🔴 کیا سیدہ ص یہ جعلی حدیث کہ ہم وراثت نہیں چھوڑتے سن کر رضامند ہو گئیں تھیں ؟
✅ جواب ✅
خود اہل سنت مفتیان و محدثین جانتے ہیں کہ سیدہ ص جعلی حدیث سن کر ابوبکر سے ناراض ہو گئیں
ابن عثیمین نے ابوبکر کے دفاع میں حضرت صدیقہ طاہرہ، شہیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بہت بڑی توہین کی ہے۔ اور یہ گروہ ناسبی، جو اپنی ناسبیت کے سبب گمراہی میں ہیں، بدترین بے ادبی حضرت زہرا کی طرف کرتے ہیں، پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اہلِ بیت سے محبت رکھتے ہیں،
یہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت زہرا نے غلطی کی اور ابن عثیمین نے ان کے لیے دعا کی کہ
👈 اللہ انہیں (سیدہؑ کو) معاف کرے۔
ابن عثیمین نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں انتہائی گستاخ جملے کہے۔
لکھتا ہے
📜 اے اللہ! ان (فاطمہؓ) کو معاف فرما، ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان فاطمہ کے لیے لازم تھا کہ نبی ﷺ کا یہ فرمان قبول کرتیں: ’’ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے‘‘۔
📜 لیکن جب جھگڑے کی نوبت آ جائے تو انسان کے پاس وہ عقل باقی نہیں رہتی جس سے وہ سمجھ سکے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، کیا کر رہا ہے، یا کیا فیصلہ کر رہا ہے۔ پس ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ (فاطمہؓ) رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ (ابو بکرؓ) سے ان کے ہجر (قطعِ تعلق) پر انہیں معاف فرمائے۔
📚 تعلیق علی صحیح مسلم ج 9 ص 78
▪️کسی طرح مولانا محمد زکریا لکھتے ہیں کہ
📜 فاطمہ عورت تھیں اس سے غلطی واقع ہوئی
📜 فاطمہ سے خطا ہوئی
📚 تقریر صحیح بخاری ، حصہ 5 ص 381
لہذا
ان ناسبیوں نے خود اعتراف کیا کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ابو بکر پر جعلی حدیث سن کر غضبناک تھیں، اور آخر عمر تک اسی حالت پر رہیں۔
❌ اگر آخر میں وہ راضی ہوتیں تو ابن عثیمین کی دعا اور آخری وقت تک ناراض رہنے کا استدلال باقی نہ رہتا۔
👈 پس یہ بات ثابت ہے کہ غضب آخر عمر تک برقرار رہا۔
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen