Back to کتب سنی اور علماء

زیدی حضرات اہل سنت کے نزدیک قابلِ قبول ہیں۔

زیدی حضرات اہل سنت کے نزدیک قابلِ قبول ہیں۔

⭕ اہل سنت کے نزدیک معتبر زیدی مؤلفین میں شامل ہیں:

 

 

 

▪️الأمالی الشجریة (یَحییٰ بن الحسین الشجری)

 

▪️العواصم والقواصم فی الذب عن سنة أبی القاسم (ابن الوزیر الیمنی)

 

▪️توضیح الأفکار (محمد بن اسماعیل الصنعانی)

 

▪️نیل الأوطار اور فتح القدیر (محمد بن علی الشوکانی)

 

 

 

یہ تمام زیدی علما اہل سنت کے نزدیک مقبول و معتبر شمار کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض اہل سنت انہیں اپنا حصہ سمجھتے ہیں۔

 

 

 

📚 جواهر العقود، منهاجی الأسيوطی، جلد 2، صفحہ 276

 

📚 بحوث في الملل والنحل، آیت اللہ سبحانی، جلد 7، صفحہ 467

 

 

🔴 زیدی حضرات اہلِ سنت کے نزدیک معتبر شمار ہوتے ہیں۔ اکثر اہلِ سنت اُنہیں اپنے ہی فرقوں میں سے ایک مانتے ہیں، یہاں تک کہ بعض نے تصریح کی ہے کہ "زیدیہ" اہلِ سنت کی ایک شاخ ہے۔

 

👉 زیدیہ کو امامیہ شیعہ نہیں مانا جاتا، بلکہ وہ عقیدہ اور فقہ میں اہلِ سنت کے بہت قریب ہیں۔

 

اسی لیے فرقوں کی کتابوں کے بہت سے مصنفین نے اقرار کیا ہے کہ زیدیہ اہلِ سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

⭕ ابن تیمیہ کے قول پر اکتفا کرتے ہیں، وہ لکھتا ہے:

 

📜 "شیعہ تین درجے کے ہیں:

 

1⃣ سب سے بدترین وہ ہیں جو غلو کرتے ہیں، یعنی حضرت علی کے لیے خدائی یا نبوت کا درجہ بیان کرتے ہیں ان کا کفر سب مسلمانوں پر ظاہر ہے، اور ان کا کفر نصاریٰ کی طرح ہے، اگرچہ بعض پہلوؤں سے یہودیوں سے مشابہ ہیں۔

 

2⃣ دوسرا درجہ رافضہ (امامیہ وغیرہ) کا ہے جو مانتے ہیں کہ علی نبی کے بعد برحق امام ہیں، ان پر ظلم ہوا اور ان کا حق چھینا گیا، اور وہ ابوبکر و عمر سے دشمنی رکھتے اور ان کو برا بھلا کہتے ہیں۔

 

3⃣ تیسرا درجہ "مُفَضِّلہ" ہے جیسے زیدیہ وغیرہ جو علی کو ابوبکر و عمر سے افضل مانتے ہیں، لیکن ان دونوں کی امامت اور عدالت کو درست سمجھتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں۔

 

اگرچہ ان کا عقیدہ باطل ہے، مگر ان میں اہلِ فقہ و عبادت کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔

 

یہ گروہ سابقہ دو گروہوں کے قریب نہیں، بلکہ رافضہ کی نسبت اہلِ سنت کے زیادہ قریب ہیں، کیونکہ یہ رافضہ سے اس بات میں اختلاف رکھتے ہیں کہ شیخین (ابوبکر و عمر) کی امامت و عدالت درست ہے، اور اہلِ سنت سے اس بات میں اختلاف رکھتے ہیں کہ شیخین علی سے افضل ہیں۔

پہلا اختلاف (یعنی امامتِ شیخین) زیادہ بڑا ہے۔

تاہم یہ زیدیہ اس نردبان کی مانند ہیں جس سے رافضہ اوپر چڑھتے ہیں، پس یہ ان کے لیے ایک دروازہ ہیں۔"

 

📚 مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ، جلد 3، صفحہ 346

 

https://www.islamweb.net/amp/ar/library/content/22/224/%D9%85%D8%B3%D8%A3%D9%84%D8%A9-%D9%85%D8%A7-%D9%8A%D8%AA%D8%B6%D9%85%D9%86%D9%87-%D9%82%D9%88%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84-%D8%AA%D9%81%D8%AA%D8%B1%D9%82-%D8%A3%D9%85%D8%AA%D9%8A-%D8%AB%D9%84%D8%A7%D8%AB%D8%A9-%D9%88%D8%B3%D8%A8%D8%B9%D9%8A%D9%86-%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%A9?idfrom=303&idto=304&start=1

 

نیز بعض کتابوں میں آیا ہے کہ:

 

📜 "زیدیہ، شیعہ میں سے وہ گروہ ہے جو امامیہ کے سب سے زیادہ مخالف ہیں۔"

 

📚 تہذیب الأحکام، جلد 4، صفحہ 53

 

 

نتیجہ : زیدیہ شیعہ کا وہ گروہ ہے جو اہل سنت کے نزدیک سب سے معتدل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ قیاس، استحسان، اجماع اور صحابی کے قول و فعل کی حجیت میں اہل سنت کے قریب ہیں۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1