مصری معروف حافظِ ابراہیم (شاعر نیل) کا فخر: عمر کے فاطمہؑ کے گھر پر حملے کی تعریف
🔴 مصری معروف حافظِ ابراہیم (شاعر نیل) کا فخر: عمر کے فاطمہؑ کے گھر پر حملے کی تعریف!!!
ہمارے اس المناک واقعے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملے کو ثابت کرنے کے لیے اہلِ سنّت کی اپنی کتب سے اسناد موجود ہیں۔
پھر بھی کچھ حضرات نہیں ماننا چاہتے انکے لئے عرض ہے کہ کچھ حضرات اس واقعے پر فخر کرتے ہیں اور اسے عمر بن خطاب کی کرامات سمجھتے ہیں، جس طرح ہم امیرالمؤمنین (علی علیہ السلام) کی کرامات مثلاً خیبر کے دروازے کھولنے پر فخر کرتے ہیں۔ اسی سوچ نے باعث بنایا کہ حافظِ ابراہیم (مصری شاعر، ۱۸۷۲–۱۹۳۲) ایک محفل میں جہاں وہ عمر کی مدح میں قصیدہ سنانے آئے تھے، نہ صرف اس واقعے کو قبول کیا بلکہ عمر کے اس دھمکی آمیز فعل پر فخر بھی ظاہر کیا۔ حاضرین نے اسے داد دی اور اسے "شاعرِ نیل" اور "مصر کے عوام کا شاعر" کہا گیا۔
اور اشعار یہ ہیں:
و قولة لعلي قالها عمر / أكرم بسامعها أعظم بملقيها
حرقت دارك لا أبقي عليك بها / إن لم تبايع وبنت المصطفى فيها
ما كان غير أبي حفص يفوه بها / أمام فارس عدنان و حاميها
اردو ترجمہِ اشعار:
پہلا شعر: عجب بلند پایہ اور باوقار کلام ہے جو عمر نے علی سے فرمایا! کتنے قربِ احترام اور عظمت والے ہیں وہ سننے والے اور کتنے بلند مرتبہ ہے وہ کہنے والا!
دوسرا شعر: جان لو کہ میں تمہارا گھر جلا دوں گا اور تمہیں اس میں نہ چھوڑوں گا اگر تم بیعت نہ کرو حالانکہ اس گھر میں مصطفیٰ ﷺ کی بیٹی موجود ہے۔
تیسرا شعر: یہ ایسا کلام نہیں جو ہر کسی سے نکل سکے؛ ایسے الفاظ سنانے کے لئے عمر جیسا نڈر اور بہادر مَرد چاہیے، جو عرب کے بہادرِ عدنان کے سامنے یہ کہہ سکے اور اس امت کے محافظ (علیؑ) کا مقابلہ کر سکے۔
📚 ماخذ: دیوانِ حافظ ابراہیم، صفحہ ۸۲
یعنی عمر کا یہ اقدام بہت جرتمندانہ تھا۔
ایسے لوگوں کیلئے عرض ہے کہ ہماری طرف سے بھی جرتمندانہ لانت وصول کریں 🖐️
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen