نواصب کی جانب سے المصنف کی روایت پر ایک شبہہ کا جواب
🔴 نواصب ہمیشہ کہتے ہیں کہ روایت المصنف میں جو خلیفہ ثانی کے حضرت فاطمہؑ کے گھر پر حملے و دھمکی کے بارے میں ہے
اس میں جناب فرماتے ہیں کہ:
📜 اے رسولِ خدا کی بیٹی! ہمارے نزدیک سب سے محبوب شخصیت تمہارے والد ہیں، اور ان کے بعد تم ہو۔
❌ وہ اس سے عمر کی حضرت فاطمہؑ سے محبت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
ہم اسکا جواب دینے سے پہلے خود سنی عالم کا جواب پیش کرتے ہیں
▪️ جاحظ، جو عمریہ کا متعصب عالم تھا، اس موضوع پر سب سے قدیم رسالہ میں اس طرح جواب دیتا ہے:
📜 "ظالم کی نرمی اور محبت ظلم سے بری ہونے یا پشیمانی کی دلیل نہیں، بلکہ یہ اس کی مکر اور حیلت کی علامت ہے۔
اگر ظالم ظلم کا عادی ہو جائے تو ہمیشہ مظلوم کے سامنے محبت، مہربانی، دلسوزی اور اشک ظاہر کرتا ہے اور عاجزی دکھاتا ہے۔
اس کی محبتیں دکھاوے کی اور ظالمانہ حق نمائی ہوتی ہیں۔"
📚 رسائل جاحظ (وفات 255 ق) العباسیہ
📚 الرسائل السیاسیہ، جاحظ، ص 468
📚 شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج 16، ص 265
جاحظ کی اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ ثانی کا دعویٰ محض دھوکہ اور فریب تھا اپنے بدترین عمل، یعنی حضرت فاطمہؑ کے گھر کو جلانے کی دھمکی، کو چھپانے کے لیے۔
💯 محبت اور گھر جلانے کی دھمکی کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی گھر کے مالک سے محبت بھی رکھتا ہو اور اس کے گھر کو جلانے کی قسم بھی کھائے؟
لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ روایت کے باقی حصے کو بھی پڑھیں تو انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ یہ محبت کس قسم کی تھی!
⁉️ حضرت فاطمہؑ سے محبت اور دوسری طرف ان کے گھر کو جلانے کی دھمکی یہ دونوں باتیں کیسے جمع ہو سکتی ہیں؟!
⁉️ کون سا سمجھ دار انسان یہ مانے گا کہ کوئی شخص کسی سے محبت بھی رکھتا ہو اور اسی کے گھر کو آگ سے جلانے کی دھمکی بھی دے؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ جناب اپنے فیصلے میں سخت اور ڈٹا ہوا تھا، اور اپنے اس عمل کو جائز دکھانے کے لیے محبت کا دعویٰ کیا، ورنہ یہ بات حقیقت نہیں تھی۔
ہم دنیا میں بارہا دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ جب اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ظاہری نرمی اور محبت کا اظہار کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں دل سے اس پر ایمان نہیں رکھتے۔
✅ اگر وہ واقعی امیرالمومنینؑ اور حضرت فاطمہؑ سے محبت رکھتا تو کبھی دھمکی نہ دیتا خصوصاً گھر جلانے جیسی دھمکی!
اور پھر اس پر پردہ ڈالنے کے لیے محبت کا جھوٹا دعویٰ بھی نہ کرتا۔
⁉️ اگر یہ دھمکی حضرت (فاطمہؑ) کے بارے میں نہیں تھی، تو پھر کیوں دامادِ رسول اور خود رسول کی بیٹی کے شوہر کو یہ حق نہ دیا گیا کہ وہ آرام سے فیصلہ کر سکیں کہ بیعت کرنی ہے یا نہیں؟
کہا جاتا ہے کہ جھوٹا کم حافظہ ہوتا ہے؛ اسی لیے فوراً خلیفہ ثانی کہتا ہے:
📜 "خدا کی قسم! یہ محبت مجھے اس سے نہیں روکتی کہ اگر یہ لوگ تمہارے گھر جمع ہوں تو میں حکم دوں کہ ان پر گھر کو آگ لگا دیا جائے۔"
👈 اور صرف گھر کو ہی نہیں بلکہ سیدہ ص کو جلانے کی دھمکی دی گئی
تصیلی پوسٹ دیکھیں صحیح سند کے ساتھ 👇
1⃣ 👈 /topic/1947
2⃣ 👈 /topic/1970
👈 یہ وہ شخص ہے جو شروع میں دعویٰ کرتا ہے کہ اسے رسول اللہؐ اور رسولؐ کی بیٹی سے محبت ہے؛
لیکن جب خلافت کے مسئلے پر بات آتی ہے تو یہی شخص اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ حضرت فاطمہؑ کے گھر کو جلا دے گا!
⁉️ یہ کیسی محبت ہے؟
شاعرِ مصری نبیل کہتا ہے:
"عمر نے علیؑ سے ایسی بات کہی کہ جسے سننے والا بھی حیران ہو جائے۔
اس نے کہا: ’میں تمہارا گھر جلا دوں گا اور کسی کو نہیں چھوڑوں گا، چاہے رسولؐ کی بیٹی بھی اندر ہو۔‘
عرب کے بہادر قبیلے عدنان کے سردار (علیؑ) سے یہ بات کوئی اور نہیں کہہ سکتا تھا، سوائے ابو حفص کے۔"
📚 (حوالہ: شرح قصائد عمریہ، مصر / احمد امین وغیرہ کی تحقیقات)
اسکین 👇
⭕ نتیجہ:
تمام دلائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ خلیفہ ثانی نے دھمکی کو عملی جامہ پہنایا، حضرت فاطمہؑ کے گھر کو آگ لگوائی، جس کے نتیجے میں رسولؐ کی بیٹی زخمی ہوئیں اور شہادت تک پہنچیں۔
⁉️اب سوال یہ ہے:
اگر اہلِ سنت یہ کہتے ہیں کہ عمر کی دھمکی والی روایت ان کے حق میں ہے اور اس سے بیعتِ علیؑ اور عدمِ شہادتِ حضرت فاطمہؑ ثابت ہوتی ہے،
تو پھر اسی روایت کو ان کے علماء نے بار بار کیوں تحریف کیا؟
تفصیلی پوسٹ 👇
اگر یہ ان کے لیے دلیلِ فضیلت ہے تو پھر تحریف کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen