Back to فدک

سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا

سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا
سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا

🔴 سیدہ ص کا جعلی حدیث سن کر حجت تمام کرنا

 

جب حضرت صدیقہ طاہرہ (سلام اللہ علیها) نے دیکھا کہ یہ صاحب اقرار کرنے کے باوجود کہ رسول ﷺ کی وراثت کے حقدار اہل خانہ ہے، اور واپس کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جو تفصیل یہاں پوسٹ کی گئی 👇

 

/topic/2090

 

▪️ تو سیدہ ص اگلے مرحلے میں داخل ہوئیں، یعنی سخت انداز میں بات کرنا اور حکومتی نمائندوں، ابوبکر اور عمر بن خطاب کو چیلنج کرنا۔

 

⭕ طبرانی (وفات 360 ہجری)، جو اہلِ سنت کے بڑے علماء میں سے ہیں، زہری سے روایت نقل کرتے ہیں، وہ عروہ بن زبیر سے، وہ عائشہ سے روایت کرتی ہیں کہ:

 

📜 كلمت فاطمة أبا بكر في ميراثها من رسول الله (ص) فقالت: أترثك إبنتك و لا ارث أبي؟!

 

📃 فاطمہ (سلام اللہ علیها) نے ابو بکر سے اپنے رسول اللہ (ص) والے وارث کے بارے میں بات کی اور فرمایا:

"کیا تمہاری بیٹی تم سے وراثت لے گی اور میں اپنے باپ سے وراثت نہ لوں؟!"

 

📚 المعجم الأوسط، ج 4، ص 104

 

❓ یعنی اگر وراثت کا قانون ایک اسلامی و قرآنی اور عمومی قانون ہے، تو پھر یہ دوہرا معیار کیوں؟ 

 

❓ اگر تم مر جاؤ تو تمہاری بیٹی تمہاری وارث بنتی ہے، لیکن اگر میرے والد (رسول اللہ) کا انتقال ہو جائے تو میں وارث نہیں بن سکتی؟!

 

⭕ اسی طرح ابن سعد (وفات 230 ہجری)، جو اہلِ سنت کے قدیم مؤرخین میں سے ہیں، انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا (س) کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

فاطمہ (سلام اللہ علیها) ابو بکر کو چیلنج کرتی ہیں اور فرماتی ہیں:

 

📜 من يرثك إذا مت؟ قال: ولدي و أهلي، قالت: فما لك ورثت النبي دوننا؟!

 

📃 "جب تم مر جاؤ گے تو تمہاری وراثت کون لے گا؟"

ابو بکر نے کہا: "میری اولاد اور میرا خاندان۔"

فاطمہ نے فرمایا: "تو پھر تم نے رسول اللہ کی وراثت ہم سے کیوں لے لی؟!"

 

📚 الطبقات الکبریٰ جلد 2، صفحہ 314

 

⭕ اسی طرح، مسند احمد بن حنبل میں آیا ہے کہ جب حضرت صدیقہ طاہرہ (س) ابو بکر کے پاس بحث و مناظرہ کے لیے آئیں، تو آپ نے ابو بکر سے پوچھا:

 

📜 أنت ورثت رسول الله صلي الله عليه و سلم أم أهله؟ فقال: لا، بل أهله.

 

📃 "کیا تم رسول اللہ کے وارث ہو یا ان کا خاندان؟"

👈 ابو بکر نے کہا: "نہیں، بلکہ ان کا خاندان ہی ان کے وارث ہیں۔"

 

📚 مسند احمد للإمام احمد بن حنبل، ج 1، ص 4 ـ 

📚تاريخ الإسلام للذهبي، ج 3، ص 23 ـ 

📚السنن الكبري للبيهقي، ج 6، ص 303 ـ 

📚فتح الباري في شرح صحيح البخاري لإبن حجر العسقلاني، ج 6، ص 139 ـ

📚 مسند أبي يعلي، ج 1، ص 40 ـ 

📚تاريخ المدينة لإبن شبة النميري، ج 1، ص 198 ـ 

📚فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي، ج 2، ص 260 

📚التمهيد لإبن عبد البر، ج 8، ص 167 ـ 

📚إرواء الغليل لمحمد ناصر الألباني، ج 5، ص 76 ـ

📚 البداية و النهاية لإبن كثير الدمشقي، ج 5، ص 310 ـ 

📚 عمدة القاري شرح صحيح البخاري للعيني، ج 15، ص 20 ـ 

📚 معجم البلدان للحموي، ج 4، ص 239 ـ

📚 كنز العمال للمتقي الهندي، ج 5، ص 585

 

/topic/2090

 

👈 یہاں حضرت صدیقہ طاہرہ (سلام اللہ علیها) نے ابو بکر سے صاف اعتراف لے لیا کہ رسول اللہ کے وارث اہلِ بیت ہیں، کوئی اور نہیں۔

 

✅ مقدسی حنبلی (وفات 643 ہجری) کہتے ہیں کہ یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔

 

📚 الأحاديث المختارة، ج 1، ص 129

 

⭕ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابو بکر احمد بن عبدالعزیز جُوہری (وفات 323 ہجری)، جو ابن ابی الحدید کے اساتذہ میں سے ہیں، اپنی کتاب میں کہتے ہیں

 

📜 في هذا الحديث عجب، لأنها قالت له: «أنت ورثت رسول الله (صلي الله عليه و آله) أم أهله، قال: بل أهله» و هذا تصريح بأنه (صلي الله عليه و آله) موروث يرثه أهله و هو خلاف قوله: لا نورث

 

📃 اس حدیث میں حیرت ہے، کیونکہ فاطمہ نے ابو بکر سے پوچھا:

"کیا تم رسول اللہ کے وارث ہو یا ان کا خاندان؟"

ابو بکر نے کہا: "ان کا خاندان وارث ہے۔"

یہ ابو بکر کا صاف اعتراف ہے کہ رسول اللہ نے ترکہ چھوڑا تھا اور ان کے وارث اُن کے اہلِ بیت ہیں، اور یہ بات ابو بکر کے اس دعویٰ کے خلاف ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا: "ہم انبیاء وارث نہیں چھوڑتے۔"

 

📚 السقیفہ و فدک صفحہ 109

https://lib.eshia.ir/10455/1/106

 

⭕ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ جب حضرت فاطمہ زہرا (س) ابوبکر سے مایوس ہو گئیں: تو وہ عمر کے پاس گئیں

 

📜 فانصرفت إلي عمر فذكرت له كما ذكرت لأبي بكر، فقال لها مثل الذي راجعها به أبو بكر، فعجبت و ظنت أنهما قد تذاكرا ذلك و اجتمعا عليه.

 

📃 وہ عمر کے پاس گئیں اور اسی طرح فدک کے معاملے پر گفتگو کی جس طرح ابو بکر سے کی تھی۔

عمر نے بھی بالکل وہی جواب دیا جو ابو بکر نے دیا تھا۔

فاطمہ کو تعجب ہوا اور انہوں نے سوچا کہ شاید دونوں نے پہلے سے آپس میں بات کر کے اتفاق کر لیا ہے۔

 

📚تاريخ الإسلام للذهبي، ج 3، ص 24 ـ

📚 تاريخ المدينة لإبن شبة النميري، ج 1، ص 210 ـ 

📚السقيفة و فدك للجوهري، ص 117 ـ 

📚 شرح نهج البلاغة لإبن أبي الحديد المعتزلي، ج 16، ص 231 ـ

📚 سمط النجوم، ج 2، ص 335، تحقيق عادل احمد عبد الموجود، نشر دار الكتب العلمية بيروت

 

⭕ یہ روایات اہلِ سنت کی انتہائی معتبر کتابوں میں سے ہے، جیسے تاريخ المدينة لإبن شبة النميري اور تاریخ الاسلام از ذہبی، جو اہلِ سنت کے بڑے علمی ستون شمار ہوتے ہیں۔ 

 

👈 یہ سب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت صدیقہ طاہرہ (سلام اللہ علیها) اپنے حق کے حصول کے لیے ہر ممکن حد تک کوشاں تھیں۔

 

👈 لہذا یہ کہنا کہ سیدہ ص خلیفہ اول کی جعلی روایت سن کر راضی ہوکر واپس چلی گئیں تھیں یہ بات بھی درست نہیں

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10