Back to امام علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟

اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے

اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے
اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے

🌏🌏 آج ہم اہلِ سنت کے اس شبہے کا جواب دیں گے کہ امام علی صلواتُ اللہ علیہ نے اپنے حق کو غصب کرنے والوں، اپنے گھر پر حملہ کرنے والوں، اسے جلانے والوں اور اپنی زوجہ کے پہلو کو زخمی کرکے ان کے حمل کو ساقط کرنے والوں سے جنگ کیوں نہیں کی؟

 

1⃣ :  سب سے پہلے ہم کہتے ہیں کہ امام علی صلواتُ اللہ علیہ خاموش نہیں رہے، بلکہ انہوں نے ہماری مولاتنا حضرت زہرا صلواتُ اللہ علیہا کا دفاع کیا۔ یہ بات ہماری کتابوں میں ثابت ہے، بلکہ ہمارے مخالفین نے بھی اسے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ 👇

/topic/1204

 

 

پھر امام صلواتُ اللہ علیہ خاموش نہیں رہے بلکہ اپنے حق کا مطالبہ بھی کیا، لیکن انہیں کوئی ایسا مددگار نہیں ملا جو ان کا ساتھ دیتا۔

 

/topic/1206

/topic/1220

/topic/1221

 

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وصیت فرمائی تھی کہ اگر انہیں مددگار نہ ملیں تو وہ صلح و سکون کا راستہ اختیار کریں۔ چنانچہ امام صلواتُ اللہ علیہ نے امت کی حفاظت اور خونریزی کو روکنے کے لیے ایسا ہی کیا۔

 

/topic/1222

/topic/1220

/topic/1207

 

> رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے فرمایا:

’’اے علی! قریش تمہارے خلاف وہ چیز ظاہر کریں گے جسے انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے، اور وہ سب تم پر ظلم اور تمہیں مغلوب کرنے کے لیے متحد ہو جائیں گے۔ پس اگر تمہیں مددگار ملیں تو ان سے جہاد کرنا، اور اگر مددگار نہ ملیں تو اپنا ہاتھ روک لینا اور اپنا خون محفوظ رکھنا۔‘‘

 

 

 

اور سلیم کی روایت میں ہے:

 

> ’’اگر تمہیں مددگار نہ ملیں تو صبر کرنا، اپنا ہاتھ روک لینا اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالنا۔‘‘

 

 

 

🌏🌏 چنانچہ امام صلواتُ اللہ علیہ نے صبر کیا، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے بعد قریش اور صحابہ کی طرف سے جو کچھ ہوا، اس پر صبر کیا۔

 

اور آج ہمارا موضوع یہی ’’صبر‘‘ ہے۔

 

اہلِ سنت کے علماء نے نقل کیا ہے کہ صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے۔ میرے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ صحابہ میں امام علی صلواتُ اللہ علیہ سے بڑھ کر کسی نے صبر نہیں کیا۔

 

اب ہم اپنے دلائل کی طرف آتے ہیں:

 

🎇 محمد بن عبدالوہاب، مؤسسِ وہابیت، کہتے ہیں:

 

> ’’اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اصحاب کے بارے میں فرمایا:

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ

یعنی ہم نے ان میں ایسے امام بنائے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے، جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔

پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے ان میں ایسے ائمہ بنائے جن کی بعد والے لوگ پیروی کرتے تھے، اور یہ ان کے صبر اور یقین کی وجہ سے تھا؛ کیونکہ دین میں امامت صبر اور یقین کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔‘‘

 

 

 

📚 مبحث الاجتهاد والخلاف، ج 1، ص 20

مصنف: محمد بن عبدالوہاب، وفات: 1206ھ

 

🎇 ابن قیم، ابن تیمیہ—جنہیں اہلِ سنت ’’شیخ الاسلام‘‘ کہتے ہیں—کا قول نقل کرتے ہیں:

 

> ’’پندرہویں بات: صبر انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتا ہے۔ میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ، قدس اللہ روحہ، کو کہتے ہوئے سنا: صبر اور یقین کے ذریعے دین میں امامت حاصل ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا فرمان پڑھا:

وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ

’’اور ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے، جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔‘‘

 

 

 

📚 مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين، ج 2، ص 154

مصنف: محمد بن أبي بكر أيوب الزرعي، ابو عبداللہ، وفات: 751ھ

دارالنشر: دار الكتاب العربي، بیروت، 1393ھ/1973ء، طبع دوم، تحقیق: محمد حامد الفقی

 

لہٰذا صبر امامت کا سبب بنتا ہے، اور یہ اہلِ سنت کے اپنے اصول کے مطابق ایک اور دلیل ہے کہ امام علی صلواتُ اللہ علیہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے عظیم امامت کا مقام حاصل کیا۔

 

🌏 اگر یہاں یا وہاں سے کوئی مخالف آواز امام علی صلواتُ اللہ علیہ کے صبر کو کم تر قرار دے اور یہ کہے کہ اتنا بہادر جنگجو ہونے کے باوجود امام علی نے اتنے بڑے واقعات کے بعد خاموشی کیوں اختیار کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پابندی کرتے ہوئے صلح پر کیوں قائم رہے؟

 

تو ہم کہتے ہیں:

 

آپ لوگ اپنے شیخ حضرت عثمان بن عفان کی خاموشی اور صبر کی تعریف کرتے ہیں، حالانکہ صحابہ نے ان کی موجودگی میں ان کی زوجہ حضرت نائلہ کے ساتھ ایسا سلوک کیا جو انتہائی بے حیائی پر مبنی تھا، یہاں تک کہ ان کی انگلیاں بھی کاٹ دیں، لیکن عثمان نے تلوار نہیں اٹھائی اور نہ ہی ان سے جنگ کی۔

 

/topic/905

 

تو پھر آپ کے لیے یہ اصول درست اور ہمارے لیے غلط کیوں؟

 

بس ایک سادہ سا سوال ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17