🔴 کیا کعبہ کے اندر بت تھے؟
ہم نے پچھلے دنوں امام علی ع کے کعبہ میں پیدا ہونے کے دلائل پیش کئے اور جب حکیم کے پیدا ہونے دلائل کا رد پیش کیا تو کچھ نواسب کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی
تو نواسب نے اعتراضات کرنا شروع کر دئے کہ
❌ بتوں کے درمیان پیدا ہونا کون سی فضیلت؟
✅ جب کہ امام علی ع کے کعبہ میں پیدا ہونے کو خود محدث دھلوی جیسے ناسبی نے فضیلت میں شمار کیا ہے دیکھیں ازالة الخفاء 👇
👈 اور روایات سے ثابت ہے کہ کعبہ کے اندر بت نہیں تھے بلکہ کعبہ کی دیوار کے ارد گرد بت تھے
▪️المصنف میں روایت ہے کہ
📜 ابن عیینہ نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابو معمر سے، انہوں نے عبد اللہ سے روایت کی کہ:
پیغمبر ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور 👈 کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت موجود تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں جو چھڑی تھی اس سے ان بتوں کو چھیدا اور فرمایا:
"حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا۔ بے شک باطل ہمیشہ نابود ہونے والا ہے۔ حق آ گیا، اور باطل نہ شروع کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ آتا ہے۔"
📚 المصنف 7/403
▪️ امام الفاسی المکی نے بھی نقل کیا کہ
📜 ابن عباس کی روایت کے مطابق، انہوں نے کہا:
"رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور 👈 کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت موجود تھے، جن میں کچھ کو سیسے سے مضبوط کیا گیا تھا۔ پیغمبر ﷺ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرتے ہوئے فرماتے: ‘اور کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا۔ بے شک باطل ہمیشہ نابود ہونے والا ہے۔’"
📚 الزهور المقتطفة من تاریخ مكة المشرفة
▪️ اور کتاب "الحسین نسبه ونسله الجزء الثاني: دائرة المعارف الحسينية" از آیت اللہ ڈاکٹر شیخ محمد صادق محمد الکرباسی بھی یہی بات بیان کرتی ہے
📚 الحسین نسبه ونسله
اور ویسے بھی کعبہ میں بت رکھ دینے سے کعبہ کے مقدس ہونے میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اپنے اپنے قبیلے کے بت رکھنے والے ملعون ثابت ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے کہ
📜 إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِين
📃 یقینا سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکّہ میں ہے ، یہ عالمین کے لیے سبب برکت اور ہدایت ہے-
📚 آل عمران: 96
یعنی کعبہ روز اول سے بابرکت مقام ہے اور بابرکت مقام میں پیدا ہونا بیشک موحدہ ماں کے پاکیزہ کردار کی گواہی ہے
❌ اور پھر یہ اعتراض کرنا کہ کوئی بچہ کہاں پیدا ہوتا ہے اس میں فضیلت کیسی ؟
یہ کہنا انکی مجبوری ہے کیوں کہ انکے خلیفہ صاحب ایک ز/نا خانہ میں پیدا ہوئے تھے۔
جیسا کہ عمری ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ
📜 خلیفہ الثانی کے دورِ خلافت میں عمرو بن عاص مصر کے گورنر تھے۔ خلیفہ الثانی نے انہیں مدینہ طلب کیا۔
جب عمرو بن عاص پہنچے تو خلیفہ الثانی نے پوچھا: راستے میں کتنے دن لگے؟ اس نے جواب دیا: بیس دن۔
خلیفہ الثانی نے طنزاً کہا: عاشقوں کی طرح آئے ہو!
عمرو بن عاص نے جواب دیا: اے خلیفہ الثانی ! مجھے تمہاری طرح کسی زن/اکار عورت نے ایّامِ حیض میں حاملہ نہیں کیا، اور نہ ہی فاحشاؤں نے پیدائش کے بعد حیض کے خون آلود کپڑے میں مجھے لپیٹا۔ خلیفہ الثانی (ناراض ہو کر) بولا: یہ میرے سوال کا جواب نہیں تھا!
📚 شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید شافعی، جلد 12، صفحہ 39
لہذا مومنین جب انکے ایسے فضول اعتراضات دیکھیں تو اگنور کر دیا کریں کیوں کہ انکی مجبوری ہے
📎 بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen