اہل سنت نے لکھا کہ امام حسین ع نے امت میں تفرقہ پیدا کیا
اہل سنت عالم ڈاکٹر محمد سہیل طقوش امام حسینؑ کو بھی موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہتا ہے کہ امام حسینؑ "فرقہ پرست" تھے!
📜 لنا ان نتساءل : هل کان الحسین مصیبا بخروجه ؟...... اذا نظرنا الی هذه القضیه من الناحیه الدینیه ، فقد نتج عن هذا الخروج ماساة دامیه فرقت بین المسلمین و لا تزال اثارها ظاهره الی الیوم
📃 ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے:
کیا امام حسینؑ نے خروج (قیام) کر کے درست کام کیا؟
… اگر ہم اس مسئلے کو دینی زاویے سے دیکھیں تو
ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسینؑ کے اس خروج کا نتیجہ ایک خونی سانحہ نکلا
جس نے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کر دیا،
اور آج تک اس کے اثرات ظاہر ہیں۔"
📚 تاريخ الدولة الأموية 41 132هـ ، محمد سهيل طقوش جلد : 1 صفحه : 52
انہی ناسبی بنیاد پر
امام حسین علیہ السلام کو آج بھی "مسلمانوں میں تفرقے کا سبب" کہا جا رہا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف اہلِ بیتؑ کے قتل کو "دینی عمل" ثابت کرنا ہے۔
یہی نظریہ صدیوں سے بعض اہلِ سنت کی کتابوں اور ان کے بعض علما کی زبانوں پر جاری ہے،
کیونکہ ان کے عقائد کی بنیاد ہی اہلِ بیتؑ کے خلاف ظلم و ستم پر ہے
بدر علی
#تبدیلی_ممنوع
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen