امیرالمؤمنین علیہ السلام کے قیام نہ کرنے کی وجوہات سنی کتاب سے
امیرالمؤمنین علیہ السلام کے قیام نہ کرنے کی وجوہات:
1️⃣ ایک سبب یہ تھا کہ ان کے پاس اس وقت قوت و لشکر موجود نہیں تھا۔
2️⃣ دوسری طرف اسلام ایک نیا اور نازک دین تھا، جو ذرا سی چوٹ سے بھی ہل سکتا تھا، اور مولا علی علیہ السلام کے نزدیک خلافت سے زیادہ اصل اسلام کی بقا اہم تھی۔
3️⃣ مزید برآں منافقین جو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھا چکے تھے، اب اسلام کے خلاف ایک بڑی اندرونی سازش کے طور پر موجود تھے اور اسلام کے زوال کے منتظر تھے۔
4️⃣ اسی طرح روم اور ایران جیسی بڑی طاقتیں اسلام پر حملے کے موقع کی تلاش میں تھیں۔ اگر اندرونی اختلاف پیدا ہوتا، تو وہ فوراً چڑھ دوڑتے اور اسلام جڑ سے اکھڑ جاتا۔
5️⃣ پھر یہ بھی حقیقت تھی کہ ایمان ابھی مسلمانوں کے دلوں میں گہرائی سے راسخ نہیں ہوا تھا۔ اگر ذرا سا اندرونی اختلاف ہوتا تو قتل و غارت اور خانہ جنگی شروع ہو جاتی۔
اوس و خزرج جو 120 سال تک آپس میں لڑتے رہے تھے، اسلام کی بدولت متحد ہوئے تھے، مگر نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد ذرا سا انتشار انہیں پھر پرانی دشمنی کی طرف لوٹا دیتا، اور وہ دین سے بیزار اور مرتد ہو جاتے۔
اسی لیے مولا علی علیہ السلام نے کئی مقامات پر فرمایا:
📜 "وَ أَيْمُ اللهِ! لَوْ لَا مَخَافَةُ الْفُرْقَةِ وَ أَنْ يَعُودَ الْكُفْرُ وَ يَبُوءَ الدِّينُ لِغَيْرِنَا، لَصَبَرْنَا عَلَى بَعْضِ الْأَلَمِ"
📃 "خدا کی قسم! اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ امت میں تفرقہ پیدا ہو جائے، کفر لوٹ آئے، اور دین کسی اور کے ہاتھوں ضائع ہو جائے تو ہم کبھی صبر نہ کرتے اور ان سے حکومت نہ لینے دیتے، مگر ہم نے اسلام کی خاطر کچھ دکھ برداشت کیے۔"
📚 ماخذ:
الاستیعاب فی معرفة الأصحاب از ابن عبد البر، ج 2، ص 497
شرح نہج البلاغہ از ابن ابی الحدید معتزلی، ج 1، ص 307
الجمل از شیخ مفید، ص 233
⭕ نتیجہ:
👈 یہ بات واضح ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس وقت جنگ نہیں کی کیونکہ:
▪️ان کے پاس کافی قوت نہیں تھی،
▪️اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ اسلام کی جڑیں متزلزل ہوں،
▪️مسلمان آپس میں لڑ پڑیں، یا کفر دوبارہ غالب آ جائے۔
👈 ان کے نزدیک خلافت سے بڑھ کر اسلام کا تحفظ اور امت کی وحدت زیادہ اہم تھی۔
🔴 یہ مسائل پیغمبر اکرم (صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے وقت بھی موجود تھے۔ جیسا کہ عائشہ نے پیغمبر (ص) سے پوچھا:
کیا حجر اسماعیل بیتِ اللہ کا حصہ ہے یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا: ہاں۔ عائشہ نے کہا: تو آپ اسے بیتِ اللہ میں کیوں داخل نہیں کرتے؟ حضرت نے فرمایا:
📜 لولا أن قومك حديثوا عهد بجاهلية [أو بالكفر].
📃 اگر میں یہ کرتا تو تمہارا قوم اسلام سے واپس جا کر دوبارہ جاہلیت (یا کفر) کی طرف مڑ جاتا۔
📚 صحیح البخاری، ج2، ص156
پیغمبر اکرم (ص) نے مکہ اور بیت اللہ کی تعمیر نو کے بارے میں دیکھا کہ یہ لوگ اس کے قابل نہیں ہیں۔ نیز حدیثِ حوض میں پیغمبر (ص) فرماتے ہیں کہ:
بعد از من، صحابہ مرتدّ ہو جائیں گے:
📜 فلا أراه يخلص منهم إلا مثل همل النعم.
📃 میں ان میں سے صرف چند کو نجات پاتے دیکھتا ہوں، ورنہ اکثریت دوزخ میں جائے گی۔
📚 صحیح البخاری، ج7، ص208
سالِ 8 ہجری تک، پیغمبر اکرم (ص) کے گرد جتنے مسلمان تھے ان کی تعداد کیا تھی؟ جو لوگ فتحِ مکہ میں شامل تھے
پیغمبر (ص) کی مدینہ و مکہ میں کی گئی محنت کے بعد اُن کی زیادہ سے زیادہ تعداد بھی آٹھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہی لوگ جنگِ حنین میں پیغمبر (ص) کے گرد بکھر گئے اور چلے گئے اور پیغمبر اکرم (ص) جنگ کے درمیان صرف 12 صحابہ کے ساتھ اکیلے رہ گئے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر (ص) کے 120 ہزار صحابہ تھے، وہ سب فتحِ مکہ کے بعد کے ہیں۔ کچھ لوگ بس اس لیے مسلمان ہوئے کہ وہ اسلام کے سامنے مزاحمت نہ کر سکے اور خوف سے مسلمان ہو گئے۔
بدر علی
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen