Back to فدک

کیا رسولِ خدا ص کی ازواج حجروں کی مالک تھیں

کیا رسولِ خدا ص  کی ازواج حجروں کی مالک تھیں
کیا رسولِ خدا ص  کی ازواج حجروں کی مالک تھیں
کیا رسولِ خدا ص  کی ازواج حجروں کی مالک تھیں
کیا رسولِ خدا ص  کی ازواج حجروں کی مالک تھیں
کیا رسولِ خدا ص  کی ازواج حجروں کی مالک تھیں
کیا رسولِ خدا ص  کی ازواج حجروں کی مالک تھیں

🔴 کیا رسولِ خدا ﷺ کی ازواج حجروں کی مالک تھیں 

 

❓ مطلب انہیں ہبہ کیا گیا تھا ؟

 

▪️اہلِ سنت کا یہ دعویٰ کہ یہ حجرے (گھر) رسولِ خدا ﷺ کی ازواج کی ملکیت تھے اس بارے میں ان کے پاس ایک بھی ضعیف یا مرسل روایت موجود نہیں کہ جس میں یہ آیا ہو کہ رسولِ خدا ﷺ نے یہ گھر اپنی بیویوں کو تحفے میں دیے ہوں۔ یا ہبہ کئے ہوں۔

 

ہماری بات یہ ہے کہ قرآن نے انہیں

 

✅ حُجُراتُ النَّبِی کہا ہے، 

❌ نہ کہ “حُجُراتُ أزواجِ النَّبی

 

⭕ اہلِ سنت کے بڑے علماء میں سے ابنِ حجر عسقلانی واضح طور پر کہتا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کی بیویاں صرف ان حجرات کے انتفاع (یعنی فائدہ) کی مالک تھیں، ملکیت کی نہیں۔ 

 

وہ کہتا ہے:

 

📜 الواقع إنها كانت تملك منفعته بالسكني و الإسكان و لا يورث عنها و حكم أزواج النبي صلي الله عليه و سلم كالمعتدات، لأنهن لا يتزوجن بعده صلي الله عليه و سلم.

 

📃 ”حقیقت یہ ہے کہ وہ (ازواج) ان کمروں کی منفعت کی مالک تھیں رہنے اور کسی کو رہنے دینے کے حق کی لیکن یہ کمرے ان کی ملکیت نہ تھے، نہ ان سے وراثت میں منتقل ہوتے تھے۔ اور ازواجِ نبی ﷺ کا حکم مطلقہ عورتوں کی طرح ہے، کیونکہ وہ نبی ﷺ کے بعد کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتیں۔“

 

یعنی ازواجِ رسول ﷺ صرف فائدہ اٹھانے کا حق رکھتی تھیں، لیکن مالک نہیں تھیں، اس لیے وہ ان سے وراثت میں بھی منتقل نہیں ہو سکتے تھے۔

 

ان کا حکم ایسی عورتوں جیسا تھا جو عدت گزار رہی ہوں، کیونکہ وہ نبی ﷺ کے بعد کسی سے شادی نہیں کر سکتیں، اس لیے انہیں بس رہائش دی گئی، ملکیت نہیں۔

 

📚 فتح الباري، ابن حجر عسقلاني، ج 7، ص 53

📚 نيل الأوطار، شوکانی، ج 6، ص 61

 

ابن حجر عسقلانی فتح الباري جلد 6، صفحہ 148 پر مزید صراحت کرتا ہے:

 

📜 “عدمِ ملکیت کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اگر یہ گھر ازواجِ نبی ﷺ کی ملکیت ہوتے تو ان کی وفات کے بعد ان کے وارثوں کو منتقل ہوتے۔“

 

لیکن تاریخ میں ایک بھی مثال موجود نہیں کہ رسولِ خدا ﷺ کی کسی زوجہ کی وفات کے بعد ان کے کمرے ان کے ورثا کو ملے ہوں۔

 

💯 یہی بات ثابت کرتی ہے کہ یہ گھر ان کی ملکیت تھے ہی نہیں۔

 

مزید عجیب یہ ہے کہ ابن حجر کہتا ہے: 

 

📜 و يؤيده ـ يعني عدم الملك ـ ... لو كانت البيوت ملكا لهن، لانتقلت إلي ورثتهن.

 

📃 ان کے پاس صرف حقِ سکونت تھا، اور ان گھروں کی اصل منفعت عام مسلمانوں کے لیے تھی۔ چونکہ یہ ازواج ہمیشہ کی عدت میں تھیں، اس لیے وہ اپنی زندگی کے اختتام تک وہیں رہیں۔

 

https://shamela.ws/book/1673/3405

 

⭕ علامہ بدرالدین عینی بھی صاف کہتے ہیں:

 

📜 أن سكني أزواج النبي صلي الله عليه و سلم في بيوت النبي صلي الله عليه و سلم من الخصائص، فلما إستحققن النفقة لحبسهن إستحققن السكني ما بقين

 

📃 “ازواجِ نبی ﷺ کا نبی ﷺ کے گھروں میں رہنا ان کی خصوصی صفات میں سے ہے۔ جب انہیں نفقہ اس وجہ سے ملا کہ وہ گھروں میں روک لی گئی تھیں، تو اسی طرح رہائش بھی انہیں اسی حالت میں باقی رہنے تک ملی۔“

 

📚 عمدة القاري، للعيني، ج 15، ص 29

 

✅ یعنی یہ صرف حقِ سکونت تھا، ملکیت نہیں۔ نہ ہی ہبہ ہوا۔

✅ اور واضح ہے کہ ان حجروں کے اصل مالک رسول ﷺ تھے 

 

▪️میرے سوال ہیں کہ وصالِ رسول ﷺ کے بعد ازدواج کو یہ جو حق حاصل تھا مکان میں رہنے کا

 

❓وہ حق بعد از وصالِ رسولؐ بھی رسولؐ کے ہی مکان میں رہنے کا حق حاصل تھا؟

 

👈 اگر رسول ﷺ کے تھے تو حدیث لانورث بے معنی

 

❓وہ حق مکانِ رسولؐ میں نہیں بلکہ اُمت کو صدقہ کئے گئے مکان میں حقِ سکونت تھا؟

 

👈 تو حضرت عائشہ کا اس مکان میں اپنے لیے دفن ہونے کی جگہ رکھنا اور کسی کو دفن کی اجازت دینا باطل ہے

 

❓وہ مکانِ رسولؐ جہاں حق سکونت حاصل وہ ازدواج کی وفات کے بعد صدقہ ہوں گے

 

👈 جبکہ یہ بلکل ہی غلط بات ہے 

 

🔴 تضاد 👇

 

⭕ ایک طرف خود ابوبکر اپنی ہی بیان کردہ حدیث کے خلاف حجرہ رسول ﷺ کو صدقہ کے بجائے رسول ﷺ کی زاتی ملکیت سمجھتے تھے 

 

جیسا کہ کتب اہل سنت میں نقل ہوا کہ ابوبکر نے اپنی وصیت میں فرمایا

 

📜 اگر رسول ﷺ اجازت دیں تو مجھے ہجرے میں دفن کر دینا

 

پتا نہیں کہ حضرت ابوبکر اپنی ہی بات (حدیثِ لا نورث) کو مانتے تھے یا نہیں

 

👈 اگر حدیث "لا نورث ما تركناه صدقة" صحیح ہو

👈 تو رسولِ خدا ﷺ اس جگہ کے مالک نہیں رہے۔

👈 اور اگر وہ مالک نہیں تو ان سے اجازت لینا کیا معنی رکھتا ہے؟ 

خواہ وہ اجازت براہِ راست ہو، یا بالواسطہ، یا غیرطبیعی طور پر۔

 

⭕ اور دوسری طرف حضرت عائشہ اسے اپنا زاتی مکان سمجھتی تھیں 

 

▪️ جیسا کہ صحیح بخاری میں نقل ہے:

 

📜 جب عمر بن خطاب حالتِ نزع میں تھے تو انہوں نے کسی کو عائشہ کے پاس بھیجا کہ ان سے اجازت لے آئے کہ انہیں رسولِ خدا ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔

عائشہ نے کہا: اگرچہ میں نے یہ جگہ اپنے لیے محفوظ رکھی ہوئی تھی، لیکن خلیفہ عمر بن خطاب کو مجھ پر ترجیح حاصل ہے۔

 

📚 صحیح بخاری 

 

❓ کیوں بھئی کس قانون کے تحت اپنے لئے محفوظ رکھی آپکو تو صرف حق سکونت تھا؟ 

❓ اور کس حق کے تحت اجازت دی کسی کو دفن کرنے کی؟ 

❓ کیا ذاتی ملکیت تھا؟

❓ ہبہ ہوئی تھی؟

❓ یا وراثت میں ملا تھا؟ 

 

✅ جبکہ وراثت یہ مانتے نہیں اور زاتی ملکیت تھی نہیں

 

👈 لہٰذا وہ تمام دعوے جو یہ حضرات کرتے ہیں کہ “یہ گھر عائشہ کا تھا”، اور پھر یہ کہ اسی لیے ان کے والد اور بعد میں خلیفہ دوم کو وہیں دفن کیا گیا یہ سب دعوے خود اہلِ سنت کے اپنے اصولوں کے خلاف ہیں۔ کیوں کہ انہیں صرف حق سکونت تھا

 

بدر علی

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6