🔴 ناصبی کا اہل بیتؑ کے بارے میں گستاخی 👇
⭕ ابو ہلال لکھتے ہیں:
▪️(ضرب المثل نمبر 1017)
📜 قولهم: شاهد الثعلب ذنبه
📃 لوگوں کا کہنا ہے: “لومڑی نے اپنی دم کو گواہ بنایا”
📜 وَهُوَ مثل مبتذل فِي الْعَامَّة وَقد جَاءَ فِي الْكَلَام لأبي بكر رَضِي الله عَنهُ خطب فَقَالَ أَيهَا النَّاس مَا هَذِه الرعة مَعَ كل قالة أَيْن كَانَت هَذِه الْأَمَانِي فِي عهد رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أَلا من سمع فَلْيقل وَمن شهد فَلْيَتَكَلَّمْ إِنَّمَا هُوَ ثعالة شَاهده ذَنبه مرب لكل فتْنَة هُوَ الَّذِي يَقُول كروها جَذَعَة بهد أَن هرمت يستعينون بالضعفة ويستنصرون النِّسَاء كَأُمّ طحال أحوط أَهلهَا إِلَيْهَا الْبَغي الأولق إِن شِئْت أَن أَقُول لَقلت وَلَو قلت لبحت وَإِنِّي سَاكِت مَا تركت
یہ عوام میں ایک مشہور کہاوت ہے، اور یہ ابوبکر کے خطبے میں بھی آئی ہے۔
انہوں نے منبر پر کہا:
📜 “اے لوگو! ہر ایک بات اور ہر عورت کے قول پر توجہ دینا کیا معنی رکھتا ہے؟
یہ تمنائیں اور دعوے رسولِ خدا ﷺ کے زمانے میں کہاں تھے؟
جو سنتا ہے وہ بولے، جو حاضر ہے وہ بات کرے۔
یہ تو ایک لومڑی ہے جو اپنی دم کو گواہ بناتی ہے!
فتنوں کا پروردہ یہی ہے،
یہی وہ ہے جو کہتا ہے: ‘ہمارا اونٹ بڑھاپے کے بعد پھر جوان ہو گیا!’
یہ کمزوروں سے مدد لیتے ہیں،
اور عورتوں سے نصرت چاہتے ہیں،
جیسے کہ اُمِّ طُحال (زمانۂ جاہلیت کی مشہور فاحشہ عورت)،
جس کے نزدیک سب سے محبوب وہ تھا جو اس کے ساتھ ز/نا کرتا تھا...!”
📚 العسكری، أبو هلال الحسن بن عبد الله بن سهل، جمهرة الأمثال، جلد 1، صفحہ 553–554
(دارالفكر، بیروت، 1408ھ / 1988ء)
⭕ ابن ابی الحدید معتزلی عمریہ عالم نے یہی واقعہ نقل کر کے وضاحت سے لکھا ہے کہ
▪️ خلیفہ کی مراد ان الفاظ (“لومڑی” اور “دم”) سے امیرالمؤمنین علیؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ تھیں۔
انہوں نے لکھا:
📜 جب خلیفہ نے خطبہ (حضرت فاطمہؑ کا خطبہ فدک) سنا تو ان کے کلمات اس پر گراں گزرے،
📜 وہ منبر پر گئے اور کہا:
“اے لوگو! ہر ایک قول اور عورت کی بات پر توجہ دینا کیا معنی رکھتا ہے؟
یہ تمنائیں رسولِ خدا ﷺ کے زمانے میں کہاں تھیں؟
جو سنتا ہے وہ بولے، جو حاضر ہے وہ بات کرے۔
یہ تو ایک لومڑی ہے جس کی گواہی اس کی دم ہے،
ہر فتنے کو ہوا دینے والا یہی ہے،
یہی کہتا ہے کہ ‘ہمارا اونٹ بڑھاپے کے بعد پھر جوان ہو گیا!’
یہ کمزوروں سے مدد لیتے ہیں اور عورتوں سے نصرت مانگتے ہیں،
جیسے کہ اُمِّ طُحال، جو اپنے خاندان میں سب سے زیادہ اس زن/اکار کو پسند کرتی تھی”
پھر وہ منبر سے اتر گیا،
اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے گھر واپس چلی گئیں۔
راوی کہتا ہے:
📜 میں نے یہ عبارت نقیب ابو یحییٰ جعفر بن یحییٰ بصری کو پڑھ کر سنائی اور پوچھا:
“یہ کن کے بارے میں کنایہ کر رہا تھا؟”
تو انہوں نے کہا: “یہ کنایہ نہیں تھا، صراحت سے کہا گیا تھا۔”
میں نے کہا: “اگر صراحت ہوتی تو میں تم سے نہ پوچھتا!”
وہ ہنس پڑے اور بولے: “یہ علی بن ابی طالبؑ کے بارے میں کہا گیا تھا۔”
میں نے کہا: “کیا یہ تمام الفاظ علیؑ کے لیے تھے؟”
تو کہا: “ہاں، اے میرے بیٹے، یہ اقتدار کی بات تھی۔”
📚 ابن ابیالحدید المدائنی المعتزلی، شرح نہج البلاغہ، جلد 16، صفحہ 126
تحقیق: محمد عبد الکریم النمری
(دارالكتب العلمیة، بیروت، 1418ھ / 1998ء)
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen