🔴 اہل کوفہ کا عقیدہ اور یہ شیعان اولی کون تھے ؟ 🔴
محرم میں جس ناسبی کو دیکھو وہی یہ بول رہا ہوتا کہ
کوفی شیعہ ، شیعہ کوفیوں نے امام کو شہید کیا
انشاءﷲاہلسنت کتب سے مختصر دلائل کے ساتھ اس پوسٹ میں میں ثابت کروں گا کہ کوفہ کی اکثریت تفضیلی (علیؑ کو عثمان پر فضیلت دینے والے) اہل سنت تھے جو ابوبکر و عمر پر کسی کو فضیلت نہیں دیتے تھے ، عثمان پر علی ع کو فضیلت دینے کی وجہ سے انہیں شیعہ کہا جاتا تھا
ترتیب : بدر علی
🔴 1⃣ شہر کوفہ حضرت عمر نے تعمیر و آباد کیا 🔴
علامہ یاقوت حموی اہل سنت کے مشہور اسکالر گزرے ہیں جو کہ کتاب "مجمع البلدان" کے مصنف ہیں۔ اس کتاب میں مختلف شہروں کی تفصیلی تاریخ موجود ہے۔
کوفہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ
📜 بكوفة الجند غالت ودّها غول وأما تمصيرها وأوّليته فكانت في أيام عمر بن الخطاب، رضي الله عنه، في السنة التي مصرّت فيها البصرة وهي سنة 17، وقال قوم: إنها مصّرت بعد البصرة بعامين في سنة 19، وقيل سنة 18،
📃 كوفہ کی بنیاد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں رکھی گئی تھی، اسی سال میں جب بصرہ کی بنیاد رکھی گئی، یعنی 17 ہجری۔ بعض لوگوں کے مطابق بصرہ کے دو سال بعد، 19 ہجری میں، یا 18 ہجری میں یہ شہر آباد کیا گیا۔
📚 معجم البلدان الجزء: 4 ص 391
اہل کوفہ کی اکثریت مذہبی معنوں میں ہمیشہ خلافتِ شیخین کے جائز ہونے کے قائل رہے۔ اہل سنت کے معروف عالم دین علامہ شبلی نعمانی اپنی شہرہ آفاق کتاب "الفاروق" میں کوفہ شہر کی تعمیر و ترقی کا سہرا خلیفہ دوم عمر کے سر ڈالتے ہوئےلکھتے ہیں:
📜 مدائن وغیرہ جب فتح ہو چکے تو سعد بن وقاص نے حضرت عمر کو خط لکھا کہ یہاں رہ کر اہل عرب کے رنگ و روپ بالکل بدل گئے۔ حضرت عمر نے جواب میں لکھا کہ ایسی جگہ تلاش کرنی چاہئے جو بری و بحری دونوں حیثیت رکھتی ہو۔ چنانچہ سلیمان حذیفہ نے کوفہ کی زمین انتخاب کی اور اسکا نام کوفہ رکھا۔ غرض 10 ه میں اس کی بنیاد شروع ہوئی اور جیسا کہ حضرت عمر نے تصریح کے ساتھ لکھا تھا چالیس ہزار آدمیوں کی آبادی کے قابل مکانات بنائے گئے۔ ہیاج بن مالک کے اہتمام سے عرب کے جُدا جُدا قبیلے جُدا جُدا محلوں میں آباد ہوئے۔ شھر کی وضع و ساخت 41 ہاتھ ، کے متعلق خود حضرت عمر کا تحریری حکم آیا تھا کہ شارع ہائے عام 41 ، 21 ہاتھ چوڑی رکھی جائیں اور گلیاں 3 ، 31 ہاتھ اور 21 ، اور اس سے گھٹ کر 3 ہاتھ چوڑی ہوں ۔ جامع مسجد کی عمارت جو ایک مربع بلند چبوترہ دے کر بنائی گئی تھی اس قدر وسیع تھی کہ اس میں 41 ہزار آدمی آسکتے تھے۔۔۔۔ جامع مسجد کے سوا ہر قبیلے کے لئے جُدا جُدا مسجدیں تعمیر ہوئیں ۔ جو قبیلے آباد کئے گئے ان میں یمن کے بارہ ہزار اور نزار کے آٹھ ہزار آدمی تھے اور قبائل جو آباد کئے گئے ان کے نام حسب ذیل ہیں۔ سلیم ، ثقیف ، ہمدان ، بجبلۃ ، نیم الات ، تغلب ، بنو اسد ، نخ و کندہ ازد ، مزینہ ، تمیم محارب ، اسد و عامر ، بجالۃ جدیلۃ و اخلاط ، جہینہ ، مذحج ، ، ہواذن وغیرہ وغیرہ ۔ یہ شھر حضرت عمر ہی کے زمانے میں اتنی اس عظمت وشان کو پہنچا کہ حضرت عمر اس کو راس اسلام فرماتے تھے اور در حقیقت وہ عرب کی طاقت کا اصلی مرکز بن گیا تھا.۔
📚 الفاروق ، صفحہ 232 ۔ 233 ، مکتبہ مدینہ لاہور
اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں کے لوگ حضرت عمر کے اس حد تک وفادار تھے کہ عمر اس شہر کو اسلام کا مرکز کہنا شروع ہو گئے۔ اگر اب بھی نو_ا صب کو کوئی شک ہو تو وہ ہمیں بتائیں کہ چالیس ہزار آدمیوں کی گنجائش والی جامع مسجد اور پھر ہزاروں کی تعداد میں بسائے گئے عرب قبیلوں کی الگ الگ مساجد جو حضرت عمر نے تعمیر کروائیں وہ سب شیعہ مساجد تھیں؟
👈🏼 کیا عمر ابن خطاب نے اتنے بڑے پیمانے پر ایک شیعہ شہر کی بنیاد رکھی تھی؟
🔴 2⃣ اہل کوفہ سے ابن مسعود کا حضرت عثمان کی بیعت لینا 🔴
📜 أن ابن مسعود سار من المدينة إلى الكوفة ثمانيا حتى (1) قتل عمر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال يا أيها الناس إن أمير المؤمنين قد مات فلم نر يوما أكثر نشيجا من ذلك اليوم ثم إنا اجتمعنا أصحاب محمد (صلى الله عليه وسلم) فلم نأل عن خيرنا ذا فوق فبايعنا عثمان بن عفان فبايعوه فبايعه الناس
📃 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: "اے لوگو! امیر المؤمنین وفات پا گئے ہیں اور اس دن سے زیادہ رونے کی آواز کبھی نہیں سنی گئی۔ پھر ہم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، جمع ہوئے اور بہترین شخص کو تلاش کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، "پھر ہم نے عثمان بن عفان کی بیعت کی، اور لوگوں نے بھی ان کی بیعت کی، اور سب لوگوں نے ان کی بیعت کی۔"
📚 تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج ٣٩ - الصفحة ٢١٤
📚 فضائل صحابہ احمد بن حمبل ج 1 ص 467
📚 الطبقات الكبرى ج 3 ص 59
📚 کتاب معارفة والتاریخ ج 2 س 761
🔴 3⃣ اہل عراق عبد اللہ بن عمر بن خطاب سے فتویٰ لیا کرتے تھے 🔴
📜3753. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ عَنْ الْمُحْرِمِ قَالَ شُعْبَةُ أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ فَقَالَ أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنْ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنْ الدُّنْيَا
📃 حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، ان سے کسی آدمی نے محرم کی بابت سوال کیا کہ اگر وہ مکھی مارڈالے تو اس پر کیا تاوان ہے؟انھوں نے فرمایا کہ اہل عراق مکھی کے قتل کا مسئلہ پوچھتے ہیں جبکہ انھوں نے نواسہ رسول اللہ ﷺ کو شہید کر ڈالا۔ حالانکہ نبی ﷺ نے ان دونوں کے متعلق فرمایا تھا۔ ’’یہ دونوں دنیا میں میرے خوشبودارپھول ہیں۔‘‘
📚 صحیح بخاری ح 3753
📚 فتح الباری ح 3753
📚 فیض الباری 3470
👈🏼 قابل غور یہ فتویٰ ابن عمر سے امام کی شہادت کے بعد لیا جا رہا ہے ۔ کیا شیعان علی ع ایسے شخص سے فتویٰ لینا پسند کرتے جس نے واضح یزید کی بیعت کی۔
🔴 4⃣ اہل کوفہ میں شیعان عثمان کا موجود ہونا 🔴
یہ لنک دیکھیں 👇🏼
🔴 5⃣ کوفہ میں اکثریت اہل سنت تھی 🔴
جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں کہ
📜 وحكى الخطابي عن أهل السنة من أهل الكوفة تقديم عليٍّ على عثمان
📃 خطابی نے کہا کوفہ کے "اہل سنت" حضرت علی کو حضرت عثمان پر فضیلت دیتے تھے۔
📚 تدریب الراوی ، صفحہ 811
اہل سنت امام ابو حنیفہ لکھتے ہیں
📜 والعجب أنه قد ذهب بعض أهل الكوفة من أهل السنة إلى تقديم عليّ على عثمان
📃 "اور حیرت کی بات ہے کہ اہل کوفہ میں سے بعض "اہل_سنت" حضرت علی کو حضرت عثمان پر فضیلت دیتے ہیں۔"
📚 أصول الدين عند الإمام أبي حنيفة ص 546
💯 یعنی اکثریت عثمان کی افضلیت کی قائل تھی
اہلسنت علامہ سخاوی لکھتے ہیں۔
📜 وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ كَمَا سَيَأْتِي: أَوَفِي ذَلِكَ شَكٌّ؟ ! (وَبَعْدَهُ) ; أَيْ: بَعْدَ عُمَرَ، إِمَّا (عُثْمَانُ) بْنُ عَفَّانَ، (وَهْوَ الْأَكْثَرُ) ; أَيْ: قَوْلُ الْأَكْثَرِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ، كَمَا حَكَاهُ الْخَطَّابِيُّ وَغَيْرُهُ، وَأَنَّ تَرْتِيبَهُمْ فِي الْأَفْضَلِيَّةِ كَتَرْتِيبِهِمْ فِي الْخِلَافَةِ. (أَوْ فَعَلِيٌّ) هُوَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ (قَبْلَهُ) ; أَيْ: قَبْلَ عُثْمَانَ وَبَعْدَ عُمَرَ، (خُلْفٌ) ; أَيْ: خِلَافٌ (حُكِي) . وَإِلَى الْقَوْلِ بِتَقْدِيمِ عَلِيٍّ ذَهَبَ أَهْلُ الْكُوفَةِ وَجَمْعٌ، كَمَا قَالَهُ الْخَطَّابِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَطَائِفَةٌ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ، كَمَا نَقَلَهُ شَيْخُنَا.
📃 "اور امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا، 'کیا اس میں کوئی شک ہے؟' یعنی عمر کے بعد، عثمان بن عفان افضل ہیں؛ (یہی زیادہ مشہور ہے)؛ یعنی اہل سنت کے اکثریت کا قول، جیسا کہ خطابی اور دیگر نے بیان کیا ہے، اور یہ کہ ان کی فضیلت میں ترتیب خلافت کی ترتیب کی مانند ہے۔
حضرت علی بن ابی طالب حضرت عثمان سے پہلے اور عمر کے بعد افضل ہیں اس پر اختلاف ہے
اور علی کی فضیلت کوفہ کے لوگوں اور ایک جماعت نے تسلیم کیا، جیسا کہ خطابی، ابن خزیمہ اور ان کے علاوہ بھی بہت سے علماء نے کہا ہے، جیسا کہ ہمارے شیخ نے نقل کیا ہے۔"
📚 فتح مغیث ج 4 ص 114
👈🏼 یعنی علیؑ و عثمان کے درمیان افضلیت کے معاملے میں اختلاف کے باوجود یہ لوگ خارج از اہل سنت نہیں۔
ابن کثیر اپنی کتاب میں اہل کوفہ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
📜 الْمَشْهُورَ عَنْ بَعْضِ الْكُوفِيِّينَ تَقْدِيمُ عَلِيٍّ عَلَى عُثْمَانَ
📃 کوفہ کے لوگ علیؑ کو عثمان پر مقدم رکھتے تھے
📚 البدایہ ولنہایہ ج 11 ص 124
اسی طرح صاحب كتاب أعلام الحفاظ والمحدثين نے بھی لکھا کہ
📜 کوفہ کے لوگ علیؑ کو عثمان پر مقدم رکھتے تھے
📚 أعلام الحفاظ والمحدثين ج 1 ص 259
🔴 6⃣ کوفہ کے اہل سنت محدث کا عقیدہ 🔴
ا) سفیان ثوری
📜 وَقَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ فقلت لعبد الرزاق: ما رأيك أنت. فأبى أَنْ يُخْبِرَنِي. وَقَالَ: كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ثم يسكت. قال عبد الرزاق: قَالَ لَنَا سُفْيَانُ: أُحِبُّ أَنْ أَخْلُوَ اللَّيْلَةَ بِأَبِي عُرْوَةَ. قَالَ: فَقُلْنَا لِمَعْمَرٍ: اشْتَهَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَنْ يَخْلُوَ بِكَ لَيْلَةً. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَخَلَا بِهِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قُلْتُ: يَا أَبَا عُرْوَةَ كَيْفَ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ إِلَّا أَنَّكَ قَلَّمَا تُكَاشِفُ كُوفِيًّا إِلَّا وَجَدْتَ فِيهِ. - كَأَنَّهُ يُرِيدُ التَّشَيُّعَ-
ترجمہ:
📃 ابن ابی السری بیان کرتے ہیں
میں نے امام عبدالرزاق الصنعانی سے پوچھا : آپ کی اس پر کیا رائے ہے (کہ عثمان افضل ہے یا علیؐ) ؟
تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔
اور انہوں نے کہا : سفیان ثوری کہا کرتے تھے : ابوبکر اور عمر پھر خاموش ہوجاتے تھے ۔
امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں :
ہمیں سفیان ثوری نے بتایا : میں نے خواہش کی کہ ابو عروہ یعنی معمر کے ساتھ تنہائی میں ایک شب ملاقات ہو ۔
امام عبدالرزاق فرماتے ہیں : ہم نے معمر سے عرض کی کہ ابو عبداللہ آپ سے شب کی تنہائی میں ملاقات کی گزارش کی تو انہوں نے اجازت فرمائی ۔
امام عبدالرزاق فرماتے ہیں : پھر ان دونوں کی ملاقات ہوئی ، پھر جب صبح ہوئی تو میں نے معمر سے عرض کیا : یا ابا عروہ ! آپ نے انہیں کیسا پایا ؟
فرمایا: وہ بھی ایک شخص ہے ، پر تم کسی بھی کوفی کو ٹٹولو گے تو اس میں یہ چیز ضرور پائو گے۔ (یعنی ابوبکر ، عمر اور پھر علیؑ)
گویا انہوں نے " تشیع " کی طرف اشارہ کیا ۔
📚 المعرفه والتاريخ (الفسوي، يعقوب بن سفيان) ج 2 ص 806
ب) اعمش
عبداللہ بن عبد الرحمن نے "شرح الموقظہ" میں بیان کی ہے اور کہا ہے کہ
📜 اعمش کوفہ کے "اہل سنت شیعوں" میں سے تھا، جو کہ کسی بھی صحابی کی برائی کیے بغیر حضرت عثمان پر حضرت علی علیہ السلام کو ترجیح دیتے تھے۔
📚 کتاب : شرح الموقظہ
👈🏼 محدثینِ اہل کوفہ کو شیعہ اسلئے کہا گیا کہ وہ ابوبکر و عمر کے بعد عثمان کے بجائے امام علی ع کو افضل مانتے تھے اسلئے اہل کوفہ شیعان علی کے نام سے جانے جاتے تھے (ورنہ کوفہ والے بس تفضیلی تھے نہ کہ رافضی)
🔴 7⃣ اہل کوفہ کو ابوبکر و عمر کی افضلیت کے بعد عثمان کے بجائے علی ابن طالبؑ کی افضلیت کے قائل ہونے کی وجہ سے شیعان اولی یا شیعان علیؑ کہا گیا 🔴
ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ
📜 وَكَانَتِ الشِّيعَةُ الْأُولَى لَا يَشُكُّونَ فِي تَقْدِيمِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ. وَأَمَّا عُثْمَانُ فَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ يُفَضِّلُ عَلَيْهِ عَلِيًّا، وَهَذَا قَوْلُ كَثِيرٍ مِنَ الْكُوفِيِّينَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ الْقَوْلُ الْأَوَّلُ لِلثَّوْرِيِّ، ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ. وَطَائِفَةٌ أُخْرَى لَا تُفَضِّلُ أَحَدَهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ.
📃 شیعہ اولی میں سے کسی کو بھی افضلیت ابوبکر اور عمر میں شک نہ تھا۔ بہت سے لوگ حضرت عثمان پر حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت کے قائل تھے۔ اور یہی موقف اہل کوفہ میں سے اکثر لوگوں کا تھا۔ ثوری کا بھی یہی قول تھا، بعد میں اس نے رجوع کر لیا تھا۔ بہت سے لوگ حضرت عثمان و حضرت علی علیہ السلام میں کسی کو فضیلت نہ دیتے تھے۔
📚 منھاج السنہ ج 8 ص 224
یعنی جو پہلے شیعہ تھے وہ عظمت ابوبکر و عمر کے قائل تھے اور یہی اہل کوفہ کی اکثریت تھی
ناسبی محدث دھلوی لکھتا ہے کہ
یہ بھی معلوم رہنا چاہئے کہ شیعان اولی جس میں اہل سنت اور اہل تفصیل (جو حضرت عثمان پر حضرت علی علیہ السلام کو ترجیح دے) دونوں شامل ہیں یہ پہلے شیعہ ہی کہے جاتے تھے ۔ جب رافضیوں ، زیدیوں اور اسماعیلوں نے لفظ شیعہ اپنے لیے منتخب کر لیا تب سنیوں نے اپنا لگ نام رکھ لیا
📚 تحفہ اثناء عشریہ ص 40
ابن تیمیہ نے منہاج السنہ میں لکھا ہے کہ
📜 وَاتُّهِمَ (¬5) طَائِفَةٌ مِنَ الشِّيعَةِ الْأُولَى (* بِتَفْضِيلِ عَلِيٍّ عَلَى عُثْمَانَ (¬6) ، وَلَمْ يُتَّهَمْ أَحَدٌ مِنَ الشِّيعَةِ الْأُولَى بِتَفْضِيلِ عَلِيٍّ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، بَلْ كَانَتْ عَامَّةُ الشِّيعَةِ الْأُولَى *) (¬7) الَّذِينَ يُحِبُّونَ عَلِيًّا يُفَضِّلُونَ عَلَيْهِ (¬8) أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، لَكِنْ كَانَ فِيهِمْ طَائِفَةٌ تُرَجِّحُهُ (¬9) عَلَى عُثْمَانَ، وَكَانَ النَّاسُ فِي الْفِتْنَةِ صَارُوا شِيعَتَيْنِ: شِيعَةً عُثْمَانِيَّةً، وَشِيعَةً عَلَوِيَّةً. وَلَيْسَ كُلُّ مَنْ قَاتَلَ مَعَ عَلِيٍّ كَانَ يُفَضِّلُهُ عَلَى عُثْمَانَ، بَلْ كَانَ كَثِيرٌ مِنْهُمْ يُفَضِّلُ عُثْمَانَ عَلَيْهِ، كَمَا هُوَ قَوْلُ سَائِرِ أَهْلِ السُّنَّةِ.
📃 شیعان اولی (ابتدائی دور کے شیعہ) میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا تھا جو کہ حضرت عثمان پر حضرت علی علیہ السلام کو فضیلت دیتے تھے۔ لیکن شیعان اولی میں کوئی بھی ایسا نہیں جو حضرت علی علیہ السلام کو شیخین پر فضیلت دیتا ہو۔
فتنہ کے زمانہ میں لوگ دو قسم میں تقسیم ہو گئے، شیعہ عثمانی اور شیعہ علوی۔
حضرت علی علیہ السلام کے لیے لڑنے والے تمام لوگ حضرت علی علیہ السلام کو حضرت عثمان پر فضیلت نہیں دیتے تھے، بلکہ ان میں سے کثیر تعداد میں لوگ حضرت عثمان کو حضرت علی علیہ السلام پر فضیلت دیتے تھے، جیسا کہ تمام اہل سنت کا قول ہے۔
📚 منہاج السنہ ج 4 ص 132
یعنی جنگ صفین میں علی ع کی طرف سے لڑنے والے بھی لازمی نہیں کہ سب کے سب علیؑ کے ہی شیعہ تھے
یہی ابن تیمیہ منہاج السنہ میں ہی رقمطراز ہیں کہ
📜 وَقَالَ: حَدَّثَنَا النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَنٍ (¬3) ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ (¬4) يَقُولُ: أَدْرَكْتُ الشِّيعَةَ الْأُولَى وَمَا يُفَضِّلُونَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَحَدًا.
📃 لیث بن ابی سلیم نے کہا ہے کہ میں نے شیعان اولی کو دیکھا ہے، وہ ابوبکر اور عمر پر کسی کو فضیلت نہیں دیتے تھے۔
📚 منہاج السنہ ج 6 ص 136
🔴8⃣ جو ابوبکر کی فضیلت کا قائل نہیں وہ شیعہ نہیں 🔴
الحمد اللہ ہم رافضی ہیں
اہل سنت محدث المشترک اللفظی فی مصطلحات میں لکھا ہے کہ
📃 شیعہ اولی کا لفظ ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوا جو حضرت عثمان پر حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت کے قائل تھے، اور وہ تمام صحابہ کا احترام کرتے تھے، اور شیخین کو حضرت علی علیہ السلام پر فضیلت دیتے تھے۔ پھر ابن تیمیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ شیعہ اولی جو کہ حضرت علی علیہ السلام کے دور میں تھے، شیخین کی فضیلت کے قائل تھے۔ شریک بن عبداللہ سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا کہ ابوبکر اور حضرت علی علیہ السلام میں سے کون افضل ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ابوبکر افضل ہیں۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ تم ایسا کہہ رہے ہو؟ جبکہ تم شیعہ ہو۔ اس پر اس نے جواب دیا کہ جو ایسا نہ کہے وہ شیعہ نہیں۔
📚 المشترك اللفظي في مصطلحات علماء الحديث وألفاظ الجرح و التعديل الرسالة العلمية ص 295
ابن تیمیہ سے نہایت اہم بات نقل کی گئی ہے۔
📜 ثُمَّ ظَهَرَ فِي زَمَنِ عَلِيٍّ التَّكَلُّمُ بِالرَّفْضِ؛ لَكِنْ لَمْ يَجْتَمِعُوا وَيَصِيرُ لَهُمْ قُوَّةٌ إلَّا بَعْدَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلْ لَمْ يَظْهَرْ اسْمُ الرَّفْضِ إلَّا حِينَ خُرُوجِ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بَعْدَ الْمِائَةِ الْأُولَى لَمَّا أَظْهَرَ التَّرَحُّمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَضَتْهُ الرَّافِضَةُ فَسُمُّوا " رَافِضَةً " وَاعْتَقَدُوا أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ هُوَ الْإِمَامُ الْمَعْصُومُ. وَاتَّبَعَهُ آخَرُونَ فَسُمُّوا " زَيْدِيَّةً " نِسْبَةً إلَيْهِ
📃 ابن تیمیہ کہتا ہے کہ رفض کی ابتداء حضرت علی علیہ السلام کے زمانہ سے ہوئی، لیکن ان کا مجتمع ہونا اور طاقت میں آنا امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ہی ممکن ہوا۔ بلکہ رفض کا نام زید بن علی کے خروج کے دوران ہی ظاہر ہوا، پہلی صدی کے بعد جب حضرت ابوبکر اور عمر کے لیے لفظ ترحم استعمال ہونا شروع ہوا، اور رافضیوں نے اسے چھوڑا، تو ان کو رافضی کہا گیا۔
📚 مجموع الفتاوی ص 490
📜 وَذَلِكَ لِأَنَّ الْخَوَارِجَ الحرورية كَانُوا أَوَّلَ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ خُرُوجًا عَنْ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ
📃 مجموع الفتاوی میں ابن تیمیہ سے نقل کیا گیا ہے کہ خوارج اور حروریہ وہ پہلا گروہ ہے جو اہل سنت سے الگ ہوا۔
📚 مجموع الفتاوی ص 489
حالانکہ خوارج حضرت علی علیہ السلام کے لشکر کا حصہ تھے، اور علماء نے ان کو حضرت علی علیہ السلام سے جدا ہونے سے پہلے تک شیعان اولی میں شامل کیا تھا۔ نیز یہ شیخین کے ماننے والے تھے، اسی لیے اصل بات یہی ہے کہ یہ لوگ اصل میں اہل سنت تھے اور اہل سنت کی اصطلاح ایجاد ہونے سے پہلے شیعان اولی کہلاتے تھے۔
نتیجہ: لفظ شیعہ کا لقب حضرت علی علیہ السلام کو حضرت عثمان پر فضیلت دینے والے اہل سنت میں سے ایک جماعت کا ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ اہل کوفہ کی غالب اکثریت اہل سنت اعتقاد رکھتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اہل کوفہ کو شیعوں میں شمار کیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ شیعان اولی انہی اہل سنت کی جماعت تھی
ترتیب : بدر علی
تعلیماتِ اہلبیتؑ
#بدر_علی
Talimaat_e_Ahlbait
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen