Back to کتاب سلیم بن قیس الہلالی

ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب

ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب
ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب

⭕ ابنِ غضائری کی جانب سے ابان کی تضعیف کا جواب ⭕

 

Post No 4⃣

 

🔹 ابنِ غضائری نے کہا:

 

📜 “ابان بن ابی عیّاش، اور ابو عیاش کا نام فَیروز ہے۔ تابعی ہے، انس بن مالک سے روایت کی ہے۔ اور علی بن الحسینؑ سے روایت کی ہے۔ ضعیف ہے، اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ اور ہمارے اصحاب، کتاب سلیم بن قیس کی وضع کو اسی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔”

 

📚 رجال ابن الغضائري، ص36

 

ابنِ غضائری اور ان کا یہی کلام بہت سے لوگوں کے لیے سلیم کی کتاب اور ابان پر طعن کی بنیاد بنا ـ اور یہ معاملہ صرف مخالفینِ امامیہ تک محدود نہ رہا، بلکہ بعض امامیہ نے بھی اسی پر اعتماد کیا۔

 

ابنِ غضائری جس نے ابان کو ضعیف کہا ہے، وہ بہت سے محققین کے نزدیک قابلِ اعتماد نہیں، کیونکہ اس کتاب کا اس کی طرف ثابت طور پر منسوب ہونا یقینی نہیں، اور وہ راویوں پر جرح حدس اور اجتہاد سے کرتا تھا۔

 

⭕ چنانچہ شیخ طوسی ـ جو ابن غضائری کے معاصر ہیں ـ کہتے ہیں:

 

📜 “اس نے دو کتابیں تحریر کیں: ایک میں مصنفات کا ذکر ہے اور دوسری میں اصول کا۔ اس نے انہیں اپنی وسعت کے مطابق مکمل کیا۔ لیکن ان دونوں کتابوں کو ہمارے اصحاب میں سے کسی نے نقل نہیں کیا، اور وہ (ابنِ غضائری) خود فوت ہوگیا۔ پھر اس کے بعض ورثاء نے ان دونوں کتابوں اور دیگر کتابوں کو تلف کر دیا ـ جیسا کہ بعض نے اس کے بارے میں ذکر کیا ہے۔”

 

📚 الفہرست ص32 

 

✅ پس شیخ طوسی بات کو بالکل واضح بیان کرتے ہیں کہ ابن غضائری کی کتابیں تلف کر دی گئیں، 

 

❓تو بعد میں اس کی طرف کتاب کی نسبت کیسے ظاہر ہوئی؟

 

⭕ شیخ طہرانی کہتے ہیں:

 

📜 “ساتویں صدی میں سید ابوالفضائل احمد بن طاؤس حلّی نے حلّ الإشكال تالیف کی، اور اس میں ان چاروں رجالی اصول کے الفاظ درج کیے، جیسا کہ انہیں اپنے مشائخ سے اسناد کے ساتھ حاصل ہوئے تھے۔ اور اس میں کتاب الضعفاء کے الفاظ بھی درج کیے جو ابنِ غضائری کی طرف منسوب ہیں، حالانکہ سید نے اسے بغیر سند کے منسوب پایا ـ جیسا کہ انہوں نے وضاحت کی ہے ـ تاکہ ذمہ داری سے نکل جائیں اور کتاب میں ہر وہ چیز جمع کر دیں جو کسی راوی کے بارے میں کہی گئی ہو۔ پھر علامہ حلّی نے خلاصة میں اور ابن داود نے اپنی رجال کی کتاب میں سید کی پیروی کی، اور ان دونوں کے بعد آنے والوں نے بھی اسی پیروی پر عمل کیا۔”

 

اور مزید کہا:

 

📜 “ہم نے اس کتاب الضعفاء کو ابنِ غضائری مشہور کی طرف ـ جو طائفہ کے بزرگ اور نجاشی کے شیوخ میں سے تھے ـ منسوب کرنا اس کے حق میں بہت بڑی زیادتی ہے۔ وہ اس سے کہیں بلند ہیں کہ دین کے ستونوں پر حملہ کریں، یہاں تک کہ ان مشہور اصحابِ تقویٰ میں سے کوئی بھی ان کی جرح سے بچ نہ سکے! ظاہر یہی ہے کہ اس کتاب کا مؤلف کوئی ایسا شخص تھا جو شیعہ کے اکابر سے عناد رکھتا تھا، اور ان پر ہر ممکن طریقے سے طعن کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا اس نے یہ کتاب تصنیف کی اور ابنِ غضائری کے بعض اقوال تمویہاً اس میں شامل کر دیے تاکہ لوگ اس کی تمام باتوں کو قبول کر لیں۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔”

 

📚 الذريعة، ج10 ص81، 89

📚 الذريعة، ج4 ص290

 

⭕ شیخ حرّ عاملی کہتے ہیں:

 

📜 “ابنِ غضائری کی تضعیف کمزور ہے، اور وہ اکثر اوقات ثقات کو بھی ضعیف قرار دیتا ہے، اور اس کی ذکر کردہ وجہ صحیح نہیں ہے…”

 

📚 هداية الأمة، ج8 ص557

 

⭕ سید محسن الامین کہتے ہیں:

 

📜 “اور ابنِ غضائری کا حال معروف ہے کہ وہ ہر چیز میں تضعیف کرتا ہے، اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہا؛ لہٰذا اس کی تضعیف پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔”

 

📚 أعيان الشيعة، ج2 ص103

 

⭕ سیّد الخوئی نے اس کتاب کے بارے میں ایک اہم توقف کیا ہے، جہاں وہ کہتے ہیں:

 

📜 "جہاں تک اس کتاب کا تعلق ہے جو ابن الغضائری کی طرف منسوب ہے، تو اس کا ثابت ہونا ثابت نہیں ہے۔ علامہ نے اپنی اجازت ناموں میں اور کتابوں تک اپنے اسناد کے بیان میں اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ اس کتاب کا نجاشی اور شیخ (طوسی) کے زمانے میں موجود ہونا بھی مشکوک ہے، کیونکہ نجاشی نے اس کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ وہ امامیہ کی تصنیف کردہ کتابوں کے بیان کے لیے پوری کوشش میں تھے، یہاں تک کہ وہ ان کتابوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جنہیں انہوں نے خود نہیں دیکھا بلکہ غیر سے سنا یا دوسروں کی کتاب میں پڑھا۔ تو پھر وہ اپنے استاد حسین بن عبید اللہ یا ان کے بیٹے احمد کی کتاب کا ذکر کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ حالانکہ انہوں نے حسین بن عبید اللہ کا ترجمہ لکھا اور ان کی کتابوں کا ذکر کیا، مگر ان میں کتابِ رجال کا ذکر نہیں کیا، اور کئی مقامات پر احمد بن حسین سے نقل کیا، مگر یہ نہیں بتایا کہ ان کی کوئی کتابِ رجال تھی۔

 

ہاں، شیخ طوسی نے اپنی فہرست کے مقدمے میں ذکر کیا ہے کہ احمد بن حسین کے دو کتابیں تھیں: ایک میں مصنفات کا ذکر تھا اور دوسری میں اصول کا، اور دونوں کی تعریف کی۔ لیکن انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ بعض لوگوں نے نقل کیا ہے کہ ان کے بعض ورثہ نے ان دونوں کتابوں کو اور دوسری کتابوں کو تلف کر دیا، اور انہیں کسی نے نقل نہیں کیا۔

 

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ابن الغضائری کی طرف منسوب کتاب ثابت نہیں ہے، بلکہ بعض لوگوں نے تو صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ یہ کتاب جعلی ہے، جسے بعض مخالفین نے گھڑا ہے اور ابن الغضائری کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور اس بات کی مزید تصدیق کہ یہ کتاب صحیح طور پر ابن الغضائری کی نہیں ہے یہ ہے کہ نجاشی نے خیبری کے ترجمے میں ابن الغضائری سے نقل کیا کہ وہ اپنے مذہب میں ضعیف تھا، مگر اس منسوب کتاب میں ہے کہ وہ حدیث میں ضعیف اور غالی المذہب تھا۔ اگر یہ کتاب واقعی صحیح ہوتی تو نجاشی اس بات کا ذکر بھی ضرور کرتے۔ بلکہ اس کتاب سے نقل کرنے میں اختلاف، جیسے صالح بن عقبہ بن قیس کے ترجمے میں، بھی اس کتاب کے ثابت نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ کئی مقامات ایسے بھی ہیں کہ ایک نسخے میں ایک شخص کا ترجمہ ہے اور دوسرے میں نہیں، اور بھی کئی شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں۔"

 

📚 معجم رجال الحدیث، ج 1، ص 95 – 96۔

 

⭕ اور شیخ محقق جعفر سبحانی کہتے ہیں:

 

📜 "بلکہ عدمِ قبول کے بارے میں صحیح بات وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کہ اس کی توثیقات اور تضعیفات حس، مشاہدہ یا مشائخ و ثقہ راویوں سے سماع پر نہیں بلکہ حدس، استنباط اور متون و روایات پڑھ کر راوی کے بارے میں فیصلہ کرنے پر مبنی تھیں، اور ایسی شہادت نہ تضعیف میں حجت ہے نہ توثیق میں۔"

 

📚 کلیات فی علم الرجال، ص 103

 

https://lib.eshia.ir/27182/1/103

 

⭕ اور محی الدین الغریفی کہتے ہیں:

 

📜 "اور جب اس کتاب کی نسبت ابن الغضائری کی طرف صحیح ثابت نہیں تو اس میں وارد باتوں پر اعتماد کرنا درست نہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ انہوں نے کئی جلیل القدر ثقہ راویوں کو ایسی باتوں کی بنیاد پر مجروح کیا جو جرح کے قابل ہی نہیں۔ یہاں سے یہ احتمال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب کچھ جھوٹے لوگوں نے تصنیف کی ہو اور اسے ابن الغضائری کی طرف منسوب کر دیا ہو تاکہ ہمارے ثقہ راویوں کو مجروح کریں اور ان کی احادیث کو اعتبار سے گرا دیں۔ ابن طاووس نے اس کتاب کو دیکھا اور اپنی کتاب میں درج کر دیا، اور یہ بھی واضح کر دیا کہ اس کی طرف کوئی سند نہیں، تاکہ براءتِ ذمہ ہو جائے، اور ان کے دونوں شاگردوں نے بھی اس میں ان کی پیروی کی۔"

 

📚 قواعد الحدیث، ص 211 – 212

 

https://lib.eshia.ir/27043/1/211

 

🔴 نتیجہ

 

✅ جو لوگ ابن الغضائری کے کلام کو سلیم بن قیس اور ابان پر طعن کے لیے دلیل بناتے ہیں، یہ کہہ کر کہ ان کے پاس اس کتاب کی صحیح سند نہیں اور اس میں خلط و تصحیف ہے، تو انہیں چاہیے کہ پہلے خود ابن الغضائری کی کتاب کی ایک صحیح سند پیش کریں، کتاب بھی ثابت کریں، اور اس میں موجود خلط و اختلاف کو حل کریں۔

 

✅ ہم نے ابن الغضائری کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے، اس کی بنیاد پر کتابِ سلیم پر طعن کے لیے ان کے کلام سے استدلال درست نہیں۔

 

🗃 بدر علی 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25