🔴 انبیاء کا ایک دوسرے سے میراث پانا
👈 سورہ بقرہ آیت 248 کی روشنی میں
⭕ اس باطل دعوے کا رد کہ انبیاء کوئی میراث نہیں چھوڑتے
Post No 1⃣
▪️ یہ ایک تاریخی مسلّم حقیقت ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی میراث کو غصب کیا گیا، حالانکہ وہ ان کا مسلم حق تھا، مگر اسے ایک جھوٹ اور باطل دعوے کی بنیاد پر چھین لیا گیا۔ وہ باطل دعویٰ جس پر مخالفین اور دشمنانِ حضرت فاطمہ (س) نے استدلال کیا، یہ تھا کہ انبیاء اپنی وفات کے بعد کوئی میراث نہیں چھوڑتے۔ اس دعوے کا بطلان کئی دلائل سے ثابت ہوتا ہے، جن میں سے ایک دلیل یہاں پیش کی جاتی ہے۔
سب سے پہلے اس آیتِ کریمہ پر غور کریں:
📜 وَقَالَ لَهُمْ نِبِیُّهُمْ إِنَّ آیَةَ مُلْکِهِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِکَةُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ
📃 "اور اُن کے نبی نے ان سے کہا: اس کی حکومت کی نشانی یہ ہے کہ وہ تابوت تمہارے پاس آئے گا؛ وہ تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے سکون ہے، اور موسیٰ اور ہارون کے خاندان کی نشانیوں کا کچھ حصہ ہے، فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اس میں تمہارے لیے ایک واضح نشانی ہے۔"
📚 سورہ بقرہ، آیت 248
⭕ اس آیت میں جس تابوت کا ذکر ہے، اس پر اہلِ سنت کی تفاسیر میں کیا لکھا ہے؟ تو دیکھیے:
1⃣ تفسیر
📜 "اور (آیت میں) کہا گیا: ‘تمہارے پاس تابوت آئے گا’۔ وہ ایک تابوت تھا جو اللہ نے آدم علیہ السلام پر اتارا تھا، اور اس میں انبیاء کی تصویریں تھیں۔ بنی اسرائیل اسی تابوت کے ذریعے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کرتے تھے…"
📚 الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز، ص 179
یعنی آیت میں مذکور تابوت وہی ہے جسے بنی اسرائیل جنگوں میں بطور نصرت اپنے ساتھ رکھتے تھے۔
❓اب سوال یہ ہے کہ یہ تابوت آدم علیہ السلام سے بعد کے انبیاء اور پھر بنی اسرائیل تک کیسے پہنچا؟
تفسیر 2⃣
📜 "مفسرین نے کہا ہے کہ یہ تابوت موسیٰ اور ہارون کے دور سے بنی اسرائیل کے پاس تھا، اور وہ اسے ایک دوسرے سے وراثت میں لیتے آئے تھے"
📚 تفسیر طبری، ج4، ص459
3⃣ تفسیر
📜 "اور اُن کے نبی نے ان سے کہا: تمہارے پاس تابوت آئے گا…
اس تابوت کی داستان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک تابوت آدم علیہ السلام پر اتارا تھا، جس میں انبیاء کی تصویر تھی۔ یہ شمشاد کی لکڑی کا بنا ہوا تھا، تقریباً تین ہاتھ لمبا اور دو ہاتھ چوڑا۔ یہ تابوت آدم کے پاس رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ پھر یہ شیث کے پاس رہا، اور پھر یہ اولادِ آدم میں نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا۔
پھر یہ اسماعیل کے پاس رہا کیونکہ وہ ان کے بڑے بیٹے تھے۔ پھر یہ یعقوب کے پاس آیا، پھر بنی اسرائیل کے پاس رہا، یہاں تک کہ موسیٰ تک پہنچا۔ موسیٰ اس میں تورات اور اپنی ضروری اشیاء رکھتے تھے۔ یہ تابوت اُن کے پاس رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا…"
📚 تفسیر بغوی، ج1، ص298
✅ اس آیت { وَقَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ إِنَّ آیَةَ مُلْکِهِ أَنْ یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ } کے بارے میں یہ بیان ہے کہ تابوت کی داستان یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم پر ایک تابوت نازل کیا جس میں انبیاء کی تصویریں تھیں۔ یہ تابوت شمشاد کی لکڑی کا بنا ہوا تھا، جس کی لمبائی تقریباً تین ہاتھ اور چوڑائی دو ہاتھ تھی۔ یہ تابوت حضرت آدم کے پاس رہا، پھر جب ان کا انتقال ہوا تو حضرت شیث نبی نے اسے میراث میں پایا۔ پھر اولادِ آدم اسے ایک دوسرے سے وراثت میں لیتی چلی گئی یہاں تک کہ یہ حضرت ابراہیم تک پہنچا۔ پھر یہ حضرت اسماعیل کے پاس رہا، کیونکہ وہ ان کے سب سے بڑے بیٹے تھے، اور پھر حضرت یعقوب کے پاس آیا۔ اس کے بعد یہ بنی اسرائیل کے پاس رہا، اور حضرت موسیٰ اس میں تورات اور اپنی کچھ چیزیں رکھتے تھے۔ یہ تابوت حضرت موسیٰ کے پاس رہا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا…
4⃣ تفسیر
تفسیر رازی کا بیان:
📜 "اصحابِ اخبار نے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام پر ایک تابوت نازل کیا جس میں ان کے اولاد میں سے انبیاء کی تصویریں تھیں۔ پھر اولادِ آدم اسے وراثت میں لیتی رہی یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب تک پہنچا۔ پھر یہ بنی اسرائیل کے پاس رہا، اور جب بھی وہ کسی مسئلے میں اختلاف کرتے، تابوت بولتا اور ان کے درمیان فیصلہ کرتا، اور جب وہ جنگ کے لیے نکلتے تو اسے اپنے آگے رکھتے اور اس کے ذریعے اپنے دشمن پر فتح طلب کرتے…"
📚 تفسیر الرازی،ج6،ص1506 ط دار الفکر
5⃣ تفسیر
تفسیر خازن کا بیان:
📜 "تابوت کی داستان، جیسا کہ سیرت نگاروں اور اہلِ اخبار نے ذکر کیا ہے، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم پر ایک تابوت نازل کیا جس میں انبیاء کی تصویریں تھیں۔ یہ تابوت شمشاد کی لکڑی کا تھا، اس کی لمبائی تین ہاتھ اور چوڑائی دو ہاتھ تھی۔ یہ حضرت آدم کے پاس تھا، پھر حضرت شیث کے پاس آیا، پھر اولادِ آدم اسے وراثت میں لیتی رہی یہاں تک کہ حضرت ابراہیم تک پہنچا۔ پھر یہ حضرت اسماعیل کے پاس رہا کیونکہ وہ ان کے بڑے بیٹے تھے۔ پھر یہ حضرت یعقوب کے پاس آیا، پھر بنی اسرائیل میں رہا، اور پھر حضرت موسیٰ تک پہنچا۔ حضرت موسیٰ اس میں تورات اور اپنی کچھ اشیاء رکھتے تھے۔ یہ تابوت ان کے پاس تھا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، پھر بنی اسرائیل کے انبیاء کے درمیان اسی طرح منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ یہ نبی اشموئیل کے زمانے تک پہنچا…"
📚 تفسیر الخازن،ج1،ص181 ط دار الکتب العلمیة
6⃣ تفسیر
بیان المعانی کا بیان:
📜 "شیث علیہ السلام نے اس تابوت کو وراثت میں پایا، اور پھر ان کی اولاد نے اسے وراثت میں پایا، یہاں تک کہ یہ ابراہیم، اسماعیل اور پھر یعقوب تک پہنچا۔ پھر یہ موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، اور حضرت موسیٰ اس میں تورات اور کچھ مقدس چیزیں رکھتے تھے۔ پھر یہ بنی اسرائیل کے انبیاء نے وراثت میں پایا، اور وہ اس کے ذریعے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت حاصل کرتے اور اس کے ذریعے شفا طلب کرتے تھے…"
📚 بیان المعانی،ج5،ص214 ط مطبعة الترقی دمشق
http://shamela.ws/browse.php/book-23595#page-2419
7⃣ السراج المنیر للشربینی الشافعی (ج1 / ص161):
📜 "اور ان سے ان کے نبی نے کہا" — جب انہوں نے (تعلوت کی بادشاہت) قبول کر لی اور اس سے نشانی طلب کی جو اللہ کے چناؤ پر دلالت کرے — "بے شک اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تابوت آئے گا"۔ یعنی ایک صندوق، جس میں انبیاء کی تصویریں تھیں، اللہ تعالیٰ نے اسے آدم علیہ السلام پر اتارا تھا۔ یہ شمشاد کی لکڑی کا تھا — جس سے کنگھے بنائے جاتے ہیں — اور سونے سے مزین تھا، جس کی لمبائی تقریباً تین ہاتھ اور چوڑائی دو ہاتھ تھی۔ یہ آدم کے پاس تھا، پھر شیث کے پاس آیا، پھر آدم کی اولاد میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ ابراہیم تک پہنچا۔ پھر اسماعیل کے پاس رہا کیونکہ وہ ان کے بڑے بیٹے تھے، پھر یعقوب کے پاس آیا، پھر بنی اسرائیل کے پاس رہا، یہاں تک کہ موسیٰ تک پہنچا۔
8⃣ تفسیر أبی السعود ص241:
📜 یہاں تک کہ وہ طالوت کے پاس آ گیا۔ یہ ابن عباس کا قول ہے۔ اور اربابِ اخبار نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم پر ایک تابوت اتارا جس میں ان کی اولاد کے انبیاء کی تصویریں تھیں۔ وہ شمشاد کی لکڑی کا تھا، تقریباً تین ہاتھ لمبا اور دو ہاتھ چوڑا۔ یہ آدم کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر ان کی اولاد اسے ایک کے بعد ایک وراثت میں لیتی رہی، یہاں تک کہ یعقوب تک پہنچا۔
9⃣ روح البيان للخلوتي (ج1 / ص385):
📜 "کہ تمہارے پاس تابوت آئے" یہ لفظ "توب" (رجوع) سے ہے، اور اسے تابوت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں چیزیں رکھی جاتی ہیں جن کی طرف واپس رجوع کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد تورات کا صندوق ہے۔ اللہ نے اسے موسیٰ کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے گناہوں پر ناراضی کے طور پر اٹھا لیا تھا۔ پھر جب قوم نے اپنے نبی سے طالوت کی بادشاہت کی نشانی طلب کی تو اس نے کہا کہ نشانی یہ ہے کہ تابوت آسمان سے آئے گا اور فرشتے اسے لائیں گے۔ وہ ان کی نگاہوں کے سامنے آیا، یہاں تک کہ طالوت کے پاس اتر گیا۔ یہ ابن عباس کا قول ہے۔ اور اربابِ اخبار نے کہا کہ اللہ نے آدم پر ایک تابوت اتارا جس میں ان کی اولاد کے انبیاء کی تصویریں تھیں۔ وہ شمشاد کی لکڑی کا تھا، تقریباً تین ہاتھ لمبا اور دو ہاتھ چوڑا۔ یہ آدم کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر اولاد میں منتقل ہوتا ہوا یعقوب تک پہنچا۔
🔟 تفسیر الآلوسی (ج1 / ص559):
📜 اس سے مراد ایک صندوق ہے جس سے بنی اسرائیل برکت حاصل کرتے تھے اور وہ ان سے کھو گیا تھا۔ اس بارے میں اختلاف ہے۔ اربابِ اخبار نے کہا: وہ صندوق اللہ نے آدم پر اتارا تھا جس میں تمام انبیاء کی تصویریں تھیں۔ وہ شمشاد کی لکڑی کا تھا، تین ہاتھ لمبا اور دو ہاتھ چوڑا۔ وہ ہمیشہ ایک باعزت شخص سے دوسرے کو منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ یعقوب تک پہنچا، پھر ان کی اولاد کے پاس رہا، یہاں تک کہ بنی اسرائیل موسیٰ کے بعد بگڑ گئے، تو اللہ نے ان پر عمالقہ کو مسلط کر دیا۔
1⃣1⃣ بیان المعانی لعبدالقادر العانی (ج5 / ص213):
📜 "اور ان سے ان کے نبی نے کہا: بے شک اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تابوت آئے گا" وہ تابوت جو تم سے گم ہو گیا تھا۔ اس میں "ال" عہد کے لیے ہے، کیونکہ وہ ان کے اسلاف اور انبیاء کی روایات سے معروف تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ نے آدم علیہ السلام پر ایک تابوت اتارا تھا جس میں انبیاء کی تصویریں تھیں۔ وہ شمشاد کی لکڑی کا تھا، تین ہاتھ لمبا اور دو ہاتھ چوڑا۔ میں نے اس کی حقیقت اور نوعیت کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں پایا۔ اسے شیث نے وراثت میں لیا، پھر ان کی اولاد میں منتقل ہوتا ہوا ابراہیم، پھر اسماعیل، پھر یعقوب تک پہنچا۔ پھر موسیٰ تک پہنچا، جو اس میں تورات اور مقدس اشیاء رکھتے تھے۔ پھر انبیاء بنی اسرائیل نے اسے وراثت میں لیا، اور وہ اس کے ذریعے دشمنوں پر مدد طلب کرتے تھے اور شفا حاصل کرتے تھے۔
1⃣2⃣ البحر المحیط لابن حیان (ج2 / ص581):
📜 اور ظاہر یہ ہے کہ وہ ایک ایسا تابوت تھا جس کی حقیقت بنی اسرائیل کے ہاں معروف تھی۔ وہ اسے کھو بیٹھے تھے اور اس میں وہ سب کچھ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، جس کی کیفیت اللہ نے مبہم رکھی ہے، اور اس کی تعیین بیان نہیں کی۔ اور یہ کہ فرشتے اسے اٹھاتے تھے۔ اور ہم مختصر طور پر مفسروں اور مؤرخوں کی باتوں میں سے کچھ ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم پر ایک تابوت اتارا جس میں انبیاء کی تصویریں تھیں، اور ان کی تعداد کے مطابق گھر تھے، اور آخری گھر محمد ﷺ کا تھا۔ پھر آدم کے بعد ان کی اولاد نے اسے منتقل کیا شیث اور ان کے بعد یہاں تک کہ ابراہیم تک پہنچا۔ پھر یہ اسماعیل کے پاس رہا، پھر ان کے بیٹے قیدار کے پاس۔
1⃣3⃣ اللباب فی علوم الکتاب لابن عادل (ج … / ص274):
📜 اخبار کے اصحاب نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم پر ایک تابوت اتارا جس میں ان کی اولاد کے انبیاء کی تصویریں تھیں، اور یہ شمشاد کی لکڑی کا تھا جس کی لمبائی تقریباً تین ہاتھ اور چوڑائی دو ہاتھ تھی۔ یہ آدم کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہوئے، پھر ان کی اولاد نے اسے وراثت میں لیا یہاں تک کہ یعقوب تک پہنچا۔ پھر بنی اسرائیل کے ہاتھوں میں رہا یہاں تک کہ موسیٰ تک پہنچا۔ موسیٰ اس میں تورات اور اپنا کچھ سامان رکھتے تھے، اور وہ ان کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہوئے۔
1⃣4⃣ تفسیر الجلالین للسيوطی ص 54:
📜 "اور ان کے نبی نے ان سے کہا" جب انہوں نے اس کی بادشاہت کی نشانی طلب کی "بے شک اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تابوت آئے گا"۔ یہ صندوق تھا جس میں انبیاء کی تصویریں تھیں، جسے اللہ نے آدم پر اتارا تھا اور وہ ان کے پاس چلتا رہا۔
🔴 نکاتِ اہم:
1. اس آیت اور اہلِ سنت کے علما کے اقوال کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء نے ایک دوسرے سے مادی چیزوں کی وراثت پائی۔ لہٰذا وہ باطل دعویٰ کہ "انبیاء کوئی میراث نہیں چھوڑتے" باطل اور غلط ثابت ہوتا ہے۔
2. بنی اسرائیل اس تابوت سے تبرک حاصل کرتے تھے، اس کے ذریعے دشمنوں پر فتح حاصل کرتے تھے، اور اس کے ذریعے شفا طلب کرتے تھے۔ یہ عمل خود بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (ع) کی طرف منسوب ہے۔ تو کیا وهابی اس پر بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کو کافر قرار دینے کے لیے تیار ہیں؟
📎 بدر علی
invisibleislam.com
#التماس_دعا #بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#تندیلی_ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen