شیعان علی ع قاتل نہیں ، بلکہ شیعان علی ع کا کوفہ و کربلا میں قتل ہوا
🔴 شیعان علی ع قاتل نہیں 🔴
👈 بلکہ شیعان علی ع کا کوفہ و کربلا میں قتل ہوا 🔴
اعتراض کیا جاتا ہے کہ امام حسین کو شیعوں نے مارا، میں پوسٹ نمبر 12 میں بتایا تھا کہ انکا مذہب کیا تھا انشاءﷲ اس پوسٹ میں اہل سنت کتب سے کچھ دلائل سامنے رکھے جائیں گے کہ
👈🏼 شیعان علی ع کو امام حسین ع کوفہ پہنچنے سے پہلے اور کربلا میں شہید کیا گیا 👉🏻
1⃣ 📜 ابن زیاد نے جناب ہانی بن عروہ (علی کے شیعہ) کو گرفتار کرکے اپنے پاس بلایا اور کہا اے ہانی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میرا باپ زیاد جب کوفے کا حاکم بنا تو جتنے شیعہ تھے سب کو قتل کر دیا (سب شیعان علی کا قتل کر دیا) کسی کو نہیں چھوڑا سوائے تمہارے باپ اور حجر کے اور پھر حجر بھی قتل کر دیے گئے
📚 تاریخ طبری عربی ج 5 ص 361
📚 تاریخ طبری اردو ج 4 ص 157
2⃣ 📜 جب امام حسین ع کو جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے امام حسین ع سے کہا 👈🏼 کوفہ میں نہ کوئی آپ کا مددگار ہے اور نہ آپ کا شیعہ
📚 تاریخ طبری اردو ج 4 ص 186،187
3⃣ 📜 جہاں ابن عباس نے امام حسین ع سے کہا تھا کہ مجھے دڑ ہے کہ کہیں حضرت عثمان کا قصاص آپ کو قتل کرکے نہ لیا جائے وہاں ابن عباس نے امام حسین ع سے فرمایا کہ
اگر آپ جانا ہی چاہتے ہیں تو یمن چلے جائیں لیکن عراق نہیں یمن میں آپ کے والد کے شیعہ رہتے ہیں
📚 تاریخ طبری عربی ج 5 ص 383،384
📚 تاریخ طبری اردو ج 4 ص 172
4⃣ 📜 عمرو بن الحجاج جب وہ امام حسین (ع) کے ساتھیوں کے قریب پہنچا تو کہنے لگا: "اے اہل کوفہ، اپنی اطاعت اور جماعت پر قائم رہو اور اس میں شک نہ کرو کہ ان لوگوں کو قتل کرنا درست ہے جنہوں نے دین سے انحراف کیا ہے اور امام کی مخالفت کی ہے۔"
تو امام حسین (ع) نے جواب میں فرمایا: "اے عمرو بن الحجاج، کیا تم لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکا رہے ہو؟ کیا ہم دین سے منحرف ہوئے ہیں اور تم اس پر قائم ہو؟ خدا کی قسم، تمہیں اس وقت معلوم ہوگا جب تمہاری روحیں قبض ہوں گی اور تم اپنے اعمال کے ساتھ مر جاؤ گے کہ ہم میں سے کون دین سے منحرف ہوا اور کون جہنم کی آگ کا زیادہ حقدار ہے۔"
📚 تاریخ طبری عربی ج 5 ص 435
📚 تاریخ طبری اردو ج 4 ص 217
👈🏼 سوال: وہ اہل کوفہ جو شیعان علی تھے امام حسین ع کے لشکر میں موجود تھے انھیں عمرو بن حجاج کس دین سے انحراف اور کس امام کی مخالفت کرنے کا کہہ رہا تھا
5⃣ 📜 ابن زياد فقال الحمد لله الذى أظهر الحق وأهله ونصر أمير المؤمنين يزيد بن معاوية وحزبه وقتل الكذاب ابن الكذاب الحسين بن على وشيعته
📃 ابن زياد نے کہا: "اللہ کا شکر ہے جس نے حق اور اس کے اہل کو ظاہر کیا اور امیر المؤمنین یزید بن معاویہ اور اس کے گروہ کی مدد کی اور جھوٹے ابنِ جھوٹے حسین بن علی اور اس کے شیعوں کو قتل کیا۔"
📚 تاریخ طبری عربی ج 5 ص 458
📚 تاریخ طبری اردو ج 4 ص 234
👈🏼 اردو میں ڈنڈی ماری گئی ہے عربی اسکین دیکھیں اور ساتھ اہل سنت عالم مودودی صاحب کی کتاب خلافت و ملوکیت کا سکین دیکھین
📚 خلافت و ملوکیت ص 181
6⃣ 📜 یزید سے کہا گیا کہ فتح مبارک ہو ، حسین ہمارے مقابلے میں 18 اپنی اہلبیت ع میں سے اور 60 آدمی اپنے شیعوں کے ساتھ وارد ہوئے تھے
📚 تاریخ طبری اردو ج 4 ص 235
📚 حیات الحیوان
7⃣ 📜 امام حسین ع نے دعا کی کہ " یا اللّه ان پر بنو سقیف کے خاندان کا فرد مسلط کر جو ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑے جو میرا ، میری اہل بیت اور میرے شیعوں کا بدلہ لے "
📚 مقتل الخوارزمی ج 2 ص 10
💯 یعنی شیعوں کا قتل کیا گیا
۔
🔴 زیاد بن ابیعہ (حرامی ) علی علیہ السلام کے شیعوں کو تلاش کرکے مارنا
📜 امام حسن علیہ السلام فرماتے ھیں کہ زیاد حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں کو تلاش کرتا اور انہیں مارتا یہ بات امام حسن علیہ السلام تک پہنچی تو آپ نے عرض کی اے اللہ اس کو اکیلے موت دے کیونکہ اسکا قتل کرنا ھی کفارہ ھے
📚 المعجم الکبیرطبرانی جلد 2 ح 2624 ص 351
منقول ہے کہ زیاد ابن ابیہ ”سعد بن سرح “نامی شخص کے قتل کے کے درپے تھا ،امام حسن علیہ السلام نے زیاد کو اپنے خط کے آخر میں لکھا کہ سعد بن سرح بے گناہ مسلمان ہے اس کا پیچھا چھوڑ دے۔
📜 زیاد نے امام حسن علیہ السلام کے خط کے جو اب میں لکھا: ”کہیں نہ کہیں وہ میرے ہاتھ لگ ہی جائے گا اور اسے میں اس لئے قتل کردوں گا کہ وہ تمہارے (نعوذ باللہ )فاسق باپ سے محبت کرتا ہے
📚 تاریخ طبری،ج۶،ص۱۳۲۔کامل بن اثیر ،ج۳،ص۱۸۳۔
زیاد سال ۵۳ ه.ق میں طاعون کی بیماری کے سبب سے کوفہ میں مرا اور وہ کوفہ سے باہر دفن ہوا
تحقیق و ترتیب بدر علی
تعلیماتِ اہلبیتؑ
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen