قاتلین امام حسین ع نواصب تھے
⁉️ قاتلان امام حسین ع کون ؟
▪️ ابن قتیبہ دینوری کی اہل سنت علماء سے یہ تصریح کہ بہت سے اہل سنت علماء نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے سخت دشمنی رکھی، یہاں تک کہ جان بوجھ کر آپ کے فضائل کو کمزور یا حذف کرتے رہے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ حق ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں اہل بیت کے دشمنوں (خلفاء وغیرہ) کے لیے اسی طرح کی روایات گھڑتے تھے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ جھوٹ ہیں، اور امام حسین علیہ السلام کے خون کو حلال سمجھتے تھے اور انہیں مسلمان نہیں سمجھتے تھے...
▪️ابن قتیبہ دینوری اس راز کو واضح کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
📜 بہت سے محدثین نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے یا ان کے حق کو ظاہر کرنے سے گریز کیا، حالانکہ ان تمام احادیث کی صحیح سندیں موجود ہیں۔ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خارجی قرار دیا اور ان کا خون حلال سمجھا، اس حدیث کی بنیاد پر کہ: 👈 “جو بھی میری امت کے خلاف خروج کرے جبکہ امت متحد ہو، اسے قتل کر دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔”
انہوں نے علی علیہ السلام اور اہل شوریٰ کو فضیلت میں برابر قرار دیا کیونکہ ان کے خیال میں اگر عمر علی علیہ السلام کو افضل سمجھتے تو انہیں شوریٰ میں شامل نہ کرتا۔ انہوں نے علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے والوں کو نظرانداز کیا، اور عمرو بن العاص اور معاویہ کے فضائل جمع کرنے میں دلچسپی لی، گویا مقصد ان دونوں کی تعریف نہیں بلکہ علی علیہ السلام کی تنقیص تھا۔
👈 اگر کوئی شخص یہ کہے کہ رسول اللہ کے بھائی علی ہیں، اور حسن و حسین ان کے نواسے ہیں، اور اہل کساء علی، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں، تو ان کے چہروں پر ناگواری ظاہر ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی حدیث “من کنت مولاه فعلی مولاه” یا “أنت منی بمنزلة هارون من موسیٰ” بیان کرے تو اس میں عیب تلاش کیے جاتے ہیں تاکہ ان احادیث کی قدر کم کی جائے۔
📚 الاختلاف فی اللفظ والرد على الجهمیة والمشبهة ابن قتیبہ، صفحہ 47
👈 اہل بیت کے ان فضائل پر آج بھی وہی لوگ کیڑے نکالتے ہیں انہیں پہچاننا مشکل نہیں آج کے دور میں بھی۔
▪️ ابن خلدون و ابن عربی کہتے ہیں کہ حسین ع اپنے ہی نانا کی تلوار سے قتل ہوئے 👇
👈 یعنی وجہ یہ حدیث تھی 👈 “جو بھی میری امت کے خلاف خروج کرے جبکہ امت متحد ہو، اسے قتل کر دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
▪️ اسی حدیث کو بنیاد بنا کر محدثین اہل سنت نے لکھا کہ امام حسین ع نے امت میں تفرقہ پیدا کیا 👇
▪️ اسی حدیث کو بنیاد بنا کر محدثین اہل سنت نے لکھا کہ امام حسین ع نے بغاوت کی اور امام کو سنی علما کا خارجی تصور کرنا 👇
◾️ میرزا حسن اشرف الواعظین اپنی کتاب جواہر الکلام میں تصریح کرتے ہیں کہ اہل سنت کے قاضیوں اور فقہاء نے امام حسین علیہ السلام کے قتل کا فتویٰ دیا:
🔸 ان سے استفتا کیا گیا تو 400 قاضیوں اور فقہاء نے لکھا کہ حسین بن علی نے امیرالمؤمنین یزید کے خلاف خروج کیا ہے، اس لیے وہ “مهدور الدم” اور واجب القتل ہیں۔
📚 جواہر الکلام فی سوانح الأیام- میرزا حسن اشرف الواعظین، جلد 1، صفحہ 88
اب مخالفین کہتے ہیں کہ کوفی شیعہ نے امام کو قتل کیا، حالانکہ اگر یہ بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ ہے کہ پھر یہ امت کس نے اس حد تک پہنچائی کہ لوگ امام حسین علیہ السلام کے قتل کو جائز سمجھنے لگے؟
اور اسکا فائدہ کس کو ہوا ؟
📃 بدر علی
#تبدیلی_ممنوع
Invisible islam
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen