اہل سنت کے بعض دیگر علمائے کرام کے اقوال انبیاء کے مال کے حوالے سے، اس باطل دعوے کے رد میں کہ انبیاء کوئی میراث نہیں چھوڑتے
🔴 اہل سنت کے بعض دیگر علمائے کرام کے اقوال انبیاء کے مال کے حوالے سے،
⭕ اس باطل دعوے کے رد میں کہ انبیاء کوئی میراث نہیں چھوڑتے
👈 خود اہل سنت علماء کی زبانی کہ حدیث لانورث مالی وراثت کی نفی نہیں کرتی
Post No 4⃣
▪️ ہم نے اس سے پہلے قرآن کریم کی بنیاد پر انبیاء کی مالی میراث کے بارے میں گفتگو کی ہے، اور یہ کہ انبیاء بھی دوسرے لوگوں کی طرح اپنے بعد مادی و مالی ترکہ چھوڑتے ہیں۔
آپ درج ذیل لنکس سے وہ مباحث دیکھ سکتے ہیں:
1⃣ انبیاء کا ایک دوسرے سے وراثت پانا — سورۂ بقرہ آیت 248 کے مطابق (اس باطل دعوے کا رد کہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے)
2⃣ انبیاء کا میراث چھوڑنا — سورۂ مریم آیت 6 کے مطابق (اس باطل دعوے کا رد کہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے)
3⃣ انبیاء کا میراث چھوڑنا — سورۂ نمل آیت 16 کے مطابق (اس باطل دعوے کا رد کہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے)
🔴 اب اس مضمون میں ہم اہل سنت کے بعض دیگر علمائے کرام کے اقوال نقل کرتے ہیں جو قرآن کریم کی بنیاد پر انبیاء کے مالی ترکے کی تائید کرتے ہیں۔
▪️قرطبی جو اہل سنت کے بڑے مفسر ہیں، لکھتے ہیں:
📜 "اور یہ اس قول کی طرح ہے کہ: ’علماء انبیاء کے وارث ہیں‘ اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ رسول اللہؐ کے اس فرمان کہ ’ہم گروہِ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے‘ سے مراد یہ ہو کہ انبیاء کا طریقہ اور ان کی روش ایسی ہوتی ہے، اگرچہ ان میں ایسے بھی انبیاء گزرے ہیں جن کا مال وراثت میں تقسیم ہوا، جیسے حضرت زکریا، جو اس بارے میں مشہور اقوال میں سے ہے۔
اور یہ اس مثال کی مانند ہے کہ تم کہو: ’ہم مسلمان عبادت میں لگے رہتے ہیں‘ یعنی اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اکثریت ایسا کرتی ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مسلمان کوئی اور کام نہیں کرتے۔"
📚 تفسیر قرطبی، جلد 16، ص 113
▪️یعنی رسول اللہؐ کا قول
✅ علماء انبیاء کے وارث ہیں
اور اس بات کا احتمال ہے کہ رسول اللہؐ کے فرمان
❌ ’’ہم انبیاء میراث نہیں چھوڑتے‘‘
👈 کا مطلب یہ ہے کہ یہ انبیاء کا عمومی طریقہ ہے انبیاء علم چھوڑ کر جاتے ہیں ، یہ قول رسول ﷺ کی مالی وراثت کی نفی نہیں کرتا۔
▪️ ابو جعفر نحاس اہل سنت کے عالم لکھتے ہیں:
📜 ’’جہاں تک ’وہ میری میراث پائے گا اور یعقوب کے خاندان کی میراث بھی پائے گا‘ کے معنی کا تعلق ہے، علماء نے اس میں تین اقوال بیان کیے ہیں:
ایک قول یہ کہ اس سے مراد نبوت کی وراثت ہے؛
دوسرا قول یہ کہ اس سے مراد حکمت کی وراثت ہے؛
اور تیسرا قول یہ کہ اس سے مراد مال کی وراثت ہے۔
👈 لیکن یہ کہنا کہ مراد نبوت کی وراثت ہے، محال ہے، کیونکہ نبوت وراثت میں نہیں ملتی، ورنہ یہ کہا جاتا کہ تمام لوگ نوحؑ کی طرف منسوب ہیں اور وہ نبی مرسل تھے۔
اور حکمت و علم کی وراثت کا قول اچھا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے: ’علماء انبیاء کے وارث ہیں‘۔
👈 اور جہاں تک مال کی وراثت کا تعلق ہے، تو یہ ناممکن نہیں، اگرچہ ایک گروہ نے اسے رسول اللہؐ کے اس قول کی وجہ سے رد کیا ہے کہ ’ہم میراث نہیں چھوڑتے، جو کچھ چھوڑتے ہیں صدقہ ہوتا ہے‘
👈 مگر اس میں کوئی حجت نہیں، کیونکہ ایک شخص کبھی اپنی طرف سے جمع کے صیغے میں خبر دیتا ہے۔
👈 اور اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ جس چیز کو ہم نے بطور صدقہ چھوڑا ہے، وہ وراثت میں نہیں ملے گی۔
📚 اعراب القرآن للنحاس، ص 559
جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے، نحاس کا بیان اس بات پر بالکل واضح ہے کہ انبیاء بھی اپنا مالی ترکہ چھوڑتے تھے۔ باقی جس چیز کو بطور صدقہ چھوڑا ہے وہ وراثت میں نہیں ملے گا کیونکہ آل محمد پر صدقہ حرام ہے
▪️ابن رشد قرطبی (مالکی فقہ کے عالم) لکھتے ہیں:
📜 ’’{وہ میری میراث پائے گا اور یعقوب کے خاندان کی میراث بھی پائے گا} (سورۂ مریم آیت 6) یعنی ایسی اولاد، ایسا مقرر وارث جو میرے مال کا وارث ہو اور آلِ یعقوب کی نبوت کا وارث بھی ہو۔‘‘
📚 المقدمات الممهدات، جلد 3، ص 131
⭕ مزید دیکھیں
📜 {یرثنی ویرث من آل یعقوب} (مریم: 6)
📃 یعنی ایسا بیٹا اور معیّن وارث جو میری مال کی وراثت پائے اور آلِ یعقوب سے نبوت کی وراثت لے۔
▪️ سرخسی اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں:
"اور ہمارے بعض مشایخ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ہم گروہِ انبیاء کا مال وراثت نہیں ہوتا، جو ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
👈 انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز ہم بطورِ صدقہ چھوڑ جائیں وہ وراثت نہیں ہوتی، اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ انبیاء کا مال وراثت نہیں ہوتا۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سلیمان نے داؤد کی وراثت پائی (نمل: 16)
اور فرمایا: مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر، جو میری بھی وراثت پائے اور آل یعقوب کی بھی (مریم: 5-6)
👈 اور یہ ممکن نہیں کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے خلاف کوئی بات فرمائیں۔"
📚 المبسوط للسرخسی، ج12، ص29
▪️ آخر میں ہم اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ احمد بن عبدالعزیز القصیر وهابی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے:
📜 "کچھ مفسرین ایسے ہیں جنہوں نے ان آیات کی تفسیر میں مالی وراثت مراد لی ہے، نہ کہ نبوت، لیکن انہوں نے حدیث (یعنی ابوبکر کی روایت) کا جواب نہیں دیا۔
ان میں شامل ہیں:
👈 ابن عباس، ابو صالح، عکرمہ، ضحاک، حسن بصری، سفیان ثوری اور ابن جریر۔
انہوں نے آیت یرثنی ویرث من آل یعقوب کی تفسیر میں کہا: وہ زکریا سے مال کی وراثت پائے گا اور آلِ یعقوب سے نبوت کی۔
اور حسن بصری نے وورث سلیمان داؤد کے بارے میں کہا:
📜 اس نے مال اور بادشاہت کی وراثت پائی، نہ کہ نبوت اور علم۔"
📚 الاحادیث المشكلة، ص348
▪️ قصیری وهابی آگے لکھتا ہے:
📜 "تیسرا قول یہ ہے کہ حدیث (ابوبکر کی روایت) اس بات پر محمول ہے کہ یہ عمل انبیاء کا عام طریقہ اور ان کی عمومی سیرت ہے، اور یہ اس بات کو نہیں جھٹلاتا کہ بعض انبیاء نے وراثت بھی چھوڑی ہو، جیسے زکریا علیہ السلام۔
اور یہی قاضی ابن عطیہ کا مذہب ہے، جنہوں نے آیت یرثنی ویرث من آل یعقوب کی تفسیر میں کہا:
👈 اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد مالی وراثت ہے۔"
📚 الاحادیث المشكلة، ص349
📎 بدر علی
Invisibleislam.com
#بدر_علی
#التماس_دعا
#تبدیلی_ممنوع
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#invisible_islam #talimaat_e_ahlbait
Gallery
Tap any image to view full screen