اگر حمزہ اور جعفر موجود ہوتے…
🔴 اگر حمزہ اور جعفر موجود ہوتے…
📜 ۲۱۶- مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْكَانَ عَنْ سَدِيرٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ ع فَذَكَرْنَا مَا أَحْدَثَ النَّاسُ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ ص وَ اسْتِذْلَالَهُمْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ع فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَصْلَحَكَ اللَّهُ فَأَيْنَ كَانَ عِزُّ بَنِي هَاشِمٍ وَ مَا كَانُوا فِيهِ مِنَ الْعَدَدِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع وَ مَنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ إِنَّمَا كَانَ جَعْفَرٌ وَ حَمْزَةُ فَمَضَيَا وَ بَقِيَ مَعَهُ رَجُلَانِ ضَعِيفَانِ ذَلِيلَانِ حَدِيثَا عَهْدٍ بِالْإِسْلَامِ عَبَّاسٌ وَ عَقِيلٌ وَ كَانَا مِنَ الطُّلَقَاءِ أَمَا وَ اللَّهِ لَوْ أَنَّ حَمْزَةَ وَ جَعْفَراً كَانَا بِحَضْرَتِهِمَا مَا وَصَلَا إِلَى مَا وَصَلَا إِلَيْهِ وَ لَوْ كَانَا شَاهِدَيْهِمَا لَأَتْلَفَا نَفْسَيْهِمَا.
📃 سُدَیر صیرفی (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت ہے:
ہم حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے،
ہم نے اس بات کا ذکر کیا کہ لوگوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعد کیا کچھ بدعتیں پیدا کیں
اور کس طرح انہوں نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کو کمزور بنایا۔
ایک شخص نے عرض کیا:
"اللہ آپ کی اصلاح کرے، بنی ہاشم کی غیرت و طاقت کہاں گئی؟
وہی غیرت و شوکت جس کے سائے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے برسوں قریش کے سرداروں اور قبیلوں سے مقابلہ کیا،
اور اسی کے سہارے اپنے مقصد کو آگے بڑھایا،
آخر کہاں چلے گئے وہ سب بہادر افراد بنی ہاشم کے؟!"
امام باقر علیہ السلام نے جواب دیا:
اس وقت بنی ہاشم کے بہادروں میں سے کون باقی تھا؟
صرف جعفر بن ابی طالب اور حمزہ بن عبدالمطلب تھے،
مگر وہ دونوں شہید ہو چکے تھے،
اور بنی ہاشم میں دو کمزور، بے وقعت اور نئے مسلمان باقی رہ گئے تھے: عباس اور عقیل، اور یہ دونوں "طلقاء" (یعنی وہ لوگ جو فتحِ مکہ کے وقت قید ہوئے اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے احسان کر کے انہیں آزاد کیا) تھے۔ ان دونوں کا اسلام میں کوئی خاص سابقہ، ہجرت یا جہاد کا شرف نہیں تھا۔
خبردار! خدا کی قسم!
اگر حمزہ یا جعفر ان دنوں زندہ ہوتے،
تو دشمن ہرگز اپنے ان ناپاک ارادوں تک نہیں پہنچ سکتے تھے،
اور اگر وہ دونوں ان مخالفوں (سقیفائیوں) کے سامنے ہوتے،
تو اپنی جانیں قربان کر کے ان کا مقابلہ کرتے اور انہیں مار ڈالتے۔
📚 کتاب "الکافی"، جلد ۸، صفحہ ۱۸۹، طبع دار الاسلامیہ
📜 ۲۱۶- مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْكَانَ عَنْ سَدِيرٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ ع فَذَكَرْنَا مَا أَحْدَثَ النَّاسُ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ ص وَ اسْتِذْلَالَهُمْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ع فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَصْلَحَكَ اللَّهُ فَأَيْنَ كَانَ عِزُّ بَنِي هَاشِمٍ وَ مَا كَانُوا فِيهِ مِنَ الْعَدَدِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع وَ مَنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ إِنَّمَا كَانَ جَعْفَرٌ وَ حَمْزَةُ فَمَضَيَا وَ بَقِيَ مَعَهُ رَجُلَانِ ضَعِيفَانِ ذَلِيلَانِ حَدِيثَا عَهْدٍ بِالْإِسْلَامِ عَبَّاسٌ وَ عَقِيلٌ وَ كَانَا مِنَ الطُّلَقَاءِ أَمَا وَ اللَّهِ لَوْ أَنَّ حَمْزَةَ وَ جَعْفَراً كَانَا بِحَضْرَتِهِمَا مَا وَصَلَا إِلَى مَا وَصَلَا إِلَيْهِ وَ لَوْ كَانَا شَاهِدَيْهِمَا لَأَتْلَفَا نَفْسَيْهِمَا.
📚 الکافی - ط الإسلامية - ج8 ص189.
🔍 سند روایت:
1⃣[ ٩٤٦ ] محمد بن يحيى
أبو جعفر العطار القمي ، شيخ أصحابنا في زمانه ، ثقة ، عين ، كثير الحديث.
📒رجال نجاشی ص353.
2⃣[ 5197 ] 3 - أحمد بن محمد بن عيسي الاشعري القمي، ثقة، له كتب.
📔رجال الطوسی ص351.
3⃣[ 5257 ] 18 - الحسين بن سعيد بن حماد ، مولي علي بن الحسين عليهما السلام ، صاحب المصنفات ، الأهوازي ، ثقة .
📕رجال الطوسی ص355.
4⃣[ ٧١٩ ] علي بن النعمان
... وكان علي ثقة ، وجها ، ثبتا ، صحيحا ، واضح الطريقة.
📘رجال نجاشی ص274.
5⃣[ ٥٥٩ ] عبد الله بن مسكان
أبو محمد مولى [ عنزة ] ، ثقة ، عين ، روى عن أبي الحسن موسى عليهالسلام
📓رجال نجاشی ص214.
📜 قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُوسَى بْنِ بَابَوَيْهِ الْقُمِّيُّ مُصَنِّفُ هَذَا الْكِتَابِ حَدَّثَنَا أَبِي وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالا حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ 👈🏿👈🏿مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرٍ وَ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الصَّبَّاحِ السُّدِّيِّ وَ سَدِيرٍ الصَّيْرَفِيِّ👉👉 وَ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ مُؤْمِنِ الطَّاقِ وَ عُمَرَ بْنِ أُذَيْنَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع)
📙علل الشرائع ج2 ص312.
تحقیق علامہ مجلسی
☑️ الحديث السادس عشر و المائتان: حسن.
📖 مرآة العقول ج26 ص 83.
✔️تحقیق علامہ کلینی
🗞 تاریخ الإسلام - علامه مجلسی - ص1585.
تحقیق محمد حسین بن قاریاغدی بر سند روایت:
✅ السند حسن.
📜 البضاعة المزجاة ج3 ص25.
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen