🔴 باغ فدک اور سورہ الحشر کے مطابق تقسیم؟ 🔴
▪️جب سے فدک پر تحاریر پوسٹ کرنا شروع کی ہیں تب سے ایک اعتراض جو بہت زیادہ کیا گیا کہ
قرآن میں سورہ حشر کی آیت 7 میں فئی کے مصارف لکھے ہیں کہ مال فئی ان کو دیا جائے :
❌ یعنی کہا گیا کہ جب قرآن میں فئی کے 6 حصے ہیں تو فدک بھی ان 6 مصارف میں تقسیم ہونا چاہیے نا کہ صرف نبیؐ پاک اپنی بیٹی کو دے دیں کیا یہ صریح مخالفت قرآن نہیں ؟
✅ جبکہ حقیت کچھ اس طرح ہے کہ اہل سنت مفتیان و محدثین و مفسرین کی کتب میں سوره الحشر کی اس آیت نمبر7 کے متعلق بہت اختلاف پایا جاتا ہے
▪️ایک یہ کہ آیت 7 کا آیت نمبر 6 سے کوئی تعلق نہیں
▪️یعنی کہ آیت نمبر 7 مال فئی نہیں بلکہ انفال کے بارے میں ہے
▪️دوسرا یہ کہ آیت نمبر 7 منسوخ ہے
▪️ تیسرا یہ کہ آیت نمبر 7 آیت متشابہات میں سے ہے
جو انشاءﷲ یہ پوسٹ پڑھنے پر آپ مومنین کو بہت آسانی سے سمجھ آجائے گا سب
⭕ ہم اپنا جواب شروع کرتے ہیں کہ سورہ حشر کی آیت 7 کے ماتحت نبی یا امام کیلئے ضروری نہیں کہ وہ 6 حصوں میں مال تقسیم کریں ۔ بلکہ وہ کسی ایک کو بھی دے دیں تو ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے
۔
✅ تفصیلی جواب ✅
🖋 بقلم: سید قسور عباس حیدری
▪️ ہم کہتے ہیں کہ جو حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں انہوں نے آیت سمجھنے میں غلطی کی ہے کیونکہ یہ فقط وہ مصارف بتائے گئے ہیں جن میں نبیؐ پاک مال فئی دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ان سب کو دیں
کیونکہ فئی مخصوص ہے نبیؐ کے ساتھ جیسا کہ ہم اس پر قرآن احادیث و فقہ کی کتب سے پیش کر چکے ہیں کر فئی پر مکمل اختیار جناب رسول خدا کا ہے ۔ تفصیل یہاں پوسٹ میں ملاحظہ کیجئے 👇
جیسا کہ قرآن میں خمس اور زکوۃ کی آیات میں ان کے مصارف بتائے گئے کہ کن کن کو خمس یا زکوة دیئے جا سکتے ہیں تو اب لازمی نہیں کہ ان تمام مصارف کو دیئے جائیں بلکہ کسی ایک کو بھی دے دیا جائے تو حق و نصاب پورا ہو جاتا۔
👈 رہی بات ان مصارف کی جو سورہ حشر میں آئے ہیں تو نبی کے پاس مال فئی میں صرف فدک نہیں تھا بلکہ اموال بنی نضیر، اموال بنو قریظہ خیبر کا آدھا حصہ اور ینبع بھی تھے جو کہ جناب رسول خدا ص نے آگے تقسیم بھی کئے
✅ لیکن مال فئی کا معاملہ خاص ہے جناب رسول خدا ص کے ساتھ کہ جسے چاہیں عطا کریں۔
⭕ جیسا کہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں :
📜 اس آیت سے یہ بات بتانی مقصود ہے کہ رسول اللہ اس مال کو کہاں کہاں صرف کریں گے مالِ غنیمت تو صرف مجاہدین میں تقسیم کرنا ضروری تھا لیکن مال فئی کی تقسیم مال غنیمت کی طرح نہیں تھی بلکہ اس کی تقسیم اللہ کے رسول کی اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء (آئمہؑ حق) کی صوابدید پر موقوف ہوئی اور ان کو اجازت دی گئی کہ اصناف مذکورہ میں سے جس کو چاہیں دیں۔
📚 تفسیر مظہری جلد 11 صفحہ 243 اُردو
⭕ اہل سنت متقدمین علماء میں سے امام ابو اسحق الزجاج المتوفی 311 ہجری لکھتے ہیں
📜 و ان راى ان صنفا من الاصناف يحتاج فيه الى جميع الفئى صرف فيه او في هذه الاصناف على قدر ما يرى
