اہل سنت کے بڑے عالم محمد متولی الشعراوی کا جواب (وہابیوں کی دلیل کے رد میں)

 

❓ سوال:

اگر کوئی شخص صدقہ دے کر مسجد بنوائے اور اسی مسجد کے اندر اپنے لیے قبر بھی بنوائے، کیا یہ جائز ہے؟

 

✅ جواب:

جی ہاں، یہ کام جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہمارے نبی ﷺ کی قبر مسجد میں موجود ہے، اور جامعہ الازہر میں بھی اولیاء کی قبریں موجود ہیں۔ یہ مثالیں خود ہی کافی ہیں اور الگ سے دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

 

اگر وہ حدیث پیش کریں کہ: "اللہ اس شخص پر لعنت کرے جس نے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا" تو ان سے پوچھو کہ تمہارے نزدیک "قبر" کی تعریف کیا ہے؟ تم دلیل دینے میں غلطی کرتے ہو، پہلے یہ بتاؤ کہ قبر سے کیا مراد ہے؟

 

❓کیا ہم نے واقعی قبر کی عین جگہ کو مسجد بنا دیا ہے؟ 

 

✅ نہیں، بلکہ ہم نے قبر کے گرد ایک حد یا رکاوٹ قائم کی ہے، جسے "ضریح" کہا جاتا ہے۔ اور اس ضریح کی حقیقت کیا ہے؟ اسے "مقصورہ" کہتے ہیں، یعنی ایسی چیز جو اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتی۔

 

❓ تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے قبر کو نماز کی جگہ بنا لیا ہے؟

 

مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ کی قبر کو دیکھو جو مسجد میں ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ صرف نبی ﷺ کے ساتھ خاص ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر بھی وہیں دفن ہیں!

 

ہم وہاں نماز پڑھتے ہیں جبکہ قبریں بھی موجود ہیں، لہٰذا مسجد میں قبر کا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں۔

 

مزید دلیل قرآن میں اصحاب کہف کا واقعہ ہے، جہاں ان کی قبور پر مسجد بنائی گئی۔

 

لنک دیکھیں 👇

 

/topic/2558

 

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com