آبان بن ابی عیاش اور اہل سنت محدثین
آبان بن ابی عیاش اور اہل سنت محدثین
آبان بن ابی عیاش اور اہل سنت محدثین
آبان بن ابی عیاش اور اہل سنت محدثین
آبان بن ابی عیاش اور اہل سنت محدثین
آبان بن ابی عیاش اور اہل سنت محدثین
آبان بن ابی عیاش اور اہل سنت محدثین
آبان بن ابی عیاش اور اہل سنت محدثین

🔴 آبان بن ابی عیاش کی روایت کو علما میں سے ایک عالم نے حسن قرار دیا ہے 

 

📚 اعلاء السنن

 

🔴 * امام اہلسنت أبو الفضل بن عمار الشهيد (المتوفیٰ ٣١٧ھ) اور ابان بن ابي عیاش کی روایت *

 

امام أبو الفضل بن عمار الشهيد (متوفیٰ ٣١٧ھ) نے ایک کتاب * علل الاحادیث في کتاب الصحیح مسلم بن الحجاج * یعنی انہوں نے صحیح مسلم کے علل پر کتاب لکھی ہے ۔

 

امام أبو الفضل بن عمار الشهید (متوفیٰ ٣١٧ھ) اپنی کتاب میں ایک مقام پر صحیح مسلم کی ایک روایت کا ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد کہتے ہیں : 

 

وَافقه على هَذِه الرِّوَايَة المؤمل بن إِسْمَاعِيل

وَهَذَا حَدِيث وهم فِيهِ شَيبَان والمؤمل جَمِيعًا

فَأَما المؤمل فَكَانَ قد دفن كتبه وَكَانَ يحدث حفظا فيخطئ الْكثير

 

ترجمہ : مؤمل ابن اسماعیل نے اس روایت پر ان سے موافقت کی ہے۔ 

اور یہ وہ حدیث ہے جس میں شیبان اور مؤمل دونوں کو وہم ہوا ہے۔ 

اور رہی بات مؤمل کی تو اس نے اپنی ساری کتب دفن کردی تھیں اور وہ اپنے حافظے سے حدیث بیان کرتا تھا اسی لیئے بیان حدیث میں بہت زیادہ خطا کرتا تھا۔ 

 

وَالصَّحِيح مَا رَوَاهُ الْحجَّاج بن الْمنْهَال ومُوسَى بن إِسْمَاعِيل والعبسي

 

عَن حَمَّاد عَن *أبان بن أبي عَيَّاش* عَن أنس عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم

وَعَن حَمَّاد عَن ثَابت عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم مُرْسلا مثله

وَالصَّحِيح من حَدِيث ثَابت مُرْسل وَحَدِيث أبان مُسْند ۔

 

ترجمہ : اور صحیح وہی ہے جسکی روایت حجاج ابن منہال اور موسی ابن اسماعیل نے کی اور عبسی نے کی ہے ان سب نے حماد سے اس نے *ابان ابن ابی عیاش* سے اس نے انس سے انس نے نبی (صلی اللّٰه علیه وآله وسلم) سےروایت کی ہے-

اس جیسی روایت حماد نے ثابت کے واسطے سے مرسلا" بھی نقل کی ہے۔ 

اور درست یہ ہے کہ ثابت کی حدیث مرسل ہے اور ابان کی حدیث مسند ۔

 

📚 کتاب علل الاحادیث في کتاب الصحیح مسلم بن الحجاج : ١٠٧،١٠٨

 

امام أبو الفضل بن عمار الشهید (متوفیٰ ٣١٧ھ) کا تعارف 

 

ابو الفصل بن عمار الشهید (متوفیٰ ٣١٧ھ) کو امام دارقطنی و ابن طاھر مقدسی پر بھی طبقے کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔ ابو الفضل سے علماء کی جماعت نے نقل کیا ہے جن میں حافظ بیھقی، ابن طاھر المقدسی، الذھبی، ابن حجر، النووی، ابن رجب، السیوطی اور ان جیسے دیگر شامل ہیں۔

 

امام ذھبی ان کے بارے میں سیر النبلاء میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث کے امام و حافظ اور ناقدِ مجود تھے۔ اور انہوں نے ایک جز تالیف کیا جس میں مسلم کی تقریباَ تیس احادیث کے علل کو بیان کیا گیا ہے۔ 

 

📚 سیر اعلام النبلاء ، ١٤/٥٣٨

 

ذھبی نے یہی بات اپنی کتاب تذکرہ الحفاظ میں بھی کی ہے۔

 

امام صفدی نے کتاب الوافی بالوفیات میں کہا کہ یہ بہت بڑے امام تھے اور حدیث کی علتوں کے عارف تھے۔

 

📚 الوافي بالوفیات : ٢/٢٨

 

امام سیوطی نے بھی اپنی طبقات میں اس کی موافقت کی ہے

 

📚 طبقات الحفاظ : ٣٤٨

 

نتیجہ : أبو الفضل بن عمار الشهيد (المتوفیٰ ٣١٧ھ) نے ابان بن ابی عیاش کی روایت کی تصحیح کی ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ * ابان بن ابی عیاش * أبو الفضل بن عمار الشهيد (المتوفیٰ ٣١٧ھ) کے نزدیک ثقات میں سے تھے تبھی ان کی روایت کو صحیح مسلم میں موجود روایت پر فوقیت دی ہے اور صحیح مسلم کی روایت کی سند پر کلام کرتے ہوئے کہا کہ اور اس کی سند میں ضعف ہے اور صحیح روایت وہی ہے جو حجاج بن منھال اور موسی بن اسماعیل اور عبسی نے روایت کیا ہے یعنی * عَن حَمَّاد عَن أبان بن أبي عَيَّاش عَن أنس عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم * ۔۔۔

 

پھر عرض کر رہا ہوں کہ یاد رہے ابو الفضل بن عمار الشهید علل کا امام ہے اور اس نے ابان کی روایت قبول کی ہے مخالفت ثقہ کے باوجود، جو ابو الفضل کے نزدیک ابان کے ثقہ ہونے کی نشانی ہے ۔

 

تحقیق : محقق عاقب عباس برادر حفظہ اللہ 

ترتیب : جبران علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8