🔴 عطیہ بن سعد العوفی
Post No 1⃣
فدک کے ہبہ کئے جانے پر جب پوسٹ لگائی تو کچھ لوگوں نے راوی عطیہ پر اعتراض اٹھایا جس کا جواب انشاءﷲ اگلی اقساط میں پیش کروں گا
▪️عطیہ اس کے علاوہ کہ تابعین میں سے ہیں اور بخاری، ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی اور احمد بن حنبل کے رجال میں شمار ہوتے ہیں، اہلِ سنت کے بہت سے علماء نے بھی ان کی توثیق کی ہے۔
۔
⭕ عطیہ بن سعد کا تابعی ہونا
▪️ ملا علی قاری:
وہ ان کے بارے میں کہتے ہیں:
📜 “عطیہ بن سعد عوفی، تابعین کے بڑے لوگوں میں سے ہیں۔”
📚 شرح مسند ابی حنیفہ، صفحہ 292
۔
⭕ عطیہ بن سعد کی توثیق
▪️ عجلی کوفی کی توثیق:
انہوں نے اپنی کتاب معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث میں ان کا نام ذکر کیا ہے اور صراحت کے ساتھ توثیق کی ہے:
📜 “عطیہ عوفی کوفی، تابعی، ثقہ ہیں لیکن قوی نہیں۔”
📚 العجلی، احمد بن عبد الله، جلد 2، 1255
▪️ ابن سعد کی توثیق:
صاحبِ طبقات لکھتے ہیں:
📜 “عطیہ بن سعد بن جنادہ عوفی… وہ ان شاء اللہ ثقہ ہیں اور ان کی احادیث اچھی ہیں۔”
📚 الطبقات الکبریٰ، جلد 6، صفحہ 304
▪️ ہیثمی کی توثیق:
📜 “اس روایت کو احمد نے نقل کیا ہے، اور اس کی سند میں عطیہ بن سعید ہیں، جن کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، لیکن ان کی تحقیقاً توثیق کی گئی ہے۔”
📚 مجمع الزوائد، جلد 3، صفحہ 120، 180
▪️ محمد بن جریر طبری کی توثیق:
وہ لکھتے ہیں:
📜 “ان میں عطیہ بن سعد بن جنادہ عوفی بھی ہیں… وہ کثرت سے حدیث بیان کرنے والے تھے اور ان شاء اللہ ثقہ ہیں۔”
📚 المنتخب من ذیل المذیل، جلد 1، صفحہ 304
▪️ ابن جوزی کی توثیق
📜 یہ ثقہ و صالح الحدیث ہے
📚 مرآة الزمان في تواريخ الأعيان، جلد 10، صفحہ 498
▪️ امام ابن معین کی توثیق
یہ اہلِ سنت کے علمِ رجال کے بڑے امام اور روایت میں سخت گیر شمار ہوتے ہیں، اور وہ اس عطیہ کے بارے میں کہتے ہیں
📜 لیس به باس
👈 یعنی یہ ثقہ ہے۔
📚 التزییل علی کتاب تہذیب التہذیب صفحہ 283
📚 من کلام ابی زکریا یحی بن معین صفحه 84
۔
⭕ عطیہ بن عوفی لیس به باس کا مطلب
👈 لیس به باس ابن معین کی خاص اصطلاح ہے
📜 جس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے دیکھیں
📚 الكاشف في مَعْرِفَةِ مَن لَهُ رَوَايَةٌ فِي الكُتُبِ السِّتَّةِ ،ج1، ص37
📚 اخبار المکین صفحہ 315 احمد بن زہین،
📚 الکفایہ صفحہ 22 خطیب بغدادی،
📚 تاریخ اسماء الشقات صفحہ 370 ابن شاہین ،
📚 مقالات جلد 3 صفحہ 328 زبیر علی زئی اہل حدیث ،
📚 لسان الميزان جلد 1 صفحہ 13
▪️امام ابن شاہین
📜 انہوں نے بھی اسی بن معین کے قول کے تحت اس کو ثقات کہتے ہیں۔
📚 تاریخ اسماء الثقات صفحه 247
۔
⭕ عطیہ صالح و عالی الحدیث
▪️ امام مزی کی توثیق
📜 ایک سند کو جس میں عطیہ موجود ہے عالی کہہ کر اس کی توثیق کرتے ہیں۔
📚 تہذیب الکمال جلد 15 صفحہ 128
▪️ یحییٰ بن معین:
📜 یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا: عطیہ کی حدیث کیسی ہے؟
انہوں نے کہا: اچھی ہے۔”
📚 تاریخ ابن معین، جلد 3، صفحہ 500
▪️ ابنِ جعد نے بھی یحییٰ بن معین کا یہی قول نقل کیا ہے:
📜 “یحییٰ بن معین کہتے تھے: عطیہ عوفی وہی عطیہ جدلی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا: عطیہ کی حدیث کیسی ہے؟
انہوں نے کہا: صالح ہے۔”
📚 مسند ابن الجعد، جلد 1، صفحہ 302
▪️ امام مزی نے بھی یحییٰ بن معین کا قول نقل کیا ہے
📜 یحییٰ بن معین کہتے تھے: عطیہ عوفی صالح ہے
📚 تہذیب الکمال جلد 20 صفحہ 137
⭕ ابن حجر لکھتا ہے کہ
📜 4616- عطية ابن سعد ابن جنادة بضم الجيم بعدها نون خفيفة العوفي الجدلي بفتح الجيم والمهملة الكوفي أبو الحسن صدوق يخطىء كثيرا وكان شيعيا مدلسا من الثالثة مات سنة إحدى عشرة بخ د ت ق
📃 عطیہ بن سعد بن جنادہ… صدوق ہے، بہت زیادہ خطا کرتا ہے، شیعی اور طبقہ سوم کا مدلّس ہے، سنہ 111ھ میں وفات پائی۔
📚 تقریب التہذیب، ج 1، ص 393،
👈 اور یہاں ناسبیوں نے جو بیان فرمایا کہ بہت زہادہ غلطیاں خطا کرتا تھا ، شیعہ تھا اور مدلس تھا اسکا جواب انشاءﷲ عطیہ پر مزید توثیق پیش کرنے کے بعد آخر میں دیا جائے گا
مختصر جواب دیتا جاؤں کہ يخطىء كثيرا ثقہ راوی بھی ہو سکتا ہے ، اور شیعہ ہونا کوئی جرح نہیں اور مدلس کا الزام لگانے والا کلبی خود کذاب ہے ۔ انشاءﷲ تفصیلی پوسٹ بعد میں آئے گی
۔
🔴 ایک اعتراض 🔴
امام یحی بن معین نے عطیہ کولیس به باس کہہ کے توثیق کی لیکن ایک جگہ ضعیف بھی کہا۔
✅ جواب ✅
امام ابن معین نے عطیہ کو ثقہ کہا لیکن انہی سے عطیہ کی تضعیف والا قول بھی نقل ہوا ہے۔
📜 حدثنا على بن احمد بن سليمان حدثنا ابن ابی مریم سألت یعنی بن معين عن عطيه العوفى فقال ضعيف الا انه يكتب حديثه
📚 الكامل في الضعفاء الرجال جلد 8 صفحه 582 طبع مكتبة الرشيد
▪️ امام ابن معین جب کسی راوی کو ثقہ بھی کہیں اور اس کو ضعیف بھی کہیں تو یہ ایک قاعدہ جلیلہ ہے جس کا مطلب ہے کہ امام ابن معین سے جب اس ثقہ راوی اور اس سے کسی اعلی راوی کی بابت پوچھا جاتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ دوسرے کو زیادہ اعلیٰ کہیں وہ ادنی کو ضعیف کہہ دیتے ہیں
▪️ ہم اپنی طرف سے ایک مثال لکھتے ہیں تا کہ بات زیادہ واضح ہو، زید کو امام ابن معین نے ثقہ کہا لیکن کسی مقام پر ان سے پوچھا گیا کہ زید اور بکر میں سے زیادہ اعلیٰ پائے کا ثقہ کون ہے ؟ تو ابن معین زید کو ضعیف کہہ کر بکر کو اعلی ثابت کریں گے اور یہاں ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو گا کہ زید مطابقاً ضعیف ہے لیکن یہ قاعدہ فقط ابن معین کے قول میں اختلاف کی صورت میں لاگو ہوگا جیسے یہاں عطیہ کا معاملہ ہے۔ ہم ایک کتاب سے عبارت نقل کرتے ہیں اور باقی کتب کے نام درج کر دیئے جائیں گے۔
📜 فأن ثبت ذلك فقد يكون سئل عنه وعمن فوقه فضعفه بالنسبة اليه وهذه قاعدة جليلة فيمن اختلف النقل عن ابن معين فيه -
📚 الرفع والتکميل صفحه 263 عبد الحی لکھنوی طبع مطبوعات الاسلامیہ
مزید ان کتب کی طرف رجوع کیا جائے
📚 - بذل الماعون صفحہ 117 ابن حجر عسقلانی طبع ریاض
📚 - القول السدید صفحه 30 عبد الرحمن مبارک پوری طبع مکتبۃ السنہ اردو
📚 - فتح المغیث جلد 2 صفحہ 131 امام سخاوی طبع مكتبة السنه
لہذا علمائے اہل سنت کے مطابق ابن معین کے اقوال میں تعارض کی صورت اس قاعدہ جلیلہ سے تطبیق کی جائے گی۔
پھر بھی اگر کہا جائے کہ ابن معین نے تضعیف کی ہے تو فقط ضعیف کہنا کافی نہیں بلکہ جرح مفسر چاہیے جبکہ ابن معین فقط ضعیف کہہ رہے ہیں جو جرح مبہم ہے شروع انشاءﷲ اگلے اس پر پوسٹ آئے گی کہ جرح مبہم کسی کام نہیں ہوتی
📚 ماخذ: تحقیق قضیہ فدک
📎 بدر علی
Invisibleislam.com
#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen