🔴 عطیہ بن سعد العوفی کی توثیق و تحسین پر مزید ایک پوسٹ
Post No 7⃣
پہلی پوسٹ میں عطیہ کی توثیق و تحسین پیش کئی اور ابن معین کے حوالے سے ایک اعتراض کا جواب دیا دیا جو آپ یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں 👇
دوسری پوسٹ میں عطیہ کا اہل سنت امام اعظم مجتہد ابو حنیفہ کے استاد ہونے کے حوالے سے توثیق پیش کی گئی جو آپ یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں 👇
⭕ حاکم نیشاپوری اور ذہبی، عطیہ کی روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں:
📜 “یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے نقل نہیں کیا۔”
(ذہبی کی تلخیص میں تبصرہ): صحیح
📚 المستدرک علی الصحیحین، جلد 4، صفحہ 355
👈 حاکم نے مستدرک کے دیباچہ میں یہ لکھا کہ اس میں وہ وہی روایات لے گا جو کہ ثقہ ہیں اور شیخین کی شروط کے مطابق ہیں پھر اس نے عطیہ سے روایات لیں، پس معلوم ہوا عطیہ امام حاکم کے نزدیک شیخین کی شرط کے مطابق بھی ثقہ ہے۔
۔
⭕ ابن خزیمہ نے عطیہ کی روایات کو اپنی صحیح میں نقل کیا
📚 صحیح ابن خزیمہ ج2 ،ص 411
📚 صحیح ابن خزیمہ ج3، ص 313
📚 صحیح ابن خزیمہ ج4، ص 191
📚 مختصر المختصر من المسند الصحيح عن النبي
▪️ترمزی نے عطیہ کی روایت کو حسن کہا
📚 جامع الترمزی ج1، ص 501 حدیث 1168 اردو
⭕ ذھبی نے الموقظقہ میں مدارج الثقات کے بارے میں لکھا ہے کہ
📜 جن ثقات سے شیخین نے روایات نہیں لیں اُن میں افضل وہ ہیں جن کو ترمذی یا ابن خزیمہ نے صحیح کہا پھر وہ جس سے نسائ وا ابن حبان نے روایت کی
📚 الموقظة 81
اور جیسا کہ ظاہر ہے عطیہ سے ترمذی و ابن خزیمہ دونوں نے روایت لی۔
۔
▪️ابن حجر نے عطیہ کی روایت کو حسن کہا
📚 نتائج الافکار ج1، ص 268
۔
⭕ سنن ماجة نے عطیة سے 26 روایات لی ہیں۔
📚 سنن ابن ماجة 521/6
👈 حفاظ کا کسی شخص سے روایت کرنا بالعموم اس راوی کا اس حافظ سے توثیق سمجھا جاتا ہے کیوں کہ حافظ ہوتا ہی وہ ہے جسے رجال کی جرح و تعدیل کا کامل علم ہو صحیح و ضعیف کی تمیز رکھتا ہو۔
📜 النکت علی ابن الصلاح للحافظ ابن حجر 267/1
⭕ رائد بن صبري ابن أبي علفة نے سنن ابن ماجہ میں عطیہ کی روایت کو صحیح کہا
📚 سنن ابن ماجة ، کتاب الفتن ح 4011
۔
⭕ امام ابو داود اپنی سنن میں عطیہ سے روایات نقل کرتے ہیں اور ان پر سکوت کرتے ہیں۔
📚 سنن ابوداود جلد 4 صفحہ 190 حدیث 3999
📚 جلد 4 صفحہ 333 حدیث 4344
📚 3998 جلد 4 صفحہ 189 حدیث
👈 یہ ایک قاعدہ علمائے اہل سنت نے نقل کیا ہے کہ جب امام ابوداؤ د کوئی روایت لکھیں اور اس پر کوئی کلام نہ کریں تو ان کے نزدیک وہ حدیث حسن ہوتی
📜 قال النووى في الخلاصه هو فيه جهالة لكن الاحاديث لم يضعفه ابو داود فهو حسن عنده .
نووی نے خلاصہ میں کہا کہ فلاں راوی مجہول ہے لیکن ابوداود نے اس سے روایت نقل کی اور اس کو ضعیف کہا جو ان کے نزدیک احسن روایت ہے۔
📚 نصب الرایہ جلد 1 صفحہ 89 امام زیلعی
ملا علی قاری حنفی اسی تحسین والے قاعدہ کو امام منذری ، امام نووی ، امام ابن عبدالبر، ابن منذه، ابن مسکن اور امام حاکم سے نقل کرتے ہیں۔
📚 مرقاة شرح مشكاة جلد 1 صفحه 73 طبع بیروت
امام شوکانی اسی قاعدہ کو نقل کر کے ساتھ لکھتے ہیں
📜 ولیس فیہ اسنادہ مطعن بل رجاله رجال الصحيح
📃 یعنی اس قاعدہ کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ابود اور کے خاموش رہنے کا مطلب ہے کہ اس کی اسناد میں کوئی طعن یا مسئلہ بلکہ اس کے رجال (راوی) رجال الصحیح ہیں۔
📚 ( نیل الاوطار جلد 2 صفحہ 357 )
اسی طرح امام ترکمانی حنفی کافی جگہوں پر اسی قاعدہ سے استدلال کرتے نظر آتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے یہ کہ یہ قاعدہ راجح ہے، ملاحظہ ہوں :
📚 الجواهر النقی شرح سنن البیہقی جلد 1 صفحہ 178
📚 جلد 2 صفحہ 338،
📚 جلد 9 صفحہ 328
📚 جلد 10 صفحہ 271، 299 طبع دارالفکر
۔
۔
▪️امام مزی ایک سند کو جس میں عطیہ موجود ہے عالی کہہ کر اس کی توثیق کرتے ہیں۔
📚 تہذیب الکمال جلد 15 صفحہ 128
▪️ محدث النا قد ظفر عثمانی تھانوی اور حکیم الامت اشرف علی تھانوی اس کو حسن الحدیث کہتے ہیں ۔
📚 اعلامی السنن جلد 7 صفحہ 14
▪️امام ابن القطان فاسی فرماتے ہیں فالحدیث به حسن ۔ پس اس کی حدیث حسن ( کا درجہ رکھتی ) ہے۔
📚 بيان الوهم والا بیهام الواقعين في كتاب الاحکام جلد 4 صفحہ 363
▪️ مولانا رشید اللہ سندھی عطیہ العوفی کو صدوق قرار دیتے ہیں۔
📚 کشف الاستار عن رجال معانی الاثار صفحه 74
▪️امام زیلعی حنفی ابن قطان کے قول سے استفادہ کرتے ہیں اور عطیہ العوفی کو حسن الحدیث ہی لکھتے ہیں۔
📚 نصب الرایہ جلد 1 صفحہ 68
▪️مولوی امیر علی حنفی لکھتے ہیں : فأما عطية العوفي فحسن له الترمذی یعنی عطیہ العوفی کو ترمذی نے حسن (الحدیث) کہا ہے ۔
📚 تعقیب التقریب صفحہ 363
▪️ سیوطی کا دعوی ہے کہ اس میں انہوں نے تمام وہ روایات نقل کی ہیں جو کہ عالی الاسناد ہیں اور قابل استدلال ہیں۔ اور وہ عطیہ سے روایت نقل کرتے ہیں
الحمد لله: أحيا بما شاء مآثر الآثار بعد الدثور، ووفق لتفسير كتابه العزيز بما وصل إلينا بالإسناد العالي من الخبر المأثور
📚 تفسیر درمنثور مقدمہ
▪️ امام ہیثمی ایک روایت کے تحت لکھتے ہیں فیہ محمد بن ابی لیلی وعطیه وكلاهما فيه كلام وحديثهما حسن ۔ یعنی اس روایت میں محمد بن ابی لیلی اور عطیہ العوفی ہیں اور ان دونوں پر کلام ( جرح ) ہے اور ان دونوں کی حدیث حسن ہے یعنی حسن الحدیث ہیں۔
📚 بغية الرائد في تحقيق مجمع الزوائد جلد 3 صفحہ 360
▪️امام طحاوی حنفی نے اپنی کتاب شرح معانی الاثار میں عطیہ سے روایات لی ہیں جبکہ انہوں نے اس کے مقدمہ میں کہا ہے کہ میں وہی روایات نقل کروں گا جو صحیح ہیں اور جن سے احتجاج کیا جاتا ہے۔
📚 شرح معانی لاثار جلد 3 صفحہ 221 حدیث 5168
▪️محقق حمزہ احمد الزین نے عطیہ کی روایت کو حاشیہ میں حسن لکھا ہے۔
📚 مسند احمد بن حنبل جلد 10 صفحہ 25 حدیث 10980 طبع قاہرہ
▪️محقق بدر بن عبد الله البدر نے عطیہ کی روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
📚 جزء الالف و بینار تصنیف ابو بکر احمد بن جعفر القطیعی صفحہ 208 حدیث 150
▪️ امام الحدث حسین بن مسعود البغوی عطیہ کی سند کو حسن قرار دیتے ہیں۔
📚 شرح السنہ جلد 14 صفحہ 100
▪️شیخ محقق شریف حاتم بن عارف عطیہ کی سند کو حسن قرار دیتے ہیں۔
📚 احادیث الشیوخ الثقات تصنيف قاضی مارستان جلد 2 صفحہ 528 حدیث (83)
https://archive.org/details/ahadit-choyokh-thiqat/أحاديث الشيوخ الثقات المشيخة الكبرى - قاضي المارستان -ج2/page/n158/mode/1up
▪️ امام ابن کثیر دمشقی عطیہ کی روایت کو حسن قرار دیتے ہیں۔
📚 تفسیر ابن کثیر جلد 6 صفحہ 256 تحت سورہ القصص آیت 80، 81
▪️ امام الفقیبہ زاہد بن حسن کوثری ایک روایت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں ابن مرزوق من رجال مسلم وعطيه حسن له الترمذى عدة احادیث ۔ یعنی ابن مرزوق صحیح مسلم کے رجال میں سے ہے اور عطیہ کی احادیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے (یعنی یہ حسن الحدیث ہے )
📚 محقق التقول في مسالة التوسل صفحه 5 طبع مصر
▪️حافظ دمیاطی عطیہ کی ایک روایت کو حسن قرار دیتے ہیں۔
📚 المتجر الرابع صفحه 642 حدیث نمبر 1321 طبع النهضة الحديثية
▪️حافظ زین الدین عراقی کی روایت کو حسن کہتے ہیں۔
📚 المغنى عن حمل الاسفار جلد 1 صفحه 289 حدیث1100 طبع الرياض
▪️امام المندری عطیہ کی روایت کو اپنے اُستاد ابوالحسن مقدسی کے قول کے تحت حسن کہتے ہیں۔
📚 الترغیب والترہیب جلد 2 صفحه 304 طبع بیروت
▪️ امام ابن الهمام حنفی لکھتے ہیں
📜 عطيه العوفي ضعفه احمد وغيره ، والترمذى يحسن حديثه فهو مختلف فيه فحدیث حسن
📃 عطیہ العوفی کو احمد وغیرہ نے ضعیف کہا ہے اور ترمذی نے اس کی حدیث کو حسن کہا ہے ، پس یہ مختلف فیہ ہے پس ( اس کی ) حدیث حسن ہے
📚 شرح فتح القدير جلد 7 صفحہ 95، 96 طبع دار الكتب العلمیة بیروت
۔
▪️البانی وہابی بھی ایسی روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں جس کی سند میں عطیہ کا نام آیا ہے۔
📚 صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ، جلد 9، صفحہ 11
▪️ البانی نے صحيح الأدب المفرد للإمام البخاري میں عطیہ کی روایت کو صحیح میں شمار کیا
📚 صحيح الأدب المفرد للإمام البخاري
▪️ابن تیمیہ نے بھی عطیہ کی روایت سے احتجاج کیا ہے جو کہ مروی بھی عن کے صیغے سے ہے۔
📚 مجموعة فتاوى ابن تيمية 201/15
📚 الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح ابن تيمية 284/5
ماخذ: تحقیق قضیہ فدک (بقلم قسور عباس حیدری)
کچھ ایڈٹ کے ساتھ
📎 بدر علی
Invisibleislam.com
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen