Back to شہادتِ سیدہ فاطمہ زھراء (س)

روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2

روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2
روایاتِ شہادتِ سیدہ زھراء ع اور شہادت محسن ع متواتر ہیں Post-1/2

🔴 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت اور حضرت محسنؑ کا اسقاط صحیح سند کے ساتھ۔

 

علامہ مجلسی ایک روایت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں اور اس کی سند کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ روایت یوں ہے:

 

اور ایک حدیث، جو "کالصحیح" (تقریباً صحیح) ہے، میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اسلام میں سب سے پہلا تابوت جو بنایا گیا، وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا تھا۔ جب آپ بیمار ہوئیں، جو کہ ثانی (علیہ ما یحبّ اللہ و الملائکہ و الناس اجمعین) کے دروازہ مارنے اور آپ کے شکمِ مبارک پر ضرب لگانے اور حضرت محسنؑ کے سقط ہونے کی وجہ سے تھا، اور آپ نے محسوس کیا کہ آپ کا وقت قریب ہے، تو آپ اسماء بنت عمیس کے پاس گئیں اور فرمایا: "میں بہت کمزور ہو گئی ہوں اور میرے جسم کا گوشت کم ہو گیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میرے لیے کچھ ایسا بنایا جائے جو میرے جسم کو ڈھانپ دے۔"

 

اسماء نے کہا: "میں جب حبشہ میں تھی، وہاں دیکھا کہ لوگ ایک لمبا سا تابوت بناتے ہیں، اور اس کی صورت کا نقشہ آپ کے سامنے پیش کیا۔"

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا: "ہاں، میرے لیے بھی ایسا ہی بنا دو تاکہ میں ڈھکی رہوں اور میرا جسم مستور رہے، تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے۔"

 

📚 لوامع صاحبقرانی، محمد تقی مجلسی (اول)، جلد 2، صفحہ 533

 

✅ علامہ محمد باقر مجلسی نے بھی اس روایت کی سند کو معتبر قرار دیا ہے: جلاء العیون، صفحہ 277

 

🔴 حضرت محسنؑ کے قتل کے تواتر پر سید ناصر حسین ہندی، فرزند میر حامد حسین ہندی طاب ثراہ کا بیان:

 

اسلام اور دین کی آنکھوں کو رلانے والی اور مؤمنین و اہلِ یقین کے دلوں کو جلا دینے والی مصیبتوں میں سے ایک وہ عظیم ظلم ہے جو ثانی نے کیا، جس کے نتیجے میں ہماری خاتون، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے شکمِ مبارک سے حضرت محسنؑ کا سقط ہوا۔

 

یہ ہولناک واقعہ اہلِ حق مبین (شیعہ) کے نزدیک تواتر اور یقین کے درجے کو پہنچ چکا ہے۔

 

📚 افحام الأعداء والخصوم، مصنف: سید ناصر حسین موسوی ہندی، جلد 1، صفحہ 93

 

🔴 عبد المحسن عبد الزہراء القطیفی، جو ایک ممتاز شیعہ محقق ہیں، لکھتے ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت اور حضرت محسن علیہ السلام کے اسقاط کا واقعہ اہل بیتؑ کے 51 شعراء کے کلام میں موجود ہے۔

 

وہ لکھتے ہیں:

 

"یہ واقعہ عام اور خاص (سب) کے ہاں مشہور ہے، اور ضرب (مارنے) کی وجہ سے وہ بچہ، جس کا نام محسن تھا، سقط ہو گیا۔"

 

ماخذ:

📚 المحسن بن فاطمة الزهراء سلام اللہ علیہا، مصنف: عبد المحسن عبد الزہراء

جلد: 1، صفحہ: 119

 

🔴 مرحوم محمد اسماعیل المازندرانی الخواجوئی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کے بارے میں فرماتے ہیں:

 

"یہ بات کہ خلفاء اور ان کے ساتھیوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو اذیت دی، ایک مشہور امر ہے جو اہلِ سنت کی کتابوں میں بھی درج ہے۔

 

اول نے (دوم کی سرکردگی میں) کچھ افراد کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے گھر بھیجا تاکہ ان سے زبردستی بیعت لی جائے، لیکن آقا نے انکار فرما دیا۔ اس پر دوم اور اس کے ساتھیوں نے وحشیانہ حملہ کیا، گھر میں آگ لگا دی، اور ہجوم کرتے ہوئے اس پاکیزہ گھرانے کی توہین و اذیت کی۔ اس ظلم کے نتیجے میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے شکمِ مبارک کا جنین، حضرت محسن علیہ السلام، سقط ہو کر شہید ہو گیا۔"

 

ماخذ:

📚 الرسائل الاعتقادیہ، مازندرانی خواجوئی، صفحہ 528

 

🔴 مرحوم شیخ زین‌الدین العاملی النباطی رضوان اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 

"شیعوں کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ ثانی نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو در کے پیچھے دبایا، یہاں تک کہ حضرت محسن سلام اللہ علیہ سقط ہو گئے۔"

 

📚 الصراط المستقیم إلی مستحقی التقدیم، جلد 3، صفحہ 12

مصنف: شیخ زین الدین ابی محمد علی بن یونس العاملی النباطی (متوفی 877ھ)

تحقیق: محمد الباقر البہبودی

ناشر: المکتبة المرتضویة لإحیاء الآثار الجعفریة

 

🔴 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت متواتر اور اجماعی حقیقت ہے۔

 

✦ ان علماء کا بیان جنہوں نے تصریح کی کہ روایاتِ ہجوم اور شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا متواتر ہیں:

 

1⃣ شیخ محمد تقی آغا نجفی

2⃣ علامہ محمد تقی مجلسی (لوامع صاحبقرانی)

3⃣ علامہ محمد باقر مجلسی

4⃣ سید جعفر مرتضی عاملی (مأساة الزهراء)

5⃣ ابو الحسن فتونی

6⃣ شیخ مظفر

7⃣ محدث نوری

8⃣ علامہ شرف الدین

9⃣ علامہ مرعشی

🔟 سید ناصر حسین موسوی ہندی

1⃣1⃣ میرزا جواد تبریزی

 

✦ ان علماء کا بیان جنہوں نے اجماع پر تصریح کی ہے کہ ہجوم کا واقعہ یقینی ہے:

 

1⃣ محمد حسین آل کاشف الغطاء

2⃣ سید محمد علی قاضی طباطبائی

3⃣ علامہ مرعشی

4⃣ سید بن طاووس

5⃣ شیخ طوسی

6⃣ عماد الدین قرشی

7⃣ عبد الجلیل قزوینی

 

📚 الهجوم علی بیت فاطمة، صفحات 356 تا 362

 

🔴 شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو معتبر قرار دیتے ہیں کہ:

 

محمد بن جریر طبری امامی نے سندِ معتبر کے ساتھ ابو بصیر سے، اور انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ:

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے منگل کے دن، 3 جمادی الثانی، سال 11 ہجری میں وفات پائی۔

 

ان کی وفات کی وجہ وہ ضربہ تھا جو قنفذ، غلامِ ثانی، نے ثانی کے حکم پر آپ کے شکمِ مبارک پر لگایا تھا۔ اسی ضربے کی وجہ سے حضرت محسن علیہ السلام کا سقط ہوا اور آپ سخت بیمار ہو گئیں۔

 

اس کے بعد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے ان افراد میں سے کسی کو، جنہوں نے آپ کو اذیت پہنچائی تھی، اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی۔

 

📚 بیت الاحزان

 

🔴 علامہ کاشف الغطاء فرماتے ہیں:

 

"جس طرح حضرت محسن علیہ السلام در کے پیچھے سقط ہوئے، اسی طرح کربلا میں امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے زمین پر گرائے گئے۔

 

اور جو شعلے خیمۂ حسین علیہ السلام کو اپنی لپیٹ میں لے گئے، وہی شعلے تھے جنہوں نے ہادی کی بیٹی، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔"

 

📚 مقتل الحسینؑ

 

علامہ محمد حسین کاشف الغطاء صراحتاً بیان کرتے ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پر آنے والے مصائب — جن میں گھر پر ہجوم، آگ لگانا، اور حضرت محسن علیہ السلام کا سقط شامل ہے — شیعہ مکتب میں اجماعی اور قطعی حقیقت ہیں، جن میں کسی شک یا تردید کی گنجائش نہیں۔

 

📚 جنة الماوی

 

🔴 شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب تلخیص الشافی (جلد 3، صفحہ 156) میں فرماتے ہیں:

 

"ان کاموں میں سے جو اول کے خلاف ناروا اور ناپسندیدہ شمار کیے گئے، ان میں سے ایک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو مارنا بھی ہے۔ اور یہ روایت موجود ہے کہ انہوں نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو کوڑوں سے مارا۔

 

اور وہ مشہور روایت، جس میں شیعہ علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، یہ ہے کہ ثانی نے آپ کے شکمِ مبارک پر ضرب لگائی، جس کی وجہ سے آپ کا بچہ سقط ہوا، اور اس بچے کا نام محسن رکھا گیا۔ یہ روایت شیعہ کے ہاں مشہور اور معروف ہے۔

 

اور ان کاموں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جب کچھ افراد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر پناہ گزین ہوئے اور بیعت سے انکار کر دیا، تو انہوں نے گھر کو آگ لگانے کا ارادہ کیا۔

 

اور کوئی بھی شخص ان روایات کا انکار نہیں کر سکتا؛ کیونکہ ہم نے یہ روایات عامہ (اہل سنت) کے مصادر سے بھی نقل کی ہیں، جیسے بلاذری وغیرہ، اور شیعہ روایات بھی اس باب میں مستفیض اور بلا اختلاف ہیں۔"

 

📚 تلخیص الشافی، جلد 3، صفحہ 156

 

🔴 شیخ مفید نے اس روایت کو اپنی کتاب الاحتصاص میں نقل کیا ہے

 

📚 الاحتصاص 

 

🔴 مجلسی نے اس روایت کو متواتر مانا ہے

 

📚 مراة العقول

 

🔴 آیت اللہ خوئی نے بھی اس واقعہ کو متواتر و صحیح مانا ہے

 

📚 صراط النجاة

 

مختصر یہ کہ شیعہ علماء نے اسقط محسن علیه السلام کو متواترات میں شامل کیا ہے اس کا مطلب یہ ھے کہ اسقط محسن علیھم السلام پر دلالت کرنے والی ساری رواة *صحیح* ہیں۔

 

🔴 post-2 👈 /topic/2003

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25