Back to شہادتِ سیدہ فاطمہ زھراء (س)

روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2

روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-2/2

🔴 کتب شیعہ سے معتبر روایات 👇

 

پوسٹ نمبر 2⃣

 

⭕ کامل الزیارات سے

 

📜 قال ابن قولوية القمي عليه الرحمة والرضوان 

قال:حدثني محمد بن عبد الله بن جعفر الحميري عن أبيه عن علي بن محمد بن سالم عن محمد بن عبد الرحمان الاصم عن حماد بن عثمان عن ابي عبد الله(عليه السلام ) 

[محل الشاهد من رواية أن رسول الله لما اسري به ]

اما الثالثة ... فااما ابنتك فتظلم وتحرم و يؤخذ حقها غصبا وتضرب وهي حامل

 

📃 قال ابن قولویہ القمیؒ:

انہوں نے کہا مجھے محمد بن عبداللہ بن جعفر الحمیری نے اپنے والد سے، انہوں نے علی بن محمد بن سالم سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمن الاصم سے، انہوں نے حماد بن عثمان سے، انہوں نے ابو عبداللہؑ سے روایت کی:

(معراج والی روایت کے مقامِ شہادت میں)

“اور تیسری یہ کہ…

آپ کی بیٹی پر ظلم کیا جائے گا، اسے اس کا حق غصب کر کے محروم کر دیا جائے گا، اور اسے مارا جائے گا حالانکہ وہ حاملہ ہو گی۔”

 

📚 کامل الزیارات ص 548

 

⭕ امام حسن علیہ‌السلام نے اس سے فرمایا:

 

📜 وأنت الذي ضربت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وآله حتى أدميتها وألقت ما في بطنها

 

📃 "تو ہی وہ شخص ہے جس نے عمر کے حکم سے فاطمہ بنتِ رسول ﷺ کو اس قدر مارا

کہ ان کے بدنِ مبارک سے خون جاری ہو گیا،

اور ان کا جنین (محسن علیہ‌السلام) سقط ہو گیا۔

 

📚 الاحتجاج ج۱ ص۴۱۴

 

⭕ شیخ صدوقؒ کی روایت:

 

📜 روى الشيخ الصدوق عليه رحمة والرضوان 

بسنده عن ابن عباس عن رسول الله صلى الله عليه واله وسلم واني لما رائيت مايصنع بها بعدي كأني بها يدخل الذل بيتها وانتهكت حرمها وغصبت حقها وكسر جنبها وسقط جنينها

 

📃 اپنی سند سے ابن عباس سے، رسول اللہؐ سے روایت کی:

“اور جب میں نے دیکھا کہ میرے بعد اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کے گھر میں ذلت داخل کی جائے گی،

اس کی حرمت توڑی جائے گی،

اس کا حق غصب کیا جائے گا،

اس کا پہلو توڑا جائے گا،

اور اس کا بچہ ساقط کیا جائے گا۔” 

 

📚 الامالي صفحة 100 رقم 3 مجلس الرابع والعشرون

 

⭕ علامہ مجلسیؒ کی روایت:

 

📜 روى العلامة المجلسي وجدة بخط الشيخ محمد بن علي الجعبي نقلا عن خط الشهيد نقلا عن مصابيح الشيخ الي منصور قال روى أن رسول الله دخل مرة على فاطمة [موضع الشاهدجبرائيل يحدث النبي حول مايحد لها عليها السلام]

اما ابنتك هذه فهي اول اهلك لحاقا بك بعد أن تظلم ويؤخذ حقها وتمنع ارثها ويظلم بعلها ويكسر ضلعها

 

📃 انہوں نے شیخ محمد بن علی الجعبی کے خط سے، شہید کے خط سے، مصابیح کی روایت نقل کی:

کہ رسول اللہؐ ایک بار فاطمہؑ کے پاس داخل ہوئے —

اور جبرائیل نبیؐ کو وہ واقعات بتا رہے تھے جو ان کے ساتھ ہوں گے:

“اور یہ تمہاری بیٹی یہ سب سے پہلے تم سے ملنے والی ہو گی،

اس پر ظلم کیا جائے گا،

اس کا حق چھین لیا جائے گا،

اسے وراثت سے محروم کیا جائے گا،

اس کے شوہر پر ظلم کیا جائے گا، 

اور (اس کا پہلو) توڑ دیا جائے گا

 

📚 بحار الانوار جزء 98 صفحة 44

 

⭕ شیخ صدوقؒ روایت کرتے ہیں:

 

📜 روى الصدوق رحمه الله بسنده عن محمد بن عبد الرحمن عن أبيه عن علي بن ابي طالب عليهم سلام بين أنا وفاطمة وحسن وحسين عند رسول الله صلى الله عليه واله وسلم إذ التفت الينا فبكى فقلت له لما تبكي يا رسول الله قال : ابكي على مايحدث لكم من بعدي قال بالمي على ضربتك على قرن ولطم فاطمم

 

اپنی سند سے… کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:

 

“میں تم پر گریہ کرتا ہوں اس مصیبت پر جو تمہارے بعد تم پر آئے گی

تیری پیشانی پر پڑنے والی ضرب پر،

اور فاطمہؑ کے گال پر پڑنے والے طمانچے پر۔” 

 

📚 الامالي صفحة 116 المجلس ثامن والعشرون رقم 2

 

⭕ شیخ صدوقؒ روایت کرتے ہیں:

 

📜 روى شيخ الصدوق رحمه الله بسنده عن الاعمش عن جعفر بن محمد الصادق عليهم سلام قال … وحب اولياء الله والاولية لهم واجبة والبراء من اعدائهم واجبة من الذين ظلموا آل محمد وهتكوا حجابه فأخذوا من فاطمة فدك ومنعوا ميراثها وغصبوا حقها وهموا بحرق بيتها 

 

جعفر صادقؑ سے:

 

“اور اللہ کے اولیاء کی محبت واجب ہے، اور ان کے دشمنوں سے بیزاری واجب ہے 

ان لوگوں سے جنہوں نے آل محمد پر ظلم کیا،

ان کی حرمت توڑی،

فاطمہؑ سے فدک چھینا،

ان کی وراثت روکی،

ان کا حق غصب کیا،

اور ان کے گھر کو جلانے کا ارادہ کیا۔” 

 

📚 الخصال صفحة 667 خصائل من شرائع الدين رقم 9

 

⭕ علامہ مجلسی فرماتے ہیں:

 

📜 يكمل علامتنا مجلسي قائلا : فاناشدتهم الله وابيها أن يتركوهم وينصروهم فمسك عمر السوط من قنفذ فضرب عضدي فالتوى وركل الباب برجله فرد علي وانا حامل

فأسقطت محسنا دون ذنب 

 

📃 “میں نے انہیں اللہ اور ان کے باپ کا واسطہ دے کر کہا کہ انہیں چھوڑ دیں اور ان کی مدد کریں۔

تو عمر نے قنفذ کے ہاتھ سے کوڑا لیا،

اور میرے بازو پر مارا،

جس سے وہ مڑ گیا،

پھر اس نے دروازے کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر مار کر کھولا،

اور میں حاملہ تھی،

تو میں نے محسن کو بے وجہ ساقط کر دیا۔”

 

📚 بحار الانوار، ج 30، ص 348–349

 

⭕ حضرت فاطمہ ص پر ہونے ظلم کو بیان کرنا واجب ہے

 

📜 عنه باسناده عن عبد اللّه بن حمّاد، عن عمرو بن شمر، عن جابر، عن أبى جعفر (عليه السلام) قال: من لم يعرف سوء ما أوتى إلينا من ظلمنا و ذهاب حقّنا و ما نكبنا به فهو شريك من أتى إلينا فيما ولينا به

 

📃 ترجمہ - امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ک جو شخص ہم پر کیے گئے ظلم، ہمارے حق کا غصب ہونا اور ہم پر ڈھائے گئے مصائب کو نہ جانتا ہو، وہ اس ظلم میں شریک ہے جو ہم پر کیا گیا اور ان ظالموں کے گناہوں میں شریک ہے۔۔

 

📚 حوالہ - مسند الإمام الباقر أبی جعفر محمد بن علی(ع)، شيخ عزيز الله عطاردی، ج 1، ص 343

 

⭕ السید ابن طاؤوس ؒ 

 

نے محمد بن جریر طبري عامي کی کتاب " مناقب اھل بیت ؑ " سے روایت نقل کی ہے جو سند کے ساتھ حضرت سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰه (صلی اللّٰه علیه وآله وسلم) نے حضرت سیدہ فاطمہ ۜ سے فرمایا : 

 

📜 وأنت تظلمين وعن حقك تدفعين، وأنت أول أهل بيتي لاحق بي بعد أربعين. يا فاطمة، أنا سلم لمن سالمك وحرب لمن حاربك، أستودعك الله تعالى وجبرئيل وصالح المؤمنين. قال: قلت: يا رسول الله، من صالح المؤمنين؟ قال: علي بن أبي طالب .

 

📃 اور آپ ۜ پر بھی ظلم کیا جائے گا اور آپ ۜ کو آپ ۜ کے حق سے دور رکھا جائے گا اور چالیس دن کے بعد میرے اہلبیت میں سے آپ ۜ ہی مجھ سے پہلے ملحق ہو جائیں گی۔ اے فاطمہ ۜ میری اس سے سلامتی ہے جو آپ ۜ سے سلامتی رکھے اور میری اس سے جنگ ہے جو آپ ۜ سے جنگ کرے۔ آپ کو اللّٰه تعالی اور جبرئیل ؑ اور صالح المومنین کے حوالے کیا ۔ 

میں (سلمان ؓ) نے پوچھا : یا رسول اللّٰه ؐ صالح المومنین کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : علی ابن ابی طالب ؐ ۔

 

📚 اليقين باختصاص مولانا علي (عليه السلام) - السيد ابن طاووس - الصفحة ٤٨٨

 

⭕ کشف الغمه میں علامہ اردبیلی ؒ نے

 

 جابر ابن عبداللّٰه الانصاری ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ ان کا بیان ہے کہ حضرت فاطمه (سلام اللّٰه علیھا) رسول اللّٰه (صلى اللّٰه عليه وآله وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت آپ ؐ موت کی سختی میں تھے اس حال میں سیدہ ۜ نے اپنے آپ کو رسول ؐ پر گرا دیا اور گریہ فرمانے لگیں، اس وقت آپ ؑ نے آنکھیں کھولیں اور پھر فرمایا : 

 

📜 يا بنية أنت المظلومة بعدي، وأنت المستضعفة بعدى، فمن آذاك فقد آذاني، ومن غاظك فقد غاظني، ومن سرك فقد سرني، ومن برك فقد برني، ومن جفاك فقد جفاني، ومن وصلك فقد وصلني، ومن قطعك فقد قطعني، ومن أنصفك فقد أنصفني، ومن ظلمك فقد ظلمني، لأنك مني وأنا منك، وأنت بضعة مني وروحي التي بين جنبي، ثم قال (عليه السلام): إلى الله أشكو ظالميك من أمتي.

 

📃 اے میری بیٹی میرے بعد تم مظلوم ہو جاؤ گی، اور میرے بعد تمھیں کمزور کر دیا جائے گا، جس نے تمھیں تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی، اور جس نے تجھے غصہ دلایا اس نے مجھے غصہ دلایا، اور جس نے تجھے مسرور کیا اس نے مجھے مسرور کیا، اور جس نے تمھارے ساتھ نیکی کی اس نے میرے ساتھ نیکی کی، اور جس نے تمھارے ساتھ بُرا سلوک کیا اس نے میرے ساتھ بُرا سلوک کیا، اور جس نے تمھارے ساتھ اچھا تعلق رکھا اس نے میرے ساتھ اچھا تعلق رکھا، اور جس نے تجھ سے تعلق توڑا اس نے مجھ سے تعلق توڑا، اور جس نے تمھارے ساتھ انصاف کیا اس نے میرے ساتھ انصاف کیا، اور جس نے تمھارے ساتھ ظلم کیا اس نے میرے ساتھ ظلم کیا، تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، اور تم میرا جُز اور میرے پہلو میں میری روح ہو، پھر اس کے بعد آپ (صلى اللّٰه عليه وآله وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے جو تم پر ظلم کرے گا میں اس کی بارگاہ خداوندی میں شکایت کروں گا ...

 

📚 كشف الغمة - ابن أبي الفتح الإربلي - ج ٢ - الصفحة ٢٤٧

 

⭕ محمد بن أحمد القمي المعروف ابن شاذان 

 

نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ سے کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه (صلی اللّٰه علیه وآله وسلم) نے مجھ سے فرمایا : 

 

📜 " يا سلمان! من أحب فاطمة ابنتي فهو في الجنة معي، ومن أبغضها فهو في النار، يا سلمان! حب فاطمة ينفع في مائة مواطن أيسر تلك المواطن الموت، والقبر، والميزان، والمحشر، والصراط، والمحاسبة، فمن رضيت عنه ابنتي فاطمة رضيت عنه، ومن رضيت عنه رضي الله عنه، ومن غضبت عليه فاطمة غضبت عليه، ومن غضبت عليه غضب الله عليه، يا سلمان! ويل لمن يظلمها ويظلم بعلها أمير المؤمنين عليا (عليه السلام) ويظلم ذريتها وشيعتها..! " 

 

📃 اے سلمان ؓ ! جو بھی میری بیٹی فاطمہ ۜ سے محبت کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا اور جو اس سے بغض رکھے گا وہ جہنم میں جائے گا، اے سلمان ؓ ! میری بیٹی فاطمہ ۜ کی محبت سو مقامات پر فائدہ دے گی جن میں سب سے آسان ترین موت، قبر، میزان، حشر، صراط، عرض اعمال اور حساب ہیں، پسجس سے میری بیٹی فاطمہ ۜ راضی ہے اس سے میں راضی اور جس سے میں راضی اس سے خدا راضی ہے، اور جس سے میری بیٹی ناراض ہے اس سے میں ناراض اور جس سے میں ناراض اس سے خدا ناراض ہے، اے سلمان ؓ ! ویل (ہلاکت) ہے اس پر جو ان (فاطمہ ۜ ) پر اور ان کے شوہر امیرالمومنین علی ؑ پر ظلم کرے، اور اس پر بھی جو ان کی ذریت پر اور ان کے شیعوں پر ظلم کرے ۔۔

 

📚 مائة منقبة - محمد بن أحمد القمي - الصفحة ١٣٣،١٣٤

 

⭕ شیخ صدوق ؒ نے 

 

اپنی کتاب " معاني الاخبار " میں اپنی سند کے ساتھ حضرت امیرالمومنین (علیه السلام) کی ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا : 

 

📜 لما حضرت فاطمة عليها السلام الوفاة دعتني فقالت: أمنفذ أنت وصيتي وعهدي؟ قال: قلت: بلى، أنفذها. فأوصت إلي وقالت: إذا أنا مت فادفني ليلا ولا تؤذنن رجلين ذكرتهما. قال: فلما اشتدت علتها اجتمع إليها نساء المهاجرين والأنصار فقلن: كيف أصبحت يا بنت رسول الله من علتك؟ فقالت: أصبحت والله عائفة لدنياكم وذكر الحديث نحوه .

 

📃 جب سیدہ فاطمہ (سلام الله علیها) کا وقت رحلت قریب آیا تو مجھے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ آپ ؑ میری وصیت کو پورا کریں گے ؟ (مولا ؑ نے) کہا : ہاں ، پس آپ ؑ نے مولا ؑ کو وصیت فرمائی، اور فرمایا کہ جب میں وفات پا جاؤں تو مجھے رات میں دفن کرنا، اور ان دو (ابوبکر و عمر) کو جن کا ذکر میں نے کیا شامل ہونے کی اجازت نہ دینا ، پھر مولا ؑ نے فرمایا : جب آپ کی بیماری شدت پکڑ گئی تو مہاجرین و انصار کی عورتیں جمع ہو کر آپ کے پاس آئیں ، اور آپ ؑ سے احوال پرسی کی ، جناب زہرا نے فرمایا میں نے اس حالت میں صبح کی ہے کہ تمہاری دنیا سے بیزار ہوں ......

 

📚 معاني الأخبار - الشيخ الصدوق - الصفحة ٢٥٨

 

⭕ حضرت سلیم بن قیس هلالي ؒ 

 

نے اپنی کتاب میں اصحاب رسول اللّٰه (صلی اللّٰه علیه وآله وسلم) سے روایت نقل کی ہے کہ آپ (صلی اللّٰه علیه وآله وسلم) نے اپنی بیٹی حضرت فاطمه (سلام اللّٰه علیها) سے فرمایا : 

 

📜 إنك أول من يلحقني من أهل بيتي، وأنت سيدة نساء أهل الجنة. وسترين بعدي ظلما وغيظا حتى تضربي ويكسر ضلع من أضلاعك. لـعـ ـن الله قاتلك ولـعـ ـن الأمر والراضي والمعين والمظاهر عليك وظالم بعلك وابنيك.

 

📃 میرے اہل بیت میں سے آپ ۜ پہلی ہیں جو مجھ سے آن ملیں گی اور آپ ۜ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں، اور آپ ۜ میرے بعد ظلم اور غصے کو دیکھیں گی یہاں تک کہ آپ ۜ کو مارا جائے گا اور آپ ۜ کی پسلیوں میں سے ایک پسلی توڑ دی جائے گی ، اللّٰه تعالی آپ ۜ کے قاتل پر لعـ ـنت کرے، اور حکم دینے والے، راضی ہونے والے، مددگار ، تیرے مخالف، تیرے شوہر ؑ اور بچوں ؑ پر ظلم کرنے والوں پر بھی لعـ ـنت کرے ۔

 

📚 كتاب سليم بن قيس - تحقيق محمد باقر الأنصاري - الصفحة ٤٢٧

 

⭕ شیخ صدوق ؒ 

 

نے اپنی سند سے امیرالمومنین علی ابن ابیطالب (علیه السلام) سے روایت نقل کی ہے کہ آپ کا بیان ہے : 

 

📜 بينا أنا وفاطمة والحسن والحسين عند رسول الله (صلى الله عليه وآله)، إذا التفت إلينا فبكى، فقلت: ما يبكيك يا رسول الله؟ فقال: أبكي مما يصنع بكم بعدي. فقلت: وما ذاك يا رسول الله؟ قال: أبكي من ضربتك على القرن، ولطم فاطمة خدها، وطعنة الحسن في الفخذ، والسم الذي يسقى، وقتل الحسين.

قال: فبكى أهل البيت جميعا، فقلت: يا رسول الله، ما خلقنا ربنا إلا للبلاء! قال: ابشر يا علي، فإن الله عز وجل قد عهد إلي أنه لا يحبك إلا مؤمن، ولا يبغضك إلا منا_فق .

 

📃 میں، فاطمہ ؑ، حسن ؑ اور حسین ؑ حضرت رسول الله ؐ کے پاس تھے کہ حضور ؐ ہماری طرف متوجہ ہو کر رو پڑے تو میں نے عرض کیا : آپ ؑ کو کس بات نے رُلایا ؟ تو حضور ؐ نے فرمایا : جو میرے بعد تم لوگوں کے ساتھ ہوگا اس نے مجھے رُلایا ہے، تو میں نے کہا : اے الله کے رسول ؐ وہ کیا ہے ؟ تو حضور ؐ نے فرمایا : تمھارے سر کی ضربت، فاطمہ ؑ کے رخسار پر طمانچے، حسن ؑ کی ران میں نیزے اور ان کو پلائے جانے والے زہر اور حسین ؑ کے قتل پر رو رہا ہوں ۔ تو حضرت علی ؑ نے فرمایا کہ تمام اہل بیت ؑ رونے لگے، تو میں نے عرض کیا : اے اللّٰه کے رسول ؐ! اللّٰه تعالی نے ہمیں صرف آزمائش اور مصیبت کے لئے پیدا فرمایا ہے، تو حضور ؐ نے فرمایا : بشارت ہو اے علی ؑ! الله تعالی نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تم سے مومن کے علاوہ کوئی محبت نہیں کرے گا اور مـنـا_فـق کے علاوہ کوئی تم سے بغض نہیں رکھے گا ۔ 

 

📚 الأمالي الشيخ الصدوق 

الصفحة ١٠٥

 

⭕ السید الشریف الرضي ؒ 

 

نے کتاب نهج البلاغه میں خطبات میں ایک روایت نقل کی ہے کہ جس میں امیرالمومنین (علیه السلام) کی زبانی مظلومیت سیدہ فاطمہ (سلام الله علیها) کا ذکر ہوا ہے ۔

 

امیرالمومنین علی ابن ابیطالب (علیه السلام) نے سیّدة النساء العالمین حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیها) کی تدفین کے موقع پر [رسول الله کی قبر کی طرف رخ کرکے] فرمایا :

 

السَّلَامُ اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللهِ عَنِّیْ، وَ عَنِ ابْنَتِكَ النَّازِلَةِ فِیْ جِوَارِكَ، وَ السَّرِیْعَةِ اللَّحَاقِ بِكَ! قَلَّ یَا رَسُوْلَ اللهِ! عَنْ صَفِیَّتِكَ صَبْرِیْ، وَ رَقَّ عَنْهَا تَجَلُّدِیْ، اِلَّاۤ اَنَّ لِیْ فِی التَّاَسِّیْ بِعَظِیْمِ فُرْقَتِكَ، وَ فَادِحِ مُصِیْبَتِكَ، مَوْضِعَ تَعَزٍّ، فَلَقَدْ وَسَّدْتُّكَ فِیْ مَلْحُوْدَةِ قَبْرِكَ، وَ فَاضَتْ بَیْنَ نَحْرِیْ وَ صَدْرِیْ نَفْسُكَ.

 

یا رسول الله ؐ! آپؐ کو میری جانب سے اور آپؐ کے پڑوس میں اترنے والی اور آپؐ سے جلد ملحق ہونے والی آپؐ کی بیٹی (فاطمه ؐ) کی طرف سے سلام ہو۔ 

یا رسول الله ؐ! آپؐ کی برگزیدہ (بیٹی کی رحلت) سے میرا صبر و شکیب جاتا رہا، میری ہمت و توانائی نے ساتھ چھوڑ دیا، لیکن آپؐ کی مفارقت کے حادثہ عظمیٰ اور آپؐ کی رحلت کے صدمہ جانکاہ پر صبر کر لینے کے بعد مجھے اس مصیبت پر بھی صبر و شکیبائی ہی سے کام لینا پڑے گا، جبکہ میں نے اپنے ہاتھوں سے آپؐ کو قبر کی لحد میں اتارا اور اس عالم میں آپؐ کی روح نے پرواز کی کہ آپؐ کا سر میری گردن اور سینے کے درمیان رکھا تھا۔

 

[اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ]، فَلَقَدِ اسْتُرْجِعَتِ الْوَدِیْعَةُ، وَ اُخِذَتِ الرَّهِیْنَةُ! اَمَّا حُزْنِیْ فَسَرْمَدٌ، وَ اَمَّا لَیْلِیْ فَمُسَهَّدٌ، اِلٰۤی اَنْ یَّخْتَارَ اللهُ لِیْ دَارَكَ الَّتِیْۤ اَنْتَ بِهَا مُقِیْمٌ.

 

انا لله و انا الیه راجعون ، اب یہ امانت پلٹا لی گئی، گروی رکھی ہوئی چیز چھڑا لی گئی، لیکن میرا غم بے پایاں اور میری راتیں بے خواب رہیں گی، یہاں تک کہ خداوند عالم میرے لئے بھی اسی گھر کو منتخب کرے جس میں آپؐ رونق افروز ہیں۔

 

وَ سَتُنَبِّئُكَ ابْنَتُكَ بِتَضَافُرِ اُمَّتِكَ عَلٰی هَضْمِهَا، فَاَحْفِهَا السُّؤَالَ، وَ اسْتَخْبِرْهَا الْحَالَ، هٰذَا وَ لَمْ یَطُلِ الْعَهْدُ، وَ لَمْ یَخْلُ مِنْكَ الذِّكْرُ.

 

وہ وقت آ گیا کہ آپؐ کی بیٹی آپؐ کو بتائیں کہ کس طرح آپؐ کی اُمت نے ان پر ظلم ڈھانے کیلئے ایکا کر لیا ۔ آپؐ ان سے پورے طور پر پوچھیں اور تمام احوال و واردات دریافت کریں۔ یہ ساری مصیبتیں ان پر بیت گئیں، حالانکہ آپؐ کو گزرے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہو اتھا اور نہ آپؐ کے تذکروں سے زبانیں بند ہوئی تھیں۔

 

وَ السَّلَامُ عَلَیْكُمَا سَلَامَ مُوَدِّعٍ، لَا قَالٍ وَّ لَا سَئِمٍ، فَاِنْ اَنْصَرِفْ فَلَا عَنْ مَّلَالَةٍ، وَ اِنْ اُقِمْ فَلَا عَنْ سُوْٓءِ ظَنٍّۭ بِمَا وَعَدَ اللهُ الصَّابِرِیْنَ.

 

آپؐ دونوں پر میرا سلامِ رخصتی ہو، نہ ایسا سلام جو کسی ملول و دل تنگ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اب اگر میں (اس جگہ سے) پلٹ جاؤں تو اس لئے نہیں کہ آپؐ سے میرا دل بھر گیا ہے اور اگر ٹھہرا رہوں تو اس لئے نہیں کہ میں اس وعدہ سے بدظن ہوں جو اللہ نے صبر کرنے والوں سے کیا ہے۔

 

📚 نهج البلاغة - الشريف الرضي - الصفحة ٤٩١،٤٩٢

 

🔴 علماء کے اقوال 🔴

 

▪️شیخ ابو جعفر صدوقؒ:

 

“میں نے اپنے بعض مشائخ سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ وہ خزانہ ان کا بیٹا محسن تھا 

وہی جو فاطمہؑ نے اس وقت ساقط کیا جب انہیں دو دروازوں کے درمیان دبا دیا گیا۔” 

 

📚 معانی الأخبار، ص 206

 

▪️شیخ ابو عبدالله مفیدؒ:

 

“اگر وہ باہر نہ نکلیں تو دروازے پر لکڑیاں جمع کرو،

اور انہیں بتا دو کہ اگر وہ بیعت کے لیے باہر نہ آئے تو ان پر آگ لگا دی جائے گی۔” 

 

📚 الجمل، ص 117، 118

 

▪️سید مرتضیٰ علم الہدیؒ نے قاضی عبدالجبار کے رد میں فرمایا:

 

“ہم نے جلانے کے واقعے کو واضح کیا ہے 

اور شیعہ کی دیگر روایات میں بھی آیا ہے کہ اس نے امیر المؤمنینؑ اور فاطمہؑ کے گھر کو جلانے کا ارادہ کیا۔” 

 

📚 الشافی فی الإمامة، ج 4، ص 119

 

▪️ شیخ طوسیؒ:

 

اور مشہور اور شیعہ میں اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ عمر نے فاطمہؑ کو مارا اور ان کا بچہ ساقط ہوا،

اور اس بارے میں شیعہ کی روایات بہت زیادہ ہیں۔” 

 

📚 تلخیص الشافی، ج 3، ص 156

 

▪️علامہ زین العابدین العاملیؒ:

 

“شیعہ میں مشہور ہے کہ فاطمہؑ کو دروازے کے پاس دبا دیا گیا جس سے ان کا بچہ محسن ساقط ہوا —

حالانکہ ان کے باپ نے فرمایا تھا: فاطمہ میرا حصہ ہے، جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔” 

 

📚 الصراط المستقیم، ج 3، ص 12

 

▪️علامہ مجلسیؒ:

 

“ان پر لعنت ہو 

کیونکہ ان کی اور ہماری روایات میں متفق ہے کہ عمر نے فاطمہؑ کے گھر کو جلانے کا ارادہ کیا،

ابو بکر کے حکم اور رضا سے،

اور اس گھر میں علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ، حسینؑ تھے۔

انہیں دھمکیاں دیں، انہیں اذیت دی 

حالانکہ ان کا مقام صرف وہی جھٹلا سکتا ہے جو اسلام سے خارج ہوا ہو۔

اور ہماری روایات ہی نہیں ان کی روایات میں بھی آیا ہے کہ فاطمہؑ کو اس قدر خوفزدہ کیا کہ انہوں نے اپنے حمل کو کھو دیا۔

اور آگے آئے گا کہ ان کو اذیت دینا رسولؐ کو اذیت دینا ہے،

اور علیؑ کو اذیت دینا بھی رسولؐ کو اذیت دینا ہے،

اور دونوں فریقوں کی روایات میں یہ قول متواتر ہے کہ نبیؐ نے فرمایا:

جس نے علیؑ کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی…”

“اللہ نے انہیں دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔

تو کیا کوئی عقل مند اس شخص کی خلافت کو جائز سمجھ سکتا ہے جس کا حال اور انجام ایسا ہو؟

اور پھر اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس نے اس وجہ سے گھر جلانے کی دھمکی دی جس کا ذکر ہوا ہے، یا اسی وجہ سے فاطمہؑ کو مارا گیا 

کیونکہ گھروں کو جلانے کا ارادہ کرنا مارنے سے کہیں بڑا ہے۔

اور جو چیز بڑوں کے کرنے کے لائق نہیں، وہ چھوٹوں کے لیے بھی لائق نہیں۔

پس صاحبِ کتاب کا فاطمہؑ پر کوڑا مارنے سے ناراض ہونا اور نقل کرنے والے کی تکذیب کرنا، اور دوسرے مقام پر اسی طرح کا عذر پیش کرنا اس کی کوئی وجہ نہیں۔” 

 

📚 بحار الانوار، ج 28، ص 408، 409، 412؛ مرآة العقول، ج 5، ص 318

 

▪️علامہ یوسف البحرانی:

 

“اور فاطمہ زہراءؑ کو اس قدر مارا گیا کہ انہوں نے اپنا بچہ ساقط کر دیا،

اور انہیں اس قدر طمانچے لگے کہ وہ منہ کے بل گر پڑیں 

اور ان کا بچہ بھی ساقط ہوا 

اور وہ اپنی تکلیفیں لیے ہوئے باہر نکلیں…”

 

📚 الحدائق الناضرة، ج 5، ص 180

 

▪️ سید محمد کاظم القزوینی:

 

“اور ان کے گھر اور دیوار کے درمیان پیش آنے والے واقعات نے ان کے جنین کے ساقط ہونے تک نوبت پہنچا دی۔” 

 

📚 فاطمة الزهراء من المهد إلى اللحد، ص 491

 

▪️ سید حسین بحرالعلوم:

 

“عمر کا فاطمہؑ کے گھر پر حملہ کرنا اور ان کے گھر کو جلانے کا ارادہ کرنا 

اس کا انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں،

اور عامہ نے بھی اسے اپنی کتابوں میں روایت کیا ہے۔”

 

📚 تلخیص الشافی، ج 3، ص 76 (حاشیہ)

 

پہلی پوسٹ کا لنک۔ 👇

 

/topic/1939

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27