Back to کتاب سلیم بن قیس الہلالی

اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے

اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے
اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے

🔴 اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) 🔴

 

Post No 3⃣

 

🔴 اَبان بن ابی عیّاش (وفات 136 ہجری) کی توثیق سنی و شیعہ کتب سے

 

▪️بعض لوگوں نے کتاب سلیم بن قیس کی سند پر اعتراض کیا ہے، کیونکہ اس کا ایک راوی اَبان بن ابی عیّاش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب کے ایک سے زیادہ راوی ہیں، جیسا کہ آگے وضاحت آئے گی۔ مزید یہ کہ اکثریت شیعہ رجالی علما نے اسے قابلِ اعتماد بھی قرار دیا ہے۔ لیکن اہل سنت و اہلِ حدیث کے عمومی مکتب کے نزدیک سب نے اسے ضعیف اور مجروح کہا ہے۔ یہاں تک کہ شعبہ نے اسے جھوٹا قرار دیا۔ مگر اہلِ سنت رجالیوں کی یہ رائے امامیہ کے نزدیک معتبر نہیں اور ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔

 

🔹 ذیل میں ابنِ حجر نے اپنی کتاب میں اس کے بارے میں جو لکھا ہے وہ یہ ہے:

 

📜 ’’اَبان بن ابی عیّاش، فیروز، ابو اسماعیل، عبد القیس کے ایک آزاد کردہ غلام اور بصری تھے۔ بعض نے اس کا نام دینار بھی کہا ہے۔ انہوں نے انس بن مالک، سعید بن جبیر وغیرہ سے روایت کی ہے...‘‘

 

📚 "تہذیب التہذیب" ج 1، ص 93

 

🔹 الفلاس کہتے ہیں:

 

❌ "یہ متروک الحدیث ہیں۔ نیک آدمی تھے، کنیت ابو اسماعیل تھی، مگر یحییٰ اور عبد الرحمن ان سے حدیث روایت نہیں کرتے تھے۔"

 

🔹 بخاری کہتے ہیں:

 

✅ "شعبہ ان کے بارے میں بدگمانی رکھتے تھے۔"

 

🔹 احمد بن حنبل کہتے ہیں:

 

❌ "یہ متروک الحدیث ہیں۔ لوگ بہت پہلے سے ہی ان کی حدیث چھوڑ چکے ہیں۔ ان سے روایت نہیں لکھی جاتی تھی۔"

یہ بھی کہا: "ان کا حدیث منکر ہوتی تھی۔"

 

🔹وکیع جب ان کی حدیث پر آتے تو کہتے:

 

❌ "ایک آدمی ہے جس کا نام نہیں لینا چاہتا"، اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ اسے کمزور سمجھتے ہیں۔

اور کبھی کہتے: "منکر الحدیث"۔

 

🔹ابنِ معین نے کہا:

 

❌ "اس کی حدیث کسی کام کی نہیں۔"

❌ کبھی کہا: "ضعیف ہے۔"

❌ اور کبھی کہا: "متروک الحدیث"۔

 

اسی طرح نسائی، دارقطنی اور ابوحاتم نے بھی یہی کہا۔

 

🔹ابوحاتم نے مزید کہا:

 

✅ "یہ نیک آدمی تھے لیکن بُرے حافظے میں مبتلا تھے۔"

 

🔹 ابو زرعہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:

 

📜 "ہم نے اس کی حدیث ترک کر دی۔ وہ ہمیں کبھی پڑھ کر نہیں سنائی گئی۔"

پوچھا گیا: "کیا یہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا تھا؟"

کہا: "نہیں، مگر یہ انس، شہر بن حوشب، حسن بصری تینوں سے سنتا تھا، اور ان کے درمیان تمیز نہیں کر پاتا تھا۔"

 

🔹 نسائی نے دوسری جگہ کہا:

 

❌ "یہ ثقہ نہیں، اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی۔"

 

🔹 ابن عدی کہتے ہیں:

 

📜 "جو کچھ یہ روایت کرتا ہے اس میں اکثر کوئی اس کی متابعت نہیں کرتا۔ یہ کمزور ہے۔ امید ہے کہ یہ جھوٹ جان بوجھ کر نہیں بولتا، لیکن حدیث میں اس پر شبہات واقع ہوتے ہیں اور غلطی ہو جاتی ہے۔ یہ سچ کے مقابلے میں ضعف کے زیادہ قریب ہے، جیسا کہ شعبہ نے کہا۔"

 

🔹 مالک بن دینار نے کہا:

 

✅ "اَبان بن ابی عیّاش قرّاء کے تابعین میں سے تھا۔"

 

🔹 ایوب کہتے ہیں:

 

✅ "ہم عرصے سے اسے نیک جانتے آئے ہیں۔"

 

🔹 ابنِ حبان کہتے ہیں:

 

✅ "یہ عبادت گزار تھا۔ انس سے احادیث سنیں، حسن بصری کی مجلس میں رہا، پھر جب روایت کرتا تو حسن کا قول انس کی طرف منسوب کر دیتا جبکہ اسے علم نہیں ہوتا تھا۔ شاید اس نے انس سے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ احادیث روایت کیں، جن میں سے بہت سی کی کوئی اصل نہیں۔"

 

🔹 جوزجانی نے کہا:

📜 "یہ ساقط ہے۔"

 

🔹 ابن المدینی نے کہا:

❌ "یہ کمزور تھا۔"

 

🔹 ساجی نے کہا:

📜 "یہ نیک اور سخی آدمی تھا مگر اس میں غفلت تھی، حدیث میں وہم کرتا اور غلطی کرتا تھا۔"

 

🔹 یزید بن ہارون کہتے ہیں:

📜 "شعبہ نے کہا: میرا چادر اور میرا دوپٹہ مساکین میں صدقہ ہو اگر ابنِ ابی عیّاش حدیث میں جھوٹ نہ بولتا ہو۔"

 

🔹 شعیب بن حرب کہتے ہیں:

❌ "میں نے شعبہ کو کہتے سنا: مجھے اپنے گدھے کا پیشاب پینا زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں کہوں ‘مجھے اَبان نے روایت کی’۔"

 

🔹 ابن ادریس شعبہ سے روایت کرتے ہیں:

 

❌ "آدمی کا زنا کرنا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اَبان سے روایت کرے۔"

 

📚 تہذیب التہذیب" ج 1، ص 93،95

 

✅ جواب ✅

 

🔴 ابن قتیبہ نے اسے فقہا میں شمار کیا اور کہا:

 

📜 "عبد القیس، اس پر فخر کرتے ہیں.. اور ان کے موالی میں اَبان بن ابی عیّاش فقیہ شامل ہے، کنیت ابو اسماعیل۔"

 

📚 المعارف ص 420، 421

 

⭕ اور حماد بن سلمہ جو اَبان کے ہم عصر تھے اَبان کا دفاع کرتے اور اسے شعبہ پر فضیلت دیتے تھے۔ حماد بن سلمہ ان الفاظ میں معروف ہیں:

 

📜 "الامام، الحافظ، شیخ الاسلام"

 

📚 تذكرة الحفاظ، الذہبی، ج 1، ص 202–203

 

⭕ بیہقی نے اس کے بارے میں کہا:

 

📜 "یہ مسلمانوں کے ایک امام تھے۔"

 

📚 تہذیب التہذیب، ابن حجر

 

https://shamela.ws/book/1293/476

 

⭕ ابن شاھین اور حمزہ بن یوسف السہمی کی کتاب میں آیا ہے:

 

📜 ابن عائشہ سے روایت ہے:

"ایک شخص نے حماد بن سلمہ سے کہا: اے ابو سلمہ! آپ اَبان بن ابی عیّاش سے روایت کرتے ہیں؟

حماد نے پوچھا: اس میں کیا بات ہے؟

اس نے جواب دیا: شعبہ اسے پسند نہیں کرتا۔

حماد نے کہا: اَبان شعبہ سے بہتر ہے۔"

 

📚 ذکر من اختلف العلماء ونقاد الحدیث فیه" ج 1، ص 40

📚 تاریخ جرجان ص 551

 

⭕ طحاوی (وفات 321ھ) نے بھی اَبان سے روایت کو اپنی کتاب میں دلیل کے طور پر استعمال کیا ہے۔ 

 

📜 طحاوی نے اپنی کتاب کی مقدمے میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف اپنے نزدیک ثقہ راویوں سے روایت کرتا ہے۔

 

📚 شرح مشکل الآثار، ج 1، ص 6 

 

https://shamela.ws/book/22547/3#p1

 

🔹 طحاوی نے مزید لکھا:

 

📜 "کئی صحابۂ کرام سے روایت ہے کہ وتر میں قنوت رکوع سے پہلے ہوتا تھا۔ ان میں سے ایک عبداللہ بن مسعود بھی ہیں، خواہ یہ روایت سند میں اَبان بن ابی عیّاش پر ہی کیوں نہ موقوف ہو۔ کیونکہ اہلِ اسانید میں سے کئی لوگوں نے اسے قبول کیا ہے جب یہ روایت انس بن مالک سے نہ ہو۔ اسی لیے ہم نے بھی اسے اسی بنیاد پر قبول کیا ہے۔"

 

📚 شرح مشکل الآثار ج 11، ص 365

 

⭕ ابو نعیم اصفہانی لکھتے ہیں 

 

📜 اَبان، امام ابو حنیفہ کے شیوخ میں سے تھے، اور ابو حنیفہ نے ان سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔

 

📚 مسند ابی حنیفہ، ابو نعیم اصفہانی، ص 59–60

 

🔹 شعرانی نے لکھا ہے:

 

📜 وقد من الله تعالى علي بمطالعة مسانيد الإمام أبي حنيفة الثلاثة ، من نسخة عليها خطوط الحفاظ ، آخرهم الحافظ الدمياطي ، فرأيته لا يروي حديثا إلا عن خيار التابعين العدول الثقات ، الذين هم من خير القرون ، بشهادة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، كالأسود وعلقمة وعطا وعكرمة ومجاهد ومكحول والحسن البصري وأضرابهم رضي الله عنهم أجمعين ، فكل الرواة الذين بينه وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم عدول ثقات ، أعلام أخيار ، ليس فيهم كذاب ولا متهم بكذب . وناهيك - يا أخي - بعدالة من ارتضاهم الإمام أبو حنيفة رضي الله عنه لأن يأخذ منهم أحكام دينه ، مع شدة تورعه وتحرزه وشفقته على الأمة المحمدية

 

📃 "اللہ نے مجھ پر فضل کیا کہ میں نے امام ابو حنیفہ کی تینوں مسانید ایسی نسخوں سے مطالعہ کیں جن پر حفاظِ حدیث کی دست خط تھے، اور آخری حافظ دمیاطی تھے۔ میں نے دیکھا کہ امام ابو حنیفہ کسی سے بھی حدیث روایت نہیں کرتے مگر بہترین تابعین، عادل، ثقہ، اور رسول اللہ ﷺ کی بشارت کے مطابق بہترین زمانے کے لوگوں سے جیسے الاسود، علقمہ، عطاء، عکرمہ، مجاہد، مکحول، حسن بصری وغیرہ۔

پس ابو حنیفہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان جتنے راوی ہیں، سب عادل اور ثقہ ہیں، کوئی جھوٹا یا متہم نہیں۔

اے بھائی! جو راوی امام ابو حنیفہ جیسے محتاط، پرہیزگار اور امت پر شفقت رکھنے والے امام اپنے دین کے احکام ان سے لیتے تھے ان کی عدالت اور ثقاہت پر بس کرو۔"

 

📚 المیزان ص 64

 

https://www.noor-book.com/tag/الميزان-عبدالوهاب-الشعراني

 

👈 یہ عبارت اَبان بن ابی عیّاش کی تعدیل و توثیق کی بھی شہادت رکھتی ہے۔

 

⭕ ابن حبان (وفات 354ھ) نے لکھا:

 

📜 "اَبان بن ابی عیّاش بصری تھے۔ کنیت ابو اسماعیل، والد کا نام فیروز۔ یہ عبد القیس کے مولیٰ تھے۔ انس بن مالک اور حسن بصری سے روایت کی۔

ان سے ثوری اور دیگر لوگ روایت کرتے تھے۔

یہ بہت زیادہ عبادت گزار تھے، راتیں قیام سے گزارتے اور دن روزے سے گزارتے تھے۔"

 

📚 المجروحین ج 1، ص 96

 

⭕ ابو نعیم اصفہانی (وفات 430ھ) نے لکھا:

 

📜 "یہ بصرہ کے عبادت گزار تابعین میں سے تھے۔ شعبہ نے انہیں جرح کیا اور پھر لوگ ان کی روایت چھوڑ گئے۔"

 

📚 "مسند ابی حنیفہ ص 59

 

⭕ تبصرہ

 

▪️ ہم دیکھتے ہیں کہ اَبان جھوٹ نہیں بولتا تھا، جیسا کہ شعبہ نے دعویٰ کیا۔

 

▪️ جو بھی لوگ ان پر طعن کرتے ہیں وہ اصل میں شعبہ کی جرح پر اعتماد کرتے ہیں۔

 

▪️ اور شعبہ اور دیگر رجالیوں کی عادت یہ تھی کہ جب کوئی راوی ایسی حدیث بیان کرتا جسے انہوں نے خود نہ سنا ہو، تو فوراً اسے جھوٹا کہہ دیتے،

گویا حدیثیں صرف وہی ہیں جو انہوں نے خود سنی ہیں!

 

⭕ ابن عدی نے اپنی کتاب میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے:

 

📜 "میں نے شعبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:

’میرے لیے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں گدھے کا پیشاب پی لوں یہاں تک کہ سیراب ہوجاؤں، بنسبت اس کے کہ میں اَبان بن ابی عیّاش کی حدیث لوں۔‘"

 

شعبہ نے اَبان کے بارے میں یہ سخت الفاظ کہے، مگر خود اس سے روایت بھی کی۔

 

📚 الکامل ج 2، ص 57

 

🔹 ذھبی نے لکھا

 

📜 شعبہ سے پوچھا گیا:

"پھر آپ نے اس سے حدیث کیوں سنی؟"

شعبہ نے جواب دیا:

"آخر کون ہے جو اس حدیث پر صبر کر سکے؟"

یعنی اس کی یہ روایت:

اِبراہیم علقمہ عبداللہ ان کی والدہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھا۔

 

📚 میزان الاعتدال ج 1، ص 11

 

👈 شعبہ کا یہ کہنا: "کون اس حدیث پر صبر کر سکے" اَبان کی صداقت کی عملی گواہی ہے۔

 

👈 وہ اپنے ہی قول کے خلاف اَبان سے روایت بھی کرتا ہے، تو کیا اس نے واقعی وہ کام (گدھے کے پیشاب والی بات) کر لیا جس کی قسم کھا رہا تھا؟!

 

👈 حماد بن سلمہ نے اَبان کو شعبہ سے بہتر قرار دیا۔

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حماد جذبات میں تھے کیونکہ حماد بن سلمہ شیخ الاسلام اور ائمہ حدیث میں سے تھے۔

 

⭕ ابن معین نے حماد بن سلمہ کے بارے میں کہا:

 

📜 "اگر تم کسی کو حماد پر طعن کرتا دیکھو تو اس کے اسلام پر شک کرو۔"

 

📚 کاشف، ذہبی، ج 1، ص 349

 

🔴 جنہوں نے اَبان کی توثیق کی 🔴

 

1⃣) ایوب السختیانی : وہی جن کے بارے میں شعبہ کہتا تھا: 

 

📜"وہ علماء کے سردار ہیں"۔

 

📚 تذکرة الحفاظ، ج 1، ص 130–132

 

https://shamela.ws/book/1583/125

 

2⃣) الہیثمی نے لکھا:

 

📜 "اَبان کو ایوب اور سَلَم العلوی نے ثقہ قرار دیا۔"

 

📚 مجمع الزوائد ج 1، ص 299

 

3⃣) سَلَم العلوی ابن معین کے نزدیک ثقہ تھا۔

 

📚 میزان الاعتدال، ج 2، ص 187

 

https://shamela.ws/book/1692/854

 

⭕ احمد بن حنبل کا جو قول نقل ہوا کہ: 

 

📜 "اس میں ایک ہَویٰ (جھکاؤ) تھا"

 

👈 تو اس سے مراد تشیع ہے اور یہ تو اس کی خوبیوں میں سے ہے۔

 

⭕ سرخسی الحنفی نے اَبان کا ذکر کیا 

 

📜 اور اس پر "رضی اللہ عنہ" کہا۔

 

📚 المبسوط ج 11، ص 247

 

⭕ الساجی نے اس کی دیانت کی تعریف کی۔

 

⭕ ابن حبان نے کہا:

 

📜 "وہ عبادت گزاروں میں سے تھا، راتیں قیام سے گزارتا اور دن روزے سے۔"

 

⭕ ابن عدی نے کہا:

 

📜 "وہ نیک آدمی تھا۔"

 

📚 الکامل، ج 1، ص 381

 

⭕ المعلمی الیمانی نے کہا:

 

📜 "راوی روایت میں کمزور ہو سکتا ہے لیکن دین میں صالح ہو جیسے اَبان بن ابی عیّاش۔"

 

📚 التنكیل، ج 1، ص 244

 

👈 ان تمام اکابر اہلِ علم کی شہادتیں کہ اَبان دیندار، نیک اور عبادت گزار تھا 

 

👈 یہ اس کی عدالت ثابت کرتی ہیں، اور عدالت کا لازمی نتیجہ سچائی ہے۔

 

⭕ خود آبان بن ابی عیاش کی روایت کو علما میں سے ایک عالم نے حسن قرار دیا ہے 👇

 

/topic/1897

 

✅ لہٰذا اَبان کی کمزوری کا سبب اگر کچھ ہے تو کم ضبط یا غلطی ، نہ کہ جھوٹ یا بددیانتی، جیسا کہ بعض نے الزام لگایا۔

 

🔴 امامی علماء کے نزدیک اَبان کی رجالی حیثیت 🔴

 

⭕ برقی اور شیخ طوسی نے اسے امام علی بن الحسین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔

 

📚 الرجال، ص 9

📚 رجال الطوسی، ص 109

 

⭕ اور شیخ طوسی نے اسے امام محمد بن علی الباقر علیہ السلام کے اصحاب میں ذکر کیا اور لکھا:

 

❌ "تابعی ضعیف"

 

اور اسے امام جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام کے اصحاب میں بھی شامل کیا ہے۔

 

📚 رجال الطوسی، ص 126 اور 164

 

⭕ احمد بن غضائری نے کہا:

 

❌ "اَبان بن ابی عیّاش، اور ابی عیّاش کا نام فَیروز ہے۔ تابعی ہے۔ انس بن مالک سے روایت کرتا ہے۔ اور علی بن الحسین علیہما السلام سے روایت کرتا ہے۔ ضعیف ہے، اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ ہمارے اصحاب کتاب سلیم بن قیس کی وضع کو اسی کی طرف نسبت دیتے ہیں۔"

 

📚 رجال ابن الغضائری، ص 36

 

👈 اس موضوع پر آگے گفتگو آئے گی ۔ انشاءﷲ 

 

▪️ یہ متقدّمین کے اقوال ہیں، اور متأخرین نے انہی دو باتوں کی بنا پر اَبان پر ضعف کی تہمت قائم کی۔

 

⭕ اَبان نے اہل بیت علیہم السلام کے امر اور مقام کو سلیم بن قیس کے ذریعے پہچانا ⭕

 

🔹 علامہ حلّی نے کہا:

 

"سید علی بن احمد العقیقی نے کتاب الرجال میں کہا:

اَبان بن ابی عیّاش کو اس امر سے واقف کروانے کا سبب سلیم بن قیس تھے۔ جب حجاج نے اسے اس لئے طلب کیا کہ وہ علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھا تاکہ اسے قتل کرے، تو وہ فارس کے ایک علاقے کی طرف بھاگ گیا اور اَبان بن ابی عیّاش کے ہاں پناہ لی۔

جب سلیم کے مرنے کا وقت قریب آیا تو اس نے ابن ابی عیّاش سے کہا:

’تمہارا مجھ پر حق ہے اور موت قریب ہے اے بھتیجے! رسول اللہ ﷺ کے بعد جو کچھ ہوا وہ ایسا اور ایسا تھا‘

اور اسے کتاب دے دی۔

اور سلیم بن قیس سے کسی بھی شخص نے روایت نہیں کی سوائے اَبان کے۔

اور اَبان نے اپنی روایت میں کہا:

’وہ (سلیم) ایک بزرگ، عبادت گزار، اور نورانی چہرے والے تھے‘۔"

 

📚 خلاصۃ الأقوال، ص 325

 

🔹 شیخ ابن شہراشوب (ت 588ھ) نے ابو اسماعیل العبدي جو تابعین میں سے ہے کو اہل بیت علیہم السلام کے شعراء میں شمار کیا ہے۔

 

📚 معالم العلماء، ص 184

 

⭕ اور ابو اسماعیل العبدي ہی اَبان بن ابی عیّاش کی کنیت ہے، جیسا کہ:

 

تقریب التہذیب (ج 1، ص 51)اور المغنی في الضعفاء (ذہبی، ج 2، ص 568) میں لکھا ہے۔

 

👈 تابعین میں اس کنیت والا اور کوئی شخص نہیں ملا، سوائے اَبان کے۔

 

▪️ اور تحقیق و تدقیق کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ اَبان ثقہ ہے، کئی دلائل اور قرائن کی بنا پر۔

 

میں نے پچھلی تحریر میں فضل بن شاذان کی کتاب مختصر اثبات الرجعة سے روایت ذکر کی تھی، جس میں امام علی علیہ السلام احادیث کی اقسام اور بارہ اماموں کے نص کے ساتھ نام بیان کرتے ہیں۔

 

ملاحظہ کریں 👇

 

/topic/1902

 

فضل بن شاذان نے طویل حدیث اَبان عن سلیم کی سند سے نقل کرنے کے بعد لکھا:

 

📜 "محمد بن اسماعیل نے کہا:

پھر حمّاد بن عیسیٰ نے کہا:

میں نے یہ حدیث اپنے مولا امام ابو عبداللہ علیہ السلام کے سامنے ذکر کی، تو وہ رو پڑے اور فرمایا:

 

’سلیم نے سچ کہا۔ یہی حدیث مجھے میرے والد نے اپنے والد امام علی بن الحسین سے، انہوں نے اپنے والد امام حسین سے، اور انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے بیان کی۔

جب سلیم بن قیس نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تھا‘۔"

 

مختصر إثبات الرجعة کی طرف رجوع کریں، اور اس روایت کو شیخ حرّ عاملی نے إثبات الهداة میں ذکر کیا ہے، اور اس کا سند الفضل بن شاذان تک صحیح ہے۔

 

پس یہ صحیح السند روایت اکیلی ہی ابان کی توثیق کے لیے کافی ہے، کیونکہ حمّاد بن عیسیٰ نے امام صادقؑ سے یہ متن نقل کیا ہے، جو ابان کے ذریعے سُلیم سے روایت ہے، اور امامؑ کا اس روایت کی تصدیق کرنا خود ابان کی صداقت اور نقل میں ضبط کی دلیل ہے۔

 

💯 کوئی شک نہیں کہ ابان اس طرح کی عظیم روایت گھڑنے پر قادر نہیں تھا، جس میں حدیث کو ایسے خوبصورت انداز میں تقسیم کیا گیا ہے، جو صادق اور کاذب میں فرق کرنے کے کئی باریک اصول اور ضابطے رکھتی ہے۔

 

👈 پھر یہ روایت بارہ ائمہؑ کی تعداد اور ان کے نام بیان کرتی ہے، اور یہ سب سلیم بن قیس کی کتاب سے ماخوذ ہے۔ جبکہ ابان کی وفات تقریباً 136 ہجری میں ہوئی، تو وہ بارہ ائمہؑ کے نام کیسے جان سکتا تھا جبکہ وہ امامِ ششمؑ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی وفات پا چکا تھا؟

 

❓ بلکہ کتابِ سلیم میں بارہ ائمہؑ کی تعداد اور ان کے ناموں کے بارے میں متعدد روایات ملتی ہیں۔ تو ابان نے یہ نام کیسے جانے جبکہ اس نے خود صرف تین ائمہؑ کا زمانہ پایا؟

 

❓ کیا وہ غیب جانتا تھا؟ اور کوئی عاقل آدمی ایسا دعویٰ نہیں کرے گا۔

 

✅ پس اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے یہ خبریں کتابِ سلیم سے ہی حاصل کیں، جو اس نے خود حضرت علیؑ اور بعض جلیل القدر صحابہ سے جمع کی تھیں۔

 

✅ اس میں ان لوگوں کا رد موجود ہے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ سلیم یا ابان نے کتاب گھڑی ہے، اور یہ بات بالکل صریح دلالت کرتی ہے کہ ابان سچا اور نقل میں مضبوط تھا۔

 

🔹 ہمیں فضل بن شاذان کی مذکورہ روایت اور دوسری روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابان اُن رواة میں سے ہے جن سے اصحابِ اجماع نے روایت کی ہے، جیسے حماد بن عیسیٰ اور محمد بن ابی عمیر۔ اور طائفہ کے بعض بڑے علماء کے مبنیٰ پر، جس سے اصحابِ اجماع روایت کریں وہ راوی ثقہ ہوتا ہے۔

 

ان کی روایات کے لیے رجوع کریں:

 

📚 علل الشرائع للشیخ الصدوق، ج1 ص123

📚 الخصال، ص477۔

 

🔹 ہم پر ظاہر ہوا کہ سلیم بن قیس ایک مشہور شخصیت تھے، حضرت علیؑ کے مقربین میں سے تھے، بڑے ثقہ افراد میں سے تھے، کئی ائمہؑ کے ساتھ رہے، ان سے براہِ راست علم لیا، اور جو اس زمانے میں واقعات کو لکھنے کا سوچے وہ ضرور بہادر اور ذہین ہوگا۔ ان کی طویل عمر، وسیع تجربہ اور بے شمار تاریخی واقعات نے انہیں گہری بصیرت عطا کی۔ اس کے باوجود وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کتاب ابان کو سونپتے ہیں اور اسے پڑھ کر سناتے ہیں۔ اگر انہیں ابان پر اعتماد نہ ہوتا تو وہ ہرگز کتاب اس کے حوالے نہ کرتے پس یہ ایک عظیم شیعہ مؤرخ و صاحبِ کتاب کی طرف سے ابان کے لیے صریح توثیق ہے۔

 

🔴 بعض لوگوں نے احتمال دیا ہے کہ شیخ طوسی کی ابان کے بارے میں عبارت: "تابعی ضعيف" تصحیف ہے۔ 

 

🔹 سید محمد علی الأبطحی کہتے ہیں:

 

📜 "بعید نہیں کہ ان کا قول (تابعی ضعیف) درحقیقت (تابعی صغير) کی تصحیف ہو، جیسا کہ اہلِ عامہ سے ظاہر ہوتا ہے، جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بڑے تابعین میں سے نہیں تھا۔"

 

📚 تهذيب المقال في تنقيح كتاب رجال النجاشي، ج1 ص188۔

 

https://ar.lib.eshia.ir/14020/1/189

 

⭕ ابان کے بارے میں یہ عبارت مجھے صرف ذہبی کے ہاں میزان الاعتدال ج1 ص10 میں ملی ہے، اور ذہبی (متوفی 748ھ) شیخ طوسی (متوفی 460ھ) کے کافی بعد کے ہیں، 

 

✅ لہٰذا شیخ طوسی کا اُن سے یہ عبارت لینا صحیح نہیں۔ اور ذہبی نے یہ بات اپنی طرف سے کہی ہے،

 

👈 اسے متقدمین میں سے کسی سے نقل نہیں کیا۔

 

🔵 شیخ طوسی کی تضعیف اس بات کے مخالف ہے جو شیخ نعمانی (متوفی 360ھ) نے ذکر کی ہے، یعنی ابان کے ذریعے منقول کتاب کی توثیق۔ 

 

چنانچہ وہ کہتے ہیں:

 

📜 "تمام شیعہ علماء اور وہ سب جنہوں نے ائمہؑ سے علم لیا ہے، اُن کے درمیان سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ شیعہ کے بڑے اصولی مصادر میں سے ایک اصل ہے، اور سب سے قدیم ہے۔ اور اس اصل میں جتنا بھی مواد ہے وہ رسول اللہ ﷺ، امیرالمؤمنینؑ، مقداد، سلمان فارسی، ابوذر اور اُن جیسے اصحاب سے ہے، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور امیرالمؤمنینؑ کو پایا، ان سے سماع کیا۔ اور یہ اُن اصولوں میں سے ہے جن کی طرف شیعہ رجوع کرتے ہیں اور جن پر اعتماد رکھتے ہیں۔"

 

📚 الغيبة، ص103۔

 

✅ یہ اہم نصّ ایک قدیم عالم کا ہے جو تقریباً تین صدیوں تک پھیلے ہوئے شیعہ اور ائمہؑ کے نقطۂ نظر کو بیان کرتا ہے، یعنی اس بات پر ان کا اتفاق کہ کتابِ سلیم ایک معتبر اصل ہے، بڑے اصولی مصادر میں سے ہے اور قدیم ترین ہے۔ یہ نصّ بتاتا ہے کہ قدیم شیعہ اس کتاب پر اعتماد کرتے تھے، اور وہ کسی کتاب کو اس وقت تک قبول نہیں کرتے تھے جب تک اسے ائمہ اہل بیتؑ پر پیش نہ کر لیں، جیسا کہ ہم نے پچھلی پوسٹ میں واضح کیا۔

 

⭕ شیخ نعمانی کا یہ بیان مؤلفِ کتاب کی وثاقت اور اس کے ناقلین کی وثاقت دونوں پر دلالت کرتا ہے۔ اور اگر ابان پر کوئی معمولی سا بھی طعن موجود ہوتا، جبکہ وہ کتاب کے سب سے اہم ناقلین میں سے ہے، تو نعمانی ضرور اس کا ذکر کرتے۔

 

✅ بلکہ ان کی بات تو یہ بتاتی ہے کہ شیعہ کا اس کتاب اور اس کے ناقلین بشمول ابان پر اجماع اور اتفاق ہے۔

 

⭕ شیخ نوری طبرسی نے کہا:

 

📜 "اور جب کتاب کی اسناد ابان تک پہنچتی ہیں، تو نعمانی کا یہ اجماع اس کی بہت زیادہ وثاقت پر دلالت کرتا ہے۔"

 

📚 خاتمة المستدرك، ج7 ص 111، 112

 

👈 ایک سے زیادہ علماء نے ابان کی توثیق کی ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ شیخ طوسی کی تضعیف کی اصل وجہ مخالفین ہیں، جنہوں نے اسے ضعیف کہا اور چھوڑ دیا۔

 

⭕ شیخ مجلسی نے ایک حدیث کے بارے میں، جس میں ابان بن ابی عیاش نے سلیم سے روایت کی ہے، کہا:

 

📜 "باب: امام حسن بن علی علیہما السلام پر نص و اشارہ 

پہلی حدیث ظاہر کے اعتبار سے حسن بلکہ صحیح ہے۔ کیونکہ کتابِ سلیم قدماء کے نزدیک مقبول ہے، کلینی، صدوق اور دیگر نے اس پر اعتماد کیا ہے، اور وہ رجال کے احوال کو بعد والوں سے زیادہ جانتے تھے۔ اور یہ کتاب امام باقر علیہ السلام پر پیش کی گئی تھی اور ہمارے پاس موجود ہے۔"

 

📚 مرآة العقول، ج3، ص291

 

👈 اور شیخ مجلسی کا یہ کلام، سلیم سے روایت کرنے والے ابان بن ابی عیّاش کی توثیق کا تقاضا کرتا ہے۔

 

⭕ شیخ مامقانی (متوفی 1351ھ) نے کہا:

 

📜 "اسے یعنی ابان کو ضعیف کہنے میں جزم کرنا مشکل ہے، اس کے بعد کہ سلیم بن قیس جیسی شخصیت نے اپنی کتاب اسے سونپی، اور اسے 'بھتیجے' کہہ کر خطاب کیا۔ اور جو بھی سلیم بن قیس کی حالت پر غور کرے گا وہ اس طرف مائل ہوگا کہ یہ شخص (ابان) تشیع رکھنے والا اور ممدوح تھا۔ اور یہ بات کہ کتاب کی وضع اس کی طرف منسوب کی جاتی ہے اس کی کوئی اصل نہیں۔ اور جب اس کے ساتھ شیخ ابو علی کا منہتٰی میں یہ قول شامل ہو جائے کہ: 'میں نے دیکھا کہ اس کی تضعیف کی اصل مخالفین سے ہے، اور وہ بھی اس کے تشیع کی وجہ سے' تو یہ بات مزید مضبوط ہو جاتی ہے، اور علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ بلکہ جب سلیم کی وثاقت ثابت ہو جائے جیسا کہ ان شاء اللہ آئے گا تو اس کتاب کو اس کے سپرد کیے جانے سے ابان کی وثاقت بھی ثابت ہو جاتی ہے۔"

 

📚 تنقيح المقال، ج3 ص68

 

⭕ شیخ موسیٰ الزنجانی نے کہا:

 

📜 "میرے نزدیک اس کی روایات کا قبول کرنا اقرب ہے، ہمارے متأخر اصحاب میں سے بہت سے علماء کی پیروی میں، کیونکہ ثقہ محدثین جیسے صفّار، ابن بابویہ، ابن ولید وغیرہ اور وہ راوی جو اس سے روایت کرتے ہیں، ان کا اعتماد موجود ہے۔ نیز اس کی خبروں کی درستی اور ان کے متون کا عمدہ ہونا بھی مؤید ہے۔"

 

📚 الجامع في الرجال، ج1 ص11

 

⭕ سید الموحّد الأبطحي کہتے ہیں:

 

📜 "جہاں تک اہلِ سنت کی جانب سے ابان کی تضعیف کا تعلق ہے، تو اس سے اس کی کمزوری لازم نہیں آتی اور اہلِ سنت کی اکثریتی تضعیفات شُعبہ پر مبنی ہیں، کیونکہ شُعبہ نے ابان کے بارے میں طعن کی بنیاد رکھی اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے چل پڑے۔"

 

📚 تهذيب المقال، ج1 ص182

 

اس شعبہ کے طعن کی حقیقت دیکھیں 👇

 

/topic/1898

 

⭕ شیخ علی نمازی شاہرودی نے کہا:

 

📜 "قوی احتمال ہے کہ شیخ (طوسی) نے اس کی تضعیف ابنِ غضائری سے لی ہو"

 

📚 مستدركات علم رجال الحديث، ج1 ص83،84

 

🔹 اور سلیم اور ابان کے بارے میں کہا:

 

📜 "جو بھی کتابِ سلیم کا مطالعہ کرے گا اسے ان دونوں کی خوبی، کمال اور وثاقت ظاہر ہو جائے گی، اور معلوم ہوگا کہ تضعیف کی اصل مخالفین ہیں۔"

 

📚 مستدركات علم رجال الحديث، ج1 ص84

 

⭕ ابان کی وثاقت کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ بہت سے بڑے ثقہ راویوں نے اس سے روایت کی ہے۔

 

⭕ شیخ ایروانی کہتے ہیں:

 

📜"اگر بڑے ثقہ اور جلیل القدر راوی کسی شخص سے کثرت سے روایت کریں، تو یہ اس کی وثاقت کی دلیل سے بعید نہیں، کیونکہ کوئی عاقل شخص کثرت سے روایت کسی ایسے راوی سے نہیں لیتا جسے وہ معتبر نہ سمجھتا ہو یہ اس کے وقت کا بے فائدہ ضیاع ہوگا، کیونکہ ضعیف لوگوں کی روایات جمع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔"

 

📚 دروس تمهيدية في علم الرجال، فصل اول، نقطہ اول

 

اور جلیل القدر ثقہ راویوں میں سے حماد بن عیسیٰ، عثمان بن عیسیٰ، عمر بن اُذَینَہ، اور ابراہیم بن عمر الیمانی نے ابان سے بہت زیادہ روایت کی ہے۔

 

⭕ ہم نے سید سیستانی حفظہ اللہ کو اپنے فقهِ خلافی کے مباحث میں انہیں ابان کی روایت پر اعتماد کرتے ہوئے پایا۔ 

 

سید کہتے ہیں:

 

⭕ "تیسرا امر: جو کچھ فقهِ خلافی میں لکھا گیا ہے: ان میں سے ایک وہ ہے جو صدوق نے کتاب الاعتقادات میں ذکر کیا ہے سلیم بن قیس ہلالی کی روایت اختلافِ حدیثین کے باب میں۔ اور یہ روایت کئی اصول و قواعد پر مشتمل ہے جو دونوں گروہوں کے اختلاف کی صورت میں اشتباہ دور کرنے کے لئے ہیں، جیسے عام و خاص، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابه وغیرہ کی پہچان کے قواعد۔"

 

📚 الرافد في علم الأصول، ص78

 

https://ar.lib.eshia.ir/27001/1/78

 

⭕ مذکورہ روایت شیخ صدوق نے الاعتقادات ص118 میں ذکر کی ہے، اور اس کی سند الخصال ص257 میں موجود ہے جس میں ابان بن ابی عیاش کی سلیم سے روایت ہے۔

 

❓ تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ابان کے ضعیف ہونے کے فرض پر ایک "ضعیف السند" روایت سے اتنے اصول اور فوائد اخذ کیے جائیں جیسا کہ سید نے بیان فرمایا؟!

 

🔴 رجال ابن الغضائری کے اعتراض پر کا رد یہاں دیکھیں 👇

 

/topic/1904

 

🗃 بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39
Gallery Image 40
Gallery Image 41
Gallery Image 42
Gallery Image 43
Gallery Image 44
Gallery Image 45
Gallery Image 46
Gallery Image 47
Gallery Image 48
Gallery Image 49
Gallery Image 50
Gallery Image 51
Gallery Image 52
Gallery Image 53
Gallery Image 54
Gallery Image 55
Gallery Image 56
Gallery Image 57
Gallery Image 58
Gallery Image 59
Gallery Image 60
Gallery Image 61
Gallery Image 62
Gallery Image 63
Gallery Image 64
Gallery Image 65
Gallery Image 66
Gallery Image 67
Gallery Image 68
Gallery Image 69
Gallery Image 70
Gallery Image 71
Gallery Image 72
Gallery Image 73
Gallery Image 74
Gallery Image 75
Gallery Image 76
Gallery Image 77