Back to فدک

اگر انبیا کی وارثت ہوتی تو ام المومنین خود اپنی ہی وارثت کا راستہ کیوں بند کرتی؟

اگر انبیا کی وارثت ہوتی تو ام المومنین خود اپنی ہی وارثت کا راستہ کیوں بند کرتی؟
اگر انبیا کی وارثت ہوتی تو ام المومنین خود اپنی ہی وارثت کا راستہ کیوں بند کرتی؟

❓اگر انبیا کی وارثت ہوتی تو ام المومنین خود اپنی ہی وارثت کا راستہ کیوں بند کرتی؟

 

یہ اعتراض اکثر سننے میں آیا کہ 

 

❌ ام المومنین کو اپنی وارثت سے زیادہ رسول اللّه ص کا فرمان عزیز تھا ورنہ وہ ایسی روایت کیوں نقل کرتی کہ جس سے اس کی اپنی میراث کا راستہ بند ہو جاتا ؟

 

✅ جواب ✅

 

پہلی بات تو یہ ہے کہ 

 

▪️ یہ روایت حضرت عائشہ سے نہیں بلکہ ابوبکر سے منقول ہے اور حضرت عائشہ کو خود علم نہیں تھا اسکا جیسا کہ وہ خود اعتراف کرتی ہیں کہ

 

📜 قالت واختلفوا فى ميراثه فما وجدوا عند أحد من ذلك علما فقال أبو بكر سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول إنا معشر الأنبياء لا نورث ما تركنا صدقة 

 

📃 عائشہ نے کہا: اور وہ اس کی میراث کے بارے میں اختلاف کرنے لگے، تو انہیں اس بارے میں کسی کے پاس کوئی علم نہ ملا۔

پس ابو بکر نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

ہم گروہِ انبیاء وارث نہیں بنائے جاتے، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔

 

📚 تاریخ مدینہ دمشق ج۳۰، ص۳۱۱

 

واضح ہے کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ کسی کو بھی علم نہیں تھا، لہذا یہ خبر واحد تھی جیسا کہ خود اہل سنت مفتیان و محدثین کے اقوال آپ یہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں 👇

 

/topic/2091

 

♦️ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ازواج کی میراث کا بہت خیال رکھا گیا 

 

وارثت والی ایک اور روایت بھی ہے جو بیان نہیں کی جاتی۔

یا جان بوجھ کر چھپا دی جاتی ہے۔

 

*روایت یوں ہے* 👇🏼

 

📜 حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" *لا تقتسم ورثتي دينارا ما تركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة"*

 

📃 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے وارث میرے بعد ایک دینار بھی نہ بانٹیں ، میں جو چھوڑ جاؤں اس میں سے میری عورتوں کا خرچ اور میرے عاملوں کی تنخواہ اور نکال کر باقی سب صدقہ ہے

 

📚 صحیح بخاری

 

▪️ پہلے کہا گیا سب کچھ صدقہ ہے پھر کسی نے بتایا ہوگا کہ جناب اس طرح تو ام المومنین کو بھی کچھ نہیں ملے گا پھر کنجائش نکالی گئی ، ویسے یہ گنجائش بتاتی ہے کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی جعلی قول ہے 

 

👈 تو جناب بلکل واضح طور پر رسول اللّه نے فرمایا کہ 

 

👈 *میں جو چھوڑ کر جاؤں (یعنی میراث سے) 👉 ہماری عورتوں کا خرچہ نکال کر باقی جو باقی بچ جائے صدقہ ہے*

 

👈 وراثت میں عورتوں کا خرچہ نکالنے کے بعد بچ جانے والا مال صدقہ ہے (پہلے والا نہیں)

 

👈 یہاں تو واضح جعلی قول لانورث کی نفی ہے کیوں کہ نفقہ میراث سے تقسیم کرنے کا کہا گیا

 

👈🏻 ظاہر سی بات ہے رسول اللّه ص کی عورتوں کا یہ خرچہ میراث سے دیے جانے کا کہا گیا روایت میں تو یہ صدقہ نہیں تھا

 

ورنہ حرام ہوتا جیسا کہ سعودی مفتی نے کہا کہ 👇

 

⭕ محمد بن صالح العثيمين لکھتا یے کہ

 

📜 “اسی لئے راجح بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں صدقہ لینے کے لیے جائز نہیں،

 

📚 القرآن الکریم ، تفسیر سورہ الاحزاب ص 238

 

👈🏻 اب کیوں کہ صدقہ تو عورتوں کے خرچے کے علاوہ بچ جانے والا مال ہے۔

 

❓ اور کیوں کہ بات اس روایت میں میراث کی ہو رہی ہے۔ تو بچا ہوا مال صدقہ کرنے سے پہلے والا مال میراث کیوں نہیں ؟

 

❌ اگر کہا جائے کہ یہ میراث نہیں بلکہ نفقہ ہے

✅ تو دیا تو روایت کے مطابق میراث سے گیا

جب میراث سے دیا گیا تو انبیا کی میراث نہیں ہوتی کے کیا معنی رہ گئے ؟

 

👈 ویسے اب کیا الکافی کی روایت میں لفظ نساء میں بیٹی کو شامل کرنے والے نواسب اس روایت میں بھی لفظ نساء کے تحت بیٹی کو شامل کریں گے؟ 

 

⭕ اچھا جی یہ تو تھا صرف خرچہ اب مزید دیکھیں 👇

 

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ 

 

👈 رسول ﷺ کے بعد ، نہ صرف رسول ﷺ کے حجرے ازواج کی ذاتی ملکیت میں رہے بلکہ انہیں مزید زمینیں بھی ملکیت میں الاٹ کی جاتی رہیں 

(اور انکو بیت المال و مال خیبر سے نفقہ بھی ملتا رہا وہ الگ)

 

👈 اور جی صحیح پڑھا آپ نے کہ رسول ﷺ کے حجرے ازواج کو ذاتی ملکیت کے طور پر دئے گئے

 

♦️ جیسا کہ ہم نے پیچھے ثابت کیا تھا کہ یہ حجرے رسول ﷺ کی ملکیت تھے نہ کہ ازواج کے 👇

 

/topic/2084

 

♦️ اور جعلی قول لانورث کے مطابق رسول ﷺ کے بعد یہ حجرے بھی صدقہ ہو جانے چاہیے تھے 

 

مگر 

 

پہلے ہی ایک تو پتا نہیں کس حق کے تحت حجروں کو زاتی ملکیت کے طور پر نہ صرف پاس رکھے گئے بلکہ انہی جحروں کو آگے فروخت بھی کیا گیا۔ 👇

 

/topic/2109

 

🔴 اب تضاد ملاحظہ کریں 🔴

 

⭕ ایک طرف خود ابوبکر اپنی ہی بیان کردہ حدیث کے خلاف حجرہ رسول ﷺ کو صدقہ کے بجائے رسول ﷺ کی زاتی ملکیت سمجھتے تھے 

 

جیسا کہ کتب اہل سنت میں نقل ہوا کہ ابوبکر نے اپنی وصیت میں فرمایا

 

📜 اگر رسول ﷺ اجازت دیں تو مجھے ہجرے میں دفن کر دینا

 

پتا نہیں کہ حضرت ابوبکر اپنی ہی بات (حدیثِ لا نورث) کو مانتے تھے یا نہیں

 

👈 اگر حدیث "لا نورث ما تركناه صدقة" صحیح ہو

👈 تو رسولِ خدا ﷺ اس جگہ کے مالک نہیں رہے۔

👈 اور اگر وہ مالک نہیں تو ان سے اجازت لینا کیا معنی رکھتا ہے؟ 

خواہ وہ اجازت براہِ راست ہو، یا بالواسطہ، یا غیرطبیعی طور پر۔

 

⭕ اور دوسری طرف حضرت عائشہ اسے اپنا زاتی مکان سمجھتی تھیں 

 

▪️ جیسا کہ صحیح بخاری میں نقل ہے:

 

📜 جب عمر بن خطاب حالتِ نزع میں تھے تو انہوں نے کسی کو عائشہ کے پاس بھیجا کہ ان سے اجازت لے آئے کہ انہیں رسولِ خدا ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔

عائشہ نے کہا: 👈 اگرچہ میں نے یہ جگہ اپنے لیے محفوظ رکھی ہوئی تھی، لیکن خلیفہ عمر بن خطاب کو مجھ پر ترجیح حاصل ہے۔

 

📚 صحیح بخاری 

 

❓ کیوں بھئی کس حدیث کے تحت اپنے لئے محفوظ رکھی آپکو تو صرف حق سکونت تھا؟ 

❓ اور کس حق کے تحت اجازت دی کسی کو دفن کرنے کی؟ 

❓ کیا ذاتی ملکیت تھا؟

❓ کیا یہ حجرے بیت المال نہیں تھے؟ 

❓ ہبہ ہوئی تھی؟

❓ یا وراثت میں ملا تھا؟ 

❓ کس حدیث کے تحت فروخت کئے گئے ؟

❓ اب بتائیں کس طرح بند ہوا ام المومنین کا راستہ؟

❓ کیا ازواج کو خرچہ نہیں ملتا رہا؟

❓ کیا زمینیں نہیں ملتی رہیں؟ 

❓ کیا ام المومنین کی طرف سے رسول ﷺ کے حجرے فروخت کرکے رقم بیت المال میں جمع کروائی گئی ؟

 

📎 بدر علی 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2