📃 اور یہ مال فئی ان کی ( یعنی نبیؐ یا امامؑ ) مرضی پہ ہے کہ وہ چاہیں تو مذکورہ اصناف میں سے کسی ایک محتاج صنف کو سارا فئی دے دیں یا جس قدر چاہیں اپنی مرضی سے دیں ۔
📚 معانی القرآن واعرابه جلد 5 صفحه 146 طبع بیروت
⭕ علامہ قسطلانی فرماتے ہیں :
📜 وقال الجمهور : مصرف الفئى كله إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يصرفه بحسب المصلحة لقول عمر الآتي : فكانت هذه خالصة لرسول الله صلى الله عليه وسلم -
📃 جمہور کا ماننا ہے کہ فئی کے مصارف سارے کے سارے رسول کی صوابدید پر منحصر ہیں وہ جس مصلحت کے تحت چاہیں جیسے خرچ کریں حضرت عمر کے اس قول کے تحت جس میں حضرت عمر نے کہا یہ رسول کا خالص مال ہے۔
📚 ارشاد الساری جلد 5 صفحہ 191
⭕ امام ابن حجر عسقلانی بھی اس قول کو جمہور سے نقل کرتے ہیں
📚 فتح الباری جلد 6 صفحہ 240 طبع سعودیہ
⭕ امام محمد عبد الرحمن مبارکپوری بھی یہی قول فتح الباری سے نقل کرتے ہیں
📚 تحفة الاحوذی شرح الترمذی جلد 5 صفحہ 271 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت
⭕ امام نووی لکھتے ہیں :
📜 في الصحيح من حديث اسماء بنت ابي بكر ان النبي القطع الزبير ارضا من اموال بني النضير .... والاحاديث تدل على ان يجوز للنبي و من بعده من الائمة اقطاع الاراضي و تخصیص بعض دون بعض -
📃 صحیح حدیث میں آیا ہے اسماء بنت ابوبکر سے روایت ہے کہ نبی نے زبیر کو بنو نضیر کے اموال میں سے زمین عطا کی۔۔ اور احادیث اس چیز پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی اور ان کے بعد امامؑ کے لئے جائز ہے کہ وہ زمین (جسے چاہیں) عطا کر دیں اور اسے وہ بعض لوگوں کے لئے بعض کے علاوہ خاص کر دیں ( یعنی بعض میں سے جسے چاہیں دیں )
📚 الجموع شرح المهذب جلد 16 صفحہ 143 امام تو دی طبع مکتبۃ الارشاد السعودیہ
علاوہ ازیں ہم اس سے قبل برادران کی فقہ اور شروح کی کتب سے یہ پیش کر آئے ہیں جن میں درج ہے کہ مال فئی خالصتا رسول اللہ کا مال ہے کہ وہ اسے جیسے چاہیں خرچ کریں۔
♦️ پوسٹ میں اوپر دئے گئے لنک پر کلک کرکے ملاحظہ کر سکتے ہیں
۔
▪️ مزید یہ کہ جب ہم علمی نگاہ سے برادرانِ اہل سنت کے منابع دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ برادران کے ہاں اس آیت کے بارے میں کثیر اختلاف موجود ہے جبکہ اس آیت سے غلط استدلال پیش کر کے کافی سارے مغالطے پھیلائے جاتے ہیں لہذا اس پر مفصل کلام ضروری ہے ۔ تو سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ
🔴 بعض علماء اہل سنت مذکورہ آیت نمبر 7 کو مال فئی کے تحت نہیں لیتے بلکہ غنیمت کے تحت لیتے ہیں 🔴
⭕ امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں :
📜 والصواب من القول في ذلك عندى ان هذه الاية حكمها غير حكم الآية التي قبلها وذلك ان الاية التي قبلها مال جعله الله الرسوله خاصة دون غيره لم يعجل لاحد فيه نصيبا وبذلك جاء الاثر عن عمر بن الخطاب -
📃 اور ہمارے نزدیک جو قول ہے وہ یہ کہ سورہ الحشر کی اس آیت (نمبر 7) کا حکم اس سے قبل آیت (نمبر 6) سے علیحدہ ہے ( یعنی یہ فئی کے بارے میں نہیں) اور جیسا اس سے پہلی آیت میں ہے اللہ نے مال فئی کو خالص رسول اللہؐ کا فرمایا ہے جس میں کسی دوسرے کا کوئی حصہ نہیں جیسا کہ اسی طرح کی ایک روایت عمر بن خطاب سے آئی ہے۔
📚 تفسیر الطبری جلد 22 صفحہ 518، 519 طبع ترکی
⭕ امام احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں :
📜 پہلی آیت میں غنیمت کا جو حکم مذکور ہوا اس آیت میں اس کی تفصیل ہے اور بعض مفسرین نے اس قول کی مخالفت کی اور فرمایا کہ پہلی آیت اموال بنی نضیر کے باب میں نازل ہوئی ان کو اللہ نے اپنے رسول کے لئے خاص کیا اور یہ آیت ہر اس شہر کی غنیمتوں کے باب میں ہے جو مسلمان اپنی قوت سے حاصل کریں۔
📚 کنز الایمان صفحه 1009 اُردو طبع مكتبة المدينه
⭕ امام ابو بکر بن العربی مالکی لکھتے ہیں :
📜 اس میں کوئی اشکال نہیں کہ تین آیات میں تین معانی ہیں، جہاں تک پہلی آیت کا تعلق ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے
هوا الذي اخرج الذين كفروا - سورة الحشر آيت (2)
دوسری آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے
وما أفاء الله على رسوله من اهل القرى -
سورة الحشر آیت (6)
تیسری آیت ( سورہ حشر آیت (7) سے مراد آیت غنیمت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا معانی اور ہے جو ایک اور مستحق کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے۔۔۔۔ پہلی آیت اس امر کا تقاضہ کرتی ہے کہ یہ مال بغیر جنگ کے حاصل ہوا ہے،
آیت انفال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ یہ مال قتال سے حاصل ہوا ہے
جبکہ تیسری آيت ما افاء الله على رسوله من اهل القری
اس امر سے خالی ہے کہ یہ مال جنگ سے یا بغیر جنگ کے حاصل ہوا ۔۔۔
ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت (نمبر 7) پہلی آیت کے ساتھ لاحق ہوگی
اور دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ یہ انفال کے ساتھ ملحق ہوگی۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی وہ شہادت جو اس سے پہلے ہے اس کے ساتھ لاحق کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں ایک نیا فائدہ اور نیا معنی ہے جبکہ یہ تو معلوم و مشہور ہے کہ آیت کہ حرف جو دوسری آیت سے زائد ہوں اسے نئے فائدہ پہ محمول کرنا زیادہ مناسب ہے بنسبت اس کے کہ اسے سابقہ فائدہ پرمحمول کیا جائے ہم کسی قول کو پسند نہیں کرتے مگر اسے ہی جسے ہم نے اس انداز میں تقسیم کیا ہے اور ہم نے وضاحت کر دی ہے کہ دوسری آیت کا معنی نیا ہے۔
📚 احکام القرآن جلد 4 صفحہ 214، 215 طبع دار الكتب العلمیة بیروت
⭕ اسی ساری بحث کو امام ابوعبداللہ قرطبی نے نقل کیا ہے اور اس کے بعد انہی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں انہوں نے یعنی ابن العربی نے جو پسند کیا ہے وہ حسن ہے۔
📚 تفسیر قرطبی جلد 9 صفحہ 327 اُردو ترجمه از ضیاء القرآن پبلیکیشنز
⭕ امام ابی جعفر احمد بن محمد النحاس اس آیت کے ذیل میں کافی بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
📜 ويدلك على حديث عمر مع صحة اسناده طريقة ... عن مالك بن اوس حدثان عن عمر بن الخطاب قال كانت اموال بني نضير مما أفاء الله على رسوله مما لم يوجف عليه المسلمون بخيل ولا ركاب فكان رسول الله ينفق منها على اهله نفقه سنة وما بقى جعله في السلاح ولكراع عدة فى سبيل الله فقد دل هذا على ان الآية الثانية حكمها خلاف حكم الأولى لان الاولى تدل على هذا ان ذلك شئى للنبى والاية الثانية على خلاف ذلك -
