🔴 امیرالمؤمنین (علیہ السلام) دفاع کا ارادہ رکھتے تھے

 

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے وصال اور خلافت کے غصب اور مظالم کے بعد، امیرالمؤمنین (علیہ السلام) دفاع اور جہاد کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن ان کے پاس طاقت اور مددگار نہیں تھے۔

 

▪️نہج البلاغہ کی خطبہ نمبر 26 میں ارشاد فرماتے ہیں:

 

📜 فنظرت فإذا ليس لي معين إلا أهل بيتي، فضننت بهم عن الموت و أغضيت علي القذي و شربت علي الشجي و صبرت علي أخذ الكظم و علي أمر من طعم العلقم.

 

📃 میں نے دیکھا کہ میرے پاس مددگار سوائے اپنے اہلِ بیت کے کوئی نہیں، تو میں نے انہیں موت کے منہ میں ڈالنے سے گریز کیا، اپنی آنکھوں کو خار و خاک سے بھر کر بند کر لیا، زہر سے لبریز پیالہ صبر کے ساتھ پیا، اور سخت تلخیوں کو برداشت کیا۔

 

▪️امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نہج البلاغہ کی خطبہ شقشقیہ (خطبہ 3) میں فرماتے ہیں:

 

📜 و طفقت أرتأي بين أن أصول بيد جذاء أو أصبر علي طخية عمياء، يهرم فيها الكبير و يشيب فيها الصغير و يكدح فيها مؤمن حتي يلقي ربه، فرأيت أن الصبر علي هاتا أحجي، فصبرت و في العين قذي و في الحلق شجا، أري تراثي نهبا حتي مضي الأول لسبيله فأدلي بها إلي فلان بعده.

 

📃 جب میرا حق لوٹ لیا گیا تو میں سوچنے لگا کہ کیا خالی ہاتھ قیام کروں یا صبر کروں ایسے تاریک ماحول میں جس میں بزرگ بوڑھے ہو جاتے ہیں، جوان ضعیف ہو جاتے ہیں، اور مؤمن مسلسل مشقت برداشت کرتا ہے یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملتا ہے۔

میں نے غور کیا تو صبر کو زیادہ مناسب پایا۔

چنانچہ میں نے صبر کیا آنکھ میں کانٹا تھا، گلے میں ہڈی پھنسی ہوئی تھی اور دیکھ رہا تھا کہ میرا ورثہ (حق خلافت) میرے سامنے لوٹا جا رہا ہے۔

 

اسی طرح امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

 

📜 أما و الذي فلق الحبة و برأ النسمة! لو وجدت يوم بويع أبو بكر - الذي عيرتني بدخولي في بيعته - أربعين رجلا، لما كففت يدي و لناهضت القوم.

 

📃 قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ چیر کر زندگی پیدا کی! اگر جس دن ابوبکر سے بیعت کی گئی تھی، مجھے صرف چالیس (40) باوفا ساتھی مل جاتے، تو میں خاموش نہ رہتا بلکہ ان کے خلاف قیام کرتا۔

 

📚 مستدرک الوسائل للمیرزا النوری، ج11، ص76

📚 کتاب سلیم بن قیس، تحقیق محمد باقر الأنصاری، ص218

📚 جامع أحادیث الشیعہ للسید البروجردی، ج13، ص42

📚 الاحتجاج للشیخ الطبرسی، ج1، ص281

 

▪️اسی طرح فرمایا:

 

📜 أما والله! لو وجدت أعوانا لقاتلتهم.

 

📃 خدا کی قسم! اگر اس وقت میرے پاس مددگار ہوتے تو میں ان سے ضرور جنگ کرتا۔

 

📚 الإقتصاد للشیخ الطوسی، ص209

 

❓آخر جہاد کیوں نہ کیا پھر

 

جواب ✅

 

🔴 خاموشی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حضرت علی (علیہ السلام) کو نصیحت تھی

 

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے وصیت کی تھی:

 

📜 اے علی! میرے بعد تمہارا حق لوٹ لیا جائے گا۔ اگر تمہارے پاس کافی طاقت ہو تو غاصب خلافت کے ساتھ لڑو اور جہاد کرو، ورنہ خاموش رہو اور گھر میں بیٹھ جاؤ۔

 

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

 

📃 رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ نے مجھ سے فرمایا: اگر وہ تم پر اکٹھے ہو جائیں تو وہی کرو جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور اگر نہ ہوں تو اپنے پورے سینے کو زمین سے چپکا لو۔ جب وہ مجھ سے بکھر گئے تو میں نے تکلیف برداشت کی، میری پلکوں پر مٹی جمی اور میں نے زمین سے سینہ چسبا لیا۔

 

اگر وہ تم پر قیام کریں اور تمہارا حق غصب کریں تو تم وہی کرو جو میں نے تمہیں حکم دیا، اور اگر نہ کرو تو اپنے سینہ کو زمین سے لگا لو یعنی گھر میں بیٹھ جاؤ اور خاموش رہو ۔ جب میرے بعد لوگ میرے گرد سے بکھر گئے اور میرا حق غصب ہوا، میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں جو کانٹے اور مٹی سے بھری ہوئی تھیں اور میں نے اپنے پاۓ کے روندنے کے باوجود چشم پوشی کی۔

 

📚 شرح نہج البلاغہ لإبن أبی الحدید، ج20، ص326

 

⭕ ایک دن امیرالمؤمنین (علیہ السلام) منبر پر تھے اور أشعث بن قیس جو منافقین کا سردار تھا اور ہمیشہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) پر طنز کیا کرتا تھا ، اس نے کہا:

 

تمہیں کیا روکتا ہے اے ابنِ ابی طالب جب تم دیکھتے ہو کہ تمہیں ابو تیمِ بن مرة اور بنو عدی بن کعب اور بنو امیہ کے بھائیوں نے بیعت کر لی، کہ تم اپنی تلوار نکال کر لڑو؟ اور تم ہمیں کیوں خطبہ دیتے ہو...: قسم ہے! میں لوگوں میں پہلے ہوں اور میں اسی طرح مظلوم رہا جب اللہ نے محمد کو قبض کر لیا۔ تو تمہیں کیا روکتا تھا کہ تم اپنی تلوار نکالو اور اپنا حق نہ لو؟

 

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

 

📜 اس چیز سے مجھے پیغمبر اللہ کا حکم اور عہد روکا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ نے مجھے آگاہ کیا تھا کہ امت میرے بعد میرے ساتھ کیا کرے گی، پس جب میں نے وہ کچھ دیکھا تو میں اس سے زیادہ جانتا اور یقیناً مضبوط نہیں تھا؛ بلکہ میں رسول اللہ کے کہے پر اس سے بھی زیادہ یقین رکھتا تھا جو میں نے براہِ راست دیکھا اور گواہی دی۔ میں نے کہا: اے رسول اللہ! اگر ایسا ہوا تو میری ذمہ داری کیا ہے؟ فرمایا: اگر تمہیں یاران ملیں تو ان کی طرف بڑھو اور ان سے جہاد کرو، اور اگر یاران نہ ملیں تو اپنا ہاتھ روک لو اور اپنا خون بچاؤ، یہاں تک کہ تمہیں دین کے قیام، کتابِ اللہ اور میری سنت کے لئے یار مل جائیں۔

 

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مجھے آنے والے واقعات سے آگاہ کیا تھا اور میرے فرض کی ہدایت فرمائی: اگر تمہیں کافی مدد ملے تو قیام اور مسلح جدوجہد کرو، اور اگر مدد نہ ملی تو خاموش رہو اور اپنا خون محفوظ رکھو۔

 

📚 نہج الصباغة، ج4، ص519 ـ کتاب سلیم بن قیس تحقیق محمد باقر الأنصاری، ص214 ـ مستدرك الوسائل للمیرزا النوری، ج11، ص75 ـ جامع أحادیث الشیعہ للسید البروجردی، ج13، ص41

 

بدر علی

 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#طالب_دعا 

#بدر_علی 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#talimaat_e_ahlbait 

 

Invisibleislam.com