Back to امام علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟

انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کی روشنی میں جب قوت نہ ہو سکوت اور صبر کرنا

انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کی روشنی میں جب قوت نہ ہو سکوت اور صبر کرنا
انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کی روشنی میں جب قوت نہ ہو سکوت اور صبر کرنا
انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کی روشنی میں جب قوت نہ ہو سکوت اور صبر کرنا
انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کی روشنی میں جب قوت نہ ہو سکوت اور صبر کرنا
انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کی روشنی میں جب قوت نہ ہو سکوت اور صبر کرنا
انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کی روشنی میں جب قوت نہ ہو سکوت اور صبر کرنا

🔴 انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کی روشنی میں جب قوت نہ ہو سکوت اور صبر کرنا

 

❌ نواسب امیرالمؤمنین (علیہ السلام) پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مخالفوں کے مقابلے میں خاموشی کیوں اختیار کی؟ انکا صبر کرنا بزدلی ہے وغیرہ وغیرہ

 

✅ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قوت نہ ہوتے ہوئے سکوت و صبر کرنا انبیائے سابقین (علیہم السلام) کا بھی طریقہ تھا، جب طاقت اور مددگار نہ ہوں تو قیام نہیں کیا جاتا بلکہ صبر اور حکمت سے کام لیا جاتا ہے۔

 

💯 تو یہ کہنا کہ شیر خدا و مشکل کشاء کیسے مغلوب ہو سکتے ہیں امت کے ہاتھوں، انکا مغلوب ہو جانا عیب و بزدلی ہے، نہایت گھٹیا اور بچگانہ اعتراض ہے بلکہ قرآن و دین کی تعلیمات سے دوری ہے 

 

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کسی امت میں نبی سے زیادہ شجاع کوئی نہیں ہو سکتا تو جب انبیا امت کے ہاتھوں مغلوب ہو جاتے تھے اور ق/تل کے خوف سے خاموشی اور امت سے دوری اختیار کر لیتے تھے تو کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا تو کسی نبی ص کے ولی پر اعتراض کیسے ہو سکتا ہے ؟

 

👈 اصل اعتراض تو ظالم پر ہونا چاہئے نہ کہ مظلوم پر 

 

🔴 انبیا کا رویہ 🔴

 

🔴 حضرت لوط (علیہ السلام)

 

📜 قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آَوِي إِلَي رُكْنٍ شَدِيدٍ

(سورۂ ہود، آیت 80)

 

📃 لوط (ع) نے اپنی قوم سے کہا:

اگر میرے پاس تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی، یا میں کسی محکم سہارے (طاقتور مدد) کی پناہ لے سکتا، تو میں تمہارے خلاف کھڑا ہوتا۔

 

▪️یعنی حضرت لوط (ع) چونکہ نہ مددگار رکھتے تھے نہ طاقت، اس لیے انہوں نے قیام نہیں کیا حالانکہ ان کی قوم بدترین گناہ اور جرم کر رہی تھی۔

 

🔴 حضرت موسیٰ (علیہ السلام)

 

📜 فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَ جَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ

(سورۂ شعراء، آیت 21)

 

📃 میں تم سے اس وقت بھاگا جب تم سے ڈر گیا، پھر میرے رب نے مجھے حکمت عطا کی اور مجھے رسولوں میں سے بنایا۔

 

▪️حضرت موسیٰ (ع) بھی اولوالعزم پیغمبر تھے، لیکن جب قوت نہیں تھی تو فرعون کے مقابلے میں فرار اختیار کیا۔

بعد میں جب کچھ قوت ملی، تب بھی لشکرِ فرعون کے سامنے انہوں نے الٰہی تدبیر اختیار کی، درِ نجات سے بحر کو شق کیا اور اپنی قوم کو بچایا:

 

📜 وَ إِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَ أَغْرَقْنَا آَلَ فِرْعَوْنَ وَ أَنْتُمْ تَنْظُرُونَ

(سورۂ بقرہ، آیت 50)

 

❓ اگر موسیٰ (ع) طاقتور تھے تو پھر انہوں نے فرعون سے براہِ راست جنگ کیوں نہ کی؟ کیا وہ آیتِ قرآن کے خلاف عمل کر رہے تھے جس میں فرمایا گیا ہے:

 

📜 فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ

(سورۂ توبہ، آیت 12)

 

👉 نہیں

 

▪️بلکہ یہ قرآن کی منہ بولی حکمت ہے کہ جب طاقت نہ ہو تو جنگ نہیں بلکہ تدبیر و صبر سے دین کو بچایا جاتا ہے۔

 

🔴 حضرت ہارون (علیہ السلام)

 

جب حضرت موسیٰ (ع) چالیس دن کے لیے کوہِ طور پر گئے اور اپنی قوم کو اپنے بھائی حضرت ہارون (ع) کے سپرد کیا، تو قوم گوسالہ پرست ہو گئی۔

جب موسیٰ (ع) واپس آئے تو اپنے بھائی پر ناراضی ظاہر کی۔

حضرت ہارون (ع) نے جواب دیا:

 

📜 ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَ كَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَ لَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

(سورۂ اعراف، آیت 150)

 

📃 اے میری ماں کے بیٹے! قوم نے مجھے کمزور کر دیا تھا، اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں۔

لہٰذا میرے دشمنوں کو مجھ پر خوش نہ کر، اور مجھے ظالموں کے ساتھ نہ ٹھہرا۔

 

▪️یعنی حضرت ہارون (ع) نے بھی دیکھا کہ اگر وہ مقابلہ کریں گے تو قتل کر دیے جائیں گے، اور اس سے قوم مزید گمراہ ہوگی، اس لیے خاموشی اور صبر اختیار کیا۔

 

▪️اب اگر غور کیا جائے تو بہت سے شبہات اس سے دور ھو جاتے ھیں کہ امت نے کسطرح حضرت ہارون ع کو مجبور کردیا کہ وہ اپنی جان بچانے کیلئے بھی مجبور ھو گئے 

 

🔴 حضرت نوح (علیہ السلام) 

 

پھر ھمیں حضرت نوح علیہ السلام کی مثال ملتی ھے کہ جب امت نے انہیں بالکل مجبور اور بے بس کر دیا تو آپ ع یہ کہنے پر مجبور ھو گئے جیسا کہ کلامِ الٰہی میں ھے:

 

📜 " فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ....."

[ سورہ قمر - آیت ١٠ ]

 

📃 " اس پر انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : میں بے بس ہوچکا ہوں ، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔" 

 

▪️تو واضح ھوا کہ امت کس طرح خداوند متعال کے برگزیدہ بندوں کو مغلوب کرتی ھے 

 

اور پھر انہی امثال میں سے ایک مثال 

 

🔴 (حضرت ابراہیم (علیہ السلام

 

جب لوگوں نے ان کی بات نہ مانی تو انہوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کرلی جیسا کہ قرآن مجید میں ھے:

 

📜 وَ اَعۡتَزِلُکُمۡ وَ مَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ ۫ۖ عَسٰۤی اَلَّاۤ اَکُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّیۡ شَقِیًّا....."

[ سورہ مریم - آیت ۴٨ ]

 

📃 "اور میں آپ لوگوں سے بھی الگ ہوتا ہوں، اور اللہ کو چھوڑ کر آپ لوگ جن جن کی عبادت کرتے ہیں، ان سے بھی، اور میں اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا ۔ مجھے پوری امید ہے کہ اپنے رب کو پکار کر میں نامراد نہیں رہوں گا ۔ "

 

اس کی بہت سی مثالیں ھیں پھر ایک اہم مثال جنابِ رسول خدا خاتم النبیین ص کی ھے جب لوگوں کے ظلم و ستم حد سے بڑھ گئے اور آپ ص کو مغلوب کرنے لگے تو الله تعالیٰ نے جنابِ رسول خدا ص کو ہجرت کا حکم دیا ان تمام نکات سے ھم واقف ھیں جس سے واضح ھو جاتا ھے کہ اوصیاء کا مغلوب ھونا تعجب خیز نہیں ھے بلکہ ھماری سوچ محدود ھے جو ھمیشہ ایک معترض کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتی ھے جبکہ حقائق بالکل واضح ھیں۔

 

🔴 پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے بھی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے مکہ میں قیام (جنگ) نہیں کیا

 

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مکہ میں 13 سال تک رہے لیکن اس تمام عرصے میں انہوں نے کوئی مسلح قیام نہیں کیا۔

اتنے ظلم، اذیتیں اور مظالم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کے باوجود، نہ اپنے دفاع میں لڑے اور نہ اپنے ساتھیوں کو لڑنے کا حکم دیا۔

 

⭕ اسی طرح امیرالمؤمنین (علیہ السلام)، جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو اپنا کامل نمونہ (اسوہ) مانتے تھے، انہوں نے بھی یہی روش اختیار کی

 

✅ یعنی خاموشی اور صبر۔

 

▪️امیرالمؤمنین (علیہ السلام) بعض روایات میں فرماتے ہیں:

 

📜 میرا نمونہ اور اسوہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہیں۔

 

جس طرح پیغمبر (ص) کے پاس مکہ میں قیام کے لیے طاقت نہیں تھی، اس لیے وہ قیام نہیں کر سکے،

اسی طرح میرے پاس بھی طاقت نہیں تھی، لہٰذا میں نے بھی قیام نہیں کیا۔

 

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے جب خطرہ بڑھتے دیکھا، تو مکہ سے ہجرت کی، پہلے غارِ ثور میں پناہ لی، پھر مدینہ چلے گئے۔

 

⭕ یہ ہجرت بھی دراصل اسی اصول پر تھی:

 

کہ جب طاقت کم ہو اور مقابل فتنہ زیادہ، تو عاقلانہ فیصلہ یہی ہے کہ صبر و سکوت اختیار کیا جائے تاکہ اصلِ دین محفوظ رہے۔

 

💯 بالکل اسی حکمت کی بنیاد پر، امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے بھی اپنے زمانے میں خاموشی کو اختیار کیا۔

 

پس یہ واضح ہے کہ سکوت اور صبر انبیاء کی سنت اور حکمت تھی جب مددگار نہ ہوں۔

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کا بھی یہی طرزِ عمل اسی الٰہی منہج کی پیروی تھا

 

✅ طاقت کے بغیر جنگ نہیں، بلکہ دین کی حفاظت کے لیے حکمت و صبر۔

 

❓کیا مولا علی کے صبر کرنے سے مولا کی شجاعت پر کوئی حرف آ سکتا ہے ۔؟

 

🔴 حضرت علی علیہ السلام نے خلفاء ثلاثہ سے جنگ کیوں نہیی کی تھی خود امام علی ع کی زبانی

 

ابن مسعود بیان کرتے ہیی ایک مرتبہ مسجد کوفہ میں بحث چھڑ گئی کے امیر المؤمنین ع نے اصحاب ثلاثہ سے جنگ کیوں نہیں کی جس طرح انہوں نے طلحہ و زبیر و عائشہ و معاویہ سے جنگ کی ۔؟؟ 

 

اس بحث کی خبر جب امیرالمؤمنین تک پہنچی تو آپ نے فرمایا نماز با جماعت کا اعلان کردیا جائے جب سب لوگ جمع ہوگئے تو آپ منبر پر تشریف لائے اور حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا ۔گروہ مردم مجھے ایسی ایسی خبر پہنچی ہے لوگوں نے کہا سچ ہے ہم لوگ یہ گفتگو کررہے تھے آپ ع نے فرمایا ۔۔۔

 

📜 سنو میں نے جو کچھ کیا وہ انبیاء ع کے اسوہ حسنی پر عمل کرتے ہوئے کیا اور اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے 

 

📜 لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ

📃 اے لوگوں یقیناََ تمھارے لئے اللہ کے رسول میں ایک اچھا نمونہ ہے 

 

❓ لوگوں نے پوچھا امیرالمؤمنین ع وہ انبیاء کون ہیں جن کے اسوہ پر آپ ع نے عٍمل کیا ۔

 

▪️آپ نے فرمایا سب سے پہلے ابراہیم ع ہیں جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا 

 

📜 وَ اَعۡتَزِلُکُمۡ وَ مَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ ۫ ۖعَسٰۤی اَلَّاۤ اَکُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّیۡ شَقِیًّا ﴿۴۸﴾

سورۃ مریم

 

اگر تم کہو کے حضرت ابراہیم ع نے اپنی قوم سے بغیر کوئی تکلیف پہنچے ایسا کہا تو تم لوگ کافر ہوجاؤ گے اور اگر کہو قوم نے انہیں اذیت پہنچائی اس لئے کہا تو محمد ص کا وصی علی اس سے زیادہ معذور تھا ۔

 

▪️۔۔اور میرے لئے ابراہیم ع کے خالہ زاد بھائی لوط علیہ السلام کا عمل بھی نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا ۔۔

 

📜 قَالَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ بِکُمۡ قُوَّۃً اَوۡ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکۡنٍ شَدِیۡدٍ ﴿۸۰﴾

سورۃ ھود

 

اگر تم کہو لوط علیہ السلام میں مقابلے کی قوت تھی تو تم کافر ہو جاؤ گے اور اگر تم کہو کے ان میں مقابلے کی قوت نا تھی تو محمد ص کے وصی کے پاس ان سے زیادہ عذر ہے 

 

▪️اور یوسف ع کا عمل بھی نمونہ ہے جیسا کے انہوں نے کہا ۔۔۔

 

📜 قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ 

سورٰۃ یوسف ائت 33

 

📃 یوسف علیہ ا لسلام نے دعا کی اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عور تیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے

 

اگر تم لوگ کہو کہ یوسف ع نے یہ دعا کی اور قید خانے کے طالب ہوئے اللہ کو ناراض کرنے کے لئے تو کافر ہوجاؤ گے اور اگر یہ کہو کے انہوں نے قید خانے کی دعا کی تاکہ اللہ راضی ہو تو وصی رسول ص کے پاس اس سے زیادہ عذر ہے 

 

▪️اور میرے لئے ہارون ع کا عمل بھی نمونہ ہے جب انہوں نے کہا 

 

📜 قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِیۡ وَ کَادُوۡا یَقۡتُلُوۡنَنِیۡ ۫

سورۃ اعراف آیت نمبر150

 

اگر تم کہو کہ قوم نے حضرت ہارون ع کو کمزور نہیں سمجھا اور ان کے قتل پر آمادہ نہیں ہوئے تو تم لوگ کافر ہوجاؤ گے اور اگر کہو قوم نے واقعی ان کو کمزور سمجھا اور انکے قتل پر آمادہ تھے اور حضرت ہارون ع خاموش رہے تو وصی رسول ص کے پاس اسے سے زیادہ عذر ہے 

 

▪️اور میرے لئے محمد ص کا عمل بھی بہترین نمونہ ہے 

 

جب وہ اپنی قوم سے نکلے اور انکی وجہ سے غار میں چھپے مجھے اپنے بستر پر سلایا اور ان لوگوں کے خوف سے غار میں پناہ لی تو ان کا وصی علی ان سے بھی زیادہ معذور تھا 

 

📚 کتاب علل الشرائع صفحہ 149

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#talimaat_e_ahlbait 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6