قرآن کریم میں قبور پر عمارت یا بارگاه بنانے کی جوازیت اور اس کی اثبات
🔴 قرآن کریم میں قبور پر عمارت یا بارگاه بنانے کی جوازیت اور اس کی اثبات
🔻 قبور پر عمارت بنانے کی جڑ قرآن میں موجود ہے، کیونکہ قرآن کریم اصحاب کہف کی قبور پر عمارت بنانے کے واقعہ کا ذکر کرتا ہے اور اسے تصدیق بھی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں دو گروہوں کے خیالات نقل کرتا ہے: ایک گروہ کہتا ہے کہ اصحاب کہف کی قبور پر عمارت بنائی جائے، اور دوسرا گروہ کہتا ہے کہ وہاں مسجد بنائی جائے۔
قرآن نے دونوں تجاویز نقل کیں لیکن ان پر اعتراض نہیں کیا:
📜 ﴿إِذْ يَتَنازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْياناً رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِداً﴾
🗞 ترجمہ: "جب وہ اپنے درمیان اس معاملے میں اختلاف کر رہے تھے تو ایک گروہ کہتا رہا: 'ان پر عمارت بنا دو، پروردگار ان کی حالت سے بہتر آگاہ ہے!' اور جو لوگ غالب آئے، انہوں نے کہا: 'ہم ان کے پاس مسجد بنائیں گے تاکہ یادگار رہے۔'"
📚 سورۃ کہف، آیت 21
▪️ نیشابوری، عالم اہل سنت اور صاحب تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان، اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
📜 "جو لوگ غالب آئے، وہ مسلمان تھے اور انہوں نے اصحاب کہف کی قبور پر مسجد بنائی تاکہ مسلمان وہاں نماز پڑھیں اور اس جگہ سے برکت حاصل کریں۔ اور ان کا خیال تھا کہ یہ قبروں پر عمارت بنانے کے لیے اولویت رکھتا ہے تاکہ زمین محفوظ رہے۔"
📚 غرائب القرآن ورغائب الفرقان، النيسابوري، جلد 4، ص 411، تحقیق: شیخ زکریا عمیران، بیروت: دار الكتب العلمية
▪️ طبری بھی فرماتے ہیں:
📜 "مشركوں نے کہا: ہم ان پر عمارت بنائیں کیونکہ وہ ہمارے باپ دادا کے فرزند ہیں اور اللہ کی عبادت وہاں کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے کہا: ہم زیادہ حق دار ہیں کیونکہ وہ موحد ہیں؛ پس ہم وہاں مسجد بنائیں گے اور عبادت کریں گے۔"
📚 جامع البيان عن تأویل آي القرآن، محمد بن جرير الطبری، جلد 15، ص 278
▪️ تفسیر مجمع البیان میں بھی آیا ہے:
📜 "یہ محل عبادت و سجود قرار دیا جائے تاکہ لوگ اصحاب کہف کی برکت سے عبادت کریں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غالب گروہ مؤمنین تھے جو وہاں مسجد بنانا چاہتے تھے۔"
📚 تفسیر مجمع البیان، شیخ الطبرسی، جلد 6، ص 328
🔴 مزید اللّه قرآن میں فرماتا ہے کہ
📜 اِنَّمَا یَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۸﴾
📄 اللہ کی مسجدیں صرف وہی آباد کر سکتا ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا (کسی سے) نہ ڈرا۔ سو امید ہے کہ یہی لوگ ہدایت پانے والوں میں ہو جائیں گے
📚 سوره التوبہ
✅👍 نتیجہ: اس آیت میں نہ صرف اللہ تعالیٰ نے قبور پر مسجد بنانے کی اجازت دی بلکہ جو لوگ قبور پر عمارت بنانے کی تجویز دیتے تھے، ان کی رائے پر بھی اعتراض نہیں کیا۔ اگر یہ حرام ہوتا تو اللہ واضح کرتا۔ اس لیے ائمہ علیہم السلام کی قبور پر گنبد یا بارگاه بنانا قرآن میں بیان شدہ اصحاب کہف کی قبور کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، اور یہ عبادت کے لیے جگہ ہے۔ مسلمان وہاں نماز پڑھتے، دعا کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen