🔴 جناب رسول اللّه ص کا سیدہ زھراء ص فدک عطا کرنا 🔴
▪️ رسول ص نے فدک اپنی زندگی میں جناب سیدہ سلام علیہا کو عطا کر دیا تھ جس پر بسند معتبر روایات اہلِ سنت کی کتب میں موجود ہیں
ہم نے پچھلی تحریر میں کتب اہل سنت سے ثابت کیا تھا کہ مال فئی خالصتاً رسول کا ہے اور فدک مال فئی ہے ، جو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں 👇
اور پھر یہ بھی ثابت کیا تھا کتب اہل سنت سے کہ مال فئی کی تقسیم بلکہ رسول ﷺ اور انکے جانشین آئمہ اہلبیتؑ کی مرضی کے مطابق ہوگی ، جو پوسٹ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں 👇
⭕ اب ہم آپکو یہاں بتائیں گے کہ رسول ﷺ نے ایک باغ فدک اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ زھراء ص کو اپنی زندگی میں عطا/ہبہ کر دیا تھا
📜 وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ
💯 جب یہ آیت نازل ہوئی: “ذوی القربیٰ کو ان کا حق دو” تو رسولِ خدا ﷺ نے فاطمہؑ کو بلایا اور فدک انہیں عطا فرمایا۔
▪️یہ روایت مختلف اسناد سے آئی ہے ملاحظہ کریں
1⃣ امام علی ع کی روایت
📜 473 - حدثني أبو الحسن الفارسي ، قال : حدثنا : الحسين بن محمد الماسرجسي ، قال : حدثنا : جعفر بن سهل ببغداد ، قال : حدثنا : المنذر بن محمد القابوسي ، قال : حدثنا : أبي ، قال : حدثنا : عمي ، عن أبيه ، عن أبان بن تغلب ، عن جعفر بن محمد ، عن أبيه ، عن علي بن الحسين ، عن أبيه ، عن علي ، قال : لما نزلت : { وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ( الإسراء : 26 ) } دعا رسول الله فاطمة (ع) فأعطاها فدكا.
📚 الحاكم الحسكاني - شواهد التنزيل لقواعد التفضيل الجزء : ( 1 ) - رقم الصفحة : ( 442 )
2⃣ امام جعفر صادق ع کی روایت
📜 ( 674 ) من كتاب المناقب الورق ، قال : حدثنا : عثمان بن محمد الالثلغ ، قال : حدثنا : جعفر بن مسلم ، قال : حدثنا : يحيى بن الحسن ، قال : حدثنا : أبان بن أبان بن تغلب ، عن أبي مريم الأنصاري ، عن أبان بن تغلب ، عن جعفر بن محمد ، قال : لما نزلت هذه الآية : { وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ( الإسراء : 26 ) } دعا رسول الله (ص) فاطمة فأعطاها فدك ، قال أبان بن تغلب : قلت لجعفر بن محمد من رسول الله أعطاها ، قال : بل من الله أعطاها.
📚 الحاكم الحسكاني - شواهد التنزيل لقواعد التفضيل
الجزء : ( 1 ) - رقم الصفحة : ( 443 )
3⃣ عبد اللہ ابن عباسؓ کی روایت
📜 608 - أخبرنا : عقيل بن الحسين ، قال : أخبرنا : علي بن الحسين ، قال : حدثنا : محمد بن عبيد الله ، قال : حدثنا : أبو مروان عبد الملك بن مروان قاضي مدينة الرسول بها سنة سبع وأربعين وثلاث مائة ، قال : حدثنا : عبد الله بن منيع ، قال : حدثنا : آدم ، قال : حدثنا : سفيان ، عن واصل الأحدب ، عن عطاء ، عن ابن عباس ، قال : لما أنزل الله : { وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ( الإسراء : 26 ) } دعا رسول الله (ص) فاطمة وأعطاها فدكا وذلك لصلة القرابة.
📚 الحاكم الحسكاني - شواهد التنزيل لقواعد التفضيل
الجزء : ( 1 ) - رقم الصفحة : ( 570 )
۔
4⃣ ابو سعيد الخدری کی روایت
📜 1075 -قَرَأْتُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الطَّحَّانِ فَقَالَ: هُوَ مَا قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتِ الآيَةُ: وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ. دَعَى النَّبِيُّ صلي الله عليه وسلم فَاطِمَةَ وَأَعْطَاهَا فَدَكَ.
📃 میں نے حسین بن یزید الطحّان پر پڑھا، انہوں نے کہا: یہی وہ ہے جو میں نے سعید بن خثیم پر پڑھا، وہ فضیل سے، وہ عطیہ سے، وہ ابو سعید سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
👈 جب یہ آیت نازل ہوئی: اور قرابت دار کو اس کا حق دے دو تو نبی ﷺ نے فاطمہؑ کو بلایا اور فدک انہیں عطا کر دیا۔
📚 أبو يعلى الموصلي - مسند أبي يعلى - ومن مسند أبي سعيد الخدري الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 334 )
📚 أبو يعلى الموصلي - مسند أبي يعلى - ومن مسند أبي سعيد الخدري الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 534 )
۔
⭕ ہم اسی ابو سعيد الخدري والی روایت کو دلیل بنا کر آگے بڑھیں گے ۔ یہ روایت ان درج زیل معتبر کتب اہل سنت میں بھی نقل ہوئی ہے
📚 ابن حجر العسقلاني - المطالب العالية بزوائد المسانيد الجزء : ( 15 ) - رقم الصفحة : ( 192 )
📚 السيوطي - الدر المنثور في التفسير بالمأثور - الإسراء : 26 الجزء : ( 5 ) - رقم الصفحة : ( 273 / 274 )
📚 الآلوسي - تفسير الآلوسي : روح المعاني في تفسير ( 8 ) - رقم الصفحة : ( 61 )
📚 الشوكاني - تفسير فتح القدير :
الجزء : ( 3 ) - رقم الصفحة : ( 224 )
📚 الرازي - تفسير الرازي = التفسير الكبير - سورة الحشر : 7 الجزء : ( 29 ) - رقم الصفحة : ( 506 )
📚 القندوزي - ينابيع المودة لذوي القربى
الجزء : ( 1 ) - رقم الصفحة : ( 138 / 359 )
📚 مجمع الزوائد جلد 7 صفحہ 49 امام بیشمی طبع بیروت ،
📚 - تفسیر روح المعانی جلد 15 صفحه 62 طبع بیروت ،
📚 تفسیر فتح القدیر صفحه 821 طبع بیروت ،
📚 ۔ اسنی المطالب فی صلة الارقاب صفحہ 152 امام ابن حجر مکی طبع بیروت ،
📚 ۔ المکی والمدنی فی القرآن الکریم صفحه 132 عبد الرزاق حسین احمد طبع بیروت
📚 کنز العمال بر حاشیه مسند احمد جلد 1 صفحہ 428
📚 - کشف الاستار جلد 3 صفحه 55 امام بیشمی طبع بیروت ،
📚 مسند ابو یعلی جلد 1 صفحہ 724 اُردو ترجمہ
📚 تفسیر در منثور جلد 4 صفحہ 467 اُردو ترجمہ
۔
🔴 اس روایت پر کئے جانے والے اعتراضات کا تفصیلی جواب بعد میں دیا جائے گا
⭕ سب سے پہلے ہم اس روایت کی اسناد د یکھتے ہیں کہ اس کا پہلا راوی ہے :
1⃣ راوی حسین بن یزید الطحان
📜 امام ابن حبان اس کو ثقات میں لکھتے ہیں۔
📚 الثقات جلد 8 صفحہ 188
📜 یہ صحیح مسلم کا راوی ہے۔
📚 الجرح والتعديل جلد 3 صفحہ 67 امام ابن ابی حاتم
📜 علامہ شعیب ارنو وط اور ڈاکٹر بشار عواد اس کو حسن الحدیث کہتے ہیں۔
📚 تحریر تقریب التہذیب جلد 1 صفحہ 295
۔
2⃣ راوی سعید بن خثیم
📜 امام ابن معین اسے ثقہ کہتے ہیں۔
📚 معرفتہ الرجال جلد 1 صفحہ 102 ابن معین
📜 امام عجلی اس کو ثقہ کہتے ہیں۔
📚 معرفتہ الثقات جلد 1 صفحہ 397
📜امام ابن حبان اس کو ثقات میں شمار کرتے ہیں۔
📚 ثقات ابن حبان جلد 6 صفحہ 359
📜 امام ابو رعد اور امام نسائی فرماتے ہیں اس سے حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
📚 تہذیب الکمال جلد 10 صفحہ 414
📜 امام ترمذی اس کی حدیث کو حسن صحیح کہتے ہیں
📚 تہذیب الکمال جلد 10 صفحہ 414
📜 امام مزی خود اس کی سند کو عالی فرماتے ہیں۔
📚 تہذیب الکمال جلد 10 صفحہ 416
۔
3⃣ راوی فضیل بن مرزوق
📜 ابن شاہین اس کو ثقات کہتے ہیں۔
📚 معرفتہ الثقات رقم 1068
📜 امام ابن معین اس کو ثقہ لکھتے ہیں۔
📚 موسوعہ تاریخ ابن معین جلد 1 صفحہ 272
📜 امام بخاری اس کو مقارب الحدیث ہے کہتے ہیں
📚 جامع الجرح والتعدیل جلد 2 صفحہ 367
📜 امام بجلی اس کو ثقہ لکھتے ہیں۔
📚 معرفتہ الثقات جلد 2 صفحہ 208
📜 سفیان بن عیینہ اس کو ثقہ کہتے ہیں ، ابن عدی کہتے ہیں اس سے حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ، ہیثم بن جمیل اسے آئمۃ الہدی کہتے ہیں۔
👈 صحیح مسلم کا راوی ہے اور خود امام ذہبی اس کو حسن الحدیث کہتے ہیں۔
📚 سیر اعلام النبلاء جلد 7 صفحہ 343 342
📜 يعقوب بن سفیان بھی اسے ثقہ کہتے ہیں
📚 جامع الجرح والتعدیل جلد 2 صفحہ 367
۔
4⃣ عطیہ بن سعد العوفی
عطیہ بن عوفی کے ثقہ ہونے پر اور اعتراضات کے جوابات اگلی پوسٹ میں دیں گے
ابھی آپکو وہ چند روایات دکھاتے ہیں کہ
1: جن عطیہ بن عوفی راوی موجود ہے اور روایات صحیح ہیں
حاکم نیشاپوری اور ذہبی، عطیہ کی روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں:
📜 “یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے نقل نہیں کیا۔”
👈🏿👈🏿 (ذہبی کی تلخیص میں تبصرہ): صحیح
📚 المستدرک علی الصحیحین، جلد 4، صفحہ 355
البانی وہابی بھی ایسی روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں جس کی سند میں عطیہ کا نام آیا ہے۔
📚 صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ، جلد 9، صفحہ 11
2: جن عطیہ بن عوفی راوی موجود ہے اور روایات صحیح اور حسن ہیں
📚 جامع الترمزی ج1، ص 501 حدیث 1168 اردو
📚 صحیح ابن خزیمہ ج2 ،ص 411
📚 صحیح ابن خزیمہ ج3، ص 313
📚 صحیح ابن خزیمہ ج4، ص 191
📚 نتائج الافکار ج1، ص 268
ماخذ: تحقیق قضیہ فدک (قسور عباس)
📎 بدر علی
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen