Back to فدک

کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟

کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟
کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا؟

🔴 کیا عطیہ بن سعد تدلیس کرتا تھا

 

Post No 3⃣

 

جب ہم نے عطیہ کا ثقہ ہونا ثابت کیا تو کچھ اعتراض کئے گئے کہ عطیہ مدلس ہے، شیعہ ہے کثیر الخطاء ہے 

 

▪️جہاں تک عطیہ کی تدلیس کی جرح کا تعلق ہے تو اُس کی بنیاد صرف ایک شخص کی روایت پے ہے جس کا نام ہے محمد بن السائب الکلبی۔ اسکا کہنا ہے کہ عطیہ نے اسے یعنی کلبی کو ابی سعید کی کنیت دی ہوئی تھی

 

👈 اسکا جواب تفصیل سے دینے سے پہلے عرض کر دوں کہ یہ کلبی خود کذاب/جھوٹا اور سبائی ہے اہل سنت کے نزدیک 

 

اب اس جھوٹے سبائی کا قول پر چلنے والے ہمیں سبائی کا طعنہ دیتے ہیں 😂 اس سبائی کے قول کے علاوہ کسی طرح کی تدلیس ثابت نہیں عطیہ پر

 

لیکن یہاں ہم مزید تفصیل سے جواب دے کر انشاءﷲ اس جھوٹے الزام کو انہی سبائیوں کے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے

 

✅ تفصیل

 

▪️ابن حبان نے کتاب المجروحین میں لکھا ہے کہ 

 

❌ عطیہ نے ابی سعید الخدری سے احادیث کی سماعت کی اور جب ابی سعید الخدری وفات پا گئے تو عطیہ نے کلبی کی روایات کو سُنا اور کلبی کو ابو سعید کی کُنیت دے کر اُس سے روایت کرنا شروع کر دیا۔ عطیہ کہتا ہے میں نے یہ حدیث ابو سعید سے سُنی ہے ، لوگوں کو وھم ہوتا کہ ابو سعید الخدری نے بیان کی ہے جب کہ اُس کی مُراد کلبی سے ہوتی تھی۔

 

✅ جنہوں نے عطیہ پے تدلیس کی تھمت کو قبول کیا ہے انہوں نے کلبی کی اسی حکایت پر اعتماد کیا ہے، 

 

❌ جیسا کہ عبداللہ بن احمد سے روایت ہے کہ اُس نے اپنے ابا جی سے سُنا کہ اُس نے عطیہ کو ضعیف قرار دیا اور کہا کہ اُس تک یہ اطلاع پہنچی ہے کہ عطیہ کلبی کو ابو سعید کہہ کر اُس سے روایت کرتا تھا، 

 

اسی طرح ایا اور روایت جس کو نقل کیا ہے اس میں امام احمد بن حنبل نے جس طریق سے اُس کو خبر پہنچی وہ بتاتا ہے کہ 

 

📜 وقال عبد الله بن أحمد حدثنا أبي ثنا أبو أحمد الزبيري سمعت الثوري قال: سمعت الكلبي قال: كناني عطية بأبي سعيد.

 

📃 عبداللہ نے اپنے باپ سے اُس نے ابو احمد الزبیری سے اُس کو سفیان الثوری نے بتایا کہ کلبی نے کہا عطیہ نے اُسے یعنی کلبی کو ابو سعید کی کنیت دی۔ 

 

📚 الكامل لابن عدي 5 / 2007

 

اسی طرح ابن حبان نے ایک اور روایت ابن نضیر کے واسطہ سے نقل کی کہ 

 

❌ ابو خالد کو کلبی نے کہا کہ عطیہ نے مجھے ابو سعید کی کنیت دی ہے اور وہ مجھ سے ایسے روایت کرتا ہے

 

📚 المجروحين لابن حبان جلد 2 صفحہ 168

 

✅ پس معلوم ہوا جن افراد نے عطیہ پے تدلیس کی تھمت لگائ ہے اُن کی جرح کا دارومدار تنہا کلبی کی روایت پر ہے، 

 

احمد بن حنبل نے بھی وہی سند بیان کی جس کی بناء پر اُس نے عطیہ کی تضعیف کا کہا اور وہ سفیان ثوری کے واسطہ سے کلبی کی ہی روایت ہے۔

 

اب یہاں بہت نازک صورتحال ہے کیوں کہ اہل سنت پر جب کوئ بات آتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ کلبی متھم بالکذب ہے جو کہ جرح مفسر ہے اور اس لئے اُس کی روایت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، 

 

📚 تھذیب الکمال جلد 25 صفحہ 246 نمبر 5234

 

مگر عجیب دوغلا پن اور منافقت ہے کہ جب کلبی نسب عمر کے متعلق بتاتا ہے کہ اُن کے ماں باپ بہن بحائ چچا بھتیجی، ماموں بھانجی تھے 

 

📚 الصلابة في معرفة الصحابہ 3/212

 

 اور دیگر شرفاء کی شرافت کو آشکار کرے [حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے والد محترم عفان بن عاص خصی تھے، ان سے کنج/روں کا کام لیا جاتا تھا۔ 

 

📚 المثالب العرب صفحہ ۶۳

 

✅ تو یہی کلبی متروک الحدیث اور جب ناصبیت چاروں شانے چِت ہونے لگے تو اسی “جھوٹے” شخص پے اعتماد کر لیا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کلبی کے سوا کوئ اور دلیل تدلیس کی موجود نہیں ہے اور کلبی پے اعتماد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کلبی ثقہ ہے ، 

 

💯 کیوں کہ اگر ثقہ نہیں تو اُس کی روایت کا اعتبار نہیں اور اعتبار صدوق و عادل کا کیا جاتا ہے نہ کہ جھوٹے اور مُنافق کا

 

👈 اس لئے عطیہ پے تدلیس کی جرح کی عمارت یہیں پے دھڑام سے گر جاتی ہے کیوں کہ کلبی کو جھوٹا مان لیا تو جرح ختم 

 

۔

 

⭕ اور اگر نواصب کا اتنی بے عزتی پے گزارہ نہیں ہوتا ہو اور وہ مزید مٹی پلید کروانا چاہتے ہوں تو کلبی پے اعتماد کر کے بزرگوں کے کارناموں کو قبول کرتے ہوں تو بھی اگر عطیہ کلبی کو ابو سعید کہہ کر تدلیس کرے گا تو بھی اس کا یہ “جرم” اُس کی روایات کو درجہ اعتبار سے نہیں گرائے گا 

 

کیوں کہ یہ تدلیس اب تدلیس الثقات کے عنوان کے تحت آئے گی نہ کہ ضعیف شیوخ کو تدلیس کر کے ثقہ بنانے کی۔ 

 

جیسا کہ کہا گیا ہے کہ 

 

📜 إذا عرف أن المدلس الثقة لا يدلس إلا عن ثقة فتدليسه لا يضر

 

📃 جب یہ بات معلوم ہو جائے کہ ثقہ مُدلِّس صرف ثقہ ہی سے تدلیس کرتا ہے، تو اس کی تدلیس نقصان دہ نہیں ہوتی۔

 

📚 ضوابط قبول عنعنة المدلس دراسة نظرية وتطبيقية [جزء3 / صفحة97]

 

https://shamela.ws/book/95557/1104

 

اور اس کے علاوہ اگر کلبی پے جرح کو رد کر دیا جائے تو وہ تابعی ہے اُس کی روایات منقطع بھی ہوں تو مراسیل قرار پائیں گی۔ 

 

📜 مراسیل مذاہب اربعہ میں قابل احتجاج ہیں

 

📚 فتح المغیث سخاوی 213

📚 المقنع فی العلوم الحدیث جلد 1 صفحہ 139

 

اور تابعین کی عظمت کے لئے منابع اہل سنت میں یہ حدیث بھی موجود ہے خیر القرون قرنی ثم۔۔۔ جس سے تابعی کی عظمت ثابت ہوتی ہے۔

 

▪️ البانی نے بھی کلبی کی ہی روایت پے اعتماد کیا ہے اور کہا کہ 

 

📜 هذا وحده عندي يسقط عدالة عطية 

پھر کہتا ہے 

📜 أن تدليس عطية من هذا النوع الفاحش، 

 

📚 التوسل أنواعه وأحكامه 96 

 

عطیہ کو ضعیف کہتے وقت ہمارے برادران اور علمائے اہل سنت باقیوں کو تو دیکھتے ہیں مگر کلبی کو نہیں دیکھتے 

 

📚 سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة 31،32/1

 

اس کے علاوہ یہاں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ کلبی سے اُس کا نام بدل کر روایت کرنا اہل سنت کے نزدیک کوئ بڑا جرم نہیں ہے 

 

کیوں کہ یہ کام امام بخاری نے خود کیا ہوا ہے ۔ 

 

ملاحضہ ہو .

 

📜 6548- (ز): محمد بن بشر [هو محمد بن السائب بن بشر الكلبي]. 

 

📚 لسان الميزان 7/15

 

❓ پس جب بخاری صاحب خود محمد بن السائب بن بشر سے تدلیس کرتے ہوئے محمد بن بشر کر سکتے ہیں تو عطیہ بے چارے پے طعن و تشنیع کیوں ؟ 

 

اس کے علاوہ جنہوں نے عطیہ پے تھمت لگائ ہے وہ بذات خود کلبی کی روایات کو تدلیس کر کے بیان کرتے تھے، 

 

جیسا کہ سفیان الثوری خود کلبی سے روایت کرتا تھا اور اُسے ابو النضر کی کنیت دیتا تھا 

 

📚 المجروحين من المحدثين لابن حبان 2/262

 

حالاں کہ اُس کا ایک ثقہ شیخ ابو النضر سالم بن ابی اُمیہ تھا، ملاحضہ ہو،

 

📚 التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد 145/21

 

❓ پس اگر جارحین خود مدلس ہیں تو اُن کی جرح کا کیا اعتبار اور اگر ان جارحین کی عدالت ثابت رہتی ہے تو عطیہ کی کیوں کر نہیں؟

 

⭕ ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب میں عطیہ پے ہوئ جرح کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ جرح کو کلبی سے روایت کیا گیا ہے اور وہ قابل اعتماد نہیں ، پس جرح رد ہو گئ۔

 

📜 ولكن الكلبي لا يعتمد على ما يرويه

 

📃 لیکن کلبی پر اس کی روایت میں اعتماد نہیں کیا جاتا۔

 

📚 شرح علل ترمذی جلد 2 صفحہ 824

 

⭕ ابن الصدیق الغماری نے بھی ھدایہ فی التخریج الحدیث البدایہ میں لکھا ہے کہ یہ حکایت تصحیح کلبی کے سواء نظر نہیں آئ

 

📜 وكيف يكون هالكًا من روى له البخاري في الأدب المفرد واحتجّ به أبو داود والترمذي وأحمد في مسنده وقال فيه ابن معين: صالح. وقال أبو زرعة لين. ووثقه ابن سعد. وقال كلٌ من أبي حاتم وابن عدي: هو مع ضعفه يكتب حديثه وهذا لا نعلم يتهم بكذب ولا سوء حفظ وإنما نقلوا عنه التدليس في حكاية ما أراها تصحّ مع الكلبي وقوّى الكلام

 

📃 اور وہ ہلاک کیسے ہو سکتا ہے جس سے امام بخاری نے الأدب المفرد میں روایت لی ہے، اور ابو داؤد، ترمذی اور امام احمد نے اپنی مسند میں اس سے استدلال کیا ہے؟

اور اس کے بارے میں ابنِ معین نے کہا: صالح ہے۔

اور ابو زرعہ نے کہا: لین ہے۔

اور ابنِ سعد نے اس کی توثیق کی ہے۔

اور ابو حاتم اور ابنِ عدی دونوں نے کہا: اگرچہ وہ ضعیف ہے، مگر اس کی حدیث لکھی جاتی ہے۔

اور ہم اس کے بارے میں یہ نہیں جانتے کہ اس پر کبھی جھوٹ یا خراب حافظے کا الزام لگایا گیا ہو، بلکہ اس سے صرف تدلیس کی نسبت نقل کی گئی ہے، ایک ایسی حکایت میں جو میرے نزدیک کلبی کے ساتھ صحیح ثابت نہیں ہوتی۔

 

📚 الهداية في تخريج أحاديث البداية جلد 6 صفحہ 217

 

الحمدلله نواسب کے دیگر اعتراضات کی طرح یہ بھی ایک گھڑا ہوا افسانہ ثابت ہوا انشاءﷲ باقی اعتراضات کا جواب بھی دے دیا جائے گا 

 

📎 منقول: بدر علی

 

Invisibleislam.com

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39
Gallery Image 40