Back to قاتلانِ امام حسینؑ کا مذہب کیا تھا؟

کیا امام حسین علیہ السلام کے قاتل شیعہ تھے یا اہلِ سقیفہ کے ماننے والے ؟

🔴 "کیا امام حسین علیہ السلام کے قاتل شیعہ تھے یا اہلِ سقیفہ کے ماننے والے ؟" 🔴

 

لیجیے، جواب حاضر ہے:

 

👈 وہابی کہتے ہیں کہ:

"تاریخ میں دیکھیں تو اہلِ عراق کبھی قابلِ اعتماد نہیں رہے۔"

 

ہمیں ان سے کہنا چاہیے کہ:

خیانت کا آغاز تو خود عربستان سے ہوا،

اور وہ بھی رسول اکرمﷺ کی شہادت کے فوراً بعد۔

 

🔴 مگر جب تم کہتے ہو کہ:

"امام حسینؑ کے قاتل شیعہ تھے" 

تو یہ تمہاری انتہائی جہالت اور ناسمجھی کا ثبوت ہے۔

 

💯 تمہیں تو "شیعہ" کے مفہوم کا بھی علم نہیں!

 

البتہ تمہیں معاف بھی نہیں کیا جا سکتا،

جبکہ تم منافقوں کو مسلمان اور صحابی سمجھتے ہو،

تو تم سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

 

✅ لفظ "شیعہ" کی لغوی تعریف یہ ہے:۔تابع، پیروکار۔

 

لہٰذا کوفیوں کا امام حسینؑ کو شہید کرنا "شیعہ" ہونے کے مفہوم سے بالکل متضاد ہے۔

 

لفظ شیعہ خلافت شیخین کو برحق ماننے والوں کیلئے بولا جاتا تھا ۔ تفصیل کیلئے لنک دیکھیں 👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼

 

/topic/1538

/topic/1464

 

اور اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ کچھ قاتلین کبھی تشیع کا دعویٰ کرتے تھے

(جیسے کہ کچھ منافق اسلام کا دعویٰ کرتے تھے)،

تو ان کا یہ عمل واضح کرتا ہے کہ وہ درحقیقت اہلِ بیتؑ کے دشمن تھے، اور انہی منافقین کے پیروکار تھے۔

 

اب ہم وہابیوں سے سوال کرتے ہیں:

 

🔴 امام حسینؑ کے قاتل

اہلِ بیتؑ کے "شیعہ" (تابع و وفادار) تھے؟

یا ابو سفیان کے "شیعہ" (تابع و طرفدار)؟

 

👈🏻 توجہ کیجیے امام حسینؑ کے ان الفاظ پر جب آپ نے دشمنوں کو مخاطب کیا:

 

امامؑ نے فرمایا:

 

📜 "وائے ہو تم پر، اے آلِ ابوسفیان کے شیعو!

اگر تمہارا کوئی دین نہیں، اور تم آخرت سے نہیں ڈرتے،

تو کم از کم اپنی دنیا میں ہی آزاد بنو!

اور اگر تم واقعی عرب ہو جیسا کہ دعویٰ کرتے ہو،

تو اپنے حسب و نسب کی طرف لوٹ جاؤ!"

 

📚 أعیان الشیعة للسید الأمین، جلد 1، صفحہ 609

 

تفصیلی پوسٹ کیلئے لنک دیکھیں کہ کربلا میں ابوسفیان کے شیعہ امام ع کے مدمقابل تھے 👇🏼

 

/topic/1537

 

🔴 واضح ہے کہ امامؑ نے ان کو "شیعہ آلِ ابوسفیان" کہا،

نہ کہ "شیعہ امیرالمؤمنین علیؑ"۔

 

⛔️ یعنی وہابی حضرات "شیعہ" کے مفہوم کو توڑ مروڑ کر

امام علیؑ کے پیروکاروں پر الزام لگا دیتے ہیں،

جبکہ امام حسینؑ نے خود دشمنوں کو ابوسفیان کے پیروکار کہا ہے۔

 

🔴 اب ذرا اہلِ سنت کی کتابوں کی طرف رجوع کریں:

 

📌 اہلِ سنت صرف امام حسینؑ کے مددگاروں کو "شیعہ اہل بیت" کہتے ہیں، قاتلین کو نہیں۔

 

✅ مثال:

 

زہیر بن قین، امام حسینؑ کے جانثار اصحاب میں سے تھے۔

"تاریخ طبری" میں لکھا ہے:

 

📜 زہیر نے دشمن سے کہا:

"خدا سے ڈرو!

میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں، کہیں تم ان گمراہوں کا ساتھ نہ دو جو پاکیزہ جانوں کو قتل کر رہے ہیں!"

اس پر وہ کہنے لگا:

"اے زہیر! ہم تو تمہیں

"شیعہ اہلِ بیت" نہیں سمجھتے تھے،

تم تو عثمانی (یعنی عثمان کے طرفدار) تھے!"

 

📚 تاریخ طبری، جلد 4، صفحہ 316

 

🔴 یہ روایت صاف ظاہر کرتی ہے کہ کربلا میں دو گروہ تھے:

 

1⃣ امام حسینؑ کے ساتھ کھڑے لوگ،

جو اہل بیتؑ کے شیعہ (پیروکار) کہلاتے تھے۔

 

2⃣ وہ لوگ جو امام کے مخالف لشکر میں تھے،

اور شیعہ اہل بیتؑ نہیں تھے، بلکہ عثمان کے پیروکار تھے۔

 

کربلا میں امام حسین ع کے مقابلے میں عثمانی تھے 👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼

 

/topic/1534

 

🔰 اب بات کرتے ہیں کوفہ کے شیعوں کی:

 

🔵 تاریخی منابع کے مطابق کوفہ کی کل آبادی 150,000 تھی، جن میں شیعہ ایک بہت قلیل اقلیت تھے۔

 

بہت سے شیعوں کو معاویہ کے دور میں جلاوطن کر دیا گیا،

کچھ کو قید کر دیا گیا، کچھ کو شہید کیا گیا۔

 

اور بہت سے شیعہ موصل، خراسان اور قم جیسے علاقوں میں ہجرت پر مجبور ہو گئے۔

 

✅ مثال:

بنی غاضریہ قبیلہ امام حسینؑ کی مدد کو نکلنا چاہتے تھے،

لیکن عبید اللہ بن زیاد کے سپاہیوں نے انہیں روکا۔

 

تو یہ کہنا کہ:

❌ "کوفہ شیعوں کا شہر تھا اور انہوں نے امام حسینؑ کو قتل کیا" یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد اور باطل ہے۔

 

🔵 اب دیکھتے ہیں کہ معاویہ کے دور میں شیعوں پر کیا گزری؟

 

روایت:

📜 "معاویہ نے اپنے تمام گورنروں کو حکم دیا کہ جو بھی علیؑ یا ان کے اہلِ بیتؑ کی کوئی فضیلت بیان کرے، اس سے براءت اختیار کرو۔"

 

ہر علاقے میں خطباء کو مقرر کیا گیا کہ علیؑ کو منبروں پر لعن کریں۔

 

کوفہ میں چونکہ اہل علیؑ کی محبت رکھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی، اس لیے وہاں زیادہ ظلم ہوا۔

 

زیاد بن ابیہ کو گورنر بنایا گیا،

 

اور اسے حکم دیا گیا کہ وہ شیعوں کو چن چن کر قتل کرے۔

اس نے شیعوں کو شناخت کر رکھا تھا، کیونکہ وہ پہلے ان میں سے تھا۔

 

اس نے شیعوں کو قتل کیا،

ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے،

آنکھیں نکالیں،

کھجور کے تنوں پر سولی دی،

انہیں عراق سے نکال باہر کیا —

حتیٰ کہ کوئی بھی معروف شیعہ باقی نہ بچا۔

 

شیعوں کا قتل عام ہونا 👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼

 

/topic/1535

/topic/1536

 

📌 نتیجہ:

 

امام حسینؑ کے قاتل شیعہ اہل بیتؑ نہیں تھے، بلکہ دشمنانِ اہل بیتؑ تھے۔

 

اگر کسی نے خود کو "شیعہ" کہا بھی، لیکن عملًا امام کا قاتل بنا — تو وہ "شیعہ" نہیں "منافق" تھا۔

 

خود امام حسینؑ نے انہیں "شیعہ آل ابوسفیان" کہا، نہ کہ "شیعہ علیؑ"۔

 

شیعۂ علیؑ تو وہ تھے جو امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہوئے جنہیں آج بھی ہم یاد کرتے ہیں۔

 

۔

۔

۔

 

🔴 معاویہ نے قحط سالی کے بعد اپنے ایک گورنر کو خط لکھا کہ:

 

📃 "جو کوئی بھی ابو تراب (یعنی امیرالمومنین علی علیہ السلام) اور ان کے اہل بیتؑ کی کوئی فضیلت بیان کرے، اس کے خلاف کوئی اقدام کرو تو تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ جو چاہو اس کے ساتھ کرو۔"

 

چنانچہ ہر شہر، ہر منبر پر خطیبوں نے علیؑ پر لعنت کی، ان سے بیزاری کا اعلان کیا اور ان کے اہل بیتؑ کو گالیاں دیں۔

 

⛔️ سب سے زیادہ مظلوم لوگ کوفہ کے رہنے والے تھے، کیونکہ وہاں اہل علیؑ (یعنی شیعہ) کی کثرت تھی۔

 

تو معاویہ نے زیاد بن ابیہ کو وہاں کا گورنر مقرر کیا اور بصرہ بھی اس کے ماتحت کر دیا۔ زیاد علیؑ کے شیعوں کو جانتا تھا، کیونکہ وہ خود پہلے علیؑ کے ساتھیوں میں سے تھا۔

وہ شیعوں کو پہچان کر تلاش کرتا،

انہیں پتھروں اور اینٹوں کے نیچے سے نکال کر قتل کرتا،

انہیں دھمکاتا،

ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹتا،

آنکھیں نکالتا،

درختوں کے تنوں پر لٹکاتا،

اور انہیں عراق سے نکال باہر کرتا —

یہاں تک کہ عراق میں کوئی بھی معروف شیعہ باقی نہ بچا۔

 

📚 شرح نہج البلاغہ، جلد 11، صفحہ 44

📚 النصائح الکافیۃ، محمد بن عقیل، صفحہ 72

 

👈 ایک اور نکتہ جو "کوفہ کے عوام" سے متعلق ہے:

کوفہ کے اکثر لوگ خلیفہ دوم (عمر بن خطاب) اور ان کی بدعتوں کے طرفدار تھے۔

 

📌 اس نکتہ کو امیرالمومنینؑ کے کلمات سے بھی واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

آئیے خطبہ ملاحظہ کریں:

 

🔵 علی بن ابراہیم، اپنے والد سے، وہ حماد بن عیسیٰ سے، وہ ابراہیم بن عثمان سے، وہ سلیم بن قیس ہلالی سے روایت کرتے ہیں کہ:

 

📜 امیرالمومنینؑ نے خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا کی، رسول اکرمﷺ پر درود بھیجا،

پھر فرمایا:

📜 "مجھ سے پہلے جو حکمران آئے، انہوں نے جان بوجھ کر رسول اللہﷺ کی سنت کی مخالفت کی،

اس کے عہد کو توڑا، اور اس کی سنت میں تبدیلی کی۔

اگر میں لوگوں کو ان بدعتوں کو ترک کرنے پر مجبور کرتا، اور سنت رسولؐ کی طرف واپس لاتا،

تو میرا لشکر مجھے چھوڑ دیتا،

اور صرف وہی لوگ میرے ساتھ رہ جاتے جو میرے فضائل اور امامت کی فرضیت کو جانتے ہیں۔"

 

امامؑ نے فرمایا:

 

📜 "خدا کی قسم! میں نے لوگوں کو حکم دیا کہ رمضان میں صرف فرض نماز جماعت سے پڑھیں،

اور نفل نمازیں الگ الگ پڑھیں — کیونکہ یہ بدعت ہے۔"

 

مگر میرے لشکر کے کچھ لوگوں نے شور مچایا:

 

👈🏻 "اے مسلمانو! علیؑ عمر کی سنت کو بدل رہا ہے! ہمیں رمضان کی نفل نماز جماعت سے پڑھنے سے منع کر رہا ہے!"

 

امامؑ فرماتے ہیں:

 

📜 "مجھے خوف ہوا کہ کہیں میرے ہی لشکر کا کوئی گوشہ مجھ پر بغاوت نہ کر دے،

کیونکہ میں نے اس امت میں تفرقہ،

گمراہ اماموں کی پیروی،

اور جہنم کی طرف بلانے والوں کی اطاعت دیکھی ہے!"

 

📚 الکافی، جلد 8، صفحہ 58، حدیث نمبر 21

 

🔵 ان دو روایات سے واضح ہوتا ہے کہ:

 

1. کوفہ کے زیادہ تر لوگ چیخین کے حامی تھے، نہ کہ حقیقی شیعہ اہل بیتؑ۔

2. معاویہ نے اکثر شیعہ یا تو شہید کر دیے، یا جلاوطن کر دیا۔

 

اہل کوفہ کے مذہب کے بارے میں جاننے کیلئے یہ لنک اوپن کریں 👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼

 

/topic/1538

 

📌 اب آتے ہیں اس اعتراض پر جو بعض وہابی کرتے ہیں، کہ:

 

❌ "کوفیوں نے امام حسینؑ کو خط لکھا، اس لیے وہ سب شیعہ تھے!"

 

 جواب:

 

✅ کوفیوں کا خط لکھنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ امامؑ کے شیعہ تھے۔

 

بلکہ انہوں نے یہ عمل صرف اس لیے کیا تھا کہ امام حسینؑ:

 

رسول اللہﷺ کے نواسے تھے

اصحاب میں سے تھے

اور نسب و حسب میں دوسروں سے افضل تھے

 

👈🏻 لیکن یہ بات انہوں نے اس بنیاد پر نہیں کی کہ آپؑ معصوم امام اور خلافت کے شرعی حقدار ہیں۔

 

📌 اس لیے ان کا خط لکھنا محض سیاسی دعوت تھی،

نہ کہ عقیدت اور اطاعت کی بنیاد پر دعوتِ امامت۔

 

✅ خلاصہ:

 

کوفہ میں اکثریت اہلِ بیت کے شیعوں کی نہ تھی

 

حقیقی شیعہ یا تو قتل ہو گئے تھے، یا جلاوطن

 

جو لوگ امامؑ سے بے وفائی یا دشمنی کر رہے تھے، وہ درحقیقت شیعہ نہ تھے

 

امامؑ نے خود دشمنوں کو "شیعہ آلِ ابوسفیان" کہا تھا، نہ کہ "شیعہ علیؑ"

 

۔

۔

۔

 

جب ہم شیعہ اور سنی علما کی رجال (رجال الحدیث) کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں

تو امام حسینؑ کے قاتلوں میں سے کسی ایک جیسے:

 

👈 عمر بن سعد

👈 شَبَث بن رِبعی

👈 حُصَین بن نُمَیر

👈 شِمر بن ذی الجوشن

وغیرہ

 

کسی کو شیعہ یا اہل سنت کی اصطلاح میں رافضی (یعنی شیعہ امامیہ) کے طور پر نہیں پاتے۔

 

🔴 اس کے برعکس، متعدد روایات موجود ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ یہ سب لوگ:

 

عام مسلمان تھے

اور ظالم حکومتوں کے حامی و طرفدار تھے۔

 

یہ بات بھی اہم ہے کہ ان میں سے بعض افراد نے امیرالمؤمنین علیؑ کے ساتھ بعض جنگوں میں تلوار بھی چلائی تھی،

 

👈🏻👈🏻 لیکن ان کی یہ شرکت محض اس بنیاد پر تھی کہ وہ حضرت علیؑ کو "چوتھے خلیفہ" کے طور پر مانتے تھے نہ کہ:

 

رسول اکرمﷺ کا منصوص جانشین

معصوم امام

اور اطاعت واجب امام

 

یعنی ان کا عقیدہ شیعہ اہل بیتؑ کے معیار کے مطابق نہیں تھا۔

 

🔵 پس ان تفصیلات کی روشنی میں، کوفہ کے عوام کو امیرالمؤمنینؑ کے زمانے میں دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

 

1⃣ خاص معنی میں شیعہ:

 

وہ لوگ جو:

 

اہل بیتؑ کی محبت کے ساتھ ساتھ

اہل بیتؑ کے دشمنوں سے دشمنی کا بھی عقیدہ رکھتے تھے۔

 

✅ یہ لوگ عمر بن سعد کے لشکر میں ہرگز شامل نہ تھے،

بلکہ یا تو:

 

امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہوئے،

یا زندانوں میں قید تھے،

یا یزیدی حکومت کے ظلم تلے محصور تھے،

یا پھر کربلا کے واقعے کے بعد وہاں پہنچ سکے۔

 

2⃣ عام معنی میں شیعہ:

 

وہ لوگ جو:

 

اہل بیتؑ سے محبت تو رکھتے تھے،

لیکن اہل بیتؑ کے دشمنوں سے دشمنی کا عقیدہ نہ رکھتے تھے۔

 

❗️یہ وہ لوگ تھے جو:

 

امامتِ اہل بیتؑ کو منصوص و الٰہی طور پر تسلیم نہ کرتے تھے،

اور نہ ہی تشیع کے شرائطِ حقیقیہ کو قبول کرتے تھے۔

 

ایسے افراد میں سے کچھ لوگ عمر بن سعد اور یزید کے لشکر میں شامل ہو سکتے ہیں۔

 

📑 بدر علی

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam

 

#تبدیلی_ممنوع