Back to فدک

زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا

زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا
زوجہ رسولؐ کا بطور ملکیت رسولؐ کے حجرے کو بیچنا

🔴 زوجہ رسول ﷺ کا رسول ﷺ کے حجرے کو بیچنا

 

جیسا کہ ہم پوسٹ کیا تھا کہ مفتیان و محدثین اہل سنت کے مطابق ازواج رسول ﷺ کو ان حجروں میں صرف حق سوکنت تھا ۔ یہ انکی زاتی ملکیت نہیں تھی 👈 /topic/2084

 

🔵 مگر بعد میں انہی حجروں کو زاتی ملکیت سمجھ کر فروخت کر دیا گیا جبکہ یہی وراثت/صدقہ جو ان پر خود بھی حرام تھا

 

▪️ کتاب بیوت صحابہ میں نقل ہوا کہ 

 

📜 ان کا حجرہ (کمرہ) روضۂ مبارک کی مشرقی سمت میں تھا اور اسی پر کھلتا تھا۔

جنوب کی طرف اس سے ملحق حضرت حفصہؓ کا حجرہ تھا،

شمال کی طرف حضرت فاطمہؓ کا حجرہ تھا،

اور مشرق کی طرف حضرت سودہؓ کا حجرہ تھا اللہ سب سے راضی ہو۔

 

رسولِ خدا ﷺ نے اسی حجرے (عائشہؓ والے) میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔

 

ابن الجوزی (متوفی 597ھ) نے نقل کیا ہے کہ معاویہ نے یہ حجرہ سیدہ عائشہؓ سے ایک لاکھ اسی ہزار (۱،۸۰۰۰۰) میں خریدا،

اور بعض کے مطابق اسی ہزار میں،

اور یہ شرط رکھی کہ وہ اپنی زندگی تک اسی میں رہیں گی۔

پھر جب مال ان کے پاس لایا گیا تو وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھیں اور اسے فوراً تقسیم کر دیا۔

 

اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حجرہ عبداللہ بن زبیرؓ نے خریدا،

اور انہوں نے پانچ اونٹوں پر لدے ہوئے مال کی رقم عائشہؓ کو بھیجی،

تو انہوں نے سارا مال تقسیم کر دیا۔

لوگوں نے کہا: “کاش آپ نے اس میں سے ایک درہم اپنے لیے رکھ لیا ہوتا!”

 

📚 کتاب بیوت صحابہ ص 25 

 

▪️ اسی طرح ذھبی نے لکھا کہ 

 

📜 زہری کی روایت معمر اور اوزاعی دونوں نے ان سے یہ حدیث نقل کی ہے، اور اوزاعی کے الفاظ یوں ہیں:

 

مجھے عوف بن طُفَیل بن حارث ازدی نے خبر دی جو عائشہ کی ماں کی طرف سے ان کے بھانجے تھے کہ:

 

عائشہؓ کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن زبیر ایک گھر میں تھا جو عائشہؓ نے بیچ دیا تھا۔

عبداللہ بن زبیر اس گھر کی بیع (فروخت) پر ناراض ہوا اور کہنے لگا:

 

“خدا کی قسم، عائشہ اگر اپنی جائیدادیں بیچنا بند نہیں کرے گی، تو میں اس پر حَجْر (تصرف سے روک) لگا دوں گا!”

 

عائشہؓ نے کہا: “کیا واقعی اس نے یہ بات کہی ہے؟”

لوگوں نے کہا: “ہاں، اس نے یہ کہا تھا۔”

 

تو عائشہؓ نے کہا:

 

“میرے اوپر یہ نذر ہے کہ میں اس سے بات نہیں کروں گی

یہاں تک کہ موت ہم دونوں کے درمیان جدائی ڈال دے۔”

 

📚 سیر علام النبلاء ج2 ، ص183،184

 

▪️ اسی ابن جوزی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ

 

📜 اور صفیّہ بنت حیی کے ورثاء نے ان کا گھر معاویہ کو ایک لاکھ اسی ہزار درہم میں فروخت کیا۔

اور معاویہ نے عائشہؓ کا گھر بھی ایک لاکھ اسی ہزار میں خریدا،

اور بعض کے مطابق اسی ہزار میں۔

 

اور ان کے لیے یہ شرط رکھی کہ وہ اپنی زندگی بھر اس میں رہیں گی۔

پھر جب مال ان کے پاس لایا گیا تو وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھیں اور سارا مال تقسیم کر دیا۔

 

اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ گھر ابنِ زبیر نے عائشہؓ سے خریدا،

انہوں نے پانچ اونٹ بھر کر مال عائشہؓ کے پاس بھیجا،

اور ان کے لیے زندگی بھر رہنے کی شرط رکھی،

تو انہوں نے وہ سارا مال تقسیم کر دیا۔

 

📚 الوفا بااحوال مصطفیٰ ج 1 ص 405

 

⭕ محمد بن صالح العثيمين لکھتا یے کہ

 

📜 “اسی لئے راجح بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں صدقہ لینے کے لیے جائز نہیں،

کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ‘صدقہ آلِ محمد کے لیے حلال نہیں’،

اور بیویاں یقیناً آلِ رسول میں داخل ہیں جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔

 

📚 القرآن الکریم ، تفسیر سورہ الاحزاب ص 238

 

⁉️ اب کچھ سوالات

 

❓ آپ نے کہا کہ ’لا نورث ما تركنا صدقة" اسلئے بیٹی کو وراثت میں کوئی حصہ نہیں مل سکتا ، 

 

❓ تو عائشہ کے لیے نبی ﷺ کا وہی صدقاتی حجرہ کیسے حلال ہو گیا؟ کیوں کہ محمد بن صالح العثيمين نے کہا کہ ازواج کیلئے بھی حرام ہے صدقہ

 

❓ اگر ہر ترکہ ہی صدقة ہے، تو بیوی پر تو صدقہ حرام ہے جیسا کی محمد بن صالح العثيمين نے کہا ، تو کس حق سے حجرے سیل کئے گئے؟

 

❓ اور اگر یہ وراثتی حجرے ’’بیت المال‘‘ سے دینا جائز تھا تو بیٹی (فاطمہؑ) بیوی (عائشہ) سے کم حق دار کیسے؟

 

❓ اگر اہلِ سنت کہتے ہیں ’’یہ وراثت نہیں تھا نفقہ تھا‘‘ 

تو پھر حدیث ’’صدقہ آلِ محمد پر حرام ہے‘‘ کا اطلاق کیوں نہیں ہوا؟ 

 

👈 کیونکہ یہ حجرے اسی بیت المال سے دیے گئے جہاں یہ حجرے اولاد و زواج پر صدقات حرام ہونے کی وجہ سے جمع کئے گئے 

 

❓ اور نفقہ میں زمین لینے اور فروخت کرنے کا حق کہاں سے آ گیا؟

 

اگر یہ نفقہ تھا، تو:

 

❌ نفقہ بیچا نہیں جا سکتا

❌ نفقہ زمین کی ملکیت نہیں بن سکتا

 

👈 مگر اہلِ سنت تسلیم کرتے ہیں کہ

 

✔ بعض ازواج نے خیبر کی زمینیں بیچ دیں

✔ یہ ملکیت سمجھ کر تصرف کیا گیا

 

✅ تو پھر یہ ’’نفقہ‘‘ نہیں ملکیت بنائی گئی۔

 

اور ملکیت صرف دو طریقوں سے ملتی ہے:

 

1⃣. وراثت

2⃣. ہبہ/ملک شخصی

 

اگر وراثت نہیں (حدیث کے مطابق)، اور صدقہ بھی ان پر حرام ، تو یہ بیچنے کی ملکیت کس بنیاد پر دی گئی؟

 

⭕ اگر بیویاں آلِ محمد میں داخل ہیں:

 

تو حدیث کے مطابق صدقہ ان پر حرام ہونا چاہیے۔

لیکن جب خیبر اور فدک ’’صدقہ‘‘ قرار دیے گئے پھر بھی جب

 

➡ بیویوں کو دیئے گئے تو حلال کیسے ہوئے؟

➡ اور سیدہ فاطمہؑ کو مانگنے پر حرام کیسے ہوگئے؟

 

یہ دوہرا معیار ’’لا نورث‘‘ حدیث کی صحت پر سب سے بڑی ضرب ہے۔

 

⭕ اگر بیویاں ’آلِ محمد‘ میں داخل نہیں جیسا کہ بعض سنی علما کہتے ہیں:

 

تو پھر یہ مشکل کھڑی ہوتی ہے:

 

▪️ بیویاں آلِ محمد میں نہیں تو صدقہ ان پر حرام نہیں

▪️ لیکن تمام اہلِ سنت نے بیویوں کے لیے صدقہ حرام مانا انہیں آلِ محمد میں شمار کیا

 

دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔

 

🔴 تضاد 👇

 

⭕ ایک طرف خود ابوبکر اپنی ہی بیان کردہ حدیث کے خلاف حجرہ رسول ﷺ کو صدقہ کے بجائے رسول ﷺ کی زاتی ملکیت سمجھتے تھے 

 

جیسا کہ کتب اہل سنت میں نقل ہوا کہ ابوبکر نے اپنی وصیت میں فرمایا

 

📜 اگر رسول ﷺ اجازت دیں تو مجھے ہجرے میں دفن کر دینا

 

پتا نہیں کہ حضرت ابوبکر اپنی ہی بات (حدیثِ لا نورث) کو مانتے تھے یا نہیں

 

👈 اگر حدیث "لا نورث ما تركناه صدقة" صحیح ہو

👈 تو رسولِ خدا ﷺ اس جگہ کے مالک نہیں رہے۔

👈 اور اگر وہ مالک نہیں تو ان سے اجازت لینا کیا معنی رکھتا ہے؟ 

خواہ وہ اجازت براہِ راست ہو، یا بالواسطہ، یا غیرطبیعی طور پر۔

 

⭕ اور دوسری طرف حضرت عائشہ اسے اپنا زاتی مکان سمجھتی تھیں 

 

▪️ جیسا کہ صحیح بخاری میں نقل ہے:

 

📜 جب عمر بن خطاب حالتِ نزع میں تھے تو انہوں نے کسی کو عائشہ کے پاس بھیجا کہ ان سے اجازت لے آئے کہ انہیں رسولِ خدا ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔

عائشہ نے کہا: اگرچہ میں نے یہ جگہ اپنے لیے محفوظ رکھی ہوئی تھی، لیکن خلیفہ عمر بن خطاب کو مجھ پر ترجیح حاصل ہے۔

 

📚 صحیح بخاری 

 

❓ کیوں بھئی کس قانون کے تحت اپنے لئے محفوظ رکھی آپکو تو صرف حق سکونت تھا؟ 

❓ اور کس حق کے تحت اجازت دی کسی کو دفن کرنے کی؟ 

❓ کیا ذاتی ملکیت تھا؟

❓ ہبہ ہوئی تھی؟

❓ یا وراثت میں ملا تھا؟ 

 

✅ جبکہ وراثت یہ مانتے نہیں اور زاتی ملکیت تھی نہیں

 

🔴 نتیجہ: 

 

(1) اگر ترکہ ’’صدقہ‘‘ تھا تو بیویوں کو دینا حرام تھا۔

 

(2) اگر یہ ’’نفقہ‘‘ تھا تو زمین کی ملکیت اور فروخت کیسے جائز ہوئی؟

 

(3) اگر بیویاں آلِ محمد ہیں تو صدقہ ان پر حرام ہے، ملا کیوں؟

 

(4) اگر بیویاں آلِ محمد نہیں تو ’’امہات المؤمنین‘‘ ہونے سے مال لینے کا حق کیسے؟

 

🔴 جو بھی راستہ اختیار کریں، نتیجہ یہی نکلتا ہے:

سیدہ فاطمہؑ کا حق روکا گیا، جبکہ بعد میں اسی مال میں ازواج نبی کو ترجیح دی گئی۔

 

بدر علی

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13