عمر صرف گھر کو نہیں بلکہ گھر کو اہل بیتؑ سمیت جلانا چاہتا تھا
عمر رضا کَحالہ
وہ اپنی کتاب میں اس طرح روایت بیان کرتے ہیں:
📜 “ابوبکر نے ان لوگوں کا حال دریافت کیا جو اس کی بیعت سے پیچھے رہ گئے تھے، جیسے کہ علی بن ابی طالب، عباس، زبیر، اور سعد بن عبادہ۔
وہ سب حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے گھر میں جمع تھے۔
پس ابوبکر نے ان کے پاس عمر بن خطاب کو بھیجا۔
عمر وہاں آیا اور انہیں آواز دی، جبکہ وہ حضرت فاطمہ کے گھر میں موجود تھے۔
لیکن انہوں نے باہر آنے سے انکار کر دیا۔
تب عمر نے لکڑیاں منگوائیں (ہیٹ یا حطب = ایندھن)
اور کہا: ‘قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں عمر کی جان ہے!
تم لوگ یا تو باہر آؤ گے،
ورنہ میں اس گھر کو اُن سب کے ساتھ جلا دوں گا جو اس میں ہیں!’
لوگوں نے کہا: ‘اے ابا حفص! اس گھر میں فاطمہ ہیں!’
عمر نے جواب دیا: ‘اگرچہ فاطمہ بھی اس میں ہوں، (پھر بھی میں جلا دوں گا)!’”
📚 ماخذ: أعلام النساء في عالمي العرب والإسلام، جلد 4، صفحہ 114
یہ روایت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ خلیفہ ابوبکر نے عمر بن خطاب کو بھیجا تاکہ وہ ان افراد کو جو بیعت نہیں کر رہے تھے (حضرت علیؑ، حضرت عباسؑ، حضرت زبیرؓ، سعد بن عبادہؓ)
حضرت فاطمہ (س) کے گھر سے زبردستی باہر نکالیں۔
جب انہوں نے انکار کیا تو عمر نے آگ لگانے کی دھمکی دی،
اور جب لوگوں نے یاد دلایا کہ اس گھر میں حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) ہیں،
تو عمر نے جواب دیا:
📜 “اگرچہ فاطمہ بھی اس میں ہوں، تب بھی (میں گھر کو جلا دوں گا)۔”
✳️ مصنف کا تعارف
شیخ عمر رضا کَحالہ
بیسویں صدی کے مشہور عالم، محدث، اور مورخ تھے۔
انہیں موسوعی (encyclopedic) عالم کہا جاتا ہے،
جنہوں نے عرب و اسلام کی مشہور شخصیات پر کثیر تحقیقی کام کیا۔
📘 تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں:
https://shamela.ws/index.php/author/716
📍 نتیجہ:
یہ روایت اہلِ سنت کے معتبر مؤرخ عمر رضا کحالہ کی تصنیف سے ہے،
جو اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کے گھر کو
آگ لگانے کی دھمکی خود عمر بن خطاب نے دی،
اور یہ سب ابوبکر کے حکم پر ہوا،
جبکہ گھر میں حضرت فاطمہؑ، حضرت علیؑ، حسنینؑ اور دیگر اصحاب موجود تھے۔
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen