اہلِ بیتؑ کا اس پر اجماع ہے کہ انبیاء اپنی وفات کے بعد ترکہ (وراثت) چھوڑتے ہیں اور ان کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے۔
🔴 اہلِ بیتؑ کا اس پر اجماع ہے کہ انبیاء اپنی وفات کے بعد ترکہ (وراثت) چھوڑتے ہیں اور ان کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے۔
✔️ امام سید مجد الدین بن محمد المؤیدی (علمائے عمریہ میں سے) اپنی کتاب لوامع الأنوار میں واقعۂ فدک نقل کرنے کے بعد، اور یہ بیان کرنے کے بعد کہ حضرت فاطمہؑ رسولِ خدا کی وارث تھیں، روایت کرتے ہیں:
📜 "إجماع العترة على أن الأنبياء يورثون"
📃 یعنی: عترتِ طاہرہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیاء وراثت چھوڑتے ہیں۔
▪️امام منصور باللہ القاسم بن محمد فرماتے ہیں:
📜 👈👈 "آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیاء سے وراثت لی جاتی ہے" 👈👈
(یعنی: انبیاء کی میراث وارثوں کو منتقل ہوتی ہے)۔
انتهى (اختتام)
📚 ماخذ:
لوامع الأنوار في جوامع العلوم والآثار وتراجم أولي العلم الأنظار، جلد 1، صفحہ 421
مصنف: الإمام الحجة مجد الدين بن محمد المؤيدي (متوفیٰ 1427ھ)، یمن۔
اعتراض ❌
یہ کتاب زیدیہ کی ہے
جواب ✅
زیدی حضرات اہل سنت کے نزدیک قابلِ قبول ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے یہاں کلک کریں 👈/topic/1986
بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen