِتْرَتِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ الله»
❓کیا حضرت فاطمہؑ سے وہ ملک چھین لینا جس میں وہ تصرف کر رہی تھیں، ان کی اولاد کا رزق کاٹ دینا، اور حضرت علیؑ کی گواہی کو رد کرنا، رسولِ خدا ﷺ کو اذیت پہنچانا نہیں ہے؟
❓اور کیا یہ سب اللہ کی لانت کا سبب نہیں بنتا؟
⭕ حضرت فاطمہؑ کی ناراضگی ان کی زندگی کے آخری لمحوں تک جاری رہی۔
ابو محمد عبداللہ بن مسلم دینوری اپنی کتاب الامامة و السياسة میں لکھتے ہیں کہ
حضرت فاطمہؑ بیماری کے بستر پر ابوبکر اور عمر سے فرماتی رہیں:
📜 “میں خدا اور فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے غصہ دلایا اور میری رضا حاصل نہیں کی۔ اگر میں رسولِ خدا ﷺ سے ملاقات کروں تو تمہاری شکایت ان کے حضور پیش کروں گی۔”
انہوں نے مزید کہا:
📜 “حضرت فاطمہؑ شیخین پر غصہ ہوئیں اور انہیں اسی حالت میں چھوڑ کر دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔”
اس واقعہ کو امام احمد بن حنبل (مسند) اور سلیمان قندوزی (ینابيع المودة) کی روایت کے ساتھ جوڑیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
📜 “فاطمہ میری اعضا کا حصہ، میری آنکھوں کا نور، میرے دل کا پھل اور میری روح ہے جو میرے دائیں بائیں ہے۔ جس نے اسے اذیت دی وہ مجھے اذیت دی، جس نے فاطمہ کو غصہ دلایا وہ مجھے غصہ دلایا، جس نے اسے تکلیف دی مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اللہ کو تکلیف دی۔”
📚 سنن الکبریٰ، جلد 5، صفحہ 97؛
📚 معجم الکبیر، جلد 22، صفحہ 404؛
📚 مناقب آل ابی طالب، جلد 3، صفحہ 112؛
📚 نظم درر المسمطین، صفحہ 176؛
ابن حجر مکّی (صواعق) اور ابو العرفان الصبان (اسعاف الراغبین) میں بھی نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
📜 “اے فاطمہ! یقیناً اللہ تمہارے غصے سے غصہ اور تمہاری رضا سے خوش ہوتا ہے۔”
📚 تاریخ مدینہ دمشق، جلد 3، صفحہ 156؛
📚یَنبَاع المودة لذوی القربیٰ، جلد 2، صفحات 132 و 464
📚 مستدرك حاکم، اصابه عسقلانی، جلد 4، صفحہ 375
ابو محمد بن مسلم دینوری (الامامة و السياسة) اور ابن ابی الحدید (شرح نہج البلاغہ) لکھتے ہیں کہ
ابوبکر نے عمر سے کہا:
📜 “چونکہ ہم نے فاطمہؑ کو غصہ دلایا ہے، آؤ ساتھ چل کر ان سے صلح کریں۔”
دونوں فاطمہؑ کے گھر گئے مگر ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ ابوبکر اور عمر نے حضرت علیؑ کو واسطہ بنایا۔ حضرت فاطمہؑ نے علیؑ کے سامنے خاموشی اختیار کی۔ علیؑ نے اتنا ہی کیا اور ملاقات کی اجازت دی۔
جب ابوبکر اور عمر گھر میں داخل ہوئے تو حضرت فاطمہؑ نے سلام کیا مگر دیوار کی طرف رو کر بیٹھیں۔ ابوبکر نے کہا:
“اے محبوبہ رسول ﷺ، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں تمہیں اپنی بیٹی عائشہ سے زیادہ دوست رکھتا ہوں۔”
پھر انہوں نے اپنے عمل کی توجیہ کی اور کہا کہ یہ کام میں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق کیا ہے کہ “ہم پیغمبروں کے وارث نہیں ہیں۔”
حضرت فاطمہؑ نے جواب دیا:
📜 “میں ایک حدیث رسول اللہ ﷺ یاد دلاتی ہوں: ‘فاطمہ کی رضا میری رضا ہے اور فاطمہ کا غصہ میرا غصہ۔ جو مجھے پسند رکھتا ہے اس نے فاطمہ کو پسند رکھا، جو اسے خوش رکھتا ہے وہ مجھے خوش رکھتا ہے، اور جو اسے غصہ دلاتا ہے وہ مجھے غصہ دلاتا ہے۔’”