📃 حضرت عمر کی صحیح اور مضبوط طریق سے حدیث دلیل ہے کہ جو مال نبیؐ کو دلوایا گیا جس پہ کوئی گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے گئے تو جناب رسول خدا اپنے مال و عیال کا نفقہ اس سے نکالتے اور بچ جاتا اسے اسلحہ وغیرہ یا خدا کی راہ میں خرچ کرتے۔
📜 پس یہ دلیل ہے کہ دوسرے آیت نمبر (7) پہلی آیت نمبر (6) کے حکم کے خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت میں ہے کہ یہ چیز نبیؐ کے لئے ہے لیکن دوسری آیت (نمبر 7 جس میں دیگر مصارف ہیں) اس کے خلاف ہے۔
📚 اعراب القرآن صفحہ 1130 طبع دار المعرفه بیروت
⭕ محمود بن حمزه الکرمانی المتوفی 505 ہجری لکھتے ہیں :
📜 قوله " وما افاء الله " (6) - وبعدها "ما افاء" (7) بغیر واو، لان الاول معطوف على قوله " ما قطعتم من لينه " (5) - والثاني استئناف كلام ليس به تعلق ، وقول من قال : انه بدل من الاول مزيف عند اكثر المفسرين -
📃 اللہ کا فرمان سورہ حشر آیت 6 اور اس کے بعد والی آیت نمبر 7 بغیر واو کے ہے جبکہ آیت 6 اور 5 کے درمیان واو معطوف کا ہے اور دوسرا کلام ( آیت نمبر 7) نیا کلام ہے جس کا آیت نمبر 6 سے تعلق نہیں اور یہ قول کہ یہ آیت نمبر 7 آیت نمبر 6 سے غیر حقیقی طور پہ تبدیل ہے اکثر مفسرین کا ہے۔
📚 البرہان فی توجیه متشابه القرآن صفحه 235 طبع دار الفضلية
⭕ أبو منصور المَاتُرِيدي (المتوفي سنة 333 هـ) بھی اپنی تفسیر میں سورہ الحشر کی آیت 6 کے ذیل میں اسی موقف کی تائید کرتے ہیں کہ آیت 6 کا تعلق پچھلی آیات سے ہے اور 7 نمبر والی الگ آیت ہے
📚 تاویلات اھل السنۃ تفسیر ماتریدی ،ج9 ،ص584
۔
🔴 مزید یہ کہ برادران کے ہاں مذکورہ آیت نمبر 7 کے منسوخ ہونے کا حکم بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ ہم اس پہ بھی دلائل قارئین کی نذر کرتے ہیں۔ 🔴
⭕ امام ابن جریر الطبری اپنی سند سے قتادہ سے نقل کرتے ہیں :
📜 عن قتادة في قوله " ما أفاء الله على رسوله من اهل القرى فالله و للرسول ولذى القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل " - سورہ حشر آیت (7)
📜 قال كان الفئى في هولاء ثم نسخ ذلك في سورة الانفال فقال
واعلموا نما غنمتم من شئى فان الله خمسه وللرسول ولذى القربي واليتامى والمساكين و ابن السبيل - (سورہ الانفال آیت (41)
📃 قتادہ کہتے ہیں کہ سورہ حشر کی آیت نمبر 7 منسوخ ہے اور اس کی ناسخ سورہ انفال کی آیت نمبر 41 ہے۔
📚 تفسیر الطبری جلد 12 صفحہ 518 طبعی پروت
⭕ امام قرطبی نقل کرتے ہیں :
📜 علماء میں سے ایک جماعت نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان وما أفاء الله علی رسوله من اهل القری اس آیت کا حکم اس آیت کے حکم سے منسوخ ہے جو سورہ انفال میں ہے کہ خمس ان افراد کے لئے ہے جن کا ذکر کیا گیا اور باقی چار حصے جہاد کرنے والوں کے لئے ہے ابتداء اسلام میں غنیمت انہیں اقسام پر تقسیم ہوتی تھی یہ قول یزید بن رومان ، قتادہ اور دوسرے علماء کا ہے، اس کی مثل امام مالک سے مروی ہے
📚 تفسیر قرطبی جلد 9 صفحہ 325 اُردو ترجمہ
⭕ امام مکی بن ابی طالب لکھتے ہیں :
📜 ما أفاء الله على رسوله من اهل القرى .... ثم نسخ ذلك في سورة الانفال بقول واعلموا انما غنمتم ۔
📃 سورہ حشر کی آیت نمبر 7 کو سورہ انفال کی آیت نے منسوخ کیا۔
📚 الهدایہ الی بلوغ النہایہ صفحہ 7390
⭕ امام الفقیہ عماد الدین الطبری سورہ حشر کی آیت نمبر 7 کے ذیل میں لکھتے ہیں :
📜 ثم نسخ ذلك بقوله واعلموا انما غنمتم من شئی ۔
📃 پھر یہ آیت نمبر 7 سورہ انفال کی آیت سے 41 سے منسوخ ہو گئی ۔
📚 احکام القرآن مجلد 3،4 صفحہ 406 طبع بیروت
⭕ امام ابی القاسم جمال الدین البذوری
📜 اپنی کتاب میں سورہ حشر کی آیت کو منسوخ اور سورہ انفال کی آیت 41 کو ناسخ قرار دیتے ہیں۔
📚 قبضة البيان في ناسخ والمنسوخ في القرآن صفحہ 17
⭕ محمد بن عبدالله الصغیر اپنی کتاب میں اس کو متشابہات آیات میں شمار کرتے ہیں۔
📚 دليل المتشابهات اللفظیہ صفحہ 298 طبع ریاض
۔
🔴 اب ان تمام باتوں کو ایک جگہ جمع کیا جا رہا ہے ملاحظہ ہوں ۔
1⃣ پہلا قول کہ سورہ حشر کی آیت 7 کے ماتحت نبی یا امام جسے چاہیں فئی عطا کریں۔
2⃣ دوسرا قول کہ مذکورہ آیت فئی کے باب میں نہیں بلکہ انفال کے بارے میں ہے۔
3⃣ تیسر اقول کہ یہ آیت منسوخ ہے۔
4⃣ چوتھا قول یہ کہ یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔
💯 اب ان تمام اقوال کو مد نظر رکھتے ہوئے برادران کا فقط فدک کو اپنی منطق سے 6 حصوں میں تقسیم کر دینا فقط کم علمی ہے ورنہ ان تمام اقوال کو علمی نگاہ سے دیکھیں تو برادران کا اس آیت سے استدلال کرنا صریحا غلط ہے
۔
⭕ بلکہ شافعی مذہب کے ستون امام الحرمین فرماتے ہیں :
📜 و انه صلى الله عليه وسلم ملك خمس الفئى والغنيمة ، واربعة اخماس الفئى -
📃 رسول فئی کے پانچویں حصہ کے پانچویں مالک اور ایسے ہی مال غنیمت میں سے پانچویں حصہ کے مالک ہیں اور اس پر مزید یہ کہ آپ فئی کے ( پانچ میں سے ) باقی چار حصوں کے بھی مالک ہیں۔
📚 نہایة المطالب جلد 8 صفحہ 289
شافعی کا مسلک تھا کہ عمومی مالِ غنیمت میں سے پانچ حصے ہوں گے اور اس میں سے ایک حصہ کا مالک رسول ہوں گے اور مال فئی میں 25 حصہ بنیں گے جس میں 21 کے مالک رسول اللہ ہوں گے اور باقی چار کی ملکیت یتیم فقیر، قرابت دار اور مسافر ہوں گے۔
👈 لہذا اس منطق کے تحت بھی چلیں تو رسول کو فدک جس سال ملا اُس ہی سال خیبر کے تین قلعہ بھی ملے ( دو اموال فئی اور ایک مال خمس) تو جب آپ کے پاس خیبر کے تین قلعہ اور جاگیر فدک تھی
✅ تو یوں آپ اس میں سب سے سخت مسلک یعنی شافعی مسلک کے مطابق بھی 25 میں سے 21 حصوں کے حق دار تھے لہذا جب جاگیر فدک آپ کے حصہ میں آئی تو وہ آپ نے جناب سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کو عطا کیا لہذا اس مسلک کے تحت بھی کوئی اعتراض نہیں بنتا
✅ بلکہ جمہور مسلک کے تحت بھی آپؐ پر اصلاً کوئی اعتراض ہی نہیں آتا۔ کیونکہ جمہور نے تو رسول کے اوپر ہی چھوڑ دیا وہ جیسے چاہیں تقسیم کریں۔
۔
🔴 یہاں ہم کچھ حوالہ جات بھی پیش کرتے جائیں کہ جناب رسول خدا اصحاب میں اموال فئی اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کیا کرتے تھے۔
(1) ۔📜 نبی نے حضرت بلال کو پوری وادی العقیق بطور جاگیر عطا کی۔
📚 فتوح البلدان جلد 1 صفحہ 35 اُردو
(2) -📜 فاعطى المهاجرين وثلاثه من الانصار لفقرهم -
📃 نبی صلی السلام نے اموال فنی میں سے مہاجرین کو دیا اور انصار میں سے تین فقراء کو عطا کیا۔
📚 تفسیر جلالین صفحه 56 طبع بیروت
(3) -📜 بنو نضیر کے اموال میں سے آپؐ نے حضرت ابو بکر ، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت ابودجانہ کو جاگیریں عطا کیں۔
📚 فتوح البلدان جلد 1 صفحہ 41 اردو
(4) -📜 اموال بنی نضیر میں سے آپؐ نے مہاجرین اور سہل بن حنیف کو عطا کیا۔
📚 فتوح البلدان صفحہ 42 اُردو
(5) -📜 رسول اللہ اسلام نے زبیر کو زمین عطا کی جس میں کھجوروں کے درخت تھے۔
📚 فتوح البلدان جلد 1 صفحہ 47
(6) -📜 رسول اللہ نے بنو قریظہ اور خیبر کے اموال مسلمانوں میں تقسیم فرما دیئے
📚 فتوح البلدان جلد 1 صفحہ 47
۔
🔴 ساتھ اس پر ہم شیعوں کا نقطہ نظر بھی بیان کر دیتے ہیں تا کہ قارئین کے لئے دونوں اطراف کے دلائل سامنے آجائیں 🔴
⭕ شیخ طوسی " رقم طراز ہیں
📜 علی بن الحسن بن فضال عن محمد بن علي عن ابي جميلة
قال : وحدثني محمد بن الحسن عن ابيه عن ابي جميلة عن محمد بن على الحلبي عن ابي عبد الله عليه السلام قال : سألته عن الانفال فقال : ما كان من الارضين باد اهلها وفي غير ذلك الانفال هو لنا وقال : سورة الانفال فيها جدع الانف، وقال : ( ما أفاء الله على رسوله منهم فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب ولكن الله يسلط رسله على من يشاء )
(1) وقال : الفئى ما كان من اموال لم يكن فيها هراقة دم اوقتل والانفال مثل ذلك هو بمنزلة -
📃 امام صادق ع سے جب انفال کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا یہ ایسی زمینیں ہیں جن کو ان کے رہنے والے چھوڑ گئے ہوں اور ان کے علاوہ بھی ، اور یہ ہمارے لئے ہیں اور سورہ انفال میں ان کی خواہشات کے برخلاف حکم آیا اور یو نہی ( سورہ حشر کی آیت (6) میں ارشاد ہوا :
ترجمه :
📜 اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور مزید کہا کہ ہر وہ مال جس میں خون خرابہ اور قتل نہ ہو وہ فئی ہے اور انفال بھی اس جیسا ہے اور اس کی مانند ہے۔
📚 تہذیب الاحکام جلد 4 صفحہ 133 رقم 371
⭕ مزید ایک اور روایت پیش خدمت ہے :
📜 و عنه عن محمد بن سالم عن عبد الله بن سنان عن ابي عبد الله عليه السلام فى الغنيمة قال : يخرج منها الخمس ويقسم ما بقى بين من قاتل عليه و ولى ذلك ، فأما الفئى والانفال فهو خالص الرسول الله صلى الله عليه وآله
📃 عبد اللہ بن سنان نے امام صادق علی السلام سے غنیمت کے بارے میں دریافت کیا تو امام نے جواب دیا کہ اس کا خمس نکالا جائے گا اور باقی کو مقاتلین دیگر عنوان سے تقسیم کیا جائے گا ، ہاں البتہ فئی اور انفال یہ خالص رسول ص کا حق ہے۔
📚 تہذیب الاحکام جلد 4 صفحہ 132 و 133 رقم 368
✅ تو ان شیعہ روایات کے مطابق بھی فئی خالصتاً رسول اللہ صل اللہ الہ سلیم کا اور ان کے بعد آئمہ علیہم السلام کا ہے وہ اسے جیسے چاہیں خرچ کریں۔
❌ اب برادران کا اس آیت کے تحت فدک کو 6 حصوں میں تقسیم کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔
📚 یہ مکمل جواب کتاب تحقیق قضیہ فدک سے نقل کیا ہے
کچھ اسکین missing ہیں انشاءﷲ بعد میں لگا دئے جائیں گے
📎 بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen