تلوار اٹھا کر قیام کیوں نہیں کیا ؟ (شیعہ کتب)
تلوار اٹھا کر قیام کیوں نہیں کیا ؟ (شیعہ کتب)
تلوار اٹھا کر قیام کیوں نہیں کیا ؟ (شیعہ کتب)
تلوار اٹھا کر قیام کیوں نہیں کیا ؟ (شیعہ کتب)
تلوار اٹھا کر قیام کیوں نہیں کیا ؟ (شیعہ کتب)
تلوار اٹھا کر قیام کیوں نہیں کیا ؟ (شیعہ کتب)
تلوار اٹھا کر قیام کیوں نہیں کیا ؟ (شیعہ کتب)

🔴 تلوار کیوں نہ اٹھائی ؟

 

📜 99-/7039 _3- سُلَيْمُ بْنُ قَيْسٍ الْهِلاَلِيُّ:قَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ،مَا مَنَعَكَ حِينَ بُويِعَ أَخُو بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ،وَ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ،وَ أَخُو بَنِي أُمَيَّةَ بَعْدَهُمْ أَنْ تُقَاتِلَ وَ تَضْرِبَ بِسَيْفِكَ،فَإِنَّكَ لَمْ تَخْطُبْنَا خُطْبَةً مُنْذُ قَدِمْتَ الْعِرَاقَ إِلاَّ قُلْتَ فِيهَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ مِنَ الْمِنْبَرِ:«وَ اللَّهِ إِنِّي لَأَوْلَى النَّاسِ بِالنَّاسِ،وَ مَا زِلْتُ مَظْلُوماً مُنْذُ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)».فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَضْرِبَ بِسَيْفِكَ دُونَ مَظْلَمَتِكَ؟ قَالَ:«يَا ابْنَ قَيْسٍ قَدْ قُلْتَ فَاسْتَمِعِ الْجَوَابَ،لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ ذَلِكَ الْجُبْنُ،وَ لاَ كَرَاهِيَةٌ لِلِقَاءِ رَبِّي وَ أَنْ لاَ أَكُونَ أَعْلَمُ بِأَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِي مِنَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا [1]،وَ لَكِنْ مَنَعَنِي مِنْ ذَلِكَ أَمْرُ رَسُولُ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)وَ عَهْدُهُ إِلَيَّ؛ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)بِمَا الْأُمَّةُ صَانِعَةٌ بَعْدَهُ،فَلَمْ أَكُنْ بِمَا صَنَعُوا حِينَ عَايَنْتُهُ بِأَعْلَمَ وَ لاَ أَشَدَّ اسْتِيقَاناً مِنِّي بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ،بَلْ أَنَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)أَشَدُّ يَقِيناً مِنِّي بِمَا عَايَنْتُ وَ شَاهَدْتُ.

 

فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ):فَمَا تَعْهَدُ إِلَيَّ إِذَا كَانَ ذَلِكَ؟قَالَ:إِنْ وَجَدْتَ أَعْوَاناً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ وَ جَاهِدْهُمْ، وَ إِنْ لَمْ تَجِدْ أَعْوَاناً فَكُفَّ يَدَكَ وَ احْقِنْ دَمَكَ،حَتَّى تَجِدَ عَلَى إِقَامَةِ الدِّينِ وَ كِتَابِ اللَّهِ وَ سُنَّتِي أَعْوَاناً».

 

وَ أَخْبَرَنِي(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)أَنَّ الْأُمَّةَ سَتَخْذُلُنِي وَ تَتَّبِعُ غَيْرِي،وَ أَخْبَرَنِي(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)أَنِّي مِنْهُ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى،وَ أَنَّ الْأُمَّةَ سَيَصِيرُونَ بَعْدَهُ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ وَ مَنْ تَبِعَهُ،وَ الْعِجْلِ وَ مَنْ تَبِعَهُ،إِذْ قَالَ لَهُ مُوسَى: يٰا هٰارُونُ مٰا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا* أَلاّٰ تَتَّبِعَنِ أَ فَعَصَيْتَ أَمْرِي* قٰالَ يَا بْنَ أُمَّ لاٰ تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَ لاٰ بِرَأْسِي إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرٰائِيلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي .وَ إِنَّمَا يَعْنِي أَنَّ مُوسَى أَمَرَ هَارُونَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ عَلَيْهِمْ إِنْ ضَلُّوا ثُمَّ وَجَدَ أَعْوَاناً أَنْ يُجَاهِدَهُمْ،وَ إِنْ لَمْ يَجِدْ أَعْوَاناً أَنْ يَكُفَّ يَدَهُ وَ يَحْقِنَ دَمَهُ،وَ لاَ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ،وَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقُولَ أَخِي رَسُولُ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)لِمَ فَرَّقْتَ بَيْنَ الْأُمَّةِ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي وَ قَدْ عَهِدْتُ إِلَيْكَ أَنَّكَ إِنْ لَمْ تَجِدْ أَعْوَاناً فَكُفَّ يَدَكَ وَ احْقِنْ دَمَكَ وَ دَمَ أَهْلِ بَيْتِكَ وَ شِيعَتِكَ».

 

فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)قَامَ النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَبَايَعُوهُ وَ أَنَا مَشْغُولٌ بِرَسُولِ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) بِغُسْلِهِ،وَ دَفْنِهِ،ثُمَّ شُغِلْتُ بِالْقُرْآنِ فَآلَيْتُ يَمِيناً أَنْ لاَ أَرْتَدِيَ بِرِدَاءٍ إِلاَّ لِلصَّلاَةِ حَتَّى أَجْمَعَهُ فِي كِتَابٍ فَفَعَلْتُ،ثُمَّ حَمَلْتُ فَاطِمَةَ وَ أَخَذْتُ بِيَدَيِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ فَلَمْ أَدَعْ أَحَداً مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَ أَهْلِ السَّابِقَةِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَ الْأَنْصَارِ إِلاَّ نَاشَدْتُهُمُ اللَّهَ فِي حَقِّي،وَ دَعَوْتُهُمْ إِلَى نُصْرَتِي،فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي مِنْ جَمِيعِ النَّاسِ إِلاَّ أَرْبَعَةُ رَهْطٍ:اَلزُّبَيْرُ،وَ سَلْمَانُ، وَ أَبُو ذَرٍّ،وَ الْمِقْدَادُ،وَ لَمْ يَكُنْ مَعِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي أَحَدٌ أَصُولُ بِهِ وَ أَقْوَى،أَمَّا حَمْزَةُ فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ،وَ جَعْفَرٌ قُتِلَ يَوْمَ مُؤْتَةَ،وَ بَقِيتُ بَيْنَ خَلَفَيْنِ خَائِفَيْنِ ذَلِيلَيْنِ:اَلْعَبَّاسِ وَ عَقِيلٍ [2]،فَأَكْرَهُونِي وَ قَهَرُونِي،فَقُلْتُ كَمَا قَالَ هَارُونُ لِأَخِيهِ:يَا ابْنَ أُمِّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَ كَادُوا يَقْتُلُونَنِي،فَلِي بِهَارُونَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ،وَ لِي بِعَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)حُجَّةٌ قَوِيَّةٌ».

 

Online link 👇

https://lib.eshia.ir/71664/3/774

 

⭕ ترجمہ 

 

اشعث بن قیس نے کہا:

"اے ابن ابی طالب! جب بنی تیم (یعنی ابوبکر)، پھر بنی عدی (یعنی عمر)، اور پھر بنی امیہ (یعنی عثمان) کے بھائیوں کے لیے بیعت کی گئی، تو تم نے اُس وقت تلوار کیوں نہیں اٹھائی اور قتال کیوں نہ کیا؟

 

جبکہ تم عراق آنے کے بعد کوئی خطبہ نہیں دیتے مگر یہ کہ آخر میں ضرور فرماتے ہو:

‘خدا کی قسم! میں لوگوں میں سب سے زیادہ خلافت کا حقدار تھا، اور رسولِ خدا ﷺ کے بعد سے ہمیشہ مظلوم رہا ہوں۔’

 

تو بتاؤ! اپنی مظلومیت کے دفاع میں تلوار کیوں نہ اٹھائی؟"

 

امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا:

"اے ابنِ قیس! تم نے پوچھا ہے تو سنو،

مجھے قتال سے نہ بزدلی نے روکا، نہ موت سے نفرت نے،

اور نہ ہی اس وجہ سے کہ مجھے دنیا پسند تھی —

بلکہ مجھے رسولِ خدا ﷺ کے حکم اور عہد نے روکا۔

 

رسولِ خدا ﷺ نے مجھے خبر دی تھی کہ میری امت میرے ساتھ کیا کرے گی۔

جب میں نے اُن کے اعمال دیکھے، تو میں اُس وقت بھی اتنا ہی یقین رکھتا تھا جتنا پہلے ان کی خبر سنتے وقت۔

بلکہ میں نے نبی ﷺ کے فرمان پر اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے بھی زیادہ یقین کیا۔

 

میں نے عرض کیا:

‘یا رسول اللہ! جب ایسا ہو تو میرا فریضہ کیا ہوگا؟’

 

آپ ﷺ نے فرمایا:

‘اگر تمہیں مددگار ملیں تو ان کے خلاف جہاد کرنا،

اور اگر مددگار نہ پاؤ تو اپنے ہاتھ کو روکے رکھنا،

اپنا خون محفوظ رکھنا،

یہاں تک کہ تمہیں دینِ خدا، کتابِ خدا اور میری سنت کے قیام کے لیے مددگار مل جائیں۔’

 

پھر نبی ﷺ نے مجھے بتایا کہ:

‘امت تمہیں چھوڑ دے گی، دوسروں کی پیروی کرے گی،

اور تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو بنی اسرائیل نے ہارونؑ کے ساتھ کیا تھا۔’

 

آپ ﷺ نے فرمایا:

‘اے علی! تم مجھ سے ویسے ہی ہو جیسے ہارونؑ موسیٰ سے تھے۔’

 

اور جس طرح موسیٰؑ واپس آئے اور دیکھا کہ قوم عجل (بچھڑے) کی عبادت میں لگ گئی ہے،

تو کہا:

 

"اے ہارون! جب تو نے انہیں گمراہ دیکھا تو کیوں نہ میرا ساتھ دیا؟

کیا تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی؟"

 

ہارونؑ نے کہا:

 

"اے میرے بھائی! میری داڑھی اور سر کو مت پکڑ،

میں نے ڈر محسوس کیا کہ تو کہے گا تُو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا، اور میرے قول کی پروا نہ کی۔"

 

اسی طرح رسولِ خدا ﷺ نے مجھے بھی حکم دیا تھا:

اگر تمہیں مددگار ملیں تو جہاد کرنا،

اور اگر نہ ملیں تو ہاتھ روکے رکھنا،

اپنا اور اپنے اہلِ بیتؑ اور شیعوں کا خون محفوظ رکھنا،

اور امت میں تفرقہ نہ ڈالنا۔

 

پس جب رسولِ خدا ﷺ کا وصال ہوا،

لوگ ابوبکر کے پاس جمع ہوئے اور اُس سے بیعت کر لی،

اور میں اُس وقت رسولِ خدا ﷺ کے غسل، کفن اور تدفین میں مشغول تھا۔

 

اس کے بعد میں قرآن کے جمع کرنے میں لگ گیا،

اور قسم کھائی کہ جب تک قرآن کو ایک جگہ جمع نہ کر لوں، نماز کے سوا کسی کام کے لیے چادر نہیں اوڑھوں گا۔

 

پھر میں نے فاطمہؑ کو لیا، حسنؑ و حسینؑ کا ہاتھ پکڑا،

اور سب اصحابِ بدر اور سابقین مہاجرین و انصار کے پاس گیا،

انہیں خدا کا واسطہ دے کر اپنے حق کی طرف بلایا،

مگر سب میں سے صرف چار آدمیوں نے میرا ساتھ دیا:

زبیر، سلمان، ابوذر، اور مقداد۔

 

میرے خاندان میں کوئی ایسا باقی نہ رہا جو میرا بازو بنتا۔

حمزہ اُحد میں شہید ہو چکے تھے،

جعفر مؤتہ میں شہید ہو گئے،

اور میں دو کمزور اور خوف زدہ افراد عباس اور عقیل کے درمیان رہ گیا۔

 

پھر انہوں نے (دوسروں نے) مجھ پر دباؤ ڈالا، مجھے مجبور کیا، اور میری مخالفت کی،

تو میں نے وہی کہا جو ہارونؑ نے کہا تھا:

 

"اے میرے بھائی! قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر دیں۔"

 

پس میرے لیے ہارونؑ کی پیروی بہترین نمونہ ہے،

اور رسولِ خدا ﷺ کا عہد میرے لیے مضبوط حجت ہے۔"

 

📚 تفسیر برھان

📚 کتاب سلیم بن قیس

 

بدر علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7