📚 الامامة و السياسة، جلد 1، تحقیق الزینی، صفحہ 20؛
📚 عمر بن خطاب، صفحہ 88
ابوبکر اور عمر نے گواہی دی کہ ہاں، یہ حدیث سنی ہے۔ پھر حضرت فاطمہؑ نے کہا:
📜 “میں خدا اور فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے میری رضا حاصل نہیں کی اور مجھے غصہ دلایا…۔”
ابوبکر متاثر ہوا، رو پڑا اور کہا:
“میں تمہارے اور حضرت فاطمہؑ کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔”
آخرکار حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:
“قسم ہے اللہ کی کہ میں ہر نماز میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی۔”
📚 افحام الاعدا والخصوم، صفحہ 87؛
📚 الامامة و السياسة، جلد 1، صفحات 20 و 31
اس پر اجماع امت ہے کہ سیدہ ناراض رخصت ہوئیں شیخین سے 👇
ان زرا سیدہ ص کی فضلیت کی روایات ذہن میں رکھیں اور ان عمری علما کی حرکت دیکھیں کہ سیدہ ص کی ناراضگی پر خود سیدہ ص کو بُرا بھلا کہا گیا 👇
❓ اعتراض اس بارے میں کہ امام علیؑ نے خلافت میں آنے کے بعد فدک کیوں واپس نہیں کیا
✅ جواب ✅
▪️کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں امام علیؑ کے پاس مکمل اختیار اور آزادیِ عمل نہیں تھی۔ اگر وہ ایسا اقدام کرتے تو مخالفین شور مچا دیتے کہ علیؑ شیخین کی سیرت کے خلاف عمل کر رہے ہیں، اور معاویہ اور اس کے پیروکاروں جیسے مخالفین کے اس الزام کو تقویت ملتی کہ علیؑ اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔ اسی لیے مجبوری کے تحت انہوں نے صبر اختیار کیا،
▪️ خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ اصل صاحبِ حق اس وقت دنیا سے جا چکے تھے۔
▪️یہ ثابت کرنے کے لیے کہ امام علیؑ کو عملی آزادی حاصل نہیں تھی، منبرِ رسول، نمازِ تراویح اور صفین میں حکمیت کے فیصلے جیسی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد پہلے خلفاء نے منبرِ رسول اللہ ﷺ کی جگہ تبدیل کر دی تھی، اور جب امام علیؑ نے اسے اپنی اصل جگہ پر واپس لانا چاہا تو لوگوں نے قبول نہ کیا اور اسے شیخین کی سیرت کے خلاف قرار دیا۔
▪️اسی طرح جب امام علیؑ نے لوگوں کو مستحب نمازِ تراویح پڑھنے سے منع کیا جسے خلیفہ الثانی نے جماعت کے ساتھ بدعت کے طور پر رائج کیا تھا تو شور مچ گیا کہ علیؑ عمر کے حکم کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔
▪️حکمیت کے تعین کا معاملہ بھی سب پر واضح ہے کہ جنگِ صفین میں امام علیؑ کو ابو موسیٰ اشعری کے انتخاب کے سلسلے میں کسی قسم کی آزادی اور اختیار حاصل نہیں تھا۔
▪️دوسری طرف اسی جنگِ صفین میں امام علیؑ اور ان کے بہادر سپہ سالار مالک اشتر معاویہ پر فتح کے قریب پہنچ چکے تھے کہ امام علیؑ ہی کے لشکر کے کچھ افراد نے حالات کو ان پر تنگ کر دیا اور انہیں حکمیت قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے مالک اشتر کو دھمکی دی کہ اگر معاویہ اور عمرو بن عاص کے خلاف جنگ میں پیش قدمی جاری رکھی گئی تو وہ علیؑ کو قتل کر دیں گے۔
کیا ایسا خلیفہ جو ایک فوجی معاملے میں اس قدر دباؤ میں ہو، غیر فوجی حالات میں کتنی آزادیِ عمل رکھ سکتا ہے؟!
تفصیلی جواب کا سلسلہ مکمل حوالہ جات کے ساتھ انشاءﷲ جلد شروع کروں گا
بدر علی
Invisibleislam.com