Back to فدک

عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟

عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟
عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟

🔴 عطیہ بن سعد العوفی اور شیعہ؟

 

Post No 4⃣

 

اس سے پچھلی پوسٹ میں ہم نے ثابت کیا تھا کہ عطیہ پر مدلس کی جرح صرف و صرف کلبی سے نقل ہوئی ہے اور کلبی خود اہل سنت کے نزدیک جھوٹا اور سبائی ہے 👇

 

👈 /topic/2139

 

اب رہی بات عطیہ کی تشیع کی جسے بعض نوا/صب جرح کے طور پر پیش کرتے ہیں اسکا جواب پیش کرتے ہیں 

 

✅ جواب ✅

 

▪️اول تو اس کے متعلق حافظ ابن حجر کا کے مقدمہ میں اتنا کہنا کافی ہے کہ 

 

📜 جو جرح مذھب کی بناء پر کی جائے گی یا مخالفت کی بناء پر وہ جرح قابل قبول نہیں ہو گی بلکہ اُس کو رد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ صاحب کتاب نے جوزجانی کی مثال دی کہ اُس کی اہل کوفہ پے کی گئ جرح کو رد کیا جائے گا کیوں کہ وہ ناصبی تھا (یاد رہے اس نا/صبی نے بھی عطیہ کو ضعیف کہا ہے) 

 

📚 لسان المیزان 1/212

 

اور یہی حال ساجی و سفیان ثوری وغیرہ کا ہے جو کہ نوا/صب میں سے تھے 

 

اور نا/صبی حدیث رسول کی حدیث "لا یحبک الا مومن و لا یغضبک الا منافق" کے تحت منافق ہیں

 

📚 صحیح مسلم

 

💯 پس منافقین کی جرح قابل التفات نہیں ۔

 

▪️اسی طرح شیخ البانی لکھتے ہیں۔

 

📜 "روایات میں فقط صدق و حفظ معتبر اشیاء ہیں ، باقی کسی راوی کا مزہب اس کے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہی جب ہی ہم دیکھتے ہیں کہ صحیحین کے مولفین نے کافی غیر اہلسنت مخالفین جو ثقہ ہین اُن سے روایات لی ہیں جیسے خوارج اور شیعہ اور ان کے علاوہ دیگر مزاہب"

 

📚 سلسلتہ الاحادیث الصحیحہ 5/262

 

▪️ شیخ البانی لکھتے ہیں

 

📜 "کسی راوی کا شیعہ ہونا روایت کی صحت میں کوئی سقم و خلل واقع نہین کرتا محدثین کے نزدیک"

 

📚 سلسلتہ الاحادیث الصحیحہ 1/752

 

▪️ امام سیوطی لکھتے ہیں :

 

📜 قال الحاكم و كتاب المسلم ملآن من الشيعه -

 

📃 امام حاکم نے کہا ہے کہ صحیح مسلم شیعہ راویوں سے بھری ہوئی ہے۔

 

📚 تدریب الراوی صفحه 385 مكتبه الكوثر 

 

▪️ اس کے علاوہ امام احمد رضا خان بریلوی بھی کہتے ہیں کہ 

 

📜 شیعہ ہونا کوئی جرح نہیں بلکہ بخاری مسلم کے کتنے راوی شیعہ ہیں ۔ 

 

فتاوی رضویہ جلد 5 صفحہ 304 اُردو 

 

▪️ ذھبی نے اپنی کتاب میں قول نقل کیا کہ

 

📜 کتب اہل سنت میں سب سے زیادہ روایات خارجیوں سے منقول ہیں 

 

📚 میزان العتدال 5/287

 

♦️ نتیجہ فلحال یہاں تک یہ ثابت ہوا کہ کسی راوی کا مزھب یا اسکا شیعہ ہونا یا خارجی ہونا کوئی جرح نہیں ہے

 

۔

 

⭕ اب اس کے علاوہ جہاں تک راوی کے شیعہ ہونے کا تعلق ہے تو متقدمین کے ہاں تشیع کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو کہ متآخرین کے ہاں ہے 

 

▪️ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے کہا ہے

 

📜 فالتشيع في عرف المتقدمين هو اعتقاد تفضيل علي على عثمان وأن عليا كان مصيبا في حروبه ، وأن مخالفه مخطئ مع تقديم الشيخين وتفضيلهما ، وربما اعتقد بعضهم أن علياً أفضل الخلق بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وإذا كان معتقد ذلك ورعاً ديناً صادقاً مجتهداً فلا ترد روايته بهذا لاسيما إن كان غير داعية.

 

📃 متقدمین کے عرف میں تشیع سے مراد یہ ہے کہ علیؑ کو عثمانؓ پر فضیلت دی جائے، اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ علیؑ اپنی جنگوں میں حق پر تھے اور ان کے مخالف خطا پر تھے، اس کے ساتھ ساتھ شیخین (ابوبکرؓ و عمرؓ) کو مقدم اور ان کو افضل مانا جائے۔

اور بعض لوگوں کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ علیؑ، رسول اللہ ﷺ کے بعد تمام مخلوق میں افضل ہیں۔

پس اگر کوئی اس عقیدے کا حامل پرہیزگار، دیندار، سچا اور مجتہد ہو تو محض اسی وجہ سے اس کی روایت رد نہیں کی جائے گی، خصوصاً جب وہ داعی نہ ہو۔

 

📚 تهذيب التهذيب 1/94

 

👈 اور عطیہ کا شمار غیر داعية میں ہے

 

کیوں کہ اُس سے فضیلت شیخین کی روایات بھی مروی ہیں۔ 

 

📜 عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سلم نے فرمایا: جنت میں نیچے والے اہل علیین کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے افق میں چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو اور ابو بکر و عمر ان ہی میں سے ہوں گے اور وہ کتنے اچھے ہیں۔

 

📚 فضائل صحابہ احمد بن حنبل ،ص160 اردو 

 

(کیسی تعجب کی بات ہے کہ پھر بھی عطیہ کو شیعہ رافضی اور بدعتی کہا جاتا ہے)

 

⭕ اور اگر تقدم علی الکل (یعنی ایسا شیعہ جو علیؑ کو شیخین سے افضل سمجھے) کی بات بھی مانی جائے تو اس کے باوجود اُس پر تشیع معیوب کا الزام نہیں لگایا جا سکتا 

 

👈 کیوں کہ یہ “تشیع” بہت سے صحابہ کرام میں پائ جاتی تھی پس یہ بدعت نہیں ہے۔ 

 

📜 مثال کے طور پے أبو الطفيل عامر بن واثلة 

 

📚 الإصابة في معرفة الصحابة – (ج 3 / ص 353)

 

❓ لہذا جب یہ تشیع صحابہ رض کے اندر بھی پائی جاتی تھی تو یہ بدعت کیسے ہوئی؟ 

 

👈 ایسا کہنا تو عدالت صحابہ کے عقیدے کا جنازہ نکال دے گا۔

 

جو صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ رافضی شیعہ تھے 👇

 

👈 /topic/89

 

👈 پس ہمت کریں اور کہیں صحابی معاذ اللہ بدعتی تھا۔

 

۔

 

▪️ اس کے علاوہ ذھبی نے کہا ہے 

 

📜 البدعة على ضربين : فبدعة صغرى : كغلو التشيع ، أو كالتشيع بلا غلو ولا تحرف ، فهذا كثير في التابعين وتابعيهم مع الدين والورع والصدق ، فلو رد حديث هؤلاء لذهب جملة من الآثار النبوية ، وهذه مفسدة بينة .

 

📃 بدعت دو قسم کی ہوتی ہے:

بدعتِ صغریٰ: جیسے تشیع میں غلو، یا بغیر غلو اور بغیر تحریف کے محض تشیع؛

یہ صورت تابعین اور ان کے بعد والوں میں بکثرت پائی جاتی تھی، حالانکہ وہ دین، پرہیزگاری اور صدق کے حامل تھے۔

اگر ایسے لوگوں کی حدیث رد کر دی جائے تو احادیثِ نبویہ کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا، اور یہ ایک واضح فساد ہے۔

 

📚 میزان العتدال 1/5

 

✅ پس ایسے افراد کی حدیث کو رد نہیں کیا جائے گا، 

 

▪️ اسی طرح ابن تیمیہ نے بھی وضاحت کی ہے کہ

 

سارے شیعہ عرف عام والے شیعہ نہ تھے بلکہ بعض دیگر قسم کے بھی تھے ، 

 

📜 واتـهم طائفة من الشيعة الأولى بتفضيل علي على عثمان ولم يتهم أحد من الشيعة الأولى بتفضيل علي على أبي بكر وعمر بل كانت عامة الشيعة الأولى الذين يحبون عليا يفضلون عليه أبا بكر وعمر لكن كان فيهم طائفة ترجحه على عثمان

وكان الناس في الفتنة صاروا شيعتين شيعة عثمانية وشيعة علوية وليس كل من قاتل مع علي كان يفضله على عثمان بل كان كثير منهم يفضل عثمان عليه كما هو قول سائر أهل السنة

 

📃 ابتدائی دور کے شیعہ میں سے ایک جماعت پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ علیؑ کو عثمانؓ پر فضیلت دیتی تھی، لیکن ابتدائی شیعہ میں سے کسی پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ وہ علیؑ کو ابو بکرؓ اور عمرؓ پر فضیلت دیتا ہو۔

بلکہ ابتدائی شیعہ کی اکثریت، جو علیؑ سے محبت رکھتی تھی، ابو بکرؓ اور عمرؓ کو علیؑ پر فضیلت دیتی تھی، البتہ ان میں ایک جماعت ایسی تھی جو علیؑ کو عثمانؓ پر ترجیح دیتی تھی۔

اور فتنہ کے زمانے میں لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے: عثمانی شیعہ اور علوی شیعہ۔

اور جو لوگ علیؑ کے ساتھ لڑے، ضروری نہیں کہ وہ سب علیؑ کو عثمانؓ پر فضیلت دیتے ہوں، بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ عثمانؓ کو علیؑ پر فضیلت دیتے تھے، جیسا کہ تمام اہلِ سنت کا قول 

 

📚 منهاج السنة النبوية 4/132

 

قرآئن سے واضح ہوتا ہے کہ عطیہ عرف عام والا رافضی نہیں تھا ۔ یہاں یہ بتانا بھی فائدہ مند معلوم ہوتا ہے کہ راوی رافضی بھی ہو تو بھی وہ حدیث میں بہت بلند مقام رکھ سکتا ہے 

 

جیسا کہ امام الحاکم کے متعلق ملتا ہے 

 

📜 إمام في الحديث رافضي خبيث 

 

📚 میزان العتدال 3/608

 

▪️ ذھبی نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یہ جو تشیع ہے یہ بدعت ہی نہیں ۔۔۔ 

 

📜 ليس تفضيل علي برفض ولا هو ببدعة، بل قد ذهب إليه خلق من الصحابة والتابعين 

 

📃 علیؑ کو (دوسروں پر) فضیلت دینا نہ تو رفض ہے اور نہ ہی بدعت، بلکہ صحابہ اور تابعین میں سے ایک بڑی جماعت اسی کی قائل رہی ہے۔

 

📚 سیر علام النبلاء 16/457

 

👈 پس جو اس کو بدعت کہتے ہیں وہ پہلے اس خصوصیت کا بدعت ہونا ثابت کریں۔ 

 

♦️ نیز خالد بن مخلد کی روایت کا جواب دیں کہ اپنے متن کے لحاظ سے منفرد ہے اور اسے بخاری نے روایت کیا ہے، اگر فقط تشیع سے روایت ضعیف ہوتی ہے تو صحیح بخاری ضعیف ہو جاتی ہے۔ جس راوی میں تشیع پائ جاتی ہو اور اگر اس سے شیخین کے مناقب میں روایات بھی ہوں تو اس کی روایت کو قبول کیا جاتا ہے اور اس کی یہ تشیع روایات میں کسی ضرر کا باعث نہیں بنتی 

 

▪️ جیسا کہ ذھبی نے نقل کیا ہے احمد سے 

 

📜 والظاهر أن وكيعا فيه تشيع يسير لا يضر إن شاء الله فإنه كوفي في الجملة وقد صنف كتاب فضائل الصحابة

 

📃 ظاہر یہ ہے کہ وکیع میں ہلکا سا تشیع تھا، جو ان شاء اللہ مضر نہیں، کیونکہ وہ مجموعی طور پر کوفی تھے، اور انہوں نے فضائلِ صحابہ پر ایک کتاب بھی تصنیف کی تھی۔

 

📚 سير أعلام النبلاء 154/9

 

🔴 غالی شیعہ ہونا جرح ہے؟

 

جیسا کہ ہم نے ثابت کیا کہ عطیہ غالی شیعہ نہیں تھا کیوں کہ اس سے شیخین کی فضیلت میں بھی روایات نقل کی ہے مگر ہم آپکو بتاتے چلیں کہ اگر راوی غالی بھی ہو تو یہ کوئی جرح نہیں جیسا کہ 

 

📜 ابان بن تغلب غالی شیعہ تھا 

 

📚 میزان العتدال

 

اور یہ صحیحین کا راوی ہے

 

کچھ کے نام ہم یہاں درج کرتے ہیں محقق حضرات ان کی تحقیق کر سکتے ہیں : خالد بن مخلد ، عبید اللہ بن موسیٰ ، فضل بن دکین ، عبدالرزاق بن ہمام ( صاحب المصنف ) عدی بن ثابت، عبد الملک بن اعین وغیر ۔

 

۔

 

⭕ بعض لوگوں کا اس بات سے استدلال کہ بدعتی اپنی بدعت کی طرف بُلائے تو اُس کی روایت قابل قبول نہیں ، اس لئے مردود ہے کہ 

 

جبکہ ہم نے ثابت کیا کہ ایک تو عطیہ ثقہ ہے ، دوسرا مدلس کی جرح جھوٹی ہے اور تیسرا یہ کہ عطیہ شیخین کی فضیلت کا قائل تھا اور بدعتی نہیں تھا

 

1⃣ لیکن اہل سنت محدث زبیر علی زئی نے بہت زبردست بات لکھی کہ 

 

📜 جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق راوی پر اگر بدعتی ہونے کا اعتراض ہو اور اسکی روایت بظاہر اس کے مسلک کی تائید میں ہو، تب بھی صحیح یا حسن ہوتی ہے۔

 

📚 فتاوى علمية المعروف توضیح الاحکام، ص574

 

انشاءﷲ اگلی قسط پر مزید عطیہ پر اعتراضات پر روشنی ڈالیں گے تاکہ ہمارے شیعہ بہن بھائیوں کیلئے ایک مکمل تحقیق پیش کی جا سکے 

 

2⃣ امام ابو بکر خطیب بغدادی نے پورا ایک باب قائم کیا ہے کہ باب ما جاء في الأخذ عن اهل البدع والاهواء والاحتجاج برواياتهم ۔ 

 

📜 یعنی جو اہل بدعت اور بد مذہب راویوں سے اخذ کرتے ہیں اور اُن کی روایات سے احتجاج کرتے ہیں اس بات میں سر فہرست امام شافعی ، ابن ابی لیلی، سفیان الثوری اور قاضی ابو یوسف ہیں کہ یہ بدعتیوں اور بد مذہب کی روایات لیتے ہیں چاہے وہ ان بدعتیوں کے عقیدہ کے موافق ہوں سوائے فرقہ خطابیہ کے۔

 

📚 کتاب الکفایہ صفحہ (120)

 

3⃣ ۔ امام سخاوی لکھتے ہیں :

 

📜 قال الخطيب وحكى ايضا ان هذا مذهب ابن ابی لیلی و سفیان الثوري ونحوه عن ابي حنيفه بل حكاه الحاكم في المدخل عن اكثر أئمة الحديث وقال الفخر الرازق فى المحصول انه الحق و رجعه ابن دقيق العيد و قبل قبل مطلقا سواء الداعيه وغيره.

 

📃 خطیب بغدادی، ابن ابی لیلی ، سفیان الثوری، ابوحنیفہ ، حاکم نے مدخل میں اکثر آئمہ حدیث سے اور فخر الدین رازی سے محصول میں اور ابن دقیق نے بھی کہا ہے کہ بدعتی کی روایت مطلقا قبول ہے چاہے وہ بدعت کا داعی ( دعوت دینے والا ) ہو یا غیر داعی۔

 

📚 فتح المغیث جلد 1 صفحه 329

 

4⃣ ۔ امام بلقینی لکھتے ہیں :

 

📜 قد خرج البخاري ومسلم عن جماعة قد قيل انهم دعاة ، فمن ذلك ان البخارى خرج لعمران بن حطان الخارجي مادحعبد الرحمن بن ملجم قاتل على ابن ابي طالب وهذا من اكبر الدعوة الى البدعة وخرج الشيخان لعبد الحميد بن عبد الرحمن الحماني وقد قال ابو دود السجستاني كان داعية الارجاء فالا قرب انه لا فرق.

 

بخاری و مسلم نے ایک جماعت سے روایات کی ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ بدعت کے داعی تھے جیسا کہ عمران بن حطان خارجی سے بخاری نے روایات کی ہیں جو کہ مولا علی" کے قاتل عبد الرحمن ملجم (لع) کی مدح کیا کرتا تھا (معاذ اللہ ) جو کہ سب سے بڑی دعوت ہے بدعت کی طرف اسی طرح بخاری مسلم نے عبد الحمید سے روایات لی ہیں جو کہ ارجاء (ایک مذہب) کا داعی تھا پس اقرب یہ ہے کہ ان (بخاری مسلم) کے ہاں کوئی فرق نہیں ( کہ بدعتی اپنی بدعت کا داعی ہو یا نہ ہو ) )

 

📚 محاسن الاصطلاح على الحاشية مقدمه ابن الصلاح صفحه (299)

 

5⃣ شیخ احمد محمد شاکر فرماتے ہیں :

 

📜 و العبرة في الرواية بصدق الراوى وامانته والثقه بدینه و خلقه، والمتتبع لاحوال الرواة برى كثيرا من اهل البدع موضعاً للثقه والاطمينان و ان رووا ما يوافق رايهم . 

 

📃 روایت میں راوی کا اعتبار اس کے صدق امانت اور دین میں اس کی توثیق اور خلق سے دیکھا جاتا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے راویوں کے حالات جو کہ اہل بدعت میں سے ہیں کو بری کرتی ہے کہ وہ ثقہ اور قابل اطمینان ہے پھر چاہے وہ روایت اس راوی کی بدعت کے موافق ہو۔

 

📚 الباعث الحيثيت شرح اختصار علوم الحديث صفحہ 95

 

6⃣ ابو المنذر محمود المنیاوی لکھتے ہیں :

 

📜 تیسرا قول : بدعت راوی پر کوئی تاثر نہیں رکھتی جبکہ راوی حافظ ، ضابط اور صادق ہو اور جھوٹا نہ ہو اور یہ جمہور ناقدین، جمہور متقدمین اور ان سے پہلوں کا قول ہے جیسا کہ امام علی بن مدینی ، یحی بن معین، یحی بن سعید القطان اور اُن کے علاوہ بھی اور یہی مذہب بخاری مسلم ، ترمذی اور نسائی اور اُن کے علاوہ علماء کا ہے اور اس میں سے ( ایک مثال ) ہے کہ امام مسلم نے صحیح میں عدی بن ثابت کی سند سے زرین جیش اور انہوں نے علی ابن ابی طالب سے روایت کیا کہ مولا علی نے فرمایا کہ نبی نے مجھ سے عہد لیا ہے کہ اے علی " تجھ سے محبت نہیں رکھے گا مگر مومن اور تجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق اب اس کی سند میں عدی بن ثابت شیعہ ہے اور یہ حدیث بھی اس کی تائید میں ہے پس میں یہ کہتا ہوں کہ یہی تیسرا قول صحیح ہے کہ بدعتی کی روایت مطلقاً قبول ہے )

 

📚 شرح الموقظه في علم مصطلح الحدیث صفحه 17 لابی مندر محمود المنياوی 

 

7⃣ شیخ عبد الرحمن المعلمی فرماتے ہیں :

 

📜 هذا وقد وثق أئمة الحديث جماعة من المبتديه واحتجوا بأحاديثهم واخرجوها في الصحاح ومن تتبع رواياتهم وجد فيها كثيرا مما يوافق ظاهره بد عهم واهل العلم يتا ولون تلك الاحاديث غير طاعنين فيها ببدعة راويها ولا في راوي بروفيك لها بل في رواية جماعة منهم احاديث ظاهره جدا في موافقه بد عهم .

 

📃 حدیث کے اماموں نے راویوں کی جماعت کی توثیق کی ہے اور اُن کی احادیث سے احتجاج (استدلال) کیا ہے اور ان کی روایات کو صحاح میں نقل کیا ہے اور انہی کی روایات کی متابعت (یعنی بعد والے علماء اُن کے تابع ہیں) کی گئی ہے اور ظاہر اوہ روایات اُن کی بدعت کے موافق ہیں اور اہل علم نے ان احادیث کو لیا ہے اور ان پر کوئی طعن نہیں کئے ۔۔۔ بلکہ راویوں کی جماعت جن کی روایات ظاہراً اُن کی بدعت کے موافق ہیں ان سے بھی روایات لی گئی ہیں۔

 

📚 التنكيل جلد 1 صفحه 237

 

8⃣ علامہ طاہر الجزائری دمشقی لکھتے ہیں :

 

📜 عدی بن ثابت ... قلت احتج به الجماعة وما اخرج له في الصحيح شيء مما يقوى بدعته.

 

📃 عدی بن ثابت ۔۔۔ میں کہتا ہوں کہ اس راوی سے ایک جماعت نے استدلال کیا ہے اور اُس کی احادیث کو صحیح میں نقل کیا ہے جو کہ اس کی بدعت کو مزید قوی کر رہی ہیں۔

 

📚 توجیه النظر الی اصول الاثر جلد 1 صفحہ 415

 

9⃣ امام اہل حدیث ناصر الدین البانی لکھتے ہیں :

 

📜 لان العبرة في رواية الحديث انما هو الصدق والحفظ واما المذهب فهو بينه و بين ربه فهو حسیبه ولذلك نجد صاحبي الصحيحين وغير هما قد اخر جو الكثير من الثقات المخالفين كالخوارج والشيعه وغيرهم .

 

📃 حدیث میں رایوں کا اعتبار فقط صدق اور حفظ ہے اور اُس کے مذہب کا معاملہ اُس کے رب کے بیچ ہے جیسا کہ صحیحین (بخاری مسلم) وغیرہ میں اُن کے مصنفین نے کثیر روایات ایسے رایوں سے لی ہیں جو ثقہ ہیں لیکن مخالفین میں سے ہیں جیسا کہ خوارج اور شیعہ اور اُن کے علاوہ بھی ۔

 

📚 سلسلہ احادیث الصحیحہ جلد 5 صفحہ 262

 

اب ان آئمہ اہل سنت سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اگر راوی بدعتی ہو یا شیعہ ہو اور وہ اپنے حق میں بھی روایت نقل کرے۔ جیسا کہ فضائل محمد و آل محمد" میں تو روایت مقبول ہے نا کہ مردود اور یہی بات عملی طور پر بھی ان کے علماء کے مابین پائی جاتی ہے۔

 

📚 ماخذ : تحقیق قضیہ فدک

 

📎 بدر علی 

 

Invisibleislam.com

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39
Gallery Image 40
Gallery Image 41
Gallery Image 42
Gallery Image 43
Gallery Image 44
Gallery Image 45