Back to فدک

فدک، رسولِ اللہ ص کی ذاتی ملکیت

فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت
فدک، رسولِ اللہ ص  کی ذاتی ملکیت

🔴 فدک، رسولِ خدا ﷺ کی ذاتی ملکیت 🔴

 

اس پوسٹ میں ہم کچھ نکات مومنین و اہل سنت بھائیوں کے سامنے رکھیں گے کہ 

 

1⃣ مال فئی ہوتا کیا ہے

2⃣ مال فئی خالصتا رسول ﷺ کا تھا

3⃣ فدک مال فئی میں شامل تھا

4⃣مال فئی کی تفسیم کے بعد فدک رسول ﷺ نے اپنے لیے رکھا تھا

5⃣ کسی اور مسلمان کا فدک پر کوئی حق نہیں تھا

 

▪️ فدک مکمل طور پر رسولِ خدا ﷺ کی ذاتی ملکیت تھی جیسا کہ اہلِ سنت نے بھی اس کی صراحت کی ہے۔ مال فئی خالصتاً رسول ﷺ کا ہے اور فدک بھی مال فئی ہے

 

1⃣ مال فئی کیا ہوتا ہے ؟

 

📜 بے شک اللہ تعالی نے اپنے رسول کو اس مال فئے کے ساتھ خاص کر لیا اور کسی اور کو اس مال سے عطاء نہیں کیا، جیسا کہ آیت ہے کہ

 

📜 اور جو ( مال ) اللہ نے ان سے ( نکال کر ) اپنے رسول پر لوٹا دیئے تو تم نے ان پر ان نہ گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ہاں! اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہے غلبہ فرما دیتا ہے اور اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے O (الحشر: (۶) 

 

👈 پس یہ اموال خالص رسول اللہ کی ملکیت تھے

 

📚 نعمة الباری فی شرح صحیح بخاری ج 6 ص 57

📚 تحفة الفقهاء ج3 ص298

📚 الجامع الصحيح ج3 ص 289

 

▪️ان میں ابنِ سلام اپنی معروف کتاب الاموال میں، جب رسولِ خدا ﷺ کی مخصوص املاک کا ذکر کرتے ہیں تو فدک کو انہی میں شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

⭕ ابو عبید کہتے ہیں:

 

📜 ہم سب سے پہلے اُن اموال کے ذکر سے آغاز کرتے ہیں جو لوگوں کے بجائے خاص طور پر رسولِ اللہ ﷺ کے لیے تھے، اور وہ تین قسم کے تھے:

 

👈 1. وہ اموال جو اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے اپنے رسول کو عطا کیے، جن پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ سواریوں کے ساتھ لشکر کشی کی۔ ان میں فدک اور بنی نضیر کے اموال شامل ہیں، کیونکہ انہوں نے بغیر کسی قتال کے رسولِ اللہ ﷺ سے صلح کی اور اپنی زمینیں و اموال دے دیے، اور مسلمانوں نے ان کی طرف کوئی سفر یا جنگی مشقت نہیں کی؛

 

2. وہ منتخب حصہ (صَفی) جو رسولِ اللہ ﷺ ہر اُس غنیمت میں سے اپنے لیے منتخب فرماتے تھے جو مسلمان حاصل کرتے تھے، اس سے پہلے کہ مال تقسیم کیا جائے؛

 

3. غنیمت تقسیم اور خمس نکالے جانے کے بعد خمسُ الخمس۔ اور ان سب کے بارے میں معروف و ثابت آثار موجود ہیں۔

 

📚 ابو عبید (ابن سلام)، کتاب الاموال، ج 1، ص 14

 

▪️احمد بن محمد النحاس

 

📜 نے فدک کو مال فئی میں شمار کیا ہے

 

📚 إعراب القرآن للنحاس 1128

 

2⃣ مال فئی خالصتا رسول ﷺ کا تھا

3⃣ فدک مال فئی میں شامل تھا

 

⭕ ابنِ جریر طبری، ثعلبی، بغوی اور ابنِ خازن نے اپنی تفاسیر میں، اور شمس الدین ذہبی نے اپنی تاریخ میں بھی اسی مضمون کو لکھا ہے:

 

📜 خیبر تمام مسلمانوں سے متعلق تھا، جبکہ فدک رسولِ خدا ﷺ کے لیے مخصوص تھا، کیونکہ اسے لشکر کشی کے ذریعے فتح نہیں کیا گیا تھا۔

 

📚 الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر، تاریخ الطبری، ج 2، ص 138، ناشر: دارالکتب العلمیہ، بیروت۔

 

📚 الذہبی، شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان، تاریخ الاسلام ووفيات المشاہیر والاعلام، ج 2، ص 422، تحقیق: د. عمر عبد السلام تدمری، ناشر: دارالکتاب العربی، بیروت، 1407ھ / 1987ء۔

 

https://shamela.ws/book/12397/978

 

📚 الثعلبی النیسابوری، ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم، الکشف والبیان، ج 9، ص 52، ناشر: دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1422ھ / 2002ء۔

 

https://shamela.ws/book/23578/2728

 

📚 البغوی، الحسین بن مسعود، تفسیر البغوی، ج 4، ص 197، ناشر: دارالمعرفۃ، بیروت۔

 

📚 الخازن، علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم، لباب التأویل فی معانی التنزیل، ج 6، ص 201، ناشر: دارالفکر، بیروت، 1399ھ / 1979ء۔

 

⭕ اور ماوردی شافعی بھی لکھتے ہیں:

 

📜 “جب اہلِ فدک نے سنا کہ خیبر کے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا، تو انہوں نے رسولِ اللہ ﷺ کے پاس نمائندے بھیجے اور درخواست کی کہ ان کی جانیں محفوظ رکھی جائیں، اور وہ نقلِ مکانی کریں، اور اپنے اموال رسولِ اللہ ﷺ کے حوالے کر دیں۔ محیصہ بن مسعود ان کے اور رسولِ اللہ ﷺ کے درمیان (صلح کے لیے) چلے، چنانچہ اسی پر معاملہ طے پایا، اور فدک رسولِ اللہ ﷺ کے لیے خالص ہو گیا؛ کیونکہ اسے بغیر گھوڑے اور سواری کی لشکر کشی کے حاصل کیا گیا تھا، لہٰذا وہ رسولِ اللہ ﷺ کے لیے فیء تھا۔”

 

📚 الماوردی البصری الشافعی، علی بن محمد بن حبیب، الحاوی الکبیر فی فقہ مذہب الامام الشافعی (شرح مختصر المزنی)، ج 14، ص 55، تحقیق: شیخ علی محمد معوض، شیخ عادل احمد عبد الموجود، ناشر: دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1419ھ / 1999ء۔

 

⭕ علاء الدین کاشانی بھی اس بارے میں لکھتے ہیں:

 

📜 اور روایت کی گئی ہے ہمارے سردار عمر سے کہ انہوں نے کہا: بنی نضیر کے اموال اُن اموال میں سے تھے جو اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ کو بطورِ فیء عطا کیے تھے، اور وہ خاص طور پر انہی کے لیے تھے۔ رسولِ خدا ﷺ ان اموال میں سے اپنے اہلِ خانہ کا ایک سال کا خرچ نکالتے تھے، اور جو باقی بچتا اسے گھوڑوں اور اسلحہ کی تیاری میں خرچ کرتے تھے۔

 

📜 اور اسی وجہ سے فدک رسولِ اللہ ﷺ کے لیے خالص تھا، کیونکہ صحابہؓ نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ سواریوں کے ساتھ لشکر کشی کی۔ روایت ہے کہ جب اہلِ فدک کو اہلِ خیبر کے حالات کی خبر ملی کہ انہوں نے رسولِ اللہ ﷺ سے درخواست کی تھی کہ انہیں جلاوطن کر دیا جائے، ان کی جانیں محفوظ رکھی جائیں، اور ان کے اموال رسولِ اللہ ﷺ کے اختیار میں دے دیے جائیں تو اہلِ فدک نے رسولِ اللہ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا اور فدک کی نصف پیداوار پر صلح کر لی۔ چنانچہ رسولِ اللہ ﷺ نے اسی شرط پر ان سے صلح فرما لی۔

 

📚 علاء الدین کاشانی، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 7، ص 116، ناشر: دارالکتاب العربی، بیروت، طبعہ ثانیہ، 1982ء۔

 

⭕ اور ابوالفداء اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:

 

📜 خیبر صفر، سنہ 7 ہجری میں فتح ہوا۔ اہلِ خیبر نے رسولِ اللہ ﷺ سے صلح کی درخواست کی کہ ان کی پیداوار کے نصف پر ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے، اور جب چاہیں انہیں نکال دیا جائے۔ رسولِ اللہ ﷺ نے یہ شرط قبول فرما لی۔ اہلِ فدک نے بھی یہی کیا، 

👈 چنانچہ خیبر مسلمانوں کے لیے تھا، اور فدک رسولِ اللہ ﷺ کے لیے خالص تھا، کیونکہ وہ بغیر گھوڑے دوڑائے (بغیر لشکر کشی) فتح ہوا تھا۔

 

📚 ابوالفداء، عماد الدین اسماعیل بن علی، المختصر في أخبار البشر، ج 1، ص 94۔

 

📜 خیبر صفر کے مہینے میں سنہ سات ہجری میں فتح ہوا۔ اہلِ خیبر نے یہ درخواست کی کہ اپنی پیداوار کے نصف کے بدلے صلح کی جائے، اور یہ کہ رسولِ اللہ ﷺ جب چاہیں انہیں نکال دیں۔ اہلِ فدک نے بھی، خیبر کے واقعے کے پھیلنے کے بعد، بغیر کسی لشکر کشی کے اطاعت قبول کر لی۔

👈 لہٰذا خیبر مسلمانوں کا تھا اور فدک رسولِ خدا ﷺ کے لیے مخصوص تھا۔

 

📚 ابوالفداء، المختصر في أخبار البشر، ج 1، ص 94۔

 

⭕ ابنِ زنجویہ لکھتے ہیں:

 

📜 “… اور فدک صلح کے ذریعے حاصل ہوا۔ جب انہوں نے اپنی باقی زمین کی قیمت وصول کر لی، تو پوری فدک رسولِ اللہ ﷺ کے لیے خالص ہو گئی۔”

 

📚 الخراسانی، ابو احمد حمید بن مخلد المعروف بابن زنجویہ، کتاب الأموال، ج 1، ص 67۔

 

4⃣مال فئی کی تفسیم کے بعد فدک رسول ﷺ نے اپنے لیے رکھا تھا

5⃣ کسی اور مسلمان کا فدک پر کوئی حق نہیں تھا

 

🔴 اور روایات میں آتا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے جس واحد زمین کو تقسیم نہیں کیا وہ فدک تھی، کیونکہ وہ آپ ﷺ کی خصوصی ملکیت تھی۔

 

⭕ ابن ہشام نے لکھا کہ

 

📜 راوی کہتا ہے خیبر تو کل مسلمانوں کے حصہ میں تھا اور فدک کو حضور نے خاص اپنے اخراجات کے واسطے رکھا تھا۔ کیونکہ فدک بغیر مسلمانوں کی لشکر کشی کے فتح ہوا تھا۔ 

 

📚 سیرت ابن ہشام، ج 3 ، ص 118

 

⭕ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ

 

📜 پس یہ کل املاک صرف سید نا رسول اللہ کی ملک تھیں اور ان میں سے کسی کا بھی کوئی حق نہ تھا

 

📚 نعمة الباری فی شرح صحیح بخاری ج 6 ص 57

 

⭕ یحییٰ بن آدم اس بارے میں لکھتے ہیں:

 

📜 اسماعیل نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: حسن نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: یحییٰ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو بکر بن عیاش نے کلبی سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے ابنِ عباس سے روایت کیا کہ:

 

📜 ابو بکر نے کہا: رسولِ خدا ﷺ نے بنی نضیر اور بنی قریظہ کی زمینیں تقسیم کیں، مگر فدک تقسیم نہیں کی۔

 

📚 القرشی، یحییٰ بن آدم، کتاب الخراج، ج 1، ص 41، ناشر: المکتبۃ العلمیۃ، لاہور، طبعہ اول، 1974ء۔

 

🌎 بشکریہ: ولی العصر 

 

📎 بